ادبی تخلیق کے لیے جمہوری فضا کی اہمیت

مضمون نگار : ڈاکٹرمحمدارمان

, ادبی تخلیق کے لیے جمہوری فضا کی اہمیت

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں۲۶؍جنوری بڑی اہمیت رکھتی ہے اس تاریخ کودستورہندکے مطابق ہماراملک ایک آزاد جمہوریہ بنا اور پھرہرسال اس تاریخی دن میںبڑے تزک واحتشام سے ہم یوم جمہوریہ مناتے ہیں ۔جمہوریت اک طرز حکومت کانام ہے جس میں فرد کی آزادی کے ساتھ آزادی فکرورائے اوراظہار خیال کی آزادی کونمایاں اہمیت حاصل ہے ۔


ادب کی تخلیق کے لیے حقیقی جمہوری فضا اورجمہوری نظام کی بڑی ضرورت ہے جس کی بقاو ارتقا میں ہماری دلچسپی ہونی چاہئے ۔اس وقت ہماراملک بارہویں لوک سبھا کے انتخاب سے گزررہاہے ۔یہ انتخاب حقیقتاً جمہوریت بنام فسطائیت کی محاذ آرائی ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کرسکتے ۔واقعہ یہ ہے کہ اس پارلیمانی جمہوریت کے چاہے جونقائص ہمارے سامنے لائے جائیںان کمیوںکے باوجود پچھلے پچاس برسوں میںہمارے جمہوری مزاج نے جس خوش اسلوبی سے اس نظام کوبرتا اور اپنایا ہے ،اس کے خوشگواراثرات ہماری سیاسی وسماجی زندگی میںمرتب ہوئے ہیں ،اس کی جڑیں ہماری زمین میں گہری ہوئی ہیں ہم اس سے صرف نظر نہیں کرسکتے ۔لیکن ہماری جمہوری سیاست کو ہمارے اجتماعی اخلاق سے ہم آہنگ ہوناچاہئے۔مبنی براقدارکی سیاست ہماری ناگزیزضرورت ہے ۔ اجتماعی زندگی میں غالباًکوئی مسئلہ اتنا اہم اورنازک نہیںہے جتناسیاست واخلاق کے باہمی ربط وتعلق کاہے جس کاحسین امتزاج ہمارے قومی شعار میں پایا جانا چاہئے۔


کسی قوم کاجمہوری مزاج اس کے ادب پربھی اچھا اثرڈالتاہے جمہوری فضا، فردکی آزادی ،اظہار خیال کی آزادی ،ہماری روحانی اخلاقی زندگی کاسب سے بڑا سرمایہ ہے۔وہی شعروادب اچھاہے جس سے فردوسماج کی اخلاقی وروحانی ترقی ہوتی ہواور جوتمام انسانوں سے محبت کرنے کاوسیلہ بنے۔ ادیب کافرض ہے کہ وہ اچھے اور مکمل انسان کی عکاسی کرے اوراس کے ذہنی آزادی کی تصویر اس کے فن میں پائی جائے۔ اکثر بڑے ادیب بامقصد ادب کے قائل رہے ہیں ۔انہوںنے جمالیات اوراخلاقیات کے درمیان بڑی متوازن راہ اختیار کی ہے اورادب کوزندگی کی بہتری کے لیے استعمال کیاہے ۔ایسے ادیبوںکے یہاں محض حسن پرستی نہیں ملتی بلکہ وہ حسن آفرینی کے ساتھ اعلیٰ قدروں کی تخلیق بھی کرتے ہیں۔ان کی روح ہمیشہ آزادرہتی ہے اور وہ آزاد فضا میں اپنے سے ماوراء ہو کر اپنے سے بالاتروجوداوراعلیٰ تر مقاصد کے جویارہتے ہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ زندگی ہویاادب ، دونوں ہی میںنگہ ،سخن دلنواز اور جاں پرسوز کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر ادیب کے یہاں یہ صفات پائے جاتے ہیں تووہ ان سے کام لے کراپنے فن کی دلکشی اورجذبہ کی دل سوزی سے زندگی کی اس ’سیدھی راہ‘ (صراط مستقیم ) کی طرف رہنمائی کرسکتا ہے جس پر ’میرکارواں‘کے قدموں کے روشن نشانات نظرآئیںگے ۔
٭٭٭

شیئر کریں

کمنٹ کریں