گوجری ادب کے اہم شعراء

گوجری ادب کے اہم شعراء
گوجری ادب کے اہم شعراء

گوجری زبان و ادب کیا ہے؟ اس متعلق جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔ مندرجہ ذیل میں گوجری زبان و ادب کے اہم شعراء کا احوال بیان کیا گیا ہے۔

شاہ بہاء الدین باجن

شاہ بہاء الدین باجن 1388 کو احمد آباد میں پیدا ہوئے۔ 1506 میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔

باجن ایک ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ اعلی پائے کے صوفی اور مبلغ بھی تھے۔ ان کو اردو اور گوجری کا پہلا ادیب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ گوجری کی پرورش ان کے زیرِ سایہ ہوئی۔ انہوں نے گوجری زبان کو ایک الگ اور منفرد مقام عطا کیا۔ ان کے کلام کے مجموعے کا نام “خزائن رحمتہ اللۃ” ہے۔

اپنے کلام میں انہوں نے گوجری کو کبھی گجری اور کبھی گجراتی کہا ہے۔ اس لحاظ سے انہوں نے اس زبان کو ہندی یا ہندوی بھی کہا۔ شاہ بہاء الدین کی شاعری میں ہمیں صوفیانہ و مبلغانہ روایت پنپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے کلام میں مقامی گوجری رنگ نمایاں ہے، جس کی وجہ بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، کیونکہ ہر شخص کی مقامت اس کے کلام یا طرزِ زندگی میں کہیں نہ کہیں یا کسی نہ کسی موقع پر جھلکتی ہے۔ باجن نے گیت اور دوہریے کہے، اس کے علاوہ ڈکری بھی لکھے۔ ڈکری دراصل خاص گوجری صنف ہے جس کو باجن نے اپنے کلام کا حصہ بنایا۔

قاضی محمود دریائی

قاصی محمود دریائی کا زمانہ 1500 کی صدی کا ہے۔ یعنی اس کی تاریخِ پیدائش و موت کا کوئی پتہ نہیں۔ یہ گوجری کی مشہور صنف ڈکری کے بہترین شاعر تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا اسلوب اور زندگی کا مزاج ڈکری کے لئے موزوں تھا۔ یہ بھی باجن کی طرح ایک صوفی منش آدمی تھے، جن کا جذبہ و شوق اور استغراقی کیفیات بہت مضبوط تھیں۔ ان کی جکریاں ہر شعبہ فکر و صوفیاء و بزرگانِ دین کے لئے بھی برابر پسندیدگی کا باعث تھیں۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ باجن کے مقابلے میں محمود دریائی کا کلام مقامیت اور ہندوستانی اثرات میں زیادہ جاذب تھا۔ جسک ی وجہ واضھ ہے کہ محمود دریائی کے پیشِ نظر شاہ باجن کا کلام رہا ہوگا۔ یعنی بہتری وقت کے ساتھ ساتھ ہی آتی ہے۔ محمود دریائی کے کلام میں مقامی لغت اور مقامی روایت کا استعمال نہایت خوبی سے کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مشکل اور پیچیدہ معانی و مطالب نہایت آسانی سے بیان کئے جا سکتے ہیں۔

شاہ علی محمد جیو گام دھنی

گوجری زبان و ادب میں جیو گام دھنی نے بھی پہلے دو شعراء باجن اور محمود رائی کے نقوش پہ چلتے ہوئے انہی کی راہ اپنائی۔ یہ دریائی کے آخری عمر کے ہم عصر تھے۔ ان تینوں شعراء میں جو چیز جیوگام دھنی کو ممتاز کرتی ہے وہ عربی و فارسی لفظیات و اصطلاحات کا استعمال ہے۔ ویسے اس میں تو کوئی اتنی زیادہ حیرت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس وقت کے تقریبا تمام صوفی شعراء فارسی و عربی جانتے تھے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ وہ عربی و فارسی کی بجائے قمامی زبان و لغت کا استعمال زیادہ کرتے تھے۔ یہی وہ بہترین روشتھی کہ جس نے گوجری زبان کو باقائدہ ایک ادبی زبان بنا دیا۔

خوب محمد چشتی

خوب محمد چشتی نے اپنی شاعری میں تصوف کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ ان کی شاعری میں مقامی طرزِ احساس اور مقامی جمالیات کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ان کی دو تصانیف مشہور ہیں۔ جن میں ایک، مثنوی “خوب ترنگ” ہے، جس میں صوفی ازم اور مقامیت کو فارسی و عربی کے تڑکے سے مزین کیا گیا ہے۔ جو نہایت شاندار ہے۔ دوسری تصنیف “چھند چھندناں” ہے جس نے مقامی زبان کے ہوتے ہوئے فارسی و عربی کے کامیاب امتزاج سے ایک خوبصورت تجربہ کیا، اور اپنے ادب میں غیرمقامی اسلوب شامل کرنے میں کامیاب رہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں