چار لڑیوں والا ڈی این اے

چار لڑیوں والا ڈی این اے قدیر قریشی

سائنس دانوں نے انسانی خلیوں میں ڈی این اے کی ایک ایسی شکل دریافت کی ہے جس میں دو کے بجائے چار لڑیاں (strands) ہیں- اس نئی دریافت سے کینسر کو جلد ڈیٹیکٹ کرنا ممکن ہو جائے گا- عام طور پر ڈی این اے دو لڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی شکل double helix کی سی ہوتی ہے۔ لیکن ٹیسٹ ٹیوبز میں بعض اوقات ڈی این اے کی کچھ غیرمعمولی شکلیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ البتہ زندہ خلیوں میں ڈی این اے ہمیشہ دو لڑیوں کی صورت میں ہی پایا گیا ہے۔

لیکن اب سائنس دانوں نے ایک ایسی ایڈوانسڈ probe ڈیزائن کی ہے جو خلیوں میں ڈی این اے کی چار لڑیوں والی شکل الگ سے ڈیٹیکٹ کر سکتی ہے۔ یہ ایک کیمیائی پروب ہے جو چار لڑیوں والے ڈی این اے کی موجودگی میں روشنی خارج کرنے لگتی ہے۔ یہ پروب زندہ خلیوں میں موجود چار لڑیوں والے ڈی این اے کے دوسرے مالیکیولز سے تعاملات کو سٹڈی کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

اس پروب سے کی گئی سٹڈیز سے معلوم ہوا ہے کہ چار لڑیوں والے ڈی این اے مالیکیولز کینسر زدہ خلیوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں- اس وجہ سے سائنس دانوں کو شک ہے کہ اس قسم کا ڈی این اے کینسر کے پھیلنے میں معاون ہو سکتا ہے- اس پروب سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کچھ پروٹینز ان چار لڑیوں والے ڈی این اے کو کھول کر ان سے تعامل کر سکتی ہیں- سائنس دانوں نے کچھ ایسے مالیکیولز بھی دریافت کر لیے ہیں جو ان چار لڑیوں والے ڈی این اے سے کیمیائی بانڈ بنا سکتے ہیں۔ اس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ان مالیکیولز کو استعمال کر کے ایسی دوائیں ڈیزائن کی جائیں جو ان چار لڑیوں والے ڈی این اے پر حملہ کر کے انہیں ناکارہ کر سکیں۔

ڈی این اے کے درست کام کرنے کے لیے اس مالیکیول کا درست شکل میں ہونا از حد ضروری ہے- اگر ڈی این اے مالیکیول کی شکل تبدیل ہو جائے تو اس سے ہونے والے تمام تعاملات کے نتائج بھی تبدیل ہو جاتے ہیں- گویا ڈی این اے کو پڑھنے، اس کی کاپی بنانے، اور اس کی انفارمیشن استعمال کر کے پروٹین بنانے کے پراسیس میں غلطیاں ہونے لگتی ہیں۔

سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ چار لڑیوں والے ڈی این اے مالیکیولز کئی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں لیکن ابھی تک ایسے ڈی این اے مالیکیولز کو زندہ خلیوں میں تلاش کرنا ممکن نہیں تھا- سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر خلیوں میں helicase نامی پروٹینز کو ختم کر دیا جائے تو چار لڑیوں والے ڈی این اے مالیکیول زیادہ بننے لگتے ہیں۔ اس سے سائنس دانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ helicase پروٹین کی موجودگی چار لڑیوں والے ڈی این اے مالیکیول کے بننے میں مانع ہوتی ہے۔ چنانچہ اب سائنس دان اس پروٹین پر مشتمل ایسے مالیکیولز ڈیزائن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں کینسر کے خلاف دوا کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

ایک اور حالیہ سٹڈی میں انکشاف ہوا ہے کہ چار لڑیوں والے ڈی این اے کی تعداد میں اضافہ pyridostatin نامی مالیکیول کی زیادتی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ وہی مالیکیول ہے جو انسان کے جسم میں موجود کئی قسم کے کینسر کے خلیوں کو بڑھنے سے روکتا ہے- یہ مالیکیول ڈی این اے کے ان حصوں کو نقصان پہنچاتا ہے جو خلیوں کی کاپیاں بنانے کے پراسیس میں استعمال ہوتے ہیں جس سے کینسر کے خلیوں کی تقسیم میں خلل پڑ جاتا ہے۔ اس ضمن میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان پیچیدہ پراسیسز کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے جو کینسر کا باعث بنتے ہیں- اگر ان پراسیسز کو سمجھنا ممکن ہو جائے تو کئی قسمی کے کینسرز کا علاج تلاش کرنا آسان ہو جائے گا

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں