احمد ندیم قاسمی اور ترقی پسند تحریک

مضمون نگار : محمد عباس

, احمد ندیم قاسمی اور ترقی پسند تحریک

(Abstract)
بیسویں صدی کے منظر نامے پر ترقی پسند تحریک کے اثرات سے کون واقف نہیں؟……اردو ادب کی واحد باقاعدہ ادبی تحریک، ایک قیامت خیز ہنگامے کے ساتھ سامنے آئی اور ایک مدت تک ادب کے دھارے کی سمت متعین کرتی رہی۔ اب بھی انجمن کے طور پر اس کا وجود باقی ہے مگر وہ جو تحریک والی بات تھی وہ اب نہیں رہی۔ادب کی تاریخ بنانے والی ترقی پسند تحریک اب خود ادبی تاریخ کا ایک باب بن چکی ہے ، البتہ اس کانظریاتی وجود اور ادب پر اس کے ہمہ گیر اثرات کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے ۔ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو جن نئی جہتوں سے آشناکیا اور جو خدمات سر انجام دیں ‘ ان میں چند نمایاں خدمات یہ ہیں۔


۱ ادب کو سماجی و خارجی نقطۂ نظرعطا کیا اور ادب کو زمینی رشتوں سے ہمکنار کیا ۔
۲ فرد کی اجتماعی زندگی کے مطالعے کے لیے راہ ہموار کی۔
۳ فرسودہ اور ازکار رفتہ روایات کا خاتمہ کیا اور ادب کو مثبت او رصحت مندانہ انداز نظر بخشا ۔
۴ ایک نئی ڈکشن ‘ نیا لہجہ دیا جونئے معاشرتی نظام کی عکاسی میں معاون تھا ۔
۵ عورت کوچار دیواری سے نکال کر معاشی جدوجہدکی منزل تک لایا گیا۔
۶ ا ادب کو زبان اور موضوع ہر دو کے لحاظ سے عوام کے قریب لایا گیا ۔
۷ اردو ادب کے غالب انحطاطی رحجان اور رومانیت کے اثرات زائل کر کے اردو کوادب کا ایک انقلابی تصور بخشا ۔
۸ طبقاتی نظام کی عکاسی کا رحجان متعارف کر ایا اور استحصال سے پاک معاشرے کا خواب پیش کیا ۔
۹ ادب کو اپنے عصر سے ہم آہنگ رہنے اور اس کی ترجمانی نیز اس میں تبدیلی لانے کا فریضہ عطا کیا ۔
۱۰ سیاسی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی روایت پیدا کی اور آمریت کی کسی بھی شکل خواہ مذہبی ہو یا سیاسی ،کے خلاف
جدوجہد کا حوصلہ دیا۔
۱۱ کسی بھی فکر یا قدر کو پرکھ کے بعد اپنانے کی روایت پیدا کی۔
۱۲ سب سے بڑی بات کہ اردو کو ایسے قد آور ادیب عطاکیے جن کی عظمت ابھی تک گہنا نہیں سکی ۔


ندیم کا ترقی پسند تحریک کے ساتھ باقاعدہ تعلق پاکستان بننے کے بعد ہو اجبکہ تحریک کے مقاصد او رلائحہ عمل سے نظریاتی وابستگی ۱۹۴۲ء کے بعد شروع ہو چکی تھی۔ان کی ابتدائی تخلیقات میں پائے جانے والے معاشی حقائق کی بنا پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آغاز ہی سے ترقی پسند تحریک کے ساتھ وابستہ تھے جبکہ حقیقت ذرا مختلف ہے۔اصل میںیہ ایک ایسا مسئلہ ہے جوپوری ترقی پسند تحریک کے ساتھ پیش آتا رہا کہ کون ساادیب ترقی پسندہے اور کون سانہیں۔ بیشتر ترقی پسند ناقدین نے اس مسئلے پر بحث کی ہے‘ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ ۱۹۳۰ء کے بعد نوجوان ادیبوں کی جو نسل ابھری ‘ اس میں مجموعی طور پرقدیم فرسودہ روایات کے خلاف بغاوت کا عنصر نمایاں تھا ۔ انگریزی تعلیم سے بہرہ ورنوجوانوں کا ایک جم غفیر مغرب کے ترقی یافتہ معاشرے کی اقدار اپنانے کا خواہشمند تھا‘ ایسے میں جب سجاد ظہیر اور ان کے ساتھیوں نے معاشی جدلیات پر تخلیقی ادب کی تحریک کی بنیاد رکھی تواس کا نام ’’ انجمن ترقی پسند مصنفین‘‘ رکھا ‘اب یہ تو ایک خاص نظریے کے حامل ادیبوں کی تنظیم تھی مگر اس کے نام کی وجہ سے عام قارئین کے ذہن میں ترقی پسند ادیب کا ایک اور ہی امیج بن گیا جس کی وجہ سے ہر اس ادیب کوجوقدیم روایات کے خلاف بغاوت کا اظہار کرتا یا نئی روایات کی پیشکش کرتا ‘ ترقی پسند سمجھ لیا جاتا ‘ ایسے ادباء کی تعداد کافی تھی جو نئی سوچ کے حامل تھے مگر یہ لوگ انجمن کے رکن نہ تھے اورنہ ہی اس کے منشور کے پابند تھے ۔انجمن انسان کے ہر مسئلے کی اصل بنیاد معاشرتی زندگی کو قرار دیتی تھی اور انسان کی جنسی اور ذہنی بیماریوں تک کامطالعہ ایک معاشرتی عمل کی حیثیت سے سماجی حالات کے تابع کر کے دیکھتی تھی ‘جبکہ دوسرے نئے ادباء مثلاً میرا جی ‘ راشد ‘ منٹو اور حلقہ ارباب ذوق کے اراکین خارجی اثرات سے زیادہ انسان کی داخلی زندگی اور اس کے مطالعے کو اہمیت دیتے تھے اور فرد کے ذہنی و جنسی مسائل کو خارجی حالات کی بجائے تحت الشعور اور لاشعور کی روشنی میں دیکھتے تھے یہ لوگ ادب میں نئی روایات کو پیش ضرور کرتے تھے مگر یہ ترقی پسند نہ تھے ۔البتہ عام طور پر انہیں ترقی پسندوں میں شمار کر لیا جا تا تھا‘ سردار جعفری لکھتے ہیں :


’’ یہ تمام چیزیں ترقی پسند ادب کے ساتھ کچھ اس طرح مل گئیں کہ ہر نیا ادیب ترقی پسند قرار دیا گیا اور ہر نئی تحریر ترقی پسند ادب کا نمونہ۔ نیا ادب اور ترقی پسند ادب ہم معنی الفاظ ہوگئے ۔۔۔۔سجادظہیر نے اس پر احتجاج کیا کہ ترقی پسند ادب کے مخالفین ہر نئے ادیب کو اور اگر وہ خراب ادیب ہے تو اور زیادہ بہ اصرار ‘ ترقی پسند کا نام دے کر پوری تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔‘‘٭۱


یوں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس دور میں نئے رحجانات کے تحت لکھنے والا ہرادیب ترقی پسند ادیب قرار دیا گیا ‘ ایسے ہی ندیم کو بھی ترقی پسندوں کے زمرے میںشامل سمجھ لیا جاتا ہوگا ‘ ورنہ ندیم کی نظریاتی وابستگی ۱۹۴۲ء کے بعدہی ہوئی جس کا ذکر سردارجعفری نے بھی ’’ترقی پسند ادب ‘‘ کے صفحہ نمبر ۱۹۰پر کیا ہے اور انجمن کے باقاعدہ ممبر ۱۹۴۸ء میں بنے ‘ اور بعد ازاں ۱۹۴۹ء میں جب کل پاکستان کانفرنس ہوئی تو انہیں انجمن کا جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا ‘ البتہ ترقی پسندفکران کے ہاں ادبی زندگی کے آغاز ہی سے موجود ہے :
’’ وہ اگرچہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیوں میں سے نہیں ہیں اور نہ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل ترقی پسند مصنفین کی تنظیم میں عملی طور پر حصہ لیا ہے ‘ اس کے باوجود ترقی پسند تحریک کے آغاز سے اس سے ذہنی طور پروابستہ ہیں ‘ اور انہوںنے اپنی ( ادبی ) زندگی کی ابتداء میںہی اس تحریک سے گہرا اثر قبول کیا ہے ‘ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ احمد ندیم قاسمی کی ادبی زندگی اور ترقی پسند تحریک ساتھ ساتھ شروع ہوئی اور پروان چڑھی ہے ۔ ‘‘٭۲


۱۹۳۵ء۔۔۱۹۳۹ء تک ندیم اپنے معاشی حالات کی ابتری سے جس کلبیت کا شکار ہوئے وہ انہیں حالات کی تبدیلی کے اسی جذبے کی طرف لے گئی جو اس عہد کے سبھی نوجوان ادیبوں میںپایا جاتا تھا ۔حالات کے خلاف بے اطمینانی کا اظہار اور انہیں بدل ڈالنے کی خواہش ہی اس وقت ترقی پسندی کا خاصہ سمجھی جاتی تھی ۔ سو ندیم کے ہاں بھی ایسی ’’ترقی پسندی ‘‘ آغازہی سے پائی جاتی تھی اور ترقی پسندفکر سے یہی مماثلت ہی انہیں بعدازاں باقاعد ہ طور پر ترقی پسند قافلے میں شامل کرتی ہے۔


اس کے علاوہ ترقی پسند تحریک آغازہی سے اتنے ہمہ گیر اثرات رکھتی تھی کہ ملک کے بیشتر نئے و پرانے ادیبوں نے اس کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔انقلاب روس اور عالمی کساد بازاری کی بنا پر اشتراکی خیالات پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی مقبولیت حاصل کر رہے تھے جس کا ثبوت پریم چند ‘ اقبال، جوش، نذرلاسلام اور ٹیگورجیسے قد آور ادیبوں کا ان سے متاثر ہونا ہے‘ ان کے علاوہ نئے ادیبوں کی بہت بڑی تعداد نے جس طرح اس تحریک کے اثرات قبول کیے اس کا ذکرپہلے ہو چکا ہے ‘ ایسے میںاگر ندیم بھی اس فکر سے متاثر ہو جاتے ہیںتو یہ ا تنی اچنبھے کی بات نہیں۔… تحریک سے لگاؤ کی ایک اور وجہ ان کی انسان دوستی بھی ہے ۔ انسان دوستی ایک ایسا پہلو ہے جو ان کے ادبی مسلک کا ابتدا سے ہی خاصہ رہی ہے اورترقی پسند تحریک کا ایک اہم پہلو انسان کو اس کی چھنی ہوئی عظمت کااحساس دلانا تھا‘یوں ندیم فکری طور پر اس تحریک کے اور زیادہ قریب ہوئے ۔ سحر انصاری لکھتے ہیں:


’’ ترقی پسند تحریک سے احمد ندیم قاسمی کی وابستگی کا سب سے بڑا محرک ان کی انسان دوستی ہے ابتداء ہی سے ان کے ہاں عظمت انسان کا احساس اور تقدیر آدم کا ادراک نمایاں ہے ۔ ترقی پسند تحریک کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول انسان کو اس کی عظمت گم شدہ سے ہم کنار کرنا اور تقدیر آدم کے رموز کو فاش کرنا ہے اس لیے احمد ندیم قاسمی کی اس سے وابستگی فطری تھی ‘‘ ٭۳


یوں یہ بات واضح ہے کہ ندیم قیام پاکستان سے پہلے ہی ترقی پسند فکر سے متاثر تھے مگر یہ اثر پذیری شعوری نہ تھی لاشعوری تھی ‘ شعوری اثر پذیری کا آغاز ۱۹۴۶ء کے بعد ہوا ۔ ندیم کے ہاں یہ غیرشعوری ترقی پسندی ۱۹۴۶ء سے پہلے بھی موجود تھی مگر انقلابی فلسفے سے عدم شناسائی کی وجہ سے ان کے ہاں سماجی نظام کی تبدیلی یا انقلاب کا تصور نظر نہیں آتا مگر ۱۹۴۷ء کے بعد کا ادب واضح طور پر تبدیلی کا اعلان کرتا ہے ’’ آس پاس ‘‘اور ’’ درودیوار ‘‘ کے افسانے ’’افق‘‘،’’ارتقا‘‘،’’ چڑیل‘ ‘،’’ جب بادل امڈے ‘‘،’’ ووٹ‘‘ اور’’ کہانی لکھی جا رہی ہے ‘‘ سے واضح ہوتا ہے کہ ندیم اب شعوری طور پر ترقی پسندی کو اپنا چکے ہیں۔ اسی لیے ان کے ہاں انقلابی سوچ اور نچلے طبقے کو ابھارنے کا رحجان صاف نظر آتا ہے ایک جگہ انقلابی جلوس کی تصویر کشی یوں کرتے ہیں ۔


’’ غبار بلندہورہا تھا اور قریب آرہا تھا اور ساتھ ہی جیسے پگڈنڈی پھیل رہی تھی ’دھر تی دھڑک رہی تھی او رغبار میں سے چھٹتا ہوا دبا دبا شعور واضح ہو تا جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک امڈتا ہوا ہجوم تھا۔ لوگوں کے ہاتھوں میں کدالیں اور پھاوڑے اور درانتیاں اور کندھوں پر ہل تھے ان کی آنکھوں میں آگ اور چہروں پر گلاب تھے۔ وہ جھیل میں سے نکلتے ہوئے معلوم ہوتے تھے جیسے جھیل نے بے قرار ہو کر اپنی تپاں لہروں کو سیلاب کی صورت میں دھرتی پر انڈیل دیا تھا اور سیلاب جھیل کے سونے کو ساری دھرتی پر پھیلانے کے لیے امڈ پڑاتھا ۔ سب سے آگے عورتیں تھیں ان کے پیچھے نوجوان تھے کہیں کہیں بوڑھے بھی نظر آجاتے تھے جو اپنی سفید داڑھیوں کے باوجود جوانوں کی تیز رفتاری کا ساتھ دے رہے تھے ۔ ان کے چہروں اور سینوں پر پسینے کے موتی تھے اور ٹانگوں پر گرد جم رہی تھی اور وہ اپنا حق مانگنے کی بجائے چھیننے نکلے تھے ۔دھرتی کو آباد کرکے خود اجڑے رہناانہیں اب قبول نہ تھا ۔گیہوں کے موتیوں کے ڈھیر تخلیق کرنے کے بعددھول پھانکنے سے اب وہ انکار کر رہے تھے۔ ایک نوجوان گرجتا تھا ’’ زمین کس کی ہے؟‘‘اور سب مل کر اپنے ہل اور درانتیاں اور کھرپے اور کدالیں اوپر اٹھاتے تھے اور یک زبان ہو کر دھاڑتے تھے ‘‘ ہماری ہے ‘‘ اور جیسے افق تا افق یہ آوازطرارے بھرتی ہوئی پھیل جاتی تھی او رپھر دھرتی کی طنابیں کھنچتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں ۔‘‘ ٭۴


نظموں میں ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۰ء تک کی نظموں میں بھی واضح ہے کہ اب ندیم نے شعوری طور پر ترقی پسندی کو قبول کر لیا ہے’’ طیور آوارہ‘ ‘ ، ’’ درانتی ‘‘’’ گونج ‘‘،’’ پرانی جھنکار ‘‘، ’’آدمی ‘‘،’’ جبر و اختیار ‘‘،’’ میںتمہارا ہوں ‘‘،’’ موضوع ‘‘،’’ ترقی پسند مصنفین‘‘ تک میں ندیم انقلابی سوچ پر کار فرماہیں اور مادی جدلیات کے قائل ہوکر انقلابی نعروں کی طرف مائل ہیں’ ’ میں تمہارا ہوں ‘‘ میںمحبت ‘زندگی‘ حسن و عشق اور کائنات کے رومانی تصورات کو حقیقت بیںنظر سے جھٹلا کر ترقی پسندنظریات کا پر چار کرتے ہیں او ریہ بات واضح ہوتی ہے کہ اب ان کا فن مزدوروں اور دہقانوں، کچلی ہوئی عورتوں کی ترجمانی اور استحصالی طبقے کے خلاف جدوجہد کے لیے وقف ہے ۔


آج سے زندگی کاپجاری ہوں
محنت کشوں کی جبنیوں کی تابندگی کا پجاری ہوں
انسانیت کے مقدر کی رخشندگی کا پجاری ہوں
میں زندگی کے لیے اپنے فن کا فسوں نذر لایا ہوں
تابندگی کے لیے اپنا خوں نذر لایا ہوں
رخشندگی کے لیے اپنا سوز دروں نذر لایا ہوں (میںتمہاراہوں )
کچھ فوری عوامل سے قطع نظر انجمن ترقی پسند مصنفین کا منشور ان کے لیے نیا نہ تھا بلکہ یہ منشور تو عین ان کی فطرت تھا،اسی لیے انہوں نے ترقی پسندوں کا منشور بھی آسانی سے قبول کر لیا اور اپنے دل کا درد بیان کرتے کرتے دو عالم میں سوز جگانے لگے۔ اب ان کے ہاں کھل کر ترقی پسند تحریک کے سبھی رحجانات بیدار ہو گئے تھے۔ پہلے جہاں طبقاتی کشمکش‘معاشی حقائق کی عکاسی ‘ حالات کی سختی کا احساس ‘ رومان ‘ حقیقت نگاری پائی جاتی تھیں وہاں اب طبقاتی نظام کو ختم کرنے کی خواہش معاشی نظام کی تبدیلی کی تمنا ‘ انقلابی رومانویت بھی نظر آتی ہے ۔ اب انفرادی سے زیادہ اجتماعی طرز احساس کی پیشکش شاعر کا فریضہ بن چکی ہے ۔


اب مرا ذوق کسی قید کا پابند نہیں
تم نے صدیوں میرے وجدان کو ترسایا ہے
نوع انساں کے نئے عزم کی تکریم کرو
جب کہ ذرہ بھی قیامت کی خبر لایا ہے
(جبرو اختیار)
یاپھر
مجھے بھی حسن و محبت کے گیت یاد تو ہیں
مگر حیات فقط نغمہ و سرور نہیں
میں گلشنوں میں‘ دلوں میں‘ ملوں میں بستا ہوں
ذرا قریب سے دیکھو‘ میں تم سے دور نہیں
(نقادو )
قطعات میں بھی اب ان کے ہاں جمہوریت پسندی ‘ سامراج دشمنی ‘ کسان ‘ مزدور ‘ انقلاب دوستی کے سے موضوعات نظر آتے ہیں قطعات کے ساتھ ساتھ جب وہ رباعی کی طرف مائل ہوئے تو یہ چیز ذرا زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ رباعی میں کہتے ہیں :
روئی کی طرح اپنا کلیجہ دھن دوں
ریشم کی مثال سرخ شالیں بن دوں
نادار عروس، آ تیرے ماتھے پر
میں قوم کے آنسوؤںکی افشاں چن دوں
یہاں ترقی پسند رحجانات بہت نمایاں ہیں ‘ خصوصاً طبقاتی کشمکش تو بہت زیادہ نمایاں ہے اتنی کہ بعض اوقات ندیم اس انتہا پسندی کے شکار نظر آنے لگتے ہیںجس کی وجہ سے تحریک معاصرین کی نظروں میں بدنام ٹھہری تھی۔ یہ طبقاتی کشمکش جب ان کے فن میں اعتدال کے ساتھ آتی ہے تو اس کی شکل کچھ یوں ہوتی ہے ۔
ہم سب کو خونِ تازہ انہی نے عطا کیا
رنگت اسی لیے تو کسانوں کی زرد تھی
وہ شہر زادیوں کی بنی چادر حیا
دہقان لڑکیوں کے سروں پر جو گرد تھی
اور انتہا پسندی اس طرح کہ بعض اوقات شعری اظہار کی بجائے براہ راست بدعائیںسی د ینے پر اتر جاتے ہیں جو ایک لحاظ سے ندیم کی فکری بے بسی کا مظہر بن جاتی ہیں ۔ جب سماجی نظام کو اپنی مرضی سے بدلا نہ جا سکا تو ذمے دار افرادکو بڑی بوڑھیوں کی طرح کوسنے اوربد عائیں دینی شروع کردیں ۔
جس شخص نے آدمی کے خون سے
اپنے چہرے کا روپ اجالا
پتھر بن جائے‘ زہر ہوجائے
اس شخص کے ہاتھ کا نوالہ


اس سے پہلے’’ رم جھم ‘‘میں بھی ایک ایسے ہی قطعے میں ترقی پسند فکر کے حوالے سے انتہا پسندی کا شکار نظر آتے تھے ‘ جہاں انہوں نے ایک امیر شخص کو صرف اس لیے کوڑھی قرار دیا کہ وہ ریشم و کمخواب میں لپٹا ہوا تھا ۔اس کا کوئی سماجی ‘ اخلاقی یا انسانی قصور نہ تھا بلکہ وہ صرف اس لیے ہدف ملامت ٹھہرتا ہے کہ وہ امیر ہے جیسے امارت بھی کوئی جرم ہے یہ بالکل اس طرح کی انتہا پسند سوچ ہے جس کا مظاہرہ بور ژوا طبقے کی طرف سے ہوتا تھا کہ غریب کی غربت کوہی اس کا جرم قرار دے دیا جاتا ‘ گویا بور ژوا اور پر ولتاری دونوں طبقوں کی طرف سے مذمت کے لحاظ سے عمل اور رد عمل کاسلسلہ شروع تھا جس میں دونوں طرف کی خوبیوں کی بجائے صرف ایک دوسرے کے معاشی مقام کی بنا پر اسے ملامتی قرار دے دیا جاتا مثلا ً ندیم کہتے ہیں ۔:


محتاج کسی کی بھی نہیں میری جوانی
مزدور ہوں‘ کھاتا ہوں پسینے کی کمائی
اے ریشم و کمخواب میں لپٹے ہوئے کوڑھی
کیوں تو نے مجھے دیکھ کے بھوں ناک چڑھائی
البتہ مجموعی طور پر ندیم ایسی غیر متوازن کیفیت کا شکار نہیں ہوتے اور ایک متوازن فکری روئیے کو اپنا کر طبقاتی نظام کا مطالعہ کرتے ہیں اس لیے انہوں نے جہاںنچلے طبقے کے مسائل کو پیش کیا ہے وہاں اعلیٰ طبقے کو بھی مد نظر رکھا ہے۔ افسانہ ’’ مشورہ ‘‘ کے راجہ صاحب جو اونچے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں‘کو یہ مسئلہ در پیش ہے کہ وہ اپنی پوری آرزو کے باوجود اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر سکتے ‘ ایک بار انہوں نے اضافے کی کوشش بھی کی مگر پورا اعلیٰ طبقہ ان کا مخالف بن گیا کیونکہ پھر انہیں بھی اپنے ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کرنا پڑتا تھا ۔یوں ندیم نے بورژوا طبقے کی طرف بھی ہمدردانہ نظر سے دیکھا ہے البتہ مجموعی طور پر انہوں نے نچلے طبقے پر ہی نظر رکھی ۔ ان کے افسانے ’’راجے مہاراجے ‘‘،’’ زلیخا‘‘،’’ موچی‘ ‘،’’ بدنام ‘‘، ’’بھاڑا ‘‘،’’ سلطان ‘‘،’’ شیش محل ‘‘،’’ اصول کی بات‘‘ ،’’ثواب‘ ‘ ،’’قرض ‘‘، ’’لارنس آف تھلیبیا‘ ‘،’’ پہاڑوں کی برف ‘‘،’’ سفارش ‘‘، ’’نیلا پتھر ‘‘، ’’ جوتا ‘‘، ’’ایک یک لباس آدمی ‘‘،’’ شکنیں ‘‘ ،’’ٹریکٹر ‘‘ ،’’چھلی ‘‘، ’’اخبار نویس ‘‘ سبھی نچلے طبقے کے مسائل کی عکاسی کرتے ہیں ۔


عام طور پر ندیم کی ترقی پسندی جن اعتراضات کا نشانہ بنتی ہے، ان کی وجہ دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھی ترقی پسندوں سے بہت مختلف تھے ۔دیگر ترقی پسندوں سے ان کا امتیاز کئی طرح سے واضح ہے۔اسی امتیاز کے باعث ان کی حیثیت متنازعہ سی ہو چکی ہے ۔اب میں ندیم کے انہی امتیازات پر بات کرنا چاہوں گا۔ ندیم ترقی پسند تحریک میںباقاعدہ شامل تو ہوگئے تھے اور ان کے ہمراہ انقلاب کے خواب بھی دیکھے مگر ندیم کا رویہ باقی سب ترقی پسندوں سے بالکل مختلف تھا ‘ تحریک میں تو وہ اس لیے شامل ہوئے تھے کہ ان کے اکثر نظریات ویسے ہی ترقی پسندوں سے ملتے تھے او رجو نہیں بھی ملتے تھے ‘ ان کے متعلق اس پختہ عمری میں انہیں تبدیلی کا کوئی خطرہ نہ تھا ‘ وہ جانتے تھے کہ تحریک کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ان کے ذاتی خیالات پر کوئی بندش عائد نہیں ہوگی اور واقعی ایسا ہو بھی نہ سکا ۔ ندیم نے ان کے ساتھ شامل ہونے کے باوجود اپنی منفرد شناخت برقرار رکھی۔
سب سے پہلی انفرادیت تو ندیم کا مذہب کی طرف جھکاؤ ہے ایک ایسے وقت میں جب ترقی پسندی او رالحاد لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے ‘ ندیم ایک ایسے ترقی پسند ادیب کے طور پر ابھرتے ہیں جس کا مذہب کے ساتھ گہرا لگاؤ ہے وراثت میں ملنے والی مذہبی عقیدت اور پھر چچا کی تربیت اور اقبال کے مطالعے نے ان کے ہاں مذہب سے بیزاری پیدا نہ ہونے دی اور یوں وہ ترقی پسند بن کر اور مارکس کی مادی جدلیات کے قائل ہونے کے باوجود مذہب سے اپنا ناتا توڑ نہ سکے ۔ خود ترقی پسندوں کو بھی یہ بات کھلتی رہی کہ ندیم مذہبی سوچ کیوں رکھتے ہیں اس لیے بقول فتح محمد ملک ترقی پسند‘ ندیم کی بجائے فیض اور سردار جعفری کو ترقی پسند شاعری کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے تھے ۔ا ور ندیم کے مذہبی او رمابعد الطبعیاتی انداز فکر پر برا فروختہ ہوتے تھے اور اس طرح کے اشعار پر ندیم کی ترقی پسندی پر اعتراض کرتے تھے ۔


تیرگیاں، تجلیاں، محض فریبِ امتیاز
ایک ہی آفتاب جب مبداء معجزات ہے
ندیم اپنے ایک خط بنام عبادت بریلو ی۱۹۴۵ء میں لکھتے ہیں:
’’ اپنی شاعری کے متعلق میں کیا عرض کروں‘ میرے بھائی ! بس اتنی سی بات ہے کہ میں تمام ترقی پسند شعراء کے برخلاف مشرق کی روحانیت کا قائل ہوں ‘ مادہ غیر فانی سہی لیکن مادہ پرستی کے کرشمے آپ کے سامنے ہیں ۔‘‘٭ ۵


یہ تو خیر ترقی پسند تحریک میں باقاعدہ شمولیت سے پہلے کی بات تھی ‘ بعد میں بھی تحریک او رمذہبی طرز فکر کے متعلق ان کے خیالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی ۔ ایک انٹرویو میں بالکل واضح کہتے ہیں ۔
’’ ترقی پسند تحریک کی معاشی ناہموار ی کے خلاف جدوجہد سے میں بہت متاثر ہوا اور اس سے میرے مذہبی عقائد پر کوئی زد بھی نہیں پڑتی تھی ۔ میں نے اس کی رکنیت کو قبول کیا ‘ اس کے عہدے پر فائز رہا اور میں آج بھی کہتا ہوں کہ میں ترقی پسند ہوں اور خدا کا شکر ہے کہ سیاسی ترقی پسند نہیں۔‘‘٭ ۶


یہی وجہ ہے کہ ندیم کی حیثیت دیگر ترقی پسندوں سے مختلف ہے ۔وہ اس حد تک تو ترقی پسند ہیں کہ انسانی سماج اقتصادی اور معاشی طور پر ناہموار نہ رہے ‘ سب کو مساوی حقوق ملیں ۔ غربت اور بے روز گار ی نہ ہو ‘کوئی ایک طبقہ دوسرے طبقے کا استحصال نہ کر سکے ‘ طاقتور کمزور کے ساتھ ظلم نہ کر سکے ‘ پیسے کی بجائے عدل کی برتری ہو‘ لیکن راہ خدا ‘ نبوت ‘ او رمذہب سے وابستہ اخلاقی اقدار سے منحرف ہونے کی حد تک نہیں گئے یعنی احمد ندیم قاسمی ایک ایسی معتدل ترقی پسند شخصیت ہے جو ایک طرف انسانی مساوات پر مبنی نظام معیشت چاہتی ہے اور دوسری طرف دینی اور مذہبی اقدار کی وہ وراثت بھی ترک کرنے کے لیے تیار نہیں جوصالح انسانی قدروں پر مشتمل ہے‘ یہی چیز انہیں ترقی پسندوں میں ممتاز کرتی ہے ۔
قرۃ العین طاہرہ کے ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں :


’’ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق اور ترقی پسند ادب کی تحریک سے وابستگی کے درمیان مجھے کوئی تضاد محسوس نہیں ہوا ۔ اسلام دنیا کا ’’ ترقی پسند ترین ‘‘ مذہب ہے ۔ ملائیت کے مذہب سے الگ ‘ سادہ اور سچا مذہب ہے اور میری ترقی پسند ی نے بیشتر قرآن و حدیث او رحضورﷺکے اسوہ حسنہ سے انسپیریشن حاصل کیا ہے ۔‘‘٭۷


دوسرا امتیاز کمیونسٹ نظریات کے حوالے سے ہے ‘ ندیم نے کمیونزم پر آنکھیں بند کر کے ایمان نہ رکھا ‘ وہ ایک منصفانہ معاشرے کے قیام کے حق میں تو ضرور تھے مگر اپنی مذہبی فکر کی وجہ سے مارکس کی تعلیمات کو جزو ایمان نہ بنایا ‘ یوں وہ ان ترقی پسندوں سے اپنی جداگانہ حیثیت بناتے ہیں جنہوں نے ترقی پسندی کو ایک فیشن کے طور پر قبول کیا اور اشتراکیت کے فلسفے پر آنکھیں موند کر ایمان لاتے ہوئے خدا اور دیگر مذہبی عقائد سے کھلا انکار کر نے میں اپنی شان سمجھی ۔یہ بات بھی کم حیرت ناک نہیں کہ پاکستان میں احمدندیم قاسمی ترقی پسند تحریک کے بہت بڑے عہدے پر رہے ‘ اور انہوںنے تحریک کو آگے بڑھانے اور اسے مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ‘ جلسے جلوس کیے ‘ احتجاج میں بھی شریک رہے ۔ جیل بھی گئے مگر خود کو ترقی پسند منوانے کے لیے کبھی منکر خدا نہ ہوئے ۔ اس سلسلے میں روپوشی کے دنوں میں سجا د ظہیر کا ندیم کو لکھا جانے والا خط خاصا اہم ہے جس میں انہوں نے ندیم کو کمیونزم کی طرف راغب کرنا چاہاتھا ‘ یہ خط ندیم کو جیل میں ملا تھا ‘ ندیم اس خط اور اس کے جواب کے متعلق یوں بتاتے ہیں :


’’ انہوں نے لکھا تھا کہ آپ کے نظریات وہی ہیں جو ہمارے ہیں ‘ آپ کا نقطہ نظر وہی ہے جو ہمارا ہے‘ آپ سامراج کے دشمن ہیں ‘آپ فیوڈلزم کے دشمن ہیں ‘ آپ بھی جاگیردارانہ نظام کے خلاف ہیں ‘ آپ بھی انصاف چاہتے ہیں‘آپ بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا وقار دلانا چاہتے ہیں ‘ یہی سب ہم بھی چاہتے ہیں تو آپ کمیونسٹ کیوں نہیں ہو جاتے ‘ میں نے جواب ۔۔۔ میں لکھا تھا کہ قریب قریب آپ کی باتیں صحیح ہیں مگر آپ خدا کی نفی کرتے ہیں میں نہیں کر سکتا ‘ میں رسول کریمﷺ کو اپنا نبی او رپیغمبر مانتا ہوں آپ نہیں مانتے ‘ اور اگر مانتے بھی ہیں تو دب کر مانتے ہیں جیسے کوئی گناہ کر رہے ہیں ‘ آپ میرے خدا اور میرے رسولﷺ کو شامل کر لیجئے میں کمیونسٹ ہونے کو تیار ہوں ۔‘‘ ٭۸


ندیم کی انہی باتوں کی وجہ سے کمیونسٹوں نے کبھی انہیں اپنے ساتھ شامل نہ سمجھا اور ان کی ترقی پسندی پر بھی شبہ کرتے رہے مگر ندیم نے اپنی فکر کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے کبھی مذہب کا ساتھ نہ چھوڑا ۔
پاکستان کے ساتھ محبت بھی انہیں دیگر ترقی پسندوں سے ممتاز کرتی ہے ‘ ترقی پسندوں کو پاکستان میں اپنے ان خوابوں کی تعبیر نظر نہ آئی تھی جس کے لیے انہوں نے جدوجہد کی تھی اس لیے وہ نظریاتی طور پر قیام پاکستان کو قبول نہ کرسکے او رصبح آزادی کے اجالے کو شام کا جھٹپٹا قرار دیا ۔ جس کے بعد ظلم کی رات مزید تاریک ہونے کا اندیشہ تھا سو انہوں نے انقلاب کے لیے جدوجہد جاری رکھی ۔ اس سے قبل لکھا جا چکا ہے کہ ندیم نے بھی اول اول انہی کی آواز میں آواز ملائی مگر بعد ازاں ان سے الگ راہ اپنالی اور پاکستان کو اپنا وطن مان کر تقسیم ہند کو مصنوعی لکیر تصور کرنے کی بجائے ایک مسلم حقیقت سمجھ لیا ‘کہتے ہیں:
’’میں کمیونسٹ بھی نہیں ہوں ‘ انجمن ترقی پسند مصنفین کا باقاعدہ ممبر بھی نہیں ہوں‘ کشمیر پر ہندوستانی فوجوں کی چڑھائی کو استبدادی اقدام سمجھتا ہوں ۔ سجاد ظہیر انجمن ترقی پسند مصنفین میں ہر سیاسی خیال کے ادیب کی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے فیض احمد فیض کو اور مجھے لیگی قرار دے چکے ہیں۔ میں اپنے وطن کا وفا دار ہوں‘ پاکستان ہماری رگ جان ہے ۔‘‘ ٭۹


یہی وجہ ہے کہ ندیم شروع شروع میں پاکستان کے قیام کی مخالفت کے باوجود بعد میں پاکستان کو دل و جان سے چاہتے ہیں اور اپنی شاعری میں لیلائے دطن کی چاہت کا اکثر اظہار کرتے رہتے ہیں ۔’’ وطن کے لیے ایک دُعا‘‘ تو ایک ایسی نظم ہے جو ہر پاکستانی کے دل کی ترجمانی کا کام دیتی ہے ‘ اور شاید ہی کوئی ایسا محبِ وطن ہو جس کے لبوں سے زندگی میں کبھی وطن کے لیے ایسی دعا نہ نکلی ہو ۔
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل ‘ جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاںجو پھول کھلے ‘ وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
( وطن کے لیے ایک دُعا)
یہی وجہ ہے کہ اکثر ناقدین مثلا ً جمیل ملک ‘ فتح محمد ملک ‘ ضیا جالندھری نے وطن کے لیے ندیم کی اس محبت کو سراہا ہے ۔فتح محمد ملک کا مضمون ’’ اپنی مٹی کی خوشبو ‘‘( مشمولہ‘ احمد ندیم قاسمی :شاعر اور افسانہ نگار) ندیم کی پاکستانیت کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔ حمید احمد خان جیسے قد آور نقاد نے ’’افکار ‘‘کے ندیم نمبر میںندیم کی حب الوطنی کی اس طرح تعریف کی ہے ۔
’’ اشتراکی مسلک کے ادیب انفرادیت پسند نہیں ہیں لیکن ان کا اجتماعی احساس پاکستان کی تہذیبی روایت سے وابستہ نہیں رہا۔اس فہرست میں بڑے بڑے نام آتے ہیں ۔ لیکن انسان کی معاشی بہبود سے والہانہ لگاؤ رکھتے ہوئے بھی ہمارے یہ شعراء پاکستانی قومیت او رپاکستان کی تہذیبی روایت سے الگ رہتے ہیں ‘ چنانچہ ان کے شعر میں ضمیر جمع متکلم کامشار علیہ قوم کے اندر نہیں ‘ واضح طور پر قوم کے عمرانی و جغرافیائی حدودکے باہر ہوتا ہے ‘ احمد ندیم قاسمی اس ضمیر جمع متکلم کو دوبارہ پاکستان کی قومی اور جغرافیائی حدودکے اندر لے آئے ہیں وہ ایک ترقی پسند ادیب ضرور ہیں‘ لیکن ان کی ترقی پسندی پاکستانی روایت کی ہم نوا ہے ۔ یہ ایک کارنامہ ہے جس کے لیے پاکستانی ادب کی تاریخ قاسمی صاحب کو شکرئیے سے یاد رکھے گی۔ ‘‘ ٭۱۰


ماضی کے متعلق بھی ندیم کا رویہ ترقی پسندوں سے الگ ہے ‘ ترقی پسندوں کا خیال تھا کہ ماضی کی تمام روایات فرسودہ ہیں اور کسی بھی لحاظ سے ایک ارتقاء پذیر معاشرے کے ساتھ نہیں چل سکتیں جبکہ ندیم تہذیب و ثقافت کے قدر دان ہیں اسی لیے وہ انسانیت کو نکھارنے والی اقدار کو بھی اہمیت دیتے ہیں ۔ان کے خیال میں ماضی کی تمام روایات رد نہیں کی جا سکتیں بلکہ ان روایات میں کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی بھی عہد اور ہر قسم کے حالات میں انسان کی معاون ثابت ہو سکتی ہیںاور ایسی اقدار کو لاکھ جھٹلانے کی کوشش کی جائے پھر بھی یہ زندہ رہتی ہیں اور خود ہی آگے بڑھ کر نئے زمانے کے ساتھ گھل مل کر اپنی تہذیبی زندگی کو مٹنے سے بچا لیتی ہیں۔ اسی لیے ندیم انسانیت کو نکھارنے والی بعض قدیم اقدار کو اہمیت دیتے ہیںمگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ماضی کی پرستش کے بھی قائل نہیں ‘اور جو مٹ چکا ہے‘ اسی کو کریدتے رہنے کے قائل نہیں ۔ وہ اپنے عہد میں تبدیلیِ اقدار کے باعث تشکیل پانے والے معیارات سے بھی خوب واقف ہیں اور معاشرتی روایات کے مثبت اور منفی پہلؤوں کا احساس رکھتے ہیں ۔ یوں ان کے خیال میں ماضی کی اقدار کو کلیجے سے لگائے رکھنے کی بجائے ان میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے، اپنے ماضی پر تنقید ہو سکتی ہے، اس کی اصلاح ہو سکتی ہے اس کی روایت کو نکھار ا اور سنوارا جا سکتا ہے مگر اس کی نفی ممکن نہیں کہ اولاد‘ و الدین سے بیزار تو ہو سکتی ہے مگر ان کے وجود کی منکر نہیں ہو سکتی’’ پس الفاظ‘‘ میں لکھتے ہیں :


’’ کوئی بھی ماضی مکمل طور پر اپنی پوری جزئیات کے ساتھ قابل قبول نہیں ہوتا ‘ زندگی جامد نہیں ہے یہ ایک نامیاتی حقیقت ہے اور جب زندگی آگے بڑھتی ہے تو انسانی ذہن کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں تو انسانی ذہن ‘ زندگی کی رفتار میں تیزی پیدا کرتا اور اس کی رہنمائی کرتا ہے اس صورت میں ماضی پورے کا پورا قابل قبول نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہیے ‘ ورنہ پوری قوم جمود کا شکار ہو جائے البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پورے کے پورے ماضی کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ چنانچہ ہمیں ایک صحت مندانہ تنقیدی قوت کی مدد سے ماضی کی حقیقتوں کو( انہیں روایتیں کہہ لیجے ) پرکھنا ہوگا ۔‘‘٭ ۱۱


غزلوں میں ندیم محض روایت شکنی کے شوق میں ماضی کی صالح اقدار سے بغاوت نہیں کرتے بلکہ انہیں قبول کرنے کے حق میں ہیں اور اس لیے وہ پرانی اقدار کی جانچ پرکھ کرتے رہتے ہیں ۔
؎ کہیں وفا سر بازار بک نہ جائے ندیم
کہ اب تو لوگ محبت بھی بے سبب نہ کریں
؎ اتنی شدت ہے روایت سے بغاوت میں کہ آج
آدمی پیار بھی کرتے ہوئے شرماتا ہے


انقلاب کی خواہش بھی ندیم کے ہاں ویسی نہیں جو ترقی پسندوں کا خاصا رہی ہے ۔ جس انقلاب کے لیے وہ لوگ دیوانے ہو رہے تھے وہ انقلاب ندیم کی امیدوں کا مرکز نہیں بنتا ۔ ندیم انقلاب کے خواہش مند ضرور تھے اور معاشرے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے داعی بھی تھے مگر وہ سرخ انقلاب کے حامی نظر نہیں آتے ‘ سماجی لحاظ سے وہ طبقاتی نظام اور غریب کے استحصال کا خاتمہ تو چاہتے تھے مگر سرخ پھریرا لہرا کر تاج اچھالنے کے حق میںنہیں تھے ‘ اسی لیے ان کے ہاں جذباتی قسم کی نعرہ بازی نہیں ‘ ’’ شعلہ ء گل ‘‘ کی نظموں میں ان کا لہجہ نسبتا ً جو شیلا ہے مگر یہ جوش ان کے اس سماجی شعور کی عطاہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعدعالمی صورت حال میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں ‘ ان کے محرکات ‘ سامراج کے عزائم اور محکوم یا نو آزاد ممالک کے مسائل سے آگاہی نے انہیں بخشا تھا ۔ اسی لیے ان کا قلم مظلوموں اور محنت کشوں کی حمایت میں اٹھتا ہے اور وہ خود بھی دنیا بھر کی انقلابی تحریکوں کو بہ نظر استحسان دیکھتے ہیں مگر ان کی تخلیقات میں بحیثیت ِ کل ویسی شدت نہیں جیسی ظہیر کاشمیری او رسردار جعفری وغیرہ سے منسوب کی جاتی ہے ۔


طلسم شب کا یہی توڑ ہے قدم نہ رکیں
اندھیرا ٹوٹ کے برسے مگر یہ سر نہ جھکیں
نجوم بجھتے رہیں‘ تیرگی امڈتی رہے
سحر کا توڑ کسی ذی نفس کے پاس نہیں
(رات بیکراں تونہیں )


یہی چیز ان کے ہاں رجائیت کے پہلو کو واضح کرتی ہے ۔ انقلاب ان کے ہاں زبردستی لائے جانے کی چیز نہیں ہے۔ ان کے ہاں تو انقلاب نظام عالم کا ایک ایسا ارتقائی مظہر ہے جسے بہرصورت آنا ہی آنا ہے ۔ کوئی کچھ بھی کر لے مگر انقلاب تو آکر رہے گا ۔ کہ یہ فطرت کا قانون ہے۔انہوں نے اپنی ترقی پسندی کو کبھی بغاوت کے طور پر تعبیر نہیں کیا تھا ‘وہ انسان کی بطورِ انسان ترقی کے خواہش مند تھے اور باوجود مسلم معاشرے پر مذہب ،فوج اور جاگیردارانہ نظام کی متحدہ طور پر عاید کی گئی ملوکانہ پابندیوں کے وہ تمنائی تھے کہ بحیثیتِ انسان جو ارتقاء انسان کے نصیب میں ہے وہ چلتا رہے اور اس ارتقاء کی خاطر وہ خون خرابے یعنی انسانیت سے مزید گرنے کے حق میں نہ تھے اسی لیے وہ انقلاب کے نعرے لگانے اور محنت کشوں کو ہتھیار لے کر سڑکوں پر نکل آنے کی دعوت دینے کی بجائے بڑے تحمل سے اس انقلاب کے منتظر ہیں جس نے فطری لحاظ سے اس منجمد معاشرے میں وقوع پذیر ہو کے رہنا ہے تاکہ معاشرے کی تاریخ آگے بڑھ سکے ۔


سر بر آوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں
آفتاب ایک الاؤ کی طرح روشن ہے
دامن کوہ میں چلتے ہوئے ہل
سینہ دہر پہ انسان کے جبروت کی تاریخ رقم کرتے ہیں
آسماں تیز شعاعوں سے اس درجہ گداز
جیسے چھونے سے پگھل جائے گا
وقت تیار نظر آتا ہے (وقت)


احمد ندیم قاسمی نے حقیقت نگاری کا بھی ایک نیا انداز اپنایا ‘ انہوں نے حقیقت کو جیسی کہ وہ ہے اسی طرح پیش کرنے کی بجائے اس میں رومانی انداز نظر کے اضافے سے ایک ایسا اسلوب اپنایا جہاں حقیقت اپنے کھردرے پہلو کی بجائے ایک روشن پہلو لیے سامنے آتی ہے ۔ یہاں حقیقت کی نفی نہیں ہوتی مگر حقیقت کا رنگ امیدافزاء لہروں کے سنگ ابھرتا ہے ۔اپنے ایک مضمون ’’حقیقت اور فنی حقیقت‘‘میں لکھتے ہیں :
’’ اگر ہم حقیقت پسندی اور صداقت پسندی کے فرق کو اپنے ذہنوں میںواضح کر لیں تو ادب و فن میں حقیقت کے اظہار سے متعلق ہماری تمام الجھنیں دور ہو سکتی ہیں ‘ اور یہ وہ نکتہ ہے جو ترقی پسند تحریک کی ابتداء میں ایک حد تک نظر انداز کیا جا تا رہا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ادیب بھی جو مفرد اور مجرد حقیقت کی تصویر کشی کر کے بزعم خود حقیقت نگاری کا منصب ادا کر لیتے تھے ۔ ترقی پسند کہے جانے لگے۔ ان ادیبوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ حقیقت کوئی جامد چیز نہیں ‘ ہر خارجی حقیقت کے اندر متعدد لہریں رواں ہیں ‘ ایک تو خود اس حقیقت کی انفرادی حرکت ہے‘ دوسرے اس کا ماضی کی تاریخی حقیقتوں سے رشتہ ہے اور تیسرے مستقبل کے ساتھ اس حقیقت کی وابستگی ہے اگر خارجی حقیقت کو فن میں منتقل کرنے والا اس بات سے ہی بے خبر رہے کہ حقیقت کو موجود ہ صورت اختیار کرنے میں کتنی صدیاں صرف ہوئی ہیں تو وہ حقیقت کا فنکار انہ یا دوسرے لفظوں میں صداقت پسندانہ اظہار نہیں کر سکتا صداقت پسندی فنکار کو خواب دیکھنے سے نہیں روکتی ۔۔۔۔۔۔اور اس تضاد کو بھی ختم کر دیتی ہے جو حقیقت پسندی او ررومانیت کے درمیان حائل رہا ہے ۔ گویا حقیقت پسندی اور رومانیت کے اسالیب کے زندہ عناصر کو اپنی انقلابی آرزو مندی کی آنچ میں باہم دگر آمیز کر کے یہ اسلوب ایجاد کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ٭۱۲
ترقی پسند تحریک کے اختتام کے متعلق بھی ندیم کا رویہ دوسرے ترقی پسندوں سے بالکل مختلف رہا ہے بلکہ وہ تو اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ تحریک ختم ہو گئی ہے۔ تحریک کے خاتمے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں ۔ ’’ مجھے آپ سے اتفاق نہیں کہ ’’ تحریک ختم ہو گئی ‘ تحریک ختم نہیں ہوئی ‘تنظیم ختم ہوئی ہے‘ انجمن ختم ہوئی ہے ‘‘ ٭۱۳


انجمن کے خاتمے کے بعد ندیم کی فکرپہلے سے بھی کشادہ فضا میں داخل ہونے لگتی ہے یہاں زندگی اور دنیا کے ہزارہا پہلو ان کے تخلیقی دھارے میںشامل ہونے کے لیے مچل رہے ہیں اور وہ اپنے ادبی شعور کے مطابق حتی الامکان اس تنوع کو اپنے فن کی زینت بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تحریک سے اپنا قلبی تعلق تو ڑ بیٹھے یا دیگر ترقی پسندوں کی طرح انہوں نے حالات سے مفاہمت کر کے تحریک کے مقاصد کو پس پشت ڈال دیا ۔ ایسی بات ہر گز نہیں بلکہ تحریک سے ان کا تعلق تو زندگی کے آخری دنوں تک قائم رہا ۔ اس موضوعاتی وسعت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اب وہ اپنے نظریات سے دستبردار ہوگئے ہیں بلکہ ایک بڑے فنکار کی حیثیت سے یہ تو ان کا فطری ارتقاء ہے جس کی وجہ سے ان کا فن محض ایک نظرئیے کا پروپیگنڈہ کرنے کے لیے مخصوص نہیں ہوگیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے دوسرے موضوعات بھی ان کے پیش نظر رہے ‘ افسانوں کے آخری مجموعے میں شامل افسانے ’’ مجبور ‘‘، ’’ سیکرٹری ‘‘ اور ’’ چا چا چوکھا رام ‘‘ تا دم مرگ تحریک سے ان کی نظریاتی وابستگی کا ثبوت ہیں مگر ۱۹۵۲ء کے بعد ۲۰۰۶ء تک کے ادبی سفر میں انہوں نے محض تحریک کے مقاصد و نصب العین ہی کو فروغ دینے کی کوشش نہیں بلکہ ہر اس موضوع پر قلم اٹھایا جس نے ان کے احساس و شعور پر کوئی نقش چھوڑا تھا ‘ بچپن کے تجربات سے لے کر بڑھاپے کے مشاہدات تک سبھی چیزیں ان کے فن میں شامل ہوئیں ‘ یوں یہ صاف نظر آتا ہے کہ انہوں نے صرف ترقی پسندانہ خیالات سے اخذ نور کرنے کی بجائے اپنی منفرد آواز پیدا کرنے کے لیے ہر قدم پر اپنے مشاہدات کا سہارا لے کر اپنی ادبی شخصیت کو تعمیر کرنے کی کوشش کی ‘ یوں وہ نہ تو ترقی پسند خیالات سے انحراف کرتے ہیں او رنہ ہی ان کو حرز جاں بنائے رکھتے ہیں بلکہ فکر کے مختلف دھاروں کو متوازی طور پر رواں رکھ کر اپنے ادبی سفر کو جاری رکھتے ہیں البتہ ان کی شخصیت کے تخلیقی خطے میں ترقی پسند تحریک اس دریا کی مثال ہے جو پورے خطے کو سیراب کرتا رہتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ دیگر متنوع خیالات کے کوہی نالے بھی اس میں شامل ہو کر اس کے پانی کی رنگت بدلتے رہتے ہیں ۔


تحریک کے اختتام کے متعلق بھی ندیم نے بالکل مختلف خیال ظاہر کیا ہے ‘ دیگر ترقی پسندوں کے مطابق تو انجمن ترقی پسند مصنفین پر حکومتِ وقت نے براہِ راست پابندی لگا دی گئی تھی مگر ندیم جو انجمن کے جنرل سیکرٹری رہے ‘ ان کے مطابق انجمن پر پابندی عائد نہیں ہوئی تھی بلکہ لیاقت علی خان کی حکومت نے انجمن کو ایک سیاسی جماعت قرار دے دیا تھا جس کے بعد رفتہ رفتہ خود ہی انجمن کا شیرازہ بکھرتا چلا گیا کہتے ہیں:


’’۔۔۔۔۔۔۔۔ حکومت نے اس انجمن کو ایک سیاسی جماعت قرار دے دیا ‘ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ ہماری انجمن سے وابستہ جتنے بھی سرکاری ملازمین تھے ‘ ان میں سے اچھے لکھنے والے اب بھی سرکاری ملازم ہیں ‘ اس وقت وہ سب بین ہوگئے وہ حوصلہ ہی نہیں کرپاتے تھے کہ انجمن میں آکر کچھ پڑھیں یا بحث میں حصہ لیں وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے نتیجے میں انجمن محدود ہوگئی اس کے بعد لوگوں پر خوف طاری ہوگیا انہیں یہ خوف بھی تھا کہ چھوٹی چھوٹی ملازمتیں ہیں‘ حکومت ہماری ملازمت ہی ختم نہ کر دے ہم ریڈیو پر نہیں جا سکتے تھے ۔ ہم ریڈیو پر بین کر دئیے گئے تھے ۔ آہستہ آہستہ تنظیم کا شیرازہ منتشر ہو تا چلا گیا ‘ مشرقی پاکستان میں بھی یہی حال تھا اور مغربی پاکستان میں بھی۔ ۱۹۵۴ء میں جب میں نے دیکھا کہ میری انجمن کی کوئی شاخ بھی اپنے کام میں سرگرم نہیں ہے تو میں نے استعفیٰ دے دیا ‘ میں نے استعفیٰ میں واضح طور پر یہ لکھا جو اخبارات میں بھی چھپا ’’ میں انجمن کو ختم نہیں کر رہا میں انجمن کے سب سے بڑے عہدے سے مستعفیٰ ہو رہا ہوں کہ انجمن کی کوئی شاخ بھی کام نہیں کر رہی، اگر کوئی مجھ سے زیادہ سرگرم شخص اسے سنبھال لے تو میں ایک ادنیٰ ورکر کے طور پر اس کا ساتھ دوںگا وہ آکر اس تنظیم کو نئی زندگی دے ‘‘ لیکن افسوس کہ کوئی آگے نہیں آیا۔ اس زمانے میں کمیونسٹ پارٹی بھی بین ہوگئی‘ کمیونسٹ الگ ہوگئے اور سرکاری ملازمین الگ ہوگئے ‘ دو چار اکا دکا لوگ تھے ہم نے کوشش بہت کی یہاں لاہور میں جگہ جگہ اپنے ساتھیوں سے رابطے کیے ‘ جس طرح بلی اپنے بچوں کو اٹھائے پھرتی ہے‘ بالکل اسی طرح ہم انجمن کے جلسوں کے لیے لوگوں کو جمع کرتے تھے‘ سی آئی ڈی والے وہاں پہنچ جاتے تھے انہیں ڈراتے ‘ دھمکاتے ‘ہم دوسری جگہ چلے جاتے تھے ‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال یہ تنظیم آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی ۔ ‘‘٭۱۴


ایک اور انٹرویو میں وہ انجمن کے خاتمے کے اسباب کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں ۔
’’ انجمن ترقی پسند مصنفین کو ختم کرنے والے ایک سے زیادہ عناصر ہیں ۔سب سے پہلے خود بعض ترقی پسندوں کی انتہا پسندی ہے جس نے تنظیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ‘ یہ بیشتر کمیونسٹ حضرات تھے ۔ دوسرا کردار نوابزادہ لیاقت علی خان کی حکومت نے ادا کیا ‘ اعلان ہوا کہ انجمن ترقی پسند مصنفین دراصل ایک سیاسی جماعت ہے اس لیے حکومت سے متعلق لوگ اس انجمن کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے گریز کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر مستزاد ستم یہ ہوا کہ مارچ ۱۹۵۱ء میں راولپنڈی سازش کیس کا آغاز ہوا فیض احمد فیض پہلے ہی ہلے میں گرفتار ہوگئے ( اور ان کے ترقی پسند ہونے کی بنا پر تحریک کی شہرت کو خاصانقصان پہنچا ’م ‘ ع )۱۹۵۱ء میں حکومت نے بائیں بازو کے سب اہل قلم پر چھاپہ مارا اور لاہور ‘کراچی ‘ پشاور ‘ ڈھاکہ ‘ چٹا گانگ ‘ اور سید پور وغیرہ کے نمایاں اہل قلم کوجیل میں نظر بند کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔ تنظیم کی حالت دگر گوں ہونے لگی ۔‘‘٭۱۵


اس طرح ندیم واضح کرتے ہیں کہ تحریک پر کوئی خاص پابندی نہیں لگائی گئی تھی بلکہ انجمن کے کمیونسٹ ارکان کی انتہا پسندی ‘ حکومت کا انجمن کو سیاسی جماعت قرار دے دینا ‘ راولپنڈی سازش کیس اور ترقی پسند اہل قلم کی نظر بندی جیسے اسباب نے تحریک کے خاتمے کا کام کیا ۔ تحریک کے خاتمے پر اکثر ترقی پسند اہل علم مایوسی اور تشکیک کا شکار ہوگئے ‘ مگر ندیم نے رجائیت سے اپنا ناتا نہ توڑا اور ترقی پسندی سے تائب ہونے کو کسی صورت تیار نہ ہوئے ۔ انہوں نے نہ تو حکومت سے کوئی انعام یا ملازمت حاصل کی نہ سیاسی جبر کے سامنے سر جھکا یا اور نہ ہی دیگر ترقی پسندوں کی طرح مارشل لا حکومت سے کوئی سمجھوتہ کیا ‘ اس سلسلے میں انہیں کافی عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ اپنے عقائد پر ڈٹے رہے ۔ گو کہ ۱۹۷۴ء میں انہوں نے مجلسِ ترقی ادب کی صدارت سنبھال لی مگر اس وقت ہم اسے سمجھوتہ نہیں کہہ سکتے بلکہ اپنے علمی وا دبی مقام و مرتبے کے لحاظ سے وہ اس عہدے کے حق دار تھے۔


’’ اس ملک میں نام نہاد ترقی پسند اعلیٰ سرکاری عہدوں یا بڑے بڑے مشاہرہ والی پرائیویٹ نوکریوں پر فائزہیں لیکن ان کے حصے کی ساری لعن طعن ندیم کو سہنی پڑ رہی ہے جو دن رات اپنے بچوں کے لیے سرگاڑی ‘پیر پہیہ کیے قلم کی مشقت کر رہے ہیں ۔ احمد ندیم قاسمی نے زندگی بھر انسان دوستی ‘حب وطن او رمعاشرتی انصاف کا پر چار کیا ہے او راخباری کالم لکھ لکھ کر گزارہ کر تے ہیں جبکہ انقلاب کے نام لیوا ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے آرٹ او رلٹریچر کے غم میں ٹرینکو لائنررکھا رہے ہیں ۔ملک میں جو حکومتیں قائم ہوئیں ۔ ان کی استحصال پسندی شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔ ندیم نے ہر دور میں حق انصاف کے لیے آوازبلند کی ۔ان پر حرص و طمع کے بو قلموں جال پھینکے گئے لیکن وہ ہر آزمائش سے سرخ رو ہو کر نکلے ۔ ‘‘ ٭۱۶


تحریک اور اس کے مقاصد کے ساتھ اسی لگاؤ کی بنا پر ندیم نے اپنی زندگی کے آخرتک ترقی پسند تحریک اور اس کے نظریات کا دفاع کیا او ر جہاں کسی نے تحریک کو غلط الفاظ میں یاد کرنے کی کوشش کی ،انہوں نے پوری دلجمعی سے اس کا جواب دیا ‘ فتح محمد ملک اسی بابت لکھتے ہیں:
’’ ندیم کا کارنامہ ء فن ترقی پسند نظریہ ادب سے اٹوٹ وابستگی سے عبارت ہے۔ قیام پاکستان سے لے کراب تک جب بھی اور جہاںکہیں بھی ترقی پسند نظریۂ ادب پر حملہ ہوا ۔ندیم نے بڑھ کر اس حملے کو روکا ‘ ترقی پسند تحریک کے منتشر ہو جانے کے بعد تو ندیم وہ واحد ہستی ہیںجنہوں نے بے مثال ثابت قدمی سے اس نظریہء ادب کا دفاع اور تفسیر کی ہے ۔ ‘‘ ٭۱۷


ندیم کی ترقی پسند تحریک سے یہی کمٹ منٹ تھی جس کی بنا پر وہ عمر بھر اپنے نظریات سے دستبردار نہ ہوئے ‘ ندیم کی ترقی پسند تحریک کے متعلق خدمات اور عمر بھر اس سے وابستگی ندیم کے خلوص کا اظہار ہے ۔ یہاں ریاض صدیقی صاحب کی رائے غلط ثابت ہوجاتی ہے جس کا حوالہ ڈاکٹرانورسدید نے ریاض صدیقی صاحب کے وفات نامہ میںدیا ہے کہ ’’ قاسمی صاحب کو شہرت ترقی پسند تحریک نے دی تھی وہ اس تحریک میں شامل نہ ہوتے تو اپنے فن کا پروپیگنڈہ وسیع پیمانے پر نہ کرسکتے۔‘‘ ٭۱۸ اور یہ بات توواضح ہے کہ ندیم اس قدر ترقی پسند مشہور نہیں جتنے فنکار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ فنکار پہلے تھے او رترقی پسند بعد میں ۔۔ انہوںنے ہمیشہ صداقت کو اپنے پیش نظر رکھا اور صداقت کی یہی تلاش ہی انہیں ترقی پسند تحریک کی طرف لے گئی ورنہ جس وقت وہ تحریک میں شامل ہوئے ، اس وقت ان کا ادبی قد اس قدر بلند ہو چکا تھا کہ انہیں کسی تحریک کے سہارے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ قمر رئیس لکھتے ہیں:
’’ ندیم ترقی پسند تحریک کے ایک سرگرم او رممتازرکن رہے ۔ لیکن مجھے اکثر محسوس ہوا کہ وہ اتنا بڑا ترقی پسندنہیں ‘ جتنا بڑا فنکار ہے ‘ اگرچہ مجھے شک ہے کہ ترقی پسندی سے وابستگی بھی پریم چند کی طرح ان کی اپنی دریافت ہے ۔‘‘٭۱۹


تحریک سے ندیم کے لگاؤ کے بارے میں مندرجہ بالا تمام بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ ندیم فطری طور پر ایک ایسے رحجان کے مالک تھے جو ۱۹۳۰ء کے بعد کے روشن خیال نوجوان ادباء کا طرۂ امتیازہے اور جو بعد میں ترقی پسند تحریک کے منشور کا بنیادی حصہ قرار پایا ۔ ندیم اپنے طبعی رجحان کی بنا پر تحریک کی طرف مائل ہوئے اور عمر بھر اسکے نظریات کے ساتھ وابستگی رکھی جو درحقیقت ان کے اپنے نظریات تھے یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریک میں شامل ہونے سے ا نہیں کوئی فائدہ پہنچایا نہیں تحریک ضرور فائدے میں رہی کہ اسے ندیم جیسا باشعور ادیب اور سرگرم رکن میسر آگیا تھا ۔
٭٭٭

حوالہ جات

۱ سردار جعفری ’’ترقی پسند ادب ‘‘ (جلد اول)ا نجمن ترقی اردو ( ہند )، علی گڑھ ‘ ۱۹۵۱ء ،ص :۱۹۳
۲ شہزاد منظر، ’’ ندیم اور ترقی پسند تحریک ‘‘،مشمولہ ’’ افکار ‘‘، ماہنامہ ،کراچی، ندیم نمبر، ص : ۴۵۹
۳ سحر انصاری ،’’ دشت وفا کا سفر ‘‘ ،مشمولہ ’’ افکار ‘‘ ،ماہنامہ، کراچی ’ ندیم نمبر، ص :۳۹۶
۴ ا حمد ندیم قاسمی ’’ در ودیوار‘‘، ص : ۱۱۱،۱۱۰
۵ احمد ندیم قاسمی ‘ عبادت بریلوی کے نام ایک خط ‘ مرقومہ ۱۹۴۵ء ،مشمولہ’’ افکار‘‘ ،ماہنامہ، کراچی ’ ندیم نمبر، ص : ۹۲۳
۶ مصاحبہ ‘ بہ عنوان،’’احمد ندیم قاسمی کے منفرد خیالات ( انٹرویو )‘‘، از اصغر عبداللہ، مشمولہ ’’ مونتاج ‘‘ ،سہ ماہی، لاہور ، ندیم نمبر، ص :۶۱۶
۷ ’’ افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی سے ایک انٹرویو ‘‘از قرۃ العین طاہرہ ‘ ملکیہ ‘ ڈاکٹر ناہید قاسمی،ص : ۳
۸ مصاحبہ ‘ بہ عنوان ’’ مکالمہ ‘‘، احمد ندیم قاسمی سے مسرور احمد زئی کا انٹرویو ‘ مشمولہ ’’ عبارت‘‘،سہ ماہی ،حیدر آباد ’ ندیم نمبر، ص : ۵۴
۹ احمد ندیم قاسمی، ’’ میرے ہم سفر ‘‘ ،اساطیر ، لاہور، ۲۰۰۲ ء ، ص : ۷۹
۱۰ حمید احمد خان خط بنام مدیر ’’افکار ’’،مشمولہ’’ افکار‘‘، ماہنامہ، کراچی ’ ندیم نمبر، ص : ۳۷
۱۱ احمد ندیم قاسمی، ’’ پس الفاظ ‘‘، اساطیر ‘ لاہور، س ‘ ن ، ص: ۱۶۰
۱۲ فتح ملک محمد’’ اردو افسانہ نگاری میں ندیم کا مقام ‘‘ مشمولہ ’’ ادبیات ‘‘، سہ ماہی، اسلام آباد ‘ ندیم نمبر، جلد: ۱۷، شمارہ ۷۳،
اکتوبر / دسمبر، ۲۰۰۶، ص : ۲۹، ۲۸
۱۳ مصاحبہ ‘ بہ عنوان ’’ مکالمہ ‘‘،مسرور احمد زئی ، مشمولہ ’’ عبارت‘‘، سہ ماہی، حیدر آباد ’ ندیم نمبر، ص : ۵۰
۱۴ محولہ بالا ‘ ص: ۵۱
۱۵ مصاحبہ ‘ بہ عنوان،’’ احمد ندیم قاسمی کے منفرد خیالات ( انٹرویو ) ‘‘،از اصغر عبداللہ، مشمولہ ’’ مونتاج ‘‘ ،سہ ماہی، لاہور ، ندیم نمبر، ص:۶۳۰
۱۶ امجد اسلام امجد،’’احمد ندیم قاسمی کی نظمیں ‘‘ مشمولہ’’ افکار‘‘، ماہنامہ ،کراچی ’ ندیم نمبر ، ص :۳۶
۱۷ فتح محمد ملک ’’ احمد ندیم قاسمی : شاعر اور افسانہ نگار ‘‘ ، ص :۳۶
۱۸ ڈاکٹر انور سدید ‘ ریاض صدیقی کا وفات نامہ مشمولہ ’’ فرائیڈے اسپیشل‘‘، ۱۹ جنوری ،۲۰۰۷ء ،ہفتہ وار ،کراچی، ص : ۳۹
۱۹ قمر رئیس ’’ افسانہ نگار ندیم ‘‘ مشمولہ ’’ افکار ‘‘ ماہنامہ کراچی، ندیم نمبر، ص :۳۶۵

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں