عہد حاضر اور اسلام

Islam world

اسلام کے لغوی معانی محفوظ رہنے،بچنے ، امن و سلامتی پانے اور مصالحت فراہم کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا :’’اﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو کار ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے۔‘‘

ماننا، تسلیم کرنا، جھکنا اور خود سپردگی و اطاعت اختیار کرنا بھی اسلام کے دوسرے مفہوم ہیں ۔ اسلام مکمل اور آخری دین ہے ۔ اسلام انسانیت کو امن و سکون کی دولت عطا کرتا ہے ساتھ ہی انسانیت کے تمام مسائل کا حل بھی اسلام پیش کرتاہے۔ٓآج کی پیچیدہ زندگی اور سسکتی ہوئی انسانیت کو سکون و امن کی دولت فراہم ہو سکتی ہے اگر ہم اسلام کی بنیادی تعلیمات پہ عمل کریں لیکن ایک عام مسلمان ان باتوں میں الجھا ہوا ہے کہ اسلام میں یہ جائزہے اور یہ ناجائز یہ حرام ہے یہ حلال ۔

سوال یہ ہے کہ کسے فیصلے کا یہ حق حاصل ہےکہ وہ جائز اور ناجائز کی حد طئے کرے اور یہ کہے کہ یہ شریعت کے عین مطابق ہے یا یہ شریعت کے منافی ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین اسلام میں اتھارٹی کس کی ہے یا بصورت دیگر اسلام ہے کیا ؟بات دراصل یہ ہے کہ خود مسلمانوں کے سامنے دین کا تصور واضح نہیں ہے ۔ ہاں ایک عام مسلمان یہ ضرور جاننے کی جستجو رکھتا ہے کہ اسلام کا قانون ،آئین اور دستور کیا ہے جس سے اختلاف اور انحراف ممکن نہ ہو۔ اور جب کبھی کوئی بات کوئی پیچیدہ واقعہ سامنے آئے تو اُسے پرکھنے کے لیے وہ کون سی کسوٹی ہے جو اسلام نے بنائی ہے ۔

دین اسلام کا ماخذ اور منبع کیا ہے یہ ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہئے ۔ اور وہ کون سا ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ہمیں زندگی بسر کرنی چاہئے ۔ اگر کوئی غیر مسلم اسلام کی حقانیت پر ایمان لائے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائے تو اُسے اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے اسلام کے کس دستور عمل کی ضرورت ہوگی ۔ یہ سوال ایسا ہے جو بیشتر لوگوں کے ذہن میں اٹھتا ہے ۔ ’’اگر مختصر لفظوں میں بتایا جائے تو اسلام کا آئین قرآن ہے اور قرآن کی بتائی باتوں پہ زندگی بسر کرنا اسلام ہے‘‘ ــ۔اسلام اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف خدا کا بھیجا ہوا دین ہے ۔اسے مسلمانوں کا دین اور نظام زندگی بھی کہ سکتے ہیں ۔اس دین میں ہم اللہ کی توحید کا اقرار کرتے ہیں اور اسکی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں۔

اللہ نے حضور ختم المرسلینﷺ کی کی وساطت سے عالم انسان پہ قرآن مجید کی شکل میں انسانیت کے نام آخری اور مکمل پیغام بھیجا ۔ اگر ہم غور کریں تو قرآن ایک ایسی مکمل کتاب ہے جہاں ہماری رہنمائی کا سارا ساما ن موجود ہے ۔ اس ضابطہ حیات پہ ہمیں کامل یقین رکھتے ہوئے قوانین خداوندی کے سامنےاپنا سر تسلیم خم کرنا چاہئے ۔ جس انسان کا دین محمدی پہ کامل یقین ہو اور وہ دل و دماغ کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ غیر متزلزل ایمان لائے وہ مسلمان ہے ۔سلام کے پانچ ارکان ہیں ۔ شہادت پہلا رکن ہے یعنی اس بات کی شہادت دل و دماغ کے مکمل اطمینان اور یقین کے ساتھ دینا کہ اللہ ایک ہے، حضرت محمد ﷺ اُ اس کے آخری رسول اور نبی ہیں۔ اللہ کے بھیجے ہوئے تمام نبیوں پر ایمان لانا، خدا کی نازل کردہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا، اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانا، حیات آخرت اور روز جزا پر ایمان لانا ہے۔اسلام میں دیگر چار ارکان صلوٰۃ (نماز)، روزہ، زکوٰۃ اور حج بھی شامل ہیں۔

ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمارے پاس خدا کی بھیجی ہوئی آخری کتاب ہمارے پاس جوں کی توں موجود ہے ۔ یہ وہ کتا ب ہے جسے سمجھنا اور اس پہ عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اس کے احکام آج بھی قابل عمل ہیں ۔ خدانے سورہ القمر میں چار بار واضع طور پر اعلان کیا ہے کہ یہ آسان ترین کتاب ہے تاکہ کوئی کل کو یہ نہ کہ دے کہ قرآن کو سمجھنا مشکل ہے،اس پہ عمل کرنا آ سان نہیں یا اس کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے پہلے بہت سے علوم پہ دسترس کی ضرورت ہے یا پھریہ کہ اس کے سمجھنے کے لیے کسی کی مزید رہنمائی چاہئے ۔ ہم اس کتاب کی روشنی میں اس سے استفادہ کرتے ہوئے پھر وہی نظام دوبارہ قائم کر سکتے ہیں جس نظام کو ہمارے آ خری نبی حضرت محمد ﷺ نے قائم کیا اور دنیا کو امن و سلمتی سے ہمکنار کیا ۔ اسلام وہ مذہب ہے جسے خدا نے عالم انسانیت کے لئے پسند فرمایا

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں