ادرک ایک بیحد کرشماتی آیورویدیک دوا

ادرک
ادرک

قدیم ہندوستانی طبی نظام میں آیوروید کی بہت اہمیت ہے ۔ آیوروید کے ذریعہ علاج کرنے کا طریقہ بیحد قدیم ہے اور زیادہ تر جڑی بوٹیوں سے دوا تیار کی جاتی ہے ۔ آیوروید قدرتی علاج پہ یقین رکھتا ہے ۔ آیوروید کی دوائیاں دنیا کی قدیم ترین دوائیوں میں شمار کی جاتیں ہیں ۔ اسے ہندوستانی روایت اور تہذیب کا ایک حصہ سمجھا جا سکتا ہے ۔ آج ہم آپکو ایک گھریلو آیورویدک دوائی سے روسناش کراتے ہیں اس کا استعمال کر کے آپ کئی قسم کی بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ دوائیاں آپکے صحت پہ مضر اثرات بھی نہیں ڈالتیں ۔ آج کی دوائی کا نام ہے” ادرک “


بدلتے موسم میں کئی قسم کے امراض سے ادرک آپکو بچائے رکھتا ہے ۔آیوروید کے مطابق ادرک ایسی دوا ہے جو کھانے کا مزہ دوبالا کرنے کے ساتھ ساتھ آپکو تندرست رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے ۔

کھانسی میں ادرک کا رس بیحد مفید ہے ۔ آپ اسے شہد کے ساتھ ملا ایک چمچہ صبح شام لے سکتے ہیں ۔کچے ادرک کا ایک ٹکڑا بھی منہ میں ڈال کر آہستہ آہستہ چبا کر اس کے رس پینے سے کھانسی فوری طور پہ رک جاتی ہے ۔ ادرک کف بھی چھانٹتا ہے ۔ کھانسی، زکام ،گلے میں خراش، گلا بیٹھنے جیسی حالت میں ادرک کو پیس کر گھی یا شہد کے ساتھ لینا چاہئے ۔
کھانے کو ہضم کرنے میں بھی ادرک مددگار ہے ۔ بدہضمی کی شکایت ہونے پر ادرک کے رس کو گھی یا شہد کے ساتھ لینا چاہئے ۔ادرک کے مسلسل استعمال سے ہاضمہ درست ہو جاتا ہے ۔کھانا کھانے سے پہلے اگر ادرک کے رس کو سیندھا نمک کے ساتھ ملا کر کھا لیا جائے تو بھوک بڑھتی ہے ۔


سر درد میں ادرک کے رس کو ہلدی اور گرم پانی کے ساتھ ملا کر پیشانی پہ رکھنے سے راحت ملتی ہے ۔ دانت کے درد میں ادرک کو لونگ کے ساتھ چبا کر کھانا چاہئے۔
اگر جانڈس ہو جائے تو ادرک کو تریپھلا اور گڑ کے ساتھ ملا کر کھانا چاہئے ۔
ادرک جوڑوں کے درد میں بھی بے انتہا مفید ہے ۔ پرانے جوڑوں کے درد میں ادرک کا رس، اشوگندھا پاؤڈر، شیلاکی پاؤڈر، ہلدی کا پاؤڈر ہم وزن لے کر شہد کے ساتھ کھائیں ۔ اس کے بعد گرم دودھ یا گرم پانی پینے سے جوڑوں کے درد میں آرام ملتا ہے ۔
ٹھنڈ کے موسم میں ادرک اور کالی مرچ کے پانچ دانے ملا کر چائے بنانے سے جسم کو گرم رکھنے میں مدد ملتی ہے ۔ ٹھنڈک آپکے جسم پر اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔
ادرک جہاں سرد مزاج کے لوگوں کے لیے مفید ہے وہیں گرم مزاج کے لوگوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ دل اور کڈنی کے پرانے مریض کو ادرک کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں