ادب ِ اطفال کے علمبردار : مرتضیٰ ساحل تسلیمی

, ادب ِ اطفال کے علمبردار : مرتضیٰ ساحل تسلیمی

ہنس مکھ، خوش مزاج، نرم طبیعت ، خوش گفتار، بڑوں کے ساتھ نرمی کا برتاو¿ روا رکھنااور چھوٹوں پر دست شفقت رکھنا، بیگانوں سے اس طرح ملنا کہ گویا ایسا معلوم ہو، جیسے برسوں بچھڑے رفیق ملے ہوں۔ بظاہر بہت سادہ اور معمولی لیکن باطن سے مجمع البحرین صفات کے حامل، اصلاحی و تعمیری ادب کے علمبردار اور ادب اطفال کے اسماعیلؒ ثانی مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب کی شخصیت کچھ ایسی تھی۔ ساحل صاحب بیک وقت کئی صفات سے متصف تھے۔ لحیم شحیم قدو قامت رکھنے والا انتہائی منکسر المزاج ، ان کی منکسر المزاجی کو دیکھ کر چاند بھی شرما جائے۔ جب گفتگو کرتے تو سامع اپنی تمام تر قوت سماع کو بروئے کار لاتے ہوئے مزید سنتے رہنے کی خواہش کا اظہار کرتے۔ ان کی گفتگو سننے والا کبھی اکتانے کی جرا¿ت نہیں کرسکتا تھا۔ مرتضی ساحل تسلیمی جب تک اہل دنیا میں زندگی بسر کرتے رہے زمین والوںنے شاید ان کی وہ قدر نہیں کی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ اہل دنیا سے کچھ لینے کے آرزو مند دکھائی نہیں دیئے۔ بزبان غالب:

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
گر نہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی

عالم فانی سے عالم بقا کی جانب منتقل ہونے کے بعد مرتضیٰ ساحل تسلیمی کے چاہنے والوں کا جس قدر ظہور ہوا ۔ وہ شہرت بہت کم شعرا و ادبا کے حصہ میں آتی ہے۔ ایسے خوش نصیب ہزاروں، لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں۔ ایسے نایاب ہیرے کے لیے برسہا برس انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تدوین ”آئین اکبری“ کے تقریظ میں غالب نے سر سید احمد خاں کو مخاطب کیا:
”مردہ پرورن مبارک کارِنیست“
یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں بلکہ انہیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔ماہرین غالب کا خیال ہے غالب کے اسی جملہ نے سر سید کو تجدید کی طرف راغب کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ مرتضیٰ ساحل نے غزل کی اشاعت کے لئے جب اپنی غزل ایک بزرگ کی خدمت میں پیش کی تو جواب آیا:
” ساحل صاحب ! جب اللہ نے آ پ کو شعر گوئی کی صلاحیت دی ہے تو اسے بامقصد شاعری کے لیے کام میں لایئے۔ شاعری سے آپ شہرت پاسکتے ہین لیکن میر اور غالب کا مقام حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ اس میدان میں سخت مقابلہ آرائی ہے البتہ بچوں کے ادب میں میدان صاف ہے صرف ایک نام ہے شفیع الدین نیر صاحب کا ۔ اگر آپ بچوں کے ادب میں طبع آزمائی کریں تو جلد ہی ادب میں مقام پیدا کرلیں گے اور یہ کام آپ کے لیے باعث اجر و ثواب بھی ہوگا۔ “

(پیش لفظ مرتضیٰ ساحل تسلیمی ، پھول اور کلیاں، ص ۹)مرتضیٰ ساحل کو مستقبل کا راستہ دکھانے والی کوئی معمولی شخصیت نہیں تھی بلکہ جماعت اسلامی کے روح رواں اور ادارہ الحسنات کے بانی و مدیر مولانا عبد الحئی رحمة اللہ علیہ کی شخصیت تھی۔ اس تبصرہ کے بعد مرتضیٰ ساحل کہتے ہیں” میں نے اپنے بزرگ کی نصیحت کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ اس پرخلوصِ دل سے عمل بھی کیا۔ مرتضیٰ علی خاں کی شخصیت کو تراش خراش کر اسے مستقبل کامرتضیٰ ساحل تسلیمی بنا دیا۔ان کو سنوارنے اور صالح تربیت میں مولانا کا بہت اہم رول رہا۔

پیدائش و تعلیم و تربیت:

مرتضیٰ ساحل تسلیمی کی پیدائش دار السرور دبستان رامپور میں ۰۳ جون ۳۵۹۱ءکو ہوئی ۔ ان کا پیدائشی نام مرتضیٰ علی خاں تھا ۔ انھوں ابتدائی تعلیم مدرسہ مصباح العلوم سے حاصل کی ۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور بی ، ایڈ اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ گھر میں ادبی ماحول ملا۔ بزرگوں کی سرپرستی حاصل رہی۔ جس بنا پر ان کے اندر ادبی شعور بیدار ہوا۔ انھوں نے شاعری کی آغاز ۹۶۹۱ءمیں ہی کردی تھی۔ کثرت مطالعہ اور مشاقی نے جلد ہی انھیں باشعور شاعر بنا دیا۔
ملازمت اور ادارہ الحسنات سے وابستگی:
دسمبر ۲۷۹۱ءمیں مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر ادارہ الحسنات میں مولانا عبدالحی صاحب ؒ کی سرپرستی میں ملازمت اختیار کی۔جیسا کہ اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب کی تربیت اور مٹی کو سونا بنانے میں مولانا ؒ کا بہت اہم رول رہا۔ جب مرتضیٰ صاحب ادارہ سے وابستہ ہوئے تو انھوںنے ساحل کے اندر چھپی صلاحیتوں کابار بار مشاہدہ کیا اور حوصلہ افزائی کے ذریعہ ان کے لیے بہترین راہیں ہموار کیں۔ مولانا عبد الحئی کی صحبت میں تین سے چار ماہ ہی گزرا تھا کہ انھیں ایک ایسے آدمی کی ضرورت پڑی جو نونہالوں کی تربیت پر مشتمل رسالہ کی ادارت کرسکیں۔ عبد الحئی صاحب ؒ نے مرتضیٰ ساحل تسلیمی کے اندر وہ تمام تر خوبیاں دیکھیں۔ جن کی انھیں تلاش تھی۔ ” بچوں کا ہلال“ کے مدیر اعلیٰ وسیم عبد الباری صاحب کہتے ہیں۔ جب مولانا موصوف نے رسالہ کا خاکہ تیار کیا اور تمام مشمولات یکجا کرلیے اور سرورق کے لیے نظم بھی خود لکھی ۔ مولانا مرتضیٰ ساحل تسلیمی کی شعری حس سے اس قدر واقف تھے کہ اپنی نظم پر اصلاح لینے کے لئے خود ساحل صاحب کے پاس تشریف لے گئے اور مخلصانہ درخواست کی کہ” آپ شعر و شاعری سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ میری یہ ادنیٰ سی کوشش کو ملاحظہ فرمالیں اور نوک پلک درست کردیں۔ “ ماہنامہ بچوں کے ہلال کا پہلا شمارہ مولانا عبد الحئی صاحب ؒ نے خود ترتیب دیکر منظر عام پر لائے لیکن دوسرے شمارے میں پوری ذمہ داری مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب کے سپرد کردی۔ رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے انھوں نے ” بتول، الحسنات، نور ، ہادی “ کے بھی مدیر مقرر ہوئے ۔ اور ۴۹۹۱ ءتک شعبہ¿ ادارت سے وابستہ رہے۔ ۴۹۹۱ءکے بعد آپ تدریس کے پیشہ سے بھی وابستہ ہوگئے۔ لیکن ادارہ الحسنات کے ساتھ ان کی وابستگی قائم رہی اور وہ تاحیات اعزازی مدیر رہے۔ مولانا عبد الحئی صاحب ان کی ذمہ دارانہ و مدیرانہ صلاحیت کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ عبد الباری وسیم صاحب ( مدیر ، بچوں کا ہلال) کہتے ہیں:

” مرتضیٰ صاحب ادارہ سے ایک ملازم کی حیثیت سے وابستہ نہیں تھے بلکہ وہ گھر کے ایک فرد تھے۔ وہ ہمارے خوشی اور غم کے برابر کے شریک تھے۔ انھوں نے ہماری تربیت ایسی کی جیسا کہ لوگ سگے بھتیجوں کی کرتے ہیں۔ “وسیم صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں :

” مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب آفس کے لیے کبھی بھی دیر نہیں کرتے تھے۔ ان کا آنے کا وقت ہمیشہ ایک رہا ، لیکن جانے کا کوئی وقت متعین نہیں ہوتا تھا۔ وہ روازانہ کاکام روزانہ ختم کرنے کے بعد ہی گھر جاتے اور دوسرے دن پھر وقت پر آفس پہنچ جاتے۔ ساحل صاحب نے مجھے خود بتایا تھا کہ ایک بار کام کرتے ہوئے انھیں وقت کا احساس نہیں ہوا اور کافی رات ہوچکی تھی اور میں اپنے کاموں میں پورے انہماک کے ساتھ مشغول تھا کہ اچانک میرے کانوں میں کھٹر کھٹر کی آواز آئی۔ میں نے کاموں سے دھیان ہٹا کر دیکھا تو مولانا عبد الحئی صاحب جو کافی ضعیف ہوچکے تھے ، ان کے بدن پر ریشے پڑ چکے تھے۔ چلنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا اور ہل ہل کر چلتے تھے۔ ٹرے میں چائے لیکر آرہے ہیں اور ٹرے اس قدر ہل رہی تھی کہ اس سے کھٹر کھٹر کی آواز آرہی تھی۔ مولانے نہایت شفقت سے فرمایا: ساحل صاحب چائے پی لیجئے آپ کافی دیر تک کام کررہے ہیں تاکہ تھوڑی تھکن دور ہو۔ جب میں نے بعد میں گھر پر معلوم کیا تو پتہ چلا وہ چائے مولانا نے میرے لئے اپنے ہاتھوں سے خود بنائی تھی۔ “
مولاناؒ کی یہ باتیں بظاہر تو بہت معمولی معلوم ہوتی ہےں لیکن یہ باتیںساحل صاحب کے اندر تک گھر کر جاتی تھیں۔اس لئے وہ مولانا کے ہر مشورہ کے آگے اپنا سرخم تسلیم کردیتے تھے۔

عادت و اخلاق:

کہنے کو تو کہا جاتا ہے انسان جیسا دکھتا ہے ویسا ہوتا نہیںہے۔ ہر آدمی ظاہر سے کچھ دکھتا اور باطن سے کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ یہاں ہر چہرے پر ایک نہیں کئی کئی ماسک چڑھا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے انسان کا حقیقی چہرہ دھندلا سا بھی نظر نہیں آتا۔ لیکن مرتضیٰ ساحل صاحب کے ساتھ ایسا کچھ نہیں تھا۔ وہ جیسے باہر سے تھے ویسے ہی پر عکس ان کا باطن بھی تھا۔ ان سے ملنے والا چند لمحوں میں ہی ان کا فین ہوجاتا تھا۔ ان کی نظر میں بڑوں اور چھوٹوں کا یکساں احترام تھا۔ بڑوں سے خنداں پیشانی سے ملتے اور چھوٹوں پردست شفقت ہمیشہ روا رکھتے۔ ان کے اندر یہ خوبی تھی کہ وہ بچوں کے ساتھ اکثر بچہ بن جاتے۔آج بھی مجھے جو کچھ یاد ہے وہ یہ کہ دوپہر کی سخت چلچلاتی گرمی ، گلی اور سڑکوں پر سناٹاپسرا پڑا تھا، لوگ باگ نظارے سے ندارد۔ میں آفس(ادارہ الحسنات) میں اکیلا کام کررہا تھا۔ کہ ”السلام علیکم “ کی آواز نے میری تمامتر توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ پیچھے مڑ کر دیکھاتوساحل صاحب تشریف فرماہیں۔ تعظیماً کھڑے ہونے کی کوشش کررتھا کہ کندھا تھپتھپا کر بیٹھے رہنے کا حکم صادر ہوا۔ ان کو ہانپتے کانپتے دیکھ کر میں نے عرض کیا:” حضرت کہیں پیدل تو تشریف نہیں لارہے ہیں۔ “ جواب آیا:” ارے صاحب اب پیدل اور سواری میں فرق کیا، اب تو عمر کے اس پڑاو¿ پر ہوں کہ سفر و حضر ایک جیسا معلوم ہوتا ہے۔چار قدم چلتے ہی یہ ہانپنا کانپنا شروع ہوجاتا ہے۔“ حال و احوال کے بعد وسیم عبدالباری صاحب ( مدیر بچوں کا ہلال) کے متعلق پوچھنے لگے۔ وسیم صاحب کہیں کام سے گئے ہوئے تھے ۔ساحل صاحب کے ساتھ میں غالبا ً ان کا پوتا تھا۔ انھوں اپنی جیب سے چند ٹوفیاں نکالی ، ایک اپنے پوتے کو اور دو مجھے دینے لگے۔ میں نے ٹافی لینے سے انکار کرتے ہوئے :” ٹوفیاں تو بچے کھاتے ہیں ۔ آپ رکھ لیں کسی اور بچے کو دے دیجئے گا۔ ‘ ‘ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا ہوئے: ” آپ بھی تو ہمارے لئے بچے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ آپ ذرا بڑے بچے ہیں۔ اس میں بھی میں نے آپ کا خیال رکھا ہے، اس لئے آپ کو دو ٹافیاں دے رہا ہوں۔ “ ساحل صاحب سے یہ میری شاید تیسری یا چوتھی ملاقات تھی۔
ساحل صاحب سے میری شاید آخری ملاقات کچھ اس طرح رہی کہ میں قریب تین بجے کے آس پاس آفس پہنچا ۔ وسیم عبد الباری صاحب آفس کے کام سے باہر کہیںجارہے تھے۔ انھوں نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا” ساحل صاحب اوپر کچھ کام کررہے ہیں۔ ان کا خیال رکھیے گا ۔ “ جب میں اوپر پہنچا تو دیکھا ساحل صاحب اپنے کام میں منہمک ہےں۔ سلام علیک، حال واحوال دریافت کے بعد وہ اپنے کام میں دوبارہ منہمک ہوگئے ۔ میں وہیں ان کے پاس بیٹھ کر انھیں کام کرتے ہوئے ٹک ٹک دیکھتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد ساحل صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے: ” بزرگوں کے پاس بیٹھنا اوران سے باتیں کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن جب بزرگ کام کررہے ہوں تو انھیں تکلیف دینے سے گریز کرنا چاہئے ۔ آپ یہاں کام کرنے آئے ہیں ، جاکر اپنا کام دیکھیںاور مجھے بھی کام کرنے دیں۔ کیوں اپنا حرج اور میرا نقصان کررہے ہیں۔ “ میں یہ سن کر اپنا سا منہ بنا کر کیبن میں چلا گیا۔ ساحل صاحب کام سے فارغ ہوکر جب جانے لگے تو انھوں نے مجھے بلایا اور کہا:” میری باتوں کا برا تو نہیں لگا، آئےے کسی دن میرے غریب خانہ پر پھر تفصیلی ملاقات ہوگی۔ میری باتوں کا برا مت مانیے گا۔“ اور پھر مسکرا کرسر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے:” آیئے مجھے نیچے چھوڑ دیجئے۔ “ میں بھی مسکرا کر انھیں نیچے چھوڑنے آیا اور اللہ حافظ کہا۔
مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب جہاں اپنی تحریروں کے ذریعہ نوجوانوں اور نونہالوں کی تربیت و اصلاح فرماتے وہیں وہ مختلف اور طریقے بھی اپناتے۔

ادبی زندگی:

ساحل صاحب نے جب لکھنے کا آغاز کیا تو وہ زمانہ اردو رسالوں کے ترقی کا زمانہ تھا۔ مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کرکے سخنوران آسمان کی بلندیوں کو چھورہے تھے۔ لیکن انھوں نے ان راستوں کو نہیں اپنایا ۔ انھوںنے اپنے لئے ایک مشکل راستہ اختیار کیا۔ اور وہ راستہ ہے اصلاحی اور اسلامی ادب کا۔انھوں نے اپنی تحریروں میں اصلاح اور اسلام کو اولیت کے مقام پر رکھا۔ جس پیمانے پر ان کی تربیت و پرورش ہوئی تھی وہ اس پر ہمیشہ قائم رہے ۔ انھوں نے اس سے روگردانی کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ان کے ادب میں اصلاح معاشرہ کا پیغام نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ اسلامی زندگی کی جھلک ، رواداری کا پاس و لحاظ ، آپسی یگانگت ان کی نمایاں خوبیوں میں شمار ہوتی ہے۔ انھوں نے اس وقت رائج ادبی دائرے کو قبول کرنے سے احتراز کیا۔ اور وہ اسلام ازم کے سامنے کسی اور ازم سے نہ تو متاثر ہوئے اور نہ ہی اس کی پیروی کی۔ انھوں نے اپنے قارئین کو رومانی سیر کرانے کو برا مانا اور ان کو چند لمحوں کی خوشی فراہم کرکے ان کی آخرت کو بگاڑنے کو بھی اچھا نہیں سمجھا۔ اس لئے وہ اپنے لئے اور اپنے قارئین کے لئے بھی دونوں جہان میں بڑائی کا سامان پیدا کرتے رہے اور اجر عظیم کے ملتجی رہے۔ انھوں نے اصلاح معاشرہ کی غرض سے ” کڑوی سچائیاں، گھر گھر کی کہانیاں “ جیسی کتابیں لکھیں۔ وہ اپنی ادبی نگارشات کے متعلق لکھتے ہیں:
”……..میںاُس مدرسہ ادب کا ادنیٰ طالب علم ہوں جس کا نصاب” ادب برائے زندگی“ کے اصول و ضابطے پر تےار کیا گیا ہے۔ ادبِ اطفال ہو کہ ادب بالغان، نظم وغزل ہو کہ کہانی یا افسانہ۔ یہاں سے ” بامقصد ادب“ کی سند حاصل ہوتی ہے۔ یہاں سے فارغ ادیب اعلیٰ انسانی قدروں کی ترویج و اشاعت کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ تعمیری اور اصلاحی ادب پاروں سے معاشرہ کو پاکیزہ اور پر وقار بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ میرے افسانوں کا مقصدِ تخلیق بھی یہی ہے۔ “
( پیش لفظ ، افسانوی مجموعہ آخری تعاقب، ص ۲۱)

ادب اطفال :

ادب اطفال کے متعلق ڈاکٹر ابن فرید لکھتے ہیں:
”بچوں کے ادب کے میدان میں امکانات بہت سے ہیں کیونکہ عام طور سے لکھنے والے اس ادبی محاذ کو لائق ِ اعتنا تصور نہیں کرتے۔ نقصان سب سے بڑا یہ ہے کہ بچوں کے ادب کو جب اہمیت ہی نہیں دی جاتی تو اس صنف کے ادیبوں اور شاعروںکو بھی ادیب یا شاعر تصور نہیں کیا جاتا۔ اردو ادب کی کسی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیجئے، اس میں بچوں کے ادیبوں، شاعروں کا کہیں کوئی ذکر نہ ملے گا۔ یہ صرفِ نظر بہت بڑا خسارہ ہے۔ ساحل صاحب نے ” فائدوں “ کو خواہ پیش نظر رکھا ہو یا نہ رکھا ہو لیکن خسارہ کا خطرہ ضرور مول لے لیا ہے۔ “
( بچوںکا ادب اور مرتضیٰ ساحل ، مرتب محمد مسلم غازی،ص ۶۱)

صحیح معنوںمیں مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب نے اپنے سر پر خسارہ کا بیڑا ڈال لیا تھا۔ لیکن انھوں نے اس کے باوجود بہت کم مدت میں جو مقبولیت اور شہرت حاصل کی ادب اطفال کے میدن میں وہ صرف چند ادباءاور شعرا کے حصے میں آئی ہے۔ انھوں نے نئی نسل کی آبیاری کے لئے ہی ادب کو فروغ دیا۔ چند سالوں میں ہی درجنوں کتابوں کے مصنف بن گئے ۔ ادب اطفال کے موضوع پر بیس نثری کتابیں لکھیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں© : ” بھولا راجا(ناول) جلوس، بچھو، توبہ، نٹ کھٹ، رحمدل ہاتھی، لالچی گیڈر، سمجھدار گدھا، مددگار چوہا، ڈاکٹر بندر، شیر کا انصاف، صبح کا بھولا، گھوڑے کی دُم، پک نک، مکار لومڑی، کھوٹی اٹھنی، شام کا بھولا، نقلی سورما، نرم ٹہنی۔“ جب کہ دو منظومات کا انتخاب شائع ہوا:” مہکتی کلیاں ، پھول اور کلیاں“ ۔

مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب نے پیشہ وارانہ زندگی کی شروعات ماہنامہ ” بچوں کا ہلال“ سے کی تھی۔ بچوں کے ہلال سے ان کو دلی انسیت تھی۔ ہلال ہی کیا بچوں کے تمام رسائل سے انھیں دلی شغف تھا ۔ وہ اردو رسائل خصوصی طور پر بچوں کے رسائل کے فروغ کے لیے کوشاں نظر آتے تھے۔ جس کے لئے وہ بارہا اشتہار کے ذریعہ حلقہ¿ قارئین کو نئی نسل کی تربیت کے لئے رسالوں کو جاری کرانے کی گزارش کرتے ۔ مزید یہ کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر بچوں کی تربیت کے لئے رسالوں کی خریداری کے پیسہ مقرر کرر دیتے تھے تاکہ لوگ اس چیز کو سمجھے کہ جہاں وہ اپنے بچے کی بہتر پرورش کے لئے ان پر دن میں سیکڑوںروپے خرچ کرسکتے ہیں تو انھیں بچوں کی تربیت اور اردو کی فروغ کے لئے روزانہ ایک ایک دودو روپے خرچ کیوںنہیں کرسکتے ہیں۔ بچوں کا ہلال جب نکلنا بند ہوا تو مرتضیٰ ساحل تسلیمی صاحب بہت زیادہ مایوس نظر آئے ۔ وہ ہمیشہ اسی کوشش میں رہے کہ رسالہ دوبارہ جاری ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ رسالہ کو دوبارہ جاری کرنے کے لئے بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کرنے کی بھی پیشکش کی تھی۔ ان کی انہی کوششوںسے الہلال کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور تین شمارے شائع ہوکر منظر عام پر بھی آئے۔لیکن یہ سلسلہ پھر جلد ہی رک گیا۔ وسیم عبد الباری صاحب کی معاونت میں ہماری کوشش اب بھی جاری ہے کہ ادارہ الحسنات سے شائع والے تمام رسائل کو استفادہ عام کی غرض سے ڈیجیٹلائزکیا جائے اور بچوں کا ہلال کی دوبارہ اشاعت شروع ہو۔

وفات:

ادب اطفال اور اصلاحی ادب کے علمبردار اردو کی یہ عظیم شخصیت ۱۲ اگست ۰۲۰۲ءکے شب تقریباً گیارہ بجے جان جاں آفریں کے سپرد کی۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے
٭٭٭

شیئر کریں
مدیر
مصنف: احتشام الحق آفاقی
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں