آداب پر اشعار

بن جاؤں نہ بیگانۂ آداب محبت
اتنا نہ قریب آؤ مناسب تو یہی ہے
جگر مراد آبادی

محبت کے آداب سیکھو ذرا
اسے جان کہہ کر پکارا کرو
وکاس شرما راز

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی
احمد فراز

رونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں فانیؔ
یہ اس کی گلی ہے تیرا غم خانہ نہیں ہے
فانی بدایونی

بیکل بیکل رہتے ہو پر محفل کے آداب کے ساتھ
آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہو
ابن انشا

عشق بن جینے کے آداب نہیں آتے ہیں
میرؔ صاحب نے کہا ہے کہ میاں عشق کرو
والی آسی

ناصح تجھے آتے نہیں آداب نصیحت
ہر لفظ ترا دل میں چبھن چھوڑ رہا ہے
نامعلوم

باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں
کسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے
ندا فاضلی

مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے
علی سردار جعفری

یہ باتوں میں نرمی یہ تہذیب و آداب
سبھی کچھ ملا ہم کو اردو زباں سے
بشیر مہتاب

مانا کہ بزم حسن کے آداب ہیں بہت
جب دل پہ اختیار نہ ہو کیا کرے کوئی
عزیز لکھنوی

عشق کے ماروں کو آداب کہاں آتے ہیں
تیرے کوچے میں چلے آئے اجازت کے بغیر
ضیا ضمیر

پاس آداب وفا تھا کہ شکستہ پائی
بے خودی میں بھی نہ ہم حد سے گزرنے پائے
رضا ہمدانی

ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہ
جو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھے
آل احمد سرور

پاس آداب حسن یار رہا
عشق میرے لیے ادیب ہوا
حاتم علی مہر

رخصت کرنے کے آداب نبھانے ہی تھے
بند آنکھوں سے اس کو جاتا دیکھ لیا ہے
پروین شاکر

گر یہی ہے پاس آداب سکوت
کس طرح فریاد لب تک آئے گی
منشی امیر اللہ تسلیم

ہم سے آداب جینے کے سیکھو
ہم بزرگوں میں بیٹھے بہت ہیں
حنا تیموری

مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو
ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے
آل احمد سرور

جب عشق سکھاتا ہے آداب خودآگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
علامہ اقبال

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں