ادب اطفال اورجدت پذیری

تحریر: ذوالفقار علی بخاری

, ادب اطفال اورجدت پذیری

ایک زمانہ تھا جب ادب اطفال میں مخصوص رجحان سے ہٹ کر کچھ لکھنا اورنئے تجربات کرنا عجیب سی نظروں سے دیکھا جاتا تھا مگر پھر ادب اطفال میںنت نئے رجحانات کاآغاز یوں ہوا کہ سب نے اُنہی اقدامات کی پیروی کرنا شروع کر دی جس کی وہ پہلے مخالفت کرتے تھے۔
آج کی بات کریں تو ایک مشہور اد ب اطفال ادیب نے جب نئے لکھنے والوں کی خوب حوصلہ افزائی کرنا شروع کی ہے تو دیگر ادیبوں نے بھی اس حوالے سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اس بات پر بھی بحث ہوتی ہے کہ کون اولین ادیب تھا جس نے اس کا آغاز کیا تھا۔
آپ امجد جاوید صاحب کے ’’ جی بوائے‘‘ کو دیکھ لیں کہ انہوں نے کس طرح سے ایک نیا کردار سامنے لاکر بچوں کو پڑھنے کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی طرح کی جب تک مزید کوششیں نہیں ہونگی تب تک ہم بس یہی کہتے رہیں گے کہ پڑھنے والے کم ہیں،حالانکہ پڑھنے والوں کو آپ اگر کچھ منفرد اور انفرادیت کا حامل عطا کریں گے تو ہی وہ کتاب سے محبت ظاہر کریں گے۔


میرے خیال میں تو جس طرح سے امجد جاوید صاحب نے یہ کردار ’جی بوائے‘‘ تخلیق کیا ہے، ہم اس حوالے سے تمام ادب اطفال کے رسائل کے مدیران کے سامنے ایک تجویز رکھنا چاہیں گے کہ وہ اس طرح کا کوئی ’’ خاص نمبر‘‘ نکالیں جس میں آ ج کے تقاضوں کے مطابق ’’ جی بوائے‘‘ جیسے مزید کردار بھی سامنے لائے جا سکیں۔ راقم السطور کو قوی یقین ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی قدم اُٹھا لیا گیا تو پھر آج کے بچوں کو رسائل وکتب کی جانب مائل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔اس حوالے سے خاص طور پر پاکستان اور بھارت میں لازمی کام کیا جائے ، یہی وقت کا تقاضہ ہے جس سے اُردو کی ترویج وترقی بھی ہو سکے گی۔اس طرح سے آج تک ہمارے خیال میں کبھی ’’ لکھاری خا ص نمبر‘‘ بھی سامنے نہیں لا یا جا سکا ہے ، یہ خاص نمبر ادبی دنیا کے حوالے سے لکھاریوں کے مشاہدات اورتجربات کی روشنی میں کہانیوں کی صورت میں سامنے آئے تو بہت کچھ ایسا مواد سامنے آئے گا جس کی روشنی میں بہترین حکمت عملی بناتے ہوئے بہت سے مسائل اورمعاملات کو حل کرانے میں مدد مل سکتی ہے۔یہاں یہ بات اہمیت کی ہے کہ بہت کم ہی لکھاریوں کے حوالے سے سوچا جاتا ہے تو اس طرح کا کوئی قدم ضرور لیا جانا چاہیے تاکہ ادب کی ترویج و ترقی میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہو سکیں۔’’ لکھاری خاص نمبر‘‘ سے مراد لکھاری، رسالے اورمدیر کے مابین چھپی داستانوں کے حوالے سے تجربات ومشاہدات پر مبنی کہانیاں ہیں ، یہ نہیں کہ وہ محض کسی مخصوص لکھاری کی تحریروں کے حوالے سے مرتب کی جائیں۔


یہ 23جنوری 2021کی بات ہے کہ ادب اطفال کے مشہور ومعروف ادیب نوشاد عادل کی جانب سے ہمیں ایک بات سننے کو ملی کہ چلڈرن لٹریری سوسائٹی کے روح رواں محمد فہیم عالم صاحب نے اپنے رسائل ماہ نامہ بچوں کی دنیا، ماہ نامہ بچوں کا باغ اورماہ نامہ جگنو میں ’’ مزاحیہ کردار نمبر‘‘شائع کرنا ہے۔ اس طرح کا کوئی خاص نمبر اس سے قبل ادب اطفال کے رسائل میں شائع نہیں ہوا ہے جہاں مختلف مزاحیہ کرداروں کی نئی اورشاہ کار کہانیاں شائع ہوئی ہوں۔ یہاں آپ کی دل چسپ کی لئے بتاتے چلیں کہ چچا تیز گام، خالو خوامخواہ،چچاحیرت،خالو جھگڑالو،میاں بلاقی،ماموں ملال،ابن بودینہ، اورچچابھلکڑ جیسے مزاحیہ کرداروں کی کہانیاں اس ’’ خاص نمبر‘‘ میں شامل ہو نگی۔ارے کہاں چل دیئے آپ ابھی اور تو سنتے جائیں، اس مزاحیہ کردارنمبرمیںدیگر مزاحیہ کرداروں کی کہانیاں بھی ہونگی ، اس کے ساتھ یہ بھی پیش کش کی جا رہی ہے کہ اگر آپ اس مزاحیہ کردار نمبر سے اپنے کسی نئے کردار کا آغاز کرنا چاہ رہے ہیں تو یہ اُس لکھاری کے لئے یادگار ہو جائے گا جو کہ ایسے ہی کسی موقعے کی تلاش میں تھا۔ اس سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ اس میں ڈربا کالونی، چچا تیز گام اور کسی بھی لکھاری کی بڑی کہانی کو تین قسطوں میں شائع کیا جائے گا۔ پہلی قسط ماہ نامہ جگنو، دوسری بچوں کی دنیا اور تیسری بچوں کا باغ میں لگے گی، اس طرح ایک ہی مہینے میں ایک ساتھ تین قسطیں شائع ہونگی۔یہ بھی ایک نیا رجحان ہوگا جو کہ معروف ادیب نوشاد عادل کی جانب سے سامنے لایا گیاہے۔ یہی نہیں بلکہ نوشاد عادل نے ماہ نامہ انوکھی کہانیاں، کراچی کے لئے بھی ایک خاص ’’ شاہ کار کہانی نمبر‘‘سامنے لا کر ادب اطفال میں مزید جدت پذیری لانے کا سوچا ہے جس میں ہر لکھاری کی جانب سے اُس کی شاہ کار کہانی کو شائع کیا جائے گایہ کہانیاں مسلسل چارسے چھ ماہ جاری رہنے والے ’’ شاہ کار کہانی نمبر‘‘ کا حصہ بنیں گی۔یہ ایسے منفرد خیال ہیں جن کو آنے والے وقت میں کئی لوگ اپنا قرار دینے کی کوشش کریں گے اوریہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہوگی۔


ابھی کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ ’’ بچوں کا اسلام‘‘ کا سالنامہ پانچ حصوں میں شائع کیا گیا ہے تو اُسی کو دیکھتے ہوئے ماہ نامہ ’’ پھول‘‘ کاسالنامہ بھی دو حصوں میں شائع کیا گیا ہے جو کہ خوش آئند بات کہی جا سکتی ہے کہ سالنامے میں شرکت ہر لکھاری کی خواہش ہوتی ہے تو یہ ایک بہترین آغاز ہے کہ رسائل بھرپور طور پر ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو نہ صرف لکھاریوں کے لئے باعث فخر ہو بلکہ قارئین کو بھی بہترین مواد پڑھنے کوملے۔ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں مزید جدت پذیری ادب اطفال میں دیکھنے کو ملے گی اور ادب اطفال مزید پھل پھول سکے گا۔وقت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بھارت اور پاکستان میں ادب اطفال کے میدان میں نت نئے رجحانات کی جانب بڑھنا ضروری ہو چکا ہے ۔آج کے بچے کچھ الگ سا ادب بھی پڑھنے کے خواہاں ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ دورجدید کے تقاضوں کے مطابق کہانیاں لکھی جائیں اور نئے کردار بھی سامنے لائے جائیں تب ہی بچوں کو بھرپور دور پر کتب بینی و رسائل وجرائد کی جانب مائل کر سکیں گے۔
—–
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment
  1. Avatar

    ماشاءاللہ بہت خوب جناب

    Reply

کمنٹ کریں