علی عمران کی منتخب غزلیں

Read Urdu Poetry on the topic of Ali Imran ki gazal. You can read famous Urdu Poems, Gazal, and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

علی عمران کی منتخب غزلیں
علی عمران کی منتخب غزلیں

شاعر : علی عمران

اصل نام : سید علی عمران کاظمی
قلمی نام : علی عمران
سال پیدائش 1979
جائے پیدائش : بیول (ضلع راولپنڈی) پاکستان
تعلیم : کچھ خاص نہیں
آج کل انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں مقیم ٹیکسی ڈرائیور ہیں
جولائی 2021 میں پہلا شعری مجموعہ روداد شائع ہوا ہے

غزل


کیوں نظر ہے جناب شیشے پر
ُبن رہے ہو نا خواب شیشے پر
جانے کیسے وہ بن گئے پتھر
جو رکھے تھے گلاب شیشے پر
جرم سارا تو پتھروں نے کیا
اور ٹوٹا عذاب شیشے پر
ہو اجازت تو بات پلکوں سے
نقش کر دوں جناب شیشے پر
زیر لب مسکرا کے وہ بولے
لکھ دیا ہے جواب شیشے پر
کوئی روکے تو اس قیامت کو
سج رہا ہے شباب شیشے پر
میں نے ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے
غم کا سارا حساب شیشے پر
کرچیوں نے گواہی دے دی ہے
ہے مرا انتخاب شیشے پر
اتنا ُگھورا ہے آئینے کو علی
چھا گیا اضطراب شیشے پر

غزل


مجھے وہیں پہ اتارو میں جس زمیں سے ہوں
یہ مشت خاک پکارے کہ ہاں یہیں سے ہوں
ذرا بھی یاد نہیں ہے وہ عالم ارواح
مجھے بتایا گیا تھا کہ میں وہیں سے ہوں
یہ اضطراب تذبذب یہ وسوسے خدشے
میں ان سے دور رہا ہوں سو اب یقیں سے ہوں
مجھے بھی ایسا کوئی گر سکھا دے اے جوگی
کہ سانپ خود ہی بتائے کس آستیں سے ہوں
یہی تو فرق ہے مسند میں اور مقتل میں
وہاں میں ہاں سے تھا زندہ یہاں نہیں سے ہوں
یہ معرفت کا زمانہ نہیں رہا ورنہ
تمہیں میں سچ یہ بتاتا کہ عارفیں سے ہوں
کوئی تو ہوگا جہاں میں جو کہہ سکے عمران
میں آخری ہوں زمانے میں اولیں سے ہوں

غزل


خوابوں کی تعبیر کمائی جا سکتی ہے
پھر اس سے تقدیر بنائی جا سکتی ہے
خوشبو کی آوازیں دیکھی جا سکتی ہیں
جذبوں کی تصویر سنائی جا سکتی ہے
اس نے زلفوں کو لہرا کر یہ سمجھایا
ایسے بھی شمشیر چلائی جا سکتی ہے
ایک اشارے پر حرکت میں آسکتا ہوں
قیدی ہوں زنجیر ہلائی جاسکتی ہے
آج کسی بھی وقت مجھے دربار بلا کر
الفت کی تعزیر سنائی جا سکتی ہے
دل دھڑکن میں ڈھل جائے آواز خرد کی
تو اس کی تاثیر بڑھائی جا سکتی ہے
صحرا اپنے خون سے سینچے جاسکتے ہیں
اور اس پر جاگیر بسائی جا سکتی ہے
خاک سے بھی عمران شفائیں مل سکتی ہیں
مٹی بھی اکسیر بنائی جا سکتی ہے

غزل


یہ قطاروں میں جو اشجار نظر آتے ہیں
دھوپ سے برسر پیکار نظر آتے ہیں
ایسے حالات کی وحشت نے ہیں آنکھیں کھولیں
اب تو سوتے ہوے بیدار نظر آ تے ہیں
آپ سے کیسے ہوئی ہے یہ خطا الفت کی
اچھے خاصے ہیں سمجھدار نظر آتے ہیں
آستینوں میں چھپا رکھے ہیں خنجر سب نے
گو بظاہر یہ مرے یار نظر آتے ہیں
وقت نے ڈوریاں کھینچی ہیں بڑی شدت سے
اب اجڑ جانے کے آثار نظر آتے ہیں
یوں تو عمران ! بہت چاہنے والے ہیں مگر
وقت پڑتا ہے تو دو چار نظر آتے ہیں

غزل


ابھی خیال میں وہ پختگی نہیں آئی
غزل تو کہہ لی مگر شاعری نہیں آئی
ہزار عیب گنے تو نے ایک ساعت میں
تری نظر میں مری سادگی نہیں آئی
مرے عزیزو مرا حال پوچھنے والو
بس اتنا سن لو کوئی بہتری نہیں آئی
کچھ اس طرح سے مرے موسموں پہ سایہ ہے
بہار آ بھی چکی ، تازگی نہیں آئی
عجیب دور ہے سورج نکل تو آیا ہے
تپش بھی آگئی پر روشنی نہیں آئی
ابھی سے موت نے پہرے لگا لئیے عمران
مری گلی میں ابھی زندگی نہیں آئی
ملے ہیں مجھ کو بہت چارہ گر علی لیکن
زرا بھی درد میں میرے کمی نہیں آئی

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں