عدالت پر شاعری

عدالت شاعری

عدالت، مقدمہ، عدالتی کارروائیوں، وکلاء اور منصفوں کے موضوعات پر بہترین اردو شاعری سے عمدہ اشعار کا انتخاب پڑھیے:

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا
کہ باز جرم صداقت سے میں نہیں آیا
سحر انصاری
۔
عدالت سے یہاں روتا ہوا ہر مدعی نکلا
کرم فرمائی سے منصف کی ہر مجرم بری نکلا
ریاض انور
۔
قدرت کی عدالت میں کانٹوں کی شکایت ہے
ہر باغ میں پھولوں کی فطرت میں رعونت ہے
ارمان جودھ پوری
۔
محبت کی عدالت بھی بھلا کیسی عدالت ہے
کہ جب بھی اٹھنے لگتے ہیں پکارا ہونے لگتا ہے
احمد عطاء اللہ

لکھیں الفت کی دستاویز باہم
عدالت میں کریں اقرار ہم تم
ملکہ آفاق زمانی بیگم
۔
لوگ اب فیصلہ بتاتے ہیں
اور عدالت بھی مان جاتی ہے
ڈاکٹر اعظم
۔
بات عدالت تک آ گئی یعنی
اور اک خاندان ٹوٹ گیا
کالی چرن سنگھ


وقت منصف ہے فیصلہ دے گا
اب ضرورت بھی کیا عدالت کی
سنجو شبدتا
۔
ہمارا ہی کاغذ ہماری عدالت
ہماری ہی صحبت ہمیں مار دے گی
عدنان حامد
۔
ہے منصف ہی گرفتار تعصب
عدالت میں ہماری ہار طے ہے
ڈاکٹر اعظم

قبل انصاف چل بسا ملزم
اب عدالت سے کیا روا رکھیے
احمد ہمیش
۔
کیوں عدالت کو شواہد چاہئیں
کیا یہ زخموں کی گواہی کچھ نہیں
طاہر عظیم
۔
عدالت فرش مقتل دھو رہی ہے
اصولوں کی شہادت ہو گئی کیا
فہمی بدایونی
۔
سچ عدالت میں کیوں نہیں بولے
کانٹے اگ آئے تھے زبان میں کیا
طفیل چترویدی

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی
یہ بھی توہین ہے عدالت کی
سلیم کوثر
۔
فیصلے سارے ان کے حق میں ہیں
پھر بھی میرا یقیں عدالت میں
سلمان عارف بریلوی
۔
بے بسوں کی اس عدالت میں مرادؔ
اور کچھ اشکوں کی سنوائی ہوئی
سید صدام گیلانی مراد
۔
اپنے بچوں کی روزی کماتا رہا
وہ عدالت میں اپنا بیاں بیچ کر
خواجہ علی حسین

بنیں گے عشق عدالت میں ہم وکیل ترے
پرانی بات میں نکتہ نیا نکالیں گے
ناصرہ زبیری
۔
میں لٹ گیا ہوں مظفرؔ حیات کے ہاتھوں
سنے گی کس کی عدالت مقدمہ میرا
مظفر وارثی
۔
کون مصلوب ہوا کس پہ لگا ہے الزام
کشمکش ایسی ہے انصاف عدالت مانگے
اسحاق اطہر صدیقی
۔
یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا
مظفر وارثی
۔
فیصلہ ٹلتا رہا شنوائی کی تاخیر سے
خود عدالت نے گواہوں کو مکر جانے دیا
رمان نجمی

وہی قاتل وہی منصف وہی عینی شاہد
عدل اور آپ کی میزان عدالت معلوم
جعفر رضا
۔
پہلے احباب تغافل کی صفائی دیں گے
پھر مرے حق میں عدالت میں گواہی دیں گے
بی ایس جین جوہر
۔
انصاف غریبوں کو جو منصف نہ دلائے
ہو ایسی جہاں پر وہ عدالت نہیں اچھی
یٰسین براری

تمام شورشیں سفاکیاں عروج پہ تھیں
بالآخر ان کو عدالت سے چھوٹ جانا تھا
حیدر علی جعفری
۔
پھر کیوں سنا دیا تھا عدالت نے فیصلہ
شاہدؔ مری گواہی اگر معتبر نہ تھی
حفیظ شاہد
۔
کیا فیصلہ دیا ہے عدالت نے چھوڑیئے
مجرم تو اپنے جرم کا اقبال کر گیا
افضل منہاس
۔
مظلوم کو دلائے جو ہر ظلم سے نجات
ایسی جہاں میں کوئی عدالت نہیں رہی
فروغ زیدی

اب اس کے سامنے انصاف کا ترازو ہے
انہیں کہیں کہ عدالت کا احترام کریں
رخسار ناظم آبادی
۔
ایک وقت آتا ہے منصفی نہیں ملتی
جھوٹ کی وکالت کیا خوف کی عدالت کیا
ساقی فاروقی
۔
ہمیں بھی پاس عدالت ہے اولیں لیکن
یہ رخ بدلتی ہوئی منصفی گوارہ نہیں
راشد طراز
۔
کتنی حساس عدالت ہے مرے ملک تری
جو کہ مظلوم سے آہوں کی صفائی مانگے
احسن گلفام

دنیا سے ہے نرالی عدالت حسینوں کی
فریاد جس نے کی وہ گنہ گار ہی رہا
آغا حجو شرف
۔
مرے لہو کی عدالت سجے گی آنکھوں میں
گواہیوں کو میں اشکوں کے پاس رکھ دوں گا
ناشر نقوی
۔
کیا کریں ہم ترے اشعار پہ تنقید ندیمؔ
کب کوئی نکتۂ توہین عدالت نکلے
منظور ندیم
۔
محفوظ کر لیا ہے عدالت نے فیصلہ
قانون وقف عذر زمانہ نہ تھا کبھی
منظر شہاب
۔
فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلاف
آپ کیا صاحب عدالت میں صفائی دیں گے
وسیم بریلوی
۔
وہ قاتلوں کو چھڑا لائے گا عدالت سے
ہے اس کی بات مدلل بیان اونچا ہے
عباس دانا

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں