Month: جولائی 2021

زندگی پر شاعری

زندگی پر شاعری

جو گزاری نہ جا سکی ہم سےہم نے وہ زندگی گزاری ہےجون ایلیا زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیںپاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہےبشیر بدر ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زن...

سورج پہ شاعری/کرن پر شاعری

سورج پہ اشعار

سورج کی کرن دیکھ کے بیزار ہوئے ہوشاید کہ ابھی خواب سے بے دار ہوئے ہوشہزاد احمد تم پہ سورج کی کرن آئے تو شک کرتا ہوںچاند دہلیز پہ رک جائے تو شک کرتا ہوںاحمد کمال پروازی بنے ہیں کتنے چہرے چاند سورجغزل ک...

تکیہ پر اشعار

تکیہ پر اشعار

شب وصال میں مونس گیا ہے بن تکیہہوا ہے موجب آرام جان و تن تکیہمرزا غالب گر بھروسا ہے ہمیں اب تو بھروسا تیرااور تکیہ ہے اگر تیرے ہی در کا تکیہانشا اللہ خاں انشا ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں...

رہبر پر اشعار

رہبر پر اشعار

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوزیہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیےعلامہ اقبال مجھے اے رہنما اب چھوڑ تنہامیں خود کو آزمانا چاہتا ہوںحیرت گونڈوی دل کی راہیں جدا ہیں دنیا سےکوئی بھی راہبر نہیں ہوتافرحت کانپو...

گمنام شاعری /gumnam shairi

لفظ گمنام پہ اشعار

جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیںوہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کےعلی جواد زیدی وہ ایک شخص کہ گمنام تھا خدائی میںتمہارے نام کے صدقے میں نامور ٹھہراحمید کوثر جمی ہے گرد آنکھوں میں کئی گمنام برسوں کی...

غرور مغرور شاعری

غرور پر شاعری

آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہےبھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہےوسیم بریلوی شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہےجس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہےبشیر بدر ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیاہزاروں ...

امتحان پر شاعری

امتحان پر اشعار

کیسی ہیں آزمائشیں کیسا یہ امتحان ہےمیرے جنوں کے واسطے ہجر کی ایک رات بسعفیف سراج ہم تو تیری کہانی لکھ آئےتو نے لکھا ہے امتحان میں کیاضیا ضمیر وحشتیں عشق اور مجبوریکیا کسی خاص امتحان میں ہوںخورشید ربان...

مزاحیہ شاعری

مزاحیہ اشعار

مزاحیہ شاعری بیک وقت کئی ڈائمنشن رکھتی ہے ، اس میں ہنسنے ہنسانے اور زندگی کی تلخیوں کو قہقہے میں اڑانے کی سکت بھی ہوتی ہے اور مزاح کے پہلو میں زندگی کی ناہمواریوں اورانسانوں کے غلط رویوں پر طنز کرنے ک...

محبت پہ شاعری

محبت پر اشعار

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائےبشیر بدر اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوافیض احمد فیض رنجش ہی سہی دل ہی دکھانےکے ...