آئے گا، آئے گا، آئے گا

ناصر خان ناصر

, آئے گا، آئے گا، آئے گا

محل فلم کا ریں ریں کرتا گانا کانوں میں گونج گونج کر نگوڑ مارا چپ ہو رہا۔
ہمارے پانچ ہزار دوست پورے ہیں، مزید پان سو دم سادھے دوستی کی عرضی بھیج کر انتظار میں لائن لگا کر بیٹھے حقے گڑگڑا رہے ہیں، شیشہ پی پی کے شیشہ دیکھ لیتے ہیں، جیبی کنگھی نکال کر بال درست کر لیے۔
اے لو بڈھی گھوڑی لال لگام ثریا بھوپالی نے سب سے نظر بجا کر اپنی اتری لپ اسٹک دوبارہ تھوپ لی۔
ہماری پوسٹوں کو بجز چند کرم فرماوں کے کوئی منہ نہیں لگاتا، منہ چڑانے تک کی بھی مناہی ہے۔ کن اکھیوں سے دیکھ کر کھنگورا بھی نہیں بھرا جاتا۔
لائک کا بٹن دبانے سے گویا جان نکلتی ہے۔ روح مسکی پڑی ہے، کلیجہ کچلا جاتا ہے،
لو بھئی! ایسی بھی کیا اوا زاری۔۔۔ آہ و زاری۔۔۔
شیطان کے کان بہرے، اتنی بھی کیا موئی سستی۔۔۔
لوقا لگے نگوڑے بٹن دباتے کون سے ھل بیل جوڑنے پڑتے ہیں، پتہ پانی ایک کرنا پڑتا ہے۔
دھیلا خرچ ہوتا ہو تو کوئ عذر بھی سہہ لے، یہاں تو دمڑی کا بال بیکا نہیں ہوتا پھر بھی دمڑی کی بڑھیا، ٹکہ سر منڈائی کی سی بے اعتنائ۔۔۔ یہی رونا ہمارا بھی ہے۔
نصیب اپنا اپنا۔


ہم تو کتنے ہی پیارے دوستوں کی گلیوں میں بیکار جا جا کر بھاڑ جھونکتے، چنے بھونتے، جوتیاں چٹخاتے پھرتے رہ جاتے ہیں، پوسٹ پوسٹ پر اپنی حاضری لگواتے ہیں، یہاں چٹکی بھر دی، وہاں گدگدی کر دی، کسی کو چھیڑ دیا، کسی کے آنسو پونچھ لیے۔
کسی کو ٹھینگا دکھا دیا، کسی کو آنکھیں۔۔۔
مگر کیا کیا جائے کہ ہماری اٹریا پر آ کر کوئی کبوتر بھی غٹر غوں نہیں کرتا۔ چڑیا تک پر نہیں مارتی۔۔
کوئ ویرانی سی ویرانی ہے
کاش کسی نے
کچھ اپنی کہی ہوتی
کچھ میری سنی ہوتی
سن ری پون
پون پروئیا
میں ہوں اکیلا، البیلا
تو سہیلی میری بن جا
ساتھی آ۔۔
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں