اہم سوالات

مضمون : وہارا امباکر

, اہم سوالات

کیا ہونا چاہیے، کیوں ہونا چاہیے، کیسے کیا جانا چاہیے؟ ہمارے انتخاب، ہمارے فیصلے۔ یہ ہمارے لئے اور معاشرے کیلئے وسیع تر سوالات ہیں۔ سائنس کا ان میں اہم کردار ہو سکتا ہے لیکن یہ سوال زیادہ وسیع تر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


“ہماری راہنمائی سائنس کرتی ہے۔ قدامت پرست ہمارے اور ترقی کے مخالف کھڑے ہیں”۔ یہ الفاظ آج سے تقریباً سو سال قبل ہونے والی اہم سماجی بحث میں ایک مشہور راہنما کے ہیں۔ سائنس کے نام پر ہونے والے غلط فیصلوں کے بدترین مثال یوجینکس کی تحریک ہے۔ یہ ایک سیاسی آئیڈلوجی تھی جس کو سائنس کا لبادہ پہنایا گیا تھا۔ لیکن اس کا بڑا محرک سائنس کے بارے میں بہت زیادہ optimism تھا جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے ابتدا میں ہونے والی زبردست کامیابیوں کی وجہ سے آیا تھا۔ نت نئی دریافتیں، انجینرنگ کے بڑے پراجیکٹس، سمٹتے فاصلے، اٹھتے شہر ۔۔۔ اس وقت سائنس کی بنیاد پر دنیا میں ہونے والی تبدیلیاں نمایاں تھیں۔ سائنسی دریافتیں اور ایجادات دنیا کو تیزی سے بہتر کر رہی تھیں۔
تو کیوں نہ انسانوں کو بھی بہتر کر لیا جائے؟
اس کا نتیجہ امریکہ اور یورپ میں ہونے والی نسلی طہارت کی صورت میں نکلا۔ دنیا اس خوفناک سراب سے صرف نازی ازم اور جنگِ عظیم دوئم کی ہولناکیوں کے سبب نکلی۔ (اس کا لنک تحریر کے آخر میں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آج بھی ہمارے پاس مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جینیاتی علاج سمیت بہت سے اہم سماجی سوالات ہیں۔ معاشرے کے لئے یہ سوال اہم ہیں اور یہ سائنس سے زیادہ وسیع تر ہیں۔
جینیاتی انجینرنگ سے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ اتنا کچھ تو بالکل بھی نہیں، جیسا کئی بار پیش کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں مبالغہ آرائی بہت زیادہ ہے۔ مالیکیولر بائیولوجی اور ڈویلپمنٹ بائیولوجی کو سمجھے بغیر کوئی خاطرخواہ بڑا کام نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن یہ انقلابی ٹیکنالوجی ہے۔ “جینیاتی طور پر تبدیل شدہ” جانداروں کے بارے میں ہر قسم کی معقول اور غیرمعقول آراء ہیں۔ دوسری قسم کی آراء میں ایک طرف کچھ سائنسدان اور انڈسٹری جن کے لئے اس پر کوئی بھی اعتراض کرنے والے نامعقول لوگ ہیں جو سائنس مخالف اور ترقی سے خائف ہیں۔ دوسری طرف قدامت پسند جن کیلئے انسانیت کی واحد امید صرف قدرت کی کی طرف واپسی ہے۔


ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ رِسک ہوتا ہے۔ کئی بار اس کا علم اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ اصل نہ ہو جائے۔ سکیل کے مسائل ہیں۔ (ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ “چونکہ ایک فٹ کی چھلانگ لگا کر ٹیسٹ کر لیا ہے کہ چوٹ نہیں لگتی، اس لئے پچیس فٹ کی چھلانگ بھی محفوظ ہے”)۔ بڑی بائیوٹیکنالوجی کمپنیوں پر زیادہ بھروسہ نہ کرنے کی بھی اچھی وجوہات ہیں۔ جبکہ دوسری طرف، قدرتی اشیا کی طرف صرف اس لئے واپسی کہ وہ قدرتی ہیں، ایک اور بے بنیاد پوزیشن ہے۔ قدرتی کا لازمی مطلب ہمارے لئے اچھا ہونا نہیں (ویکسین، کمپیوٹر، سائیکل بالکل بھی قدرتی نہیں جبکہ وائرس اور زہریلی کھمبیاں قدرتی ہیں)۔ جینیاتی ٹیکنالوجی سے کیا کچھ کیا جانا چاہیے؟ کتنی ریگولیشن ہونی چاہیے۔ یہ ایک اچھی بحث ہے۔
اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ انسان؟ بطور سائنسدان، ایسی کوئی ٹیکنولوجیکل وجہ نہیں جس وجہ سے یہ جدید سائنس کی دسترس میں نہ ہو۔ بطور شہری، ایسی بہت سی وجوہات نظر آتی ہیں کہ اس کی اخلاقیات اور ضوابط کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ کیا جائے۔
انسانی جینیاتی انجینرنگ اصولی طور پر ایتھکس کے منافی نہیں۔ میڈیکل سائنس میں ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہم انسانی بائیولوجی میں کچھ تبدیل کر کے (ادویات یا سرجری وغیرہ) صحتمند زندگی دیتے ہیں جن پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ ویسے ہی جینیاتی انجینرنگ سے کئی خطرناک بیماریوں کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ اگر ہماری دسترس میں ہو کہ کاناوان بیماری (جو بچوں کی ذہنی نشوونما روک دیتی ہے) کو دور کر دیا جائے تو کیا ایسا کرنا غیراخلاقی ہو گا یا ایسا نہ کرنا؟ اس پر اعتراض کرنا ویسا ہی نہیں ہو گا جیسا کوئی کہے کہ ویکسین اس لئے نہ دی جائے کہ اگر بیماری خدا کی منشا ہے تو آ جائے گی؟ (بدقسمتی سے ویکسین کے خلاف ایسے دلائل دئے جا چکے ہیں )


لیکن جینیاتی انجیرنگ سے اگر لوگ بچے کی جنس چننا چاہیں؟ (یہ ٹیکنالوجی دستیاب ہے)۔ اب اخلاقیات کی بحث کچھ اور رخ اختیار کر لے گی۔
اور جو ٹیکنالوجی بچپن کی بیماری روک سکتی ہے، بالکل وہی ٹیکنالوجی انسان کی بائیولوجی بہتر کر سکتی ہے۔ کولیسٹرول کا درست لیول جس وجہ سے ہڈیاں اور دل زیادہ دیر تک صحتمند رہیں؟ اور پھر اس سے آگے؟ ہم مشکوک علاقے اور پھر خطرناک علاقے میں داخل ہونے لگتے ہیں۔
بطور نوع، طویل مدت سوچ کے بارے میں ہمارا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں۔ (نیوکلئیر ہتھیار؟ گلوبل وارمنگ؟) اس لئے اپنی نوع کا بائیولوجیکل مستقبل اپنے ہاتھ میں لینے سے پہلے بہت سوچنا ہو گا۔ بہت احتیاط کرنا ہو گی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کا دانشمندانہ استعمال اہم ترین سوالات میں سے ہے۔ اس کے لئے “سائنس کی مخالفت” اور “سائنس کی حمایت” اچھے جواب نہیں۔ (کسی کو قائل کرنے کیلئے تو بالکل بھی نہیں)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سائنس انسانی سرگرمی ہے۔ اس کی epistemological حدود ہیں۔ یہ کسی عظیم سچ کی طرف ہونے والا مارچ نہیں ہے۔ سائنسدان غلطیاں کرتے ہیں۔ اس پر آئیڈیولوجی کے اثرات ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دنیا میں سائنس کے معتبر کہلائے جانے والے ادارے باقاعدہ طور پر سیاسی وابستگیوں کا کھلا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کو کرنے والوں کے بھی اپنے ذاتی تعصبات ہوتے ہیں۔ کئی بار ضرورت سے زیادہ بڑے دعوے یا زیادہ ہی پراعتماد بیانات دیتے ہیں جبکہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا یا خاموش رہنا چاہیے تھا۔ اور سب سے اہم یہ کہ سائنس کے معاشرے پر بڑے اثرات ہوتے ہیں۔ جن میں سے لازمی نہیں کہ تمام مثبت ہوں۔ اور نہ ہی ان کو طے کرنے کا اختیار صرف سائنسدانوں کے پاس ہونا چاہیے۔ وہ بھی معاشرے کے اتنے ہی شہری ہیں جتنا کوئی اور۔ اچھے آزاد معاشرے میں سائنس پر بھی تنقید اہم ہے۔ اور یہ تنقید دریافت اور انسانی بہتری کے عمل کو سپورٹ کرنے میں مدد کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نہ ہی سائنس غیرانسانی حد تک معروضی ہے اور نہ ہی انسانی موضوعیت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ ہمیں ایک نکتہ نظر دیتی ہے۔ یہ دنیا کیسے کام کرتی ہے؟ اس کے بارے میں انسانوں کو میسر بہترین نکتہ نظر ہے۔ سائنس ہمارے لئے فطری دنیا کو سمجھنے اور انسانیت کی حالت بہتر کرنے کے لئے علم حاصل کرنے کا انتہائی موثر طریقہ ہے۔
کیا ہونا چاہیے، کیوں ہونا چاہیے، کیسے کیا جانا چاہیے؟ ہمارے انتخاب، ہمارے فیصلے۔ اگر یہ informed نہ ہوں تو محض نیک نیتی کام نہیں کرتی۔اور اسی لئے، سائنس معاشرے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم سوڈوسائنس کے بارے میں جانتے ہیں، ہمارے اور معاشروں کے بدترین فیصلوں کے پس منظر میں کسی بھی اور چیز سے زیادہ جہالت اور علم سے انکار کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے۔
اور اس لئے اب ہم کچھ سائنس مخالف تحریکوں کی طرف چلتے ہیں۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں