آسیب

نظم نگار : شاہین کاظمی

, آسیب

سنا ہے ویران مکانوں میں
آسیب بسیرا کر تے ہیں
جہاں خوف کی بے رحم ساعتیں
اپنے مکروہ پنجے گاڑے
زندگی کا احساس تک چُوس لیتی ہیں
پُراسرار دھندلکوں میں لپٹے
ویرانیوں کا دکھ سہتےآنگن
جن کے درو دیوار سے پھوٹتی
زمستانی ہواؤں کی سسکیاں
اُداسی کو بھی ٹھٹھرا دیتی ھیں
کھڑکیوں میں جھانکتی چاندنی تھک ہار کر
مایوسی اُوڑھے
سیاہ بادلوں میں جا چُھپتی ہے
بے بس چاندنی کی شکست پر
اندھیرا، خوف اور سناٹا
مل کر قہقہے لگاتے ہیں
کواڑ بجنے لگتے ہیں
وحشتوں کا رقص شروع ہوتا ہے
دور کہیں بستی میں بچے ڈر کر
ممتا کا آنچل اُوڑھ لیتے یں
میرا دل بھی ایک ویران مکان ہے
سُنا ہے ویران مکانوں میں
آسیب بسیراکرتے ہیں

شیئر کریں

کمنٹ کریں