امتحان پر اشعار

امتحان پر اشعار, امتحان پر اشعار

کیسی ہیں آزمائشیں کیسا یہ امتحان ہے
میرے جنوں کے واسطے ہجر کی ایک رات بس
عفیف سراج

ہم تو تیری کہانی لکھ آئے
تو نے لکھا ہے امتحان میں کیا
ضیا ضمیر

وحشتیں عشق اور مجبوری
کیا کسی خاص امتحان میں ہوں
خورشید ربانی

دیے بجھاتی رہی دل بجھا سکے تو بجھائے
ہوا کے سامنے یہ امتحان رکھنا ہے
حسن اکبر کمال

جی تن میں نہیں نہ جان باقی
ہے عشق کو امتحان باقی
فرانس گادلیب کوئن فراسو

امتحان پر اشعار

یوں محبت کو عمر بھر پڑھنا
زندگی امتحان ہو جیسے
بشیر مہتاب

اس کے خط رات بھر یوں پڑھتا ہوں
جیسے کل امتحان ہو میرا
زبیر علی تابش

کچھ ہو رہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز
آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر
میر تقی میر

ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا
میں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھا
ظفر غوری

میں رزق خواب ہو کے بھی اسی خیال میں رہا
وہ کون ہے جو زندگی کے امتحان میں نہیں
غلام حسین ساجد

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں