افسانہ: دستک

محمد شمشاد Muhammad Shamshad Mohd. Shamshad

افسانہ نگار:- محمد شمشاد

صبح سویرے کرن کے دروازہ پر کسی نے دستک دی ایک دو نہیں کئی بار، نہ چاہ کر بھی وہ بستر سے اٹھی اور بڑبڑاتے ہوئے اس نے دروازے کی جانب اپنا قدم بڑھا دیا ”پتہ نہیں اتنا سویرے سویرے کون آگیا، وہی ہونگے مانگنے والے، انہیں بھی اتنی جلدی ہوتی ہے جیسے انکی کوئی گاڑی چھوٹنے والی ہو، نہ انہیں کسی کے ارام کرنے کا خیال ہے یا سونے کا لحاظ ہے اور نہ ہی کسی کی پریشانی کی، بس ڈیلی کا ایک ہی کام رہ گیا ہے انہیں، بھیک مانگنا، انہیں منہ سے کوئی آواز نکالنے کی بھی ضرورت نہیں، کسی دروازے سے وہ ایسے چپکے سے لگ کر کھڑے ہوجاتے ہیں جیسے کوئی گھر کا مالک کھڑا ہو، وہی ہوں گے انکے علاوہ اور کون ہوگا“ اسی طرح بڑ بڑاتے ہوئے وہ دروازہ کے قریب آگئی
”کون ہے، کیا کام ہے؟ بولتے کیوں نہیں“کرن دروازے کو جھٹکے سے کھولتے ہوئے بولی ”بولو کیا بات ہے“

‘اسلام و علیکم ‘ کہہ کر وہ اسے دیکھنے لگا اسوقت وہ اسے ایک عجب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا شاید وہ اس با ت کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے صحیح دروازے پر دستک لگائی ہے یا۔۔۔۔۔
کوئی پچاس سال کا آدمی ایک ٹرالی لئے ہوئے وہاں کھڑا تھا کچھ دیر کیلئے اسے اس طرح چپ کھڑا دیکھ کرکرن کو تعجب بھی ہوا کہ اتنا صبح سویر ے اسکے گھر اس طرح کون آگیا اور کہاں سے آگیا وہ اپنے دماغ پر زور دیتے ہوئے اسے نہارنے لگی شاید وہ اسے پہچاننے کی کوشش کررہی تھی ورنہ وہ اپنی بوجھل نظروں کو اسکے قریب لے جاکر دیکھنے کی کوشش نہیں کرتی وہ اسے دروازہ پر اس طرح کھڑا دیکھ کر چونک بھی گئی تھی اور چند ہی لمحہ بعد اسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو ”تم کب آئے اور کیسے؟ کوئی خط کتاب اور نہ ہی کوئی فون, تمہیں میری کیسے یاد آگئی کیا تم شمس ہو؟“
”ہاں میں شمس ہوں“
”آؤ نا اندر تو چلو“ اور یہ کہتے ہوئے کرن نے اسکے ٹرالی کی جانب اپنا ہاتھ بڑھا دیا
”تم نے مجھے پہچان لیا“
”ہاں کیوں نہیں پہچانتی کیا تم کوئی غیر ہو جو نہیں پہچان پاتی“
”ہاں میں غیر تو نہیں ہوں لیکن کوئی اپنا بھی تو نہیں“ اتنے میں دونوں باتیں کرتے ہوئے کرن کے کمرے میں آگئے”

تم بھی کیسی بہکی بہکی باتیں کر تے ہو تم تو صرف اپنے ہی نہیں بلکہ سگے رشتہ دار بھی ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دل سے رشتہ ہے تمہارا مجھ سے، اس سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے ارے میں تو بھول ہی گئی کہ تم اتنی دور کے سفر سے آرہے ہو اور میں نے ایک گلاس پانی کیلئے بھی نہیں پوچھا تم بھی کیا کہو گے کہ میں کس قدر باتونی ہوں“ اور وہ معذرت کے انداز میں بولی” معاف کر نا میں بس لمحہ بھر کیلئے کچن میں جا رہی ہوں اگر تمیں کوئی ضرورت ہو تو اس باتھ روم کو استعمال کر سکتے ہو اور ضروریات سے فارغ ہو سکتے ہو تمہارے لئے کوئی حرج کی بات نہیں ویسے میرے علاوہ کوئی اور اسے استعمال نہیں کرتا ہے میں فوراً ہی واپس آجاتی ہو ں تمہیں یہاں میں بور ہونے بالکل نہیں دونگی“
”یہ کیا بات ہے اگر صرف تم استعمال کرتی ہو تو میں کیوں استعمال کروں اگر کوئی کامن باتھ روم ہو تو بتا دو میں وہاں فارغ ہو جاتا ہوں“
”آج کے بعد سے یہ کمرہ ہی نہیں بلکہ اس کمرے کی ہر چیز نہ صرف میری ہے بلکہ تمہاری بھی ہے“
”کیا اس کمرے کی ساری جو اس کمرے میں موجود ہیں“
”ہاں! ہاں کیوں نہیں ! سب کے سب! تمہیں اس میں شک لگ رہا ہے کیا “
”تم کچھ بھول رہی ہو کہیں تمہیں آگے چل کر پچھتانا نہ پڑجائے“
اگر تمہیں کوئی شک لگ رہا ہو تو میں بھی اس پر کھرا ثابت ہونے کی کوشش کروں گی“
”میں کوئی ان سے الگ ہوں کیا میں بھی تو ان جیسوں کی طرح ہی ایک انسان ہوں“
”ہاں کیوں نہیں وہ تو گھر کے لوگ ہیں اورتم میرے ایک مہمان ہو“
”کب تک“

جب تک تم چاہو“ چند ہی لمحوں میں دونوں اپنے کام سے فارغ ہوگئے اور کرن ٹرے میں ایک کپ چائے اور ایک گلاس پانی لے کر آگئی
”صرف ایک ہی کپ چائے کیوں اسکے ساتھ کچھ وائے کیوں نہیں“ایک کپ چائے دیکھ کر شمس نے مذاق کرتے ہوئے پوچھا اور اسکے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی
”تم اٹھتے ساتھ صرف چائے پیتے ہو اسی لئے چائے لائی ہوں اور میں نہیں پیتی، نہا دھو لو تو میں اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر لاؤں گی“
”کیا بات ہے لیکن چائے بالکل پھیکی ہے“
”تم میٹھی چائے کب سے پینے لگے میں جانتی ہوں کہ تم پھیکی چائے پیتے ہو اسی لئے میں نے ایسی بنائی ہے“
”تو کیا مجھے سوگر یا ڈائبٹیز Sugar/Diabeties ہے“
”نہیں میں ایسا کب کہہ رہی ہوں تم تو میٹھی چیزیں کھانے کے بھی بہت شوقین ہو“
”میرے بارے میں تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں کیا کھاتا ہوں اور کیا پیتا ہوں“
”زیادہ بنو مت اور کبھی بننے کی کوشش بھی مت کرنا میں تمہاری ایک ایک عادت سے واقف ہوں بھلے ہی تمہیں ا سکا احساس ہو یا نہیں“

یہ انکی پہلی ملاقات تھی لیکن دونوں کچھ ہی لمحہ میں ا س طرح بے تکلف ہو گئے تھے کہ کسی دوسرے کو انہیں دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ انکی پہلی ملاقات ہوگی اتنا ہی نہیں شمس کو بھی بعض اوقات ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ کرن اس کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہے بلکہ کبھی کبھی اسکی ذہانت پر اسے حیرت بھی ہوتی تھی کہ وہ اسکے بارے میں اتنا سب کچھ کیسے جانتی ہے
جب شمس چائے پی کر فارغ ہوا تو کرن بستر کو ٹھیک کرتے ہوئے بولی ”کچھ دیر کیلئے تم آرام کرلو جب تک میں ناشتہ کی تیاری کر لیتی ہوں اسکے بعد تم غسل کر کے فارغ ہو جاؤ گے تو ہم سب مل کر ایک ساتھ ناشتہ کر یں گے“
”ارے بھائی میں آرام ورام نہیں کر تا میں جب سو کر اٹھ جاتا ہوں تو بستر پہ جانا میرا ناممکن ہو جاتا ہے ایسا کرتا ہوں میں غسل کر لیتا ہوں تب تک تم میرے لئے ناشتہ تیار کرلو“
”میں جانتی ہوں کہ تم بستر سے اٹھنے کے بعد دوبارہ بیڈ پہ نہیں جاتے ہو لیکن ابھی ناشتہ میں دیر ہے اور سارے لوگوں کو بھی تیار ہو نے میں دیر ہو گی میں یہ بھی جانتی ہوں کہ غسل کرنے کے بعد تمہیں بہت زور کی بھوک لگتی ہے جسے تم ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کرتے ہو“
”تو میں کیا کروں ایسا کرتا ہوں تنہا بور ہونے سے بہتر ہے کہ میں بھی تمہارے ساتھ کچن میں چلتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ تم ناشتہ میں کیا تیار کررہی ہو“
”ہاں چلو میں کب منع کرنے والی ہوں“ اور دونوں کچن میں جا پہنچے
انکی آوازیں سننے کے بعد کرن کی دوسری بہن جاگ گئی اور آنکھ ملتے ہوئے کچن میں آگئی اور بولی” اتنا صبح سویرے کون آیا ہے آپی جو کچن میں آپ کے ساتھ باتیں کررہا ہے“
”دیکھو کون آئے ہیں، پہچانوں انہیں کون ہو سکتے ہیں، ہاں ذرا تم ابھی کچھ بولنا نہیں“
”بھائی جان“
”کون بھائی جان کیا نام ہے انکا, اور کیسے جانتی ہو انہیں“
اور وہ اپنے دماغ پر زور دیکر سوچنے لگیں کو ن ہیں یہ۔۔۔کون۔۔۔۔ کون ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔ انکا چہرہ کچھ جانا پہچانا تو لگ رہا ہے لیکن کب اور کہاں ان سے ملیں ہوں کچھ یاد نہیں اور پھر جھٹ بولیں ”ارے شمسو بھائی“
تب جا کرشمس نے اپنی چپی توڑی ” میں شمسو نہیں شمس احمد ہوں“
”وہی تو میں بھی بول رہی ہوں“
”ارے پگلی، تم اسلام آباد والے شمسو بھائی کے بارے میں بول رہی ہو نا، وہ شمسو نہیں ہیں یہ شمس ہیں ابھی ابھی دہلی انڈیا سے آئے ہیں“

تب تو کہیں کہ آپ اچھے اچھے کو گھانس نہیں دیتی ہیں لیکن آج کون ہے جو آپکے ساتھ باتیں کر رہا ہے اور وہ بھی کچن میں“ یہ سن کر کرن جھینپ سی گئی لیکن اس نے یہ کہتے ہوئے شمس کا ہاتھ پکڑ کر کچن سے باہر کھینچ لائی اور آنگن میں لگی چونکی پر بیٹھ کر ان سے باتیں کرنے لگی
”آپ کب آئے کسی کو آپ کے آنے کی خبر تک نہ لگی برسوں سے نہ کوئی خیر خیریت اور نہ ہی کوئی خط یا فون، کیسے کیسے یکایک ہم لوگوں کی یاد آگئی ہم لوگوں نے تو سوچ لیا تھا کہ شاید آپ اپنی زندگی اور گھر پریوار میں اتنا مشغول ہو گئے ہیں کہ ہمیں بھول گئے یا آپی کی کوئی بات آپ کو اتنی بری لگ گئی ہو جس کی وجہ کر آپ کو آپی سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں، لیکن ہم لوگ تو تھے مگر آپ نے سب کو در کنار کردیا تھا ایسا کیوں؟ دیکھئے بھائی جان آپی دل کی بہت اچھی ہیں لیکن انکے من کی باتیں اگلوانا اچھے اچھوں کی بس کی بات نہیں ہے امی بتاتی تھیں کہ وہ شروع سے ہی خاموش مزاج کی ثابت ہوئی ہیں لیکن امی کی موت کے بعد اور ادھر چند برسوں سے وہ بالکل خاموش رہنے لگی ہیں شاید ہی کبھی کسی نے انکے منہ سے کوئی آواز نکلتے سنا ہو بلکہ اب تو وہ بہت ہی چڑ چڑی رہنے لگی ہیں ہم لوگ تو اسکی وجہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انکی تنہائی اسکا سبب بنا ہو یا انکا چڑ چڑاپن انکے عمر کا تقاضہ بھی ہو سکتا ہے لیکن آج انہیں دیکھیئے نا وہ کتنی بدلی بدلی سی اور کتنی خوش خرم لگ رہی ہیں آج وہ پھولے نہیں سما رہی ہیں اور کتنے دل کھول کر آپ سے باتیں کرنے میں مگن ہیں خدا انکی اس خوشی کو ہمیشہ کیلئے قائم رکھے” آمین“، لیکن مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائیں کہ میں انہیں ڈسٹرب کر رہی ہوں میں آپی کا موڈ دیکھ کر آتی ہوں“ اور یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ ہی رہی تھی کہ کرن کچن سے ہی آواز لگاتے ہوئے آنگن میں آگئی

ابھی تک تم انکی باتوں میں ہی لگے ہو اگر انہیں بس چلے تو تمہیں سونے بھی نہیں دیں گی“ اور بہن کو ڈانتے ہوئے وہ بولی ”کیا تمہیں آفس نہیں جانا ہے جاؤ تیاری کرو باتیں کرنے کیلئے پورا دن باقی ہے کیا یہ کہیں بھاگے جا رہے ہیں اب تو شمس ہمارے ساتھ ہی رہ رہے ہیں“ اور وہ شمس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے جا کر انہیں تیار ہونے کا انتظار کرنے لگی
ناشتہ کرنے کے بعد گھر کے سارے لوگ اپنے اپنے کام سے باہر چلے گئے اور وہ دونوں کرن کے کمرے میں آگئے ”شمس تم تھکے ماندے کئی روز کے سفر کے بعد آئے ہو کچھ دیر کیلئے آرام کر لو اور بستر پر لیٹ جاؤ میں تمہارے سر میں روغن بادام ڈال کر مالش کر دیتی ہوں جس سے تمہیں کافی آرا م ملے گا“ یہ سنتے ہی شمس بستر پر دراز ہو گیا کرن نے اسکے سر کو مالش کرتے ہوئے پوچھا ”کسی چیز کی پریشانی تو نہیں, اگر کوئی بات ہو تو بتاؤ گے ہو سکتا ہے مجھ سے انجانے میں کوئی غلطی ہو جائے“
”مجھے کس بات کی پریشانی ہوگی تمہیں دیکھتے ہی میری ساری پریشانیاں دور ہوگئیں ہیں اور یہاں پہ مجھے اتنا سکون ملا کہ میں اسے بیان نہیں کر سکتا ہوں آخر کار میں اپنی منزل تک آہی گیا“ اس کی آواز نیند کی غوطے لگا رہی تھی کرن کو بھی ایسا محسوس ہوا کہ سچ میں اسے کافی سکون ملا ہے شمس کو اس طرح نیند کے آغوش میں آتا دیکھ کر اس نے بھی چپ رہنا مناسب سمجھا اور وہ بالکل خاموش ہوگئی لیکن اسی خاموشی نے اس کی ماضی کو کریدنا شروع کردیا گزرے دنوں کی یادیں اور ایک ایک پل کمپیوٹر کی اسکرین کی طرح اسے چمکنے لگیں وہ دن، وہ لمحہ کس طرح اس نے گزارے تھے ان دنوں کیا کیا تانے اور بھبھکیاں اس نے سنی اور سہی تھیں راہ چلتے اس سماج نے اسے کس کس انداز اور نظریہ سے دیکھنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کرتی بھی کیا اسے سننے والا کون تھا اگر کوئی تھا بھی تو بہت دور کوسوں دور اپنے آپ میں مگن تھا اگر وہ کچھ کہنا چاہتی تو کس سے کہتی؟ لیکن اللہ نے وہ دن بھی اسکے سامنے لاکر کھڑا کر ہی دیا آج وہ بہت خوش تھی حد سے بھی زیادہ، وہ اللہ کا بار بار شکر ادا کر رہی تھی لیکن اس خوشی میں اسکی آنکھیں نم ہوگئیں اور اس کی آنکھوں سے آنسوں نکل کر شمس کے چہرہ پر جا گرا-

کیا تم رورہی ہو“ یہ کہتے ہوئے شمس اٹھ کر بیٹھ گیا اور اسے دیکھنے لگا اسکی آنکھوں سے آنسوں رواں دواں تھے وہ اپنے ہاتھوں سے اسکے چہرہ سے آنسوئوں کو پوچھنے لگا اسکا لمس اور پیار ملتے ہی وہ بچوں کی طرح بلک اٹھی اور اسکے گلے سے لگ کر زور زور سے رونے لگی معنوں کہ کوئی بچہ اپنی ماں کو یاد کر کے روئے جا رہا ہو مانا کہ اسوقت اسکی عمر پچاس کے قریب پہنچ چکی تھی لیکن تھی تو وہ بالکل بے سہارا نہ ماں باپ اور نہ ہی اسکے گھر کا کوئی رکھوالا, کوئی تو نہیں، اس وقت شمس اسے تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ چپ ہونے کو تیار نہیں تھی بہت سمجھانے اور تسلی دینے کے بعد وہ تھو ڑی دیر کیلئے چپ بھی ہوئی لیکن پھر وہ اسی انداز سے بلک بلک کر بار بار روئے جا رہی تھی، نا جانے کیوں وہ اس طرح روئے جا رہی تھی اسکے دل میں بھی خیال آیا کہ کرن دل بھر کر رو لے اور اپنے دل کی بھڑاس نکال لے تاکہ چپ ہونے کے بعد وہ اس سے دل کھول کر باتیں کر سکے آخر کار وہ چپ ہوئی لیکن جب خاموش ہوئی تو وہ بالکل خاموشی کے ساتھ اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے وہ اسے کہہ رہی ہو کہ تم مجھے اس حال میں چھوڑ کر مت جانا اگر جانا ضروری ہو تو کچھ دنوں کیلئے میری تنہائی کو دور کرنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا
یکایک وہ بستر سے اٹھی اور ٹیبل پر رکھے کمپیوٹر کو آن کیا اور یوسف اور ذلیخا کی سیریل کے آخری اپیسوڈ کو چلا کر وہ اسکے قریب آکربیٹھ گئی دونوں اس سیریل کو غور سے دیکھنے لگے اسوقت یوسف کی عمر تقریبا چالیس کی رہی ہوگی اور وہ اپنے دوبچوں اور بیوی سے بہت خوش تھے جبکہ ذلیخا ایک بیوہ عورت تھی اور اب بوڑھی ہو چلی تھی لیکن وہ یوسف کی ایک دیدار کیلئے پاگل ہوئی جارہی تھی وہ یوسف کی صرف ایک جھلک پانے کیلئے بے قرارتھی اور سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی تھی بلکہ اسکی یاد میں اس نے اپنی بینائی تک گنوا چکی تھی جیسے ہی یوسف کو ذلیخا کے اس حالت کے بارے میں پتہ چلا تو وہ بے چین ہو اٹھے اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی انہوں نے ذلیخا کو معاف کر اسے اپنانا ہی مناسب سمجھا اور اس طرح یوسف نے ذلیخا سے نکاح کرلیا

یکایک کرن شمس کے ہاتھوں کو زور سے پکڑ کر دبانے لگی وہ اسے اس حالت میں دیکھ کر اپنے کندھے کے سہارے لگا لیا اسکے بال شمس کے چہرہ پر اس طرح بکھر گئے جیسے وہ اس سے اٹکھیلیاں کر رہی ہوں اور وہ اسکے بالوں سے بچوں کی طرح کھیلنے لگا شمس کی یہ حرکت نہ جانے کیوں اسے اچھی لگی اور اسے ایسا لگا کہ اسکے بدن میں جان آگئی ہو وہ جوانی کی دہلیز تو پار کر چکی تھی لیکن جوانی کسے کہتے ہیں اس سے وہ بالکل نا آشنا تھی جسے شمس کی تھوڑی سی حرکت نے حرکت میں لا دیا تھا اسے اب محسوس ہونے لگا تھا کہ بے قراری کیا چیز ہوتی ہے اس وقت اسے بالکل سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی ان پریشانیوں اور بے قراری سے کیسے نجات حاصل کرے اور وہ مچلنے لگی اسکے بھینی بھینی خوشبو اسے قریب سے قریب تر ہونے کیلئے مجبور کر نے لگا اور وہ بھی بیتاب ہوئی جا رہی تھی وہ اسی لمحہ کو اپنے دل میں سجائے برسوں سے اس کے انتظار میں گزار رہی تھی بس اشا رے کی دیر تھی کہ وہ اپنا سب کچھ اس پر نچھاور کر دے اس وقت گھر میں ان دونوں کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی اس خاموشی میں اسکی سانس تیزی سے چل رہی تھی جس کی آواز انہیں صاف سنائی دے رہی تھی اسی لمحہ شمس نے کرن کرن دو بار آواز لگائی لیکن وہ صرف اون آن کر کے رہ گئی

شمس نے اس خاموشی کو چیرتے ہو ئے کرن سے پوچھا ” کیا تم بھی ذلیخا کی طرح اس عمر میں میرے نکاح میں آنا چاہتی ہو“ یہ سن کر اس کا سر شرم سے جھک گیا وہ دل ہی دل میں کھل اٹھی اور اپنا دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگی اس وقت اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اسکی برسوں کی تپسیا کارگر ثابت ہوگئی ہو اور دنیا کی ساری خوشیاں ایک ساتھ اسے میسر ہوگئی ہوں
”سنا ہے کہ لڑکیاں چالیس، پینتالیس کے بعد بوڑھی ہو جاتی ہیں لیکن تم تو ابھی۔۔۔۔۔۔“یہ سن کر وہ شرما تے ہوئے بولی ”آج مجھے پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ مرد کے سہارے سے ایک عورت کو کتنا سکون ملتا ہے اور میں اسی سکون کی تلاش میں ہمیشہ بھٹکتی رہی ہوں اور اب تک تمہارا انتظار کرتی رہی ہوں کہ کب تم۔۔۔۔۔ کچھ دن کی اور بات ہے اور۔۔۔۔۔۔۔ اور میں یہ بھی ثابت کر دوں گی کہ ایک پچاس سال کی عورت بھی بچہ جنم دینے کی صلاحیت رکھتی ہے“اتنا کہتے ہوئے وہ ایک دم سے اپنا سینہ تان کر کھڑی ہو گئی
اب کرن پھر سے چست درست لگنے لگی تھی کچھ ہی دنوں میں اسکے چہرہ کی جھریاں بھی ایک ایک کر کے غائب ہونے لگیں تھی اسکی اس تبدیلی کو ہر کوئی آسانی سے محسوس کرسکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ جس کے انتظار میں گھٹ گھٹ کر وہ وقت سے قبل ہی بوڑھی ہوگئی تھی شاید اس نے دستک دے دی ہو
اور۔۔۔۔۔ اوراس روز جب گھر کے سارے لوگ جمع ہوگئے تو شمس نے اعلان کردیا کہ بعد نماز عشاء کرن کا نکاح ہونا ہے نکاح کے بعد ہم سب مل کر ایک ساتھ ہی ڈنر کریں گے یہ سنتے ہی سبھوں کے منہ سے مبارک آباد کی صدائیں گونجنے لگی لیکن کسی کو اتنی ہمت کہاں کہ وہ پوچھیں کہ کرن کا دولہا کون ہوگا اتنے میں کرن شمس کے بغلگیر ہو کر بیٹھ گئی۔

نوٹ: یہ افسانہ، افسانہ نگار محمد شمشاد کی تخلیق ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: محمد شمشاد
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں