علی سردار جعفری کے افسانوں کا تحقیقی مطالعہ اور تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر کہکشاں عرفان

, علی سردار جعفری کے افسانوں کا تحقیقی مطالعہ اور تنقیدی جائزہ

سردار جعفری کسی ایک شخصیت کا نام نہیں ہے کیونکہ جب ہم ان کی حیات اور شخصیت کے ساتھ ان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اردو ادب کے افق پر دور دور تک ان کی تخلیقات ان کے کارنامے کہیں مرثیوں کی شکل میں ایک سنجیدہ شعور بخشتے ہیں تو کہیں نظم کہہ کر حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ کبھی ان کی افسانہ نگاری دل اور ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کرتی ہے تو کہیں ڈراما نگاری ، صحافت ، تنقید اور تقاریر کے جادو لوگوں کو گرویدہ بنا لیتے ہیں، اس لیے یہ کہنا قطعی غلط نہ ہوگا کہ علی سردار جعفری کی شخصیت ایک ایسی انجمن ہے جس میں علم و آگہی کی رنگ برنگی شمعیں روشن ہیں۔
یوں تو سردار جعفری نے افسانہ نگاری اسکول کے زمانے سے ہی شروع کردی تھی۔ جیسا کہ ان کی بہنوں کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے۔ ’آتشیں قمیص‘ ، ’لالہ صحرائی‘، ’ہجوم تنہائی‘ اور ’تین پائوگندھا آٹا ‘ اُن کے ابتدائی افسانے ہیں لیکن صد افسوس کہ یہ افسانے تحریری طور پر کہیں دستیاب نہیں ہیں۔ ان افسانوں کے متعلق اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ ان کی بہنوں کو یہ افسانے بہت پسند آئے تھے کیونکہ ان کا کردار راشد الخیری کی روتی، سسکتی، کمزور، بزدل ہیروئین کی طرح نہیں تھا بکہ حوصلہ مند، بہادر ، نڈر اوراپنا حق وصول کرنے والا تھا۔ سردار جعفری نے ایسے افسانوں میں زیادہ تر مرکزی کردار کی شکل میں عورت کو پیش کیا ہے۔ ان کے کرداروں میں سردار کی سی بے خوفی و حوصلہ مندی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ شاید اس لیے کہ جب ان کی نظریں بلرام پور کی کوٹھی سے باہر نکلیں تو انھوں نے عورتوں پر ظلم ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ کام کابے جا بوجھ اس ناتواں اور نازک صنف پرلادا جاتا تھا اورپھر بھی ان کا پیٹ بھر جائے اتنی مزدوری نہیں ملتی تھی۔ ہاں لالۂ صحرائی کے کرداروں میں ہیروجاوید ایک شہری لڑکا ہے اور ہیروئن ایک دیہات کی خوبصورت دوشیزہ جس کی خوبصورتی کی وجہ سے ہیرو اس کا نام لالۂ صحرائی رکھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ استعارہ اور تشبیہہ سردار جعفری نے اقبال کو پڑھ کر حاصل کیا ہے۔ کیونکہ ستارہ جعفری لکھتی ہیں :


’’بڑے بھائی جان کو اُن کی زبانی اقبال کی یہ نظم سننے میں بہت لطف آتا تھا :
اٹھائے کچھ ورق لالہ نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
بھائی جان بار باراصرار کر کے یہ پڑھواتے۔ ‘‘
( افکار جعفری نمبر، کراچی، ستارہ جعفری سردار بھائی۔ ص۔ ۲۰۵)
اس لیے ایسا لگتا ہے کہ لالۂ صحرائی اقبال کی نظموں سے ان کے افسانوں میں اتر آیا ۔ ستارہ جعفری مزید لکھتی ہیں :۔
’’ اب تو ہمیںسردار بھائی کی لکھی ہوئی چیزوں کو پڑھنے کا چسکا لگ گیا۔ دوسرے تیسرے دن ان کی میز کی تلاشی لیتے۔ ایک روز دوسرا افسانہ ملا اس کا نام ’’لالہ ٔ صحرائی‘‘ تھا۔ اس کا کچھ حصّہ میرے حافظہ میں ابھی تک محفوظ ہے۔ کہانی یہ تھی۔ جاوید ایک شہری لڑکا ہے۔ وہ شکار کھیلنے جنگل میں جاتا ہے۔ وہاں ایک بہت خوبصورت دیہاتی لڑکی کو دیکھتا ہے اور اس کا نام ’لالہ ٔ صحرائی ‘ رکھ دیتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ لیکن سماجی بندشیں درمیان میں حائل ہوجاتی ہیں۔ مگر یہ ان کو توڑ دیتے ہیں۔ یہ افسانہ ہمارے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ ابھی تک تو راشدالخیری کی روتی پیٹتی عورتیں دیکھی تھیں یا اختر النساء جیسی لڑکی جس کو سن کر سارا گھر روتا تھا۔ اور اس کی مظلومیت کی داد دی جاتی تھی۔ لالۂ صحرائی کو ہم بہنوں نے کئی مرتبہ پڑھا اور ہر بار ایک نیا لطف آیا ۔ تیسرا افسانہ ’’ہجوم تنہائی ‘‘ تھا۔ اس میں بھی عورت نے ہمت اور جرأت دکھائی تھی۔ افسانوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے نظمیں لکھنی بھی شروع کردیں۔ ایک کا کچھ حصہ یاد ہے :
نکال دوں تمہیں اس طرح دل کے گوشے سے
کہ جیسے کھلتا ہوا پھول توڑ دے کوئی
میری حسین ثریا یہ ہو نہیں سکتا ‘‘
( افکار جعفری نمبر، کراچی ، ستارہ جعفری سردار بھائی، ص۔ ۲۰۵)


لیکن ان کے ادبی سفر کا آغاز ان کے تین نوسیکھئے افسانوں سے نہیں بلکہ علی گڑھ سے دہلی اور دہلی سے لکھنؤ آنے کے بعد ۱۹۳۶ء؁ اور ۱۹۳۷ء؁ میں شروع ہوا اور ۱۹۳۸ء؁ میں جب ترقی پسند تحریک کا ایک اجلاس ہو چکا تھا دوسرا اجلاس ۱۹۳۸ء؁ میں کلکتہ میں ہوا۔ جس میں ڈاکٹر ملک راج آنند اور سجاد ظہیر کے ساتھ یہ نوجوان خطیب و ادیب بھی شامل تھا جو ایک باکمال صحافی بھی تھا ۔ سردار کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’منزل ‘‘حلقۂ اردو ادب کے رسالے نیا ادب کے ادارے سے ۱۹۳۸ء؁ میں شائع ہوکر منظرِ عام پر آیا۔ جس طرح اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کا کوئی تذکرہ علی سردار جعفری کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اسی طرح ان کی ابتدائی نثری تخلیقات اور ان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیے بغیر سردار جعفری کو ’’بحیثیت نثر نگار‘‘ واضح کرپانا مشکل ہے۔


’منزل ‘ سردار جعفری کا مختصر سا مجموعہ ہے جو پانچ افسانوں اور ایک ڈرامے پر مشتمل ہے۔ جن کی کل تعداد پانچ ہے ایک ڈرامائی افسانہ ہے جس کا ذکر ہم ڈراموں کے جائزے میں کریں گے۔ یہاں ’منزل‘ کے پانچ افسانوں کا جائزہ لیا جائے گا جو ان کا ابتدائی نثری کارنامہ بھی ہے اور ان کی ادبی زندگی کا آغاز بھی۔ سردار جعفری اپنے مجموعہ ’منزل‘ کے پیش لفظ میں خود رقم طراز ہیں :
’’ یہ میرے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے ان میں آپ کو کہیں کہیں اس ذہنی انتشار کی جھلک ملے گی جو درمیانی طبقہ کا ورثہ ہے اور عموماً عمل کے میدان سے گریز کرکے تخیل کی دنیا میں پناہ لیتا ہے۔ اس میں مجھ سے زیادہ میری تربیت کا قصور ہے جس زندگی سے بھاگنا چاہتا ہوں وہ میرا تعاقب کررہی ہے۔ ‘‘
( منزل ازسردار جعفری۔ ص۔۵)


اس اقتباس میں سردار جعفری نے خود کہا ہے کہ یہ ان کے افسانوںکا پہلا مجموعہ ہے اور ان کے اس ذہنی کشمکش اور انتشار کا نتیجہ ہے جو وہ سوچتے تھے کہ ’’ یہ دنیا ایسی کیوں ہے؟ لوگ اتنے ظالم کیوں ہیں؟ یہاں پر ظلم و استبداد کیوں ہے؟ اور شاید پیڑوں سے لٹکی ہوئی عورتوں بھوک سے بلبلاتے بچوں اور ظلم سہنے والوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ تھا، بغاوت کرنے والوں سے جو حمایت کا جذبہ تھا اسے انہوں نے قلم بند کر دیا۔ ان کے احساسات صفحات پر بکھرے پڑے ہیں جس سے ان کے حساس دل، انقلابی ذہن اور کچھ کرنے کے جذبات کا پتہ چلتا ہے۔


’منزل‘ اس مجموعہ کا عنوان بھی ہے اور ’منزل‘ نام کا ایک افسانہ بھی اس میں شامل ہے۔ ’منزل‘ کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادیب کسی خاص منزل کی تلاش میں ہے اور ایک بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح کسی محفوظ پناہ کے سائے میں منزل کو پانا چاہتا ہے اور وہ اپنی منزل امراء کی کوٹھیوں میں نہیں بادشاہوں کے درباروں میں نہیں بلکہ ہندوستان کے اس طبقے میں تلاش کررہا ہے جہاں سے اصل ہندوستان جنم لیتا ہے۔ جہاں ہندوستانی سماج میں شرمناک ، دردناک اور خوفناک واقعات اور حادثات رونماہوتے ہیں ۔ جہاں مسائل سانپ کے پھن کی طرح ہر وقت کھڑے رہتے ہیں ، جہاں بھوک اور افلاس جیسی ناگن عزت، حرمت اور پیار تک کے جذبے کو ڈس لیتی ہے۔یہ جاگیرداری نظام سے پیدا ہونے والے شرمناک فعل ادیب کو قلم اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ جبکہ وہ خود ایک جاگیردار گھر کے چشم و چراغ ہیں مگر سچائی تو بہر حال سچائی ہے۔ ہر گھر انہ ان کی طرح عزت دار اور ناموس کا محافظ نہیں تھا۔ سردار جعفری لکھتے ہیں :


’’ یہ افسانہ ہندوستان کی اس تحریک کی پیداوار ہیں جس نے زندگی کا تصور بدل دیا ہے۔ اس لیے ان میں تلخی کا احساس باعثِ تعجب نہیں جو درمیانی طبقہ کی ’طبع نازک‘ پر گراں گزارے گی۔ مگر اس کو کیا کیا جائے کہ ہمارا موجودہ نظامِ زندگی کچھ ایسا ہی ہے ۔۔۔۔۔۔
کتاب کے نام کے متعلق مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ یہ اس لیے نہیں رکھا گیا ہے کہ اس مجموعہ میں اس نام کا ایک افسانہ شامل ہے بلکہ اس لیے کہ ہم ایک انقلابی دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے پیشِ نظر ایک ایسی دنیا ہے جو موجودہ دنیا سے بہت مختلف ہے۔ ہمیں وہاں تک پہنچنا ہے۔ ہر وہ چیز جو ہمارے راستے میں حائل ہے اس کو روند کر وہاں تک پہنچنا ہے۔ ہم ’اندھیری رات کے مسافر‘ ہیں جو مخالفتوں کی تاریکی میں جوشِ عمل کی شمع لیے ہوئے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ بقول مجاز ؔ ؎


زمیں چیں برجبیں ہے آسماں تخریب پر مائل
رفیقانِ سفر میں کوئی بسمل ہے کوئی گھائل
تعاقب میں لٹیرے ہیں چٹانیں راہ میں حائل
مگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
( منزل ، ازسردار جعفری۔ ص۔ ۵۔۶)


سردار جعفری کے افسانوں کا ہر عنوان نہ تو آتشیں قمیص، لالۂ صحرائی اور ہجوم و تنہائی جیسا خوبصورت اور رومانی ہے نہ ہی مسرت اور لُطف دینے والا ہے بلکہ یہ موضوعات اپنے آپ میں تلخ سچائیاں ہیں۔ ان کے کردار اسی زمین پر رہنے والے ، ان کے پلاٹ اسی زمین پر ہونے والے اور اسی دنیا کی ضرورتوں کی عبارت عیاں ہیں۔ ’منزل‘ ایک مقصد ہے، ایک سفر ہے جہاں ادیب جانا چاہتا ہے۔ جہاں کی دنیا میں یہاں کی طرح ظلم نہ ہو ، جہاں عورتیں زندہ نہ جلائی جائیں ، جہاں ان کی آبرو سرِ عام نیلام نہ ہو۔ ’بارہ آنے‘ یہ موضوع ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بغیر دنیا کا کوئی نظام نہیں چلتا حالانکہ اس پیسے کی مقدار بڑی کم ہے مگر یہ اتنی بڑی حقیقت ہے کہ اپنی قیمت کبھی کبھی کئی گنا زیادہ وصول کر لیتی ہے۔ ’بارہ آنا‘ عزت خرید بھی لیتا ہے اور بیچ بھی دیتا ہے۔ ’پاپ‘ یہ وہ موضوع ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے پاپ ہوتا آرہا ہے۔ چاہے وہ قتل کرنے کا پاپ ہو، نافرمانی یا ہٹ دھرمی کا پاپ ہو، کفر اور شرک کا پاپ ہو یا پھر آج کے سماج میں زنا، عصمت فروشی، بے حیائی اور فحاشی جیسا پاپ ہو کیونکہ یہ انسان گناہ کا پتلا ہے اور یہ دنیا انسانوں سے قائم ہے۔ یہ سماج انسانوں کاہی ہے ۔ پاپ سبھی کرتے ہیں۔ہاں بڑے لوگوں کے پاپ بھی بڑے اور ان کی طرح سفید پوش ہوتے ہیں اور چھوٹے لوگوں کے پاپ ان کی طرح کمزور بے بس اور لاچار ہوتے ہیں۔ ’مسجد کے زیرِ سایہ‘ یہ موضوع بھی مقصدیت اور حقیقت نگاری کا ایک استعارہ ہے یا یہ کہیں کہ ایک طمانچہ ہے ان مذہبی ڈھونگیوں ، نام نہاد مولویوں اور پنڈتوں کے کالے کرتوتوں اور بے ضمیرانسانوںپر۔ ’آدم زاد‘ یہ موضوع اپنے آپ میں اتنی بڑی حقیقت ہے کہ دنیائے ادب تو کیا کوئی بھی اس سے نظریں چرا ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ آدم زاد جس سے دنیا کا وجود ہے جو اسی زمین پر رہتا ہے اور جس کے دم سے ہی یہ گناہ، یہ ثواب ، یہ امیری یہ غریبی ، یہ زنا یہ فحاشی یہ چوری، ڈکیتی ، بھوک مری، فسادات اور جنگیں سب کچھ اسی کے طفیل ہیں، یہ نہ ہوں تو دنیا میں کیا ہوتا شاید کچھ بھی نہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سردار جعفری نے ہر الگ الگ موضوع پر گہری نظر ڈالی ہے اور اسے سماج کے ہرگوشۂ حیات سے چن کر لائے ہیں ۔ یہ بڑے حسّاس اور نفسیاتی موضوع بھی ہیں جن کے پیچھے کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی جرم کوئی احساس، کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے اور جو برہنہ حقیقت ہیں ۔ جن سے نظریں چرانا بڑا مشکل ہے۔ مشکلات اور تفکر سے لبریز ہر موضوع سماجی مسائل کا آئینہ ہے۔


ان افسانوں میں سردا ر جعفری نے سماج کے مزدور، کمزور اور کمتر لوگوں کی اُس بے حِسی اور بے ضمیری کو پیش کیا ہے جہاں بھوک کی آگ اپنے بچے کی بھوک کو بھلا دیتی ہے۔ شرافت کہیں دور کونوں کھدروں میں منھ چھپا لیتی ہے۔ احساسات بھوک اور افلاس کی اندھیری کوٹھری میں سوجاتے ہیں۔ ماں سے بچے کا وہ پیار چھن جاتا ہے اور بے کسی اور لاچاری انہیں چوری ، رہزنی ، فحاشی ، بے حیائی، عصمت فروشی اور بھیک مانگنے پر مجبور کردیتی ہے۔ یہ سماج میں پھیلی ہوئی زہریلی باتیں سردار جعفری کو پریشان کیا کرتی تھیں۔ و ہ سوچتے تھے یہ دنیا ایسی کیوں ہے؟ یہاں کا نظام ایسا کیوں ہے ؟ کوئی اتنا امیر کیوں ہے؟ کوئی اتنا غریب کیوں ہے؟ کوئی اتنا ظالم اور طاقتور کیوں ہے ؟ سردار جعفری اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں :


’’ایک افسانے کو چھوڑ کر باقی تمام افسانوں کے کردار اسی طبقہ سے لیے گئے ہیں جو زندگی کی راحتوں سے محروم ہیں۔ ان میں دہقان کے لہو کی حرارت مزدور کی آنکھوں کی تھکن ، مفلس کے چہرے کی اداسی اور زندگی کے ہونٹوں کا زہریلا تبسم ہے۔ یہ چیزیں اگر آپ کو گوارا ہیں تو منھ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر بار خاطر نہیں تو پھر آپ اس نظام کو ختم کیوں نہیں کردیتے جس میں یہ قابلِ نفرت چیزیں پل رہی ہیں۔ ‘‘
( ’منزل‘ علی سردار جعفری ، پیش لفظ، ص۔۵)


اس لیے اب میرے لیے یہ کہنا زیادہ آسان ہے کہ افسانوں کے کردار نہ تو پرستان کی پریاں ہیں اور نہ جنت کی حوریں ، نہ اندرلوک کے دیوتا ہیں بلکہ اسی سماج کے دبے کچلے ، غریب لوگ ، مزدور، کسان ، رکشہ والے، تانگے والے، خوانچے والے ہیں جن کو بھوک، افلاس اور ظلم سہنے کی ایک قوت وراثت میں ملا کرتی ہے۔ جہاں مسائل کے انبار سے گھرے لوگ چوری، چکاری، رہزنی اور فحاشی پر مجبور ہوتے ہیں ۔ دولت کی آسائش اور علم کی روشنی سے محروم یہ طبقہ ذہنی و جسمانی سکون اور نفس پروری کے لیے تاڑی خانے ، جو ا خانے اور بدبو دار شراب خانوں میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ تو کہیں اپنی محرومی اور بے سکونی کا بدلہ اپنے ہی جیسے کسی انسان سے لیتا ہے۔ گالی گلوج ان کا کام ہوتا ہے تاڑی اورکچی شراب ان کی خوراک اور نشہ ان کی زندگی کا پر سکون لمحہ ہوتا ہے۔ جہاں تھوڑی دیر کے لئے روٹی کپڑے اور مکان کے بنیادی مسائل بھول جاتے ہیں۔ کہیں ان کے کردار بہت مضبوط ہیں اور کہیں بڑے لاچار اوربے بس۔


’منزل‘ افسانہ میں فاطمہ کا کردار بہت مضبوط ہے۔ اس کا دل حب الوطنی کے جذبے سے لبریز اور انگریزی حکومت کے ظلم سے بیزار ہے۔ وہ ایک انقلابی ذہن رکھنے والی لڑکی ہے مگر وہ بڑے گھر کے بڑے اصولوں میں گھر کر اور اپنے لڑکی ہونے کی سزا پاکر اشفاق جیسے بے ضمیر اور کٹھ پتلی کی طرح انگریزوں کے غلام مرد سے اس کی شادی ہوجاتی ہے۔ جہاں اس کے گھر والوں کی ہی طرح اس کے شوہر کا ضمیر بھی سوگیا ہوتا ہے ۔ اس گھرمیں فاطمہ جیسی لڑکی وطن کی محبت میں تڑپتی ہے۔ ان کی بے ضمیری اور بے حسی پر کڑھتی ہے اور اِسی افسانے میں دلاری جیسی کنیز بھی ہے جو بھوک اور افلاس کی ماری فاطمہ کے بچے کی آیا اس کے سونے کے کنگن چرا لیتی ہے۔ جس میں مسجد کی مسماری کا فساد بھی ہوتا ہے۔ یعنی جب یہ افسانہ ۱۹۳۶ء؁ میں لکھا گیااور آج ۷۸ برس بعد بھی حکومت تو بدل گئی ہے مگر ان کی سیاست کا انداز نہیں بدلا۔ اب بھی مذہب کے نام پر بلوہ ہوتا ہے اور فرقہ پرستی کے زعم میں مسجدیں گرائی جاتی ہیں۔ اس افسانے میں ادیب نے زندگی کے وہ تلخ حقائق پیش کئے ہیں کہ جب ظلم ہوتا ہے تو کسی کو نہیں بخشتا حتیٰ کہ ظلم کی بیدی پر اشفاق جیسے بے ضمیر لوگ اپنے ہی بچے اور بیوی پر ظلم کرتے ہیں اور انہیں کرنا پڑتا ہے ۔ فاطمہ آخر کار انقلابی بن کر نکل پڑتی ہے اور جیل کی سزا کاٹتی ہے اور جب دلاری کہتی ہے کہ ’’میم صاحب آپ کو بھی صاحب نے نہیں بچایا‘‘ اور دونوں رونے لگتی ہیں۔ فاطمہ کہتی ہے ’’یہ ان کے اختیار سے باہر تھا۔‘‘ سب عورتوں نے یک زبان ہوکر کہا ’’ظلم تو حکومت کرتی ہے حاکم بے چارے کیا کریں ‘‘ فاطمہ جانتی ہے کہ یہ حاکم خود مجبور بنتے ہیں کیونکہ یہ زرپرست ہیں، یہ وطن فروش ہیں اس لیے یہ مظلوم نہیں بلکہ ظالموں کے ساتھ ہیں شاید اسی لیے تنک کر کہتی ہے :


’’پھر وہ حاکم بنتے ہی کیوں ہیں؟‘‘
لیکن ان کے دوسرے افسانے ’’بارہ آنے‘‘ میں جمنا کا کردار بڑا بے بس اور لاچار ہے اور رامی جو ایک عورت ہی ہے اسے عصمت فروشی پر مجبور کرتی ہے سچ تو یہ ہے کہ رامی نہیں بلکہ جمنا کے مسائل، اس کی ضرورتیں اور افلاس کی بے رحم دیوی اسے مجبور کردیتی ہے اپنا جسم صرف اور صرف بارہ آنے میں بیچنے کے لیے۔ اس کے افلاس اور مجبوری کی تصویر دیکھئے :
’’جب تک رامی واپس آئی جمنا اپنی حالت پر غور کرتی رہی۔باپ کی قرضے کے بوجھ سے جھکی ہوئی کمر، ماں کاا فکارِ غم سے جھریوں بھرا چہرہ، چھوٹے چھوٹے بہن بھائی۔ دیہات جہاںکوئی آمدنی کی صورت نہیں۔ شہر کا شور وغل، موٹر گاڑی اور ٹریم کی آمد و رفت ، اونچے اونچے محل جن کے دروازوں میں گھسنے کی اجازت نہیں۔ گندہ شراب خانہ، چھوٹی سی تاریک کوٹھری شراب میں مست گاہک، جذبات سے خالی اور پیسے کی امید سے بھری ہوئی جوانی، ایک ناتجربہ کار لڑکی کی جوانی۔
اس کی آنسوئوں سے بھری ہوئی آنکھیں چھلک پڑیں۔ ‘‘
( منزل، سردار جعفری، افسانہ بارہ آنے)


اور اس غریب کی مجبوری اور بے کسی کو تاڑی خانہ کے مالک کباڑیے نے بارہ آنے میں خرید لیا۔ کتنی مجبور ہے اس افسانے میں جمنا، صرف اس لیے کہ اس کے آگے باپ، ماں اور چھوٹے بھائی بہن اور مسائل کا ایک بھاری بوجھ اکیلے اس کے کندھے پر ہے۔ کیسے ان کو بھوکا سلادے۔ اپنی عصمت اور جوانی بیچنے پر مجبور ہوگئی۔ پاپ میں اندرا جیسی دوشیزہ خود اپنے والد کی ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے اور اپنے ہی جیسی ایک اور بدنصیب لڑکی کو جنم دیتی ہے جو رام پیاری ہے اور مندر کا پجاری پنڈت اندرا کا باپ اور شوہر دونوں ہے اندرا اپنے والد کے بعد پھر ایک امیر زادے اور حسن پرست نوجوان کے بے رحم اور بے باک جذبوں کا شکار بن جاتی ہے۔ لیکن ان امیرزادوں کے لیے پاپ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہوس پرستی کے لیے کوئی مذہبی اور اخلاقی قید نہیں ہوتی مگر عزت اور نام دینے کے لیے مذہب آڑے آجاتا ہے۔ اندرا نوجوان سے کہتی ہے :


’’ تم نے بڑا پاپ کیا ہے ‘‘ راوی لکھتا ہے۔ آج اس جملے کا مطلب دوسرا تھا۔ جو اس کے ذرد چہرے اور پھیکی آنکھوں سے صاف ظاہر ہورہا تھا۔ میں نے اس کے شوہر کی پناہ لینی چاہی اورپوچھا۔
’’تمہارا مرد کہاں ہے ؟‘‘اب تو تم ہی میرے پتی ہو۔ اس نے میرے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھ دیے۔ اس کی آنکھیں مجھ سے کہہ رہی تھی ’’دیکھو انکار مت کرو‘‘میں نے جلدی سے مذہب کی آڑ لی اور کہا’’ میں مسلمان ہوں‘‘ ،’’ میں اب برہمنی کب ہوں،‘‘ ’’ مگر ہمارا مذہب اجازت نہیں دیتا‘‘ اندرا کانپ اٹھی اور آنسو اور بھی تیزی کے ساتھ بہنے لگے ’’ تمھارا مذہب میری جان بچانے سے روکتا ہے اچھا ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا ۔ آنسووئوں سے بھیگی ہوئی آنکھوں سے مجھے ڈر معلوم ہو رہا تھا ۔‘‘
(منزل، علی سردار جعفری، افسانہ پاپ، ص ۷۵ )


اس افسانے میں ناموس و عزت کے محافظ رشتوں سے ہی آبروریزی اور اندرا کی بے کسی و بے بسی اور لاچاری کی بڑی در د ناک تصویرکشی ہے اور سماج کے رئیس زادوں اور امیر زادوں کے سوئے ہوئے ضمیر اور ان کی ادائوں کو بھی بڑے طنز یہ انداز میں پیش کیا ہے۔ جن کے پاپ کا کوئی مذہب نہیں ہو تا ۔ جن کی ہوس کی کوئی قید نہیں ہوتی۔
مسجد کے زیر ِ سایہ افسانے کا کردار بھی ایک بھکارن عورت ہے جو بھوک سے پریشان بچے کو لیے بھیک مانگ رہی ہے مگر اس سماج میں بھکاریوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ ہے کہ ایک دوسرے کو دھکے دے کر جو سبقت لے گیا وہی بھیک پا جاتا ہے۔ جو چھین لیتا ہے اسے ہی کچھ حاصل ہو تا ہے۔ جہاں مسجد کے سائے میں شرفاء اور سفید پوش لوگ کباب پراٹھوں کی لذت سے لطف اندوز ہو تے ہیں اور سامنے کھڑے بھوک اور افلاس سے بلبلاتے بچّوں کی آواز بھی انھیں سنائی نہیں دیتی۔ وہ سیاست پر بڑی روانی سے تبصرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
’’یہ کتے ہیں جوپیٹ کا سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘
’’مسلمان روٹی پرجان نہیں دے سکتا۔‘‘
’’گورمنٹ کو اس کا انتظام کرنا چاہئے۔‘‘
’’ اسمبلی میں اس کے متعلق قانون پاس کرنے کی ضرورت ہے۔ فقیر کیوں ہیں ڈاکو ہیں۔ جو بھیک مانگے اسے سزا ملنی چاہئے۔‘‘
( منزل ، علی سردار جعفری، افسانہ مسجد کے زیرِ سایہ،ص۔ ۸۶)


ہاں ان غریبوں کو سزا ملنی ہی چاہئے کیونکہ انھوں نے اس دنیا میں پیدا ہونے کا جرم کیا ہے جہاں امیروں کے حصّے میں محل اور نان و قورمہ آتا ہے اور غریبوں کے حصّے میں کبھی جھونپڑے کبھی فٹ پاتھ اور بھیک سے مانگی روٹی کے چند ٹکڑے یا پھر اس بھکارن کے طرح جھپٹ کر ریت میں سنے ہوئے دَہی بڑے ان کے حصّے میں آتے ہیں اور اس پر سے حکومت کی سزائیں اور سفید پوشوں کی جھڑکیاں اور ظلم الگ سے انعام میں ملتے ہیں۔ ’آدم زاد‘ کا کردار بھی ایک عورت ہے مگر جمنا کی طرح لاچار اور بے بس نہیں ہے حالانکہ اس کی عزت کی قیمت تو بارہ آنے سے بھی کم ہے کبھی ایک سیر دھان اور گیہوں کبھی کوئی بہانہ وہ اسی سماج کے شریف لوگوں کی ہوس کا شکار بنتی ہے مگر وہ اندرا کی طرح حسرت بھری نگاہوں سے التجا نہیں کرتی اور جمنا کی طرح سسکتی نہیں بلکہ مغرور نگاہوں سے ساری پنچایت کو دیکھتی ہے اور کرارا جواب دیتی ہے۔ جھناکا اس افسانے کا مرکزی کردار بھی ہے اور بہت مضبوط بھی۔ راوی لکھتا ہے :۔
’’جھناکا بچے کو دودھ پلاتی رہی اور سوچتی رہی کہ اسے کس کے سرتھوپے۔ چودھری کے لڑکے نے پانچ سیر دھان دیے تھے۔ اس کے بدلے میں وہ اپنا بیٹا اسے دیدے لیکن وہ لے گا کیوں؟ گھسیٹے نے ہنسی ہنسی میں اسے پکڑ لیا تھا۔ اب وہ کہے گا کہ میں کیاجانوں ؟ عید و نے گیہوں بنانے کے بہانے اسے اپنے گھر بلایا تھا۔ وہ صاف مکر جائے گا۔ اور ہاں وہ کون تھا جو چودھری کے گھر آیا تھا۔اس نے ایک روپیہ دیا تھا۔ ‘‘
(منزل ، علی سردار جعفری ، آدم زاد۔ص۔ ۷۹)


یہ آدم کی اولاد جس کے دم سے دنیا کا وجود ہے کتنے فتنے پھیلاتا ہے اور اس سماج میں کیسے کیسے گناہ کرتا ہے۔ جھنا کا کی مضبوطی کو دیکھئے اور ساتھ ہی سماج کے سفید پوش اور باعزت لوگوں کے اندر چھپے ہوئے سیاح دل اور ان کے گندے کردار کو :
’’ شام کو چوپال میں سارا گائوں جمع تھا۔ جھناکا کا مقدمہ پیش ہونے والا تھا۔ ہر شخص اپنی اپنی رائے دے رہا تھا۔ ’’چھنال ہے چھنال‘‘ گھسیٹے نے کہا۔ عیدو بولا ’’ کیسا آنکھیں مٹکا کر باتیں کرتی ہے۔‘‘ فقیر ے نے سوچا مجھے بھی کچھ رائے دینی چاہئے نہیں تو سب بے وقوف سمجھیں گے کہنے لگا۔ ایک بات کرتی ہے اور دس بل کھاتی ہے۔ ‘‘ مولوی عنایت محمد جو مومن کانفرنس سے لوٹ کر آئے تھے بولے ’’ گائوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘ گھرئوپاسی نے کہا ہاں مولوی صاحب ’’ای کلجگ ہے ‘‘ پنڈت کدارناتھ جو کھدر کی ٹوپی پہنے ہوئے تھے بولے ’’رام رام ای مہاپاپ ہے ‘‘ چودھری نے فیصلہ کن انداز میں کہا ’’ایسی عورت گائوں میں رکھنے کے قابل نہیں۔‘‘ سب نے ہاں میں ہاں ملائی۔ گناہوں کے سبھی دیوتا بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں چھم چھم کی آواز سنائی دی۔ سب کی نگاہیں جھناکا کی طرف اٹھ گئیں۔ جو ابر کے ٹکڑے کی طرح چلی آرہی تھی۔ لمبا سا گھونگھٹ نکالے۔ بچہ کو گود میں لیے۔ سمٹی، سکڑی بالکل نئی نویلی دلہن کی طرح ، وہ آکر مجمع کے بیچ میں کھڑی ہوگئی۔


اس نے کنکھیوں سے ایک ایک کو بھانپ لیا اور پنچایت کا فیصلہ سننے کے لیے تیار ہوگئی۔ چودھری نے بغیر تمہید کے کہا ’’ گائوں کی ناک کٹ گئی تو نے نام ڈبودیا۔‘‘ سب نے گردنیں ہلائیں ۔ پنچایت کا یہ فیصلہ ہے کہ ایسی عورت کا گائوں میں رہنا ٹھیک نہیں۔‘‘
’’جھناکا نے میلے کپڑے میں لپٹے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کو جھک کر زمین پر رکھ دیا اور سیدھی کھڑی ہوگئی۔ اس نے اپنا لمبا گھونگھٹ الٹ دیا۔ سفید ستا ہوا چہرہ، سیاہ آنکھیں ، شہد بھرے ہونٹ اور غصہ سے تپے ہوئے رخسار جسے دیکھ کر کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ اس کی بے حیائی پر ٹوک دے۔ چودھری کی نگاہیں اس کے تنے ہوئے ابروئوں کی طرف نہ دیکھ سکیں اور اس کے سینے پر ٹھہر گئیں جو اس طرح زِیر و زَبر ہورہا تھا جیسے دریا کی کوئی موج بڑی تیزی کے ساتھ سطح آب پر تیر رہی ہو۔ جھناکا نے مغرور نگاہوں سے سارے مجمع کو دیکھا اورکہنے لگی۔’’چودھری یہاں کون ہے جو گنگا نہیں نہایا۔‘ ‘
رخساروں پر خون کی ایک لہر دوڑ گئی۔ گھونگھٹ خود بخود چہرے پر آگیا۔ جھناکا بچے کو گود میں لے کر چل دی۔ مجمع میں سے ہر شخص اسے اپنا بچہ سمجھ رہا تھا۔ ‘‘
( منزل ، علی سردار جعفری، آدم زاد، ص۔ ۹۱۔ ۹۳)


اس افسانے میں افسانہ نگار یہ دکھانا اور بتانا چاہتا ہے کہ اسی معاشرے کے شریف لوگ ان گناہوں کے اور ان مسائل کے مظالم کے ذمہ دار ہیں۔ اس سماج کے عزت دار لوگ ہی عزت کو خریدنے والے ہیں۔ اور جو خود ہی قاتل بھی ہیں اور خود منصف بھی۔ جو عورت کو اس بات کی سزا تو دیتے ہیں کہ وہ ناجائز اولاد پیدا کرتی ہے۔ مگر وہ انصاف کے دیوتا ان مردوں سے یہ نہیں پوچھتے کہ اس آدم زاد کو وجود میں لانے کا سبب کون ہے۔ کس نے عورت کی کمزوری اور اپنی طاقت کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اس مرد کو سنگسار نہیں کیا جاتا ہاں عورت کوگائوں سے ضرور نکال دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ مردوں کا سماج ہے۔ جہاں ان کے لیے یہ سب کرنا جائز ہوتا ہے۔ گائوں کا ساہوکار، چودھری اور پنڈت کدارناتھ جوکھدرکی ٹوپی پہن کر سماج کے پیشوا اور مذہب کے رکھوالے بنتے ہیں مگر عورت کی عزت کے رکھوالے نہیں بن پاتے اور شریف مہذب اور سماج کے باعزت لوگ بھی جھناکا جیسی مجبور دیہاتی اور غریب عورتوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عیدو، فقیرے اور گھسیٹے جیسے دوکوڑی کے مرد بھی اندھیری کوٹھری میں اپنی مردانگی کے جوہر دکھاتے ہیں۔ جو پنچایت میںیہ تو کہتے ہیں کہ’ یہ چھنال ہے ۔‘’ یہ پاپ ہے۔‘’ یہ کلجگ ہے۔‘ اس کو گائوں سے نکال دیا جائے۔‘ مگر عزت کی چادر اوڑھا کر اس پاپ کا کفارہ نہیں ادا کرتے۔ اپنانام دے کر اس پاپ کو نہیں روکتے۔ تب ان کی غیرت اورعزت آڑے آجاتی ہے۔ ایسے ہی کھوکھلے مہذب اور غیرت مند کرداروں اور دوہرا نظریہ رکھنے والے سماج پر مصنف نے جھناکا جیسے کردار کے ذریعے افسانہ نگار نے بھرے مجمع کو زور دار طمانچہ رسید کیا ہے۔ جو سب کو کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتی ہے ’’چودھری یہاں کون ہے جو گنگا نہیں نہایا ‘‘ ایک جملے میں مصنف نے عزت دار عیاشوں کے گناہ کے تمام پردے تار تار کر دیے ہیں۔
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا ’آتشیں قمیض ‘ سے لے کر ’’آدم زاد‘‘ تک میں سردار جعفری کا مرکزی کردار زیادہ تر عورت ہی رہی ہے۔ کیونکہ سردار جعفری نے ’’ لکھنؤ کی پانچ راتیں ‘‘ میں خود لکھا ہے کہ :


’’ میں نے ایشیائی افلاس کے بدترین نمونے دیکھے ہیں۔ یہ خوبصورت گیتوں اور دھان گیہوں کے کھیتوں اور انتہائی افلاس کی سرزمین ہے۔ اس میں اتنی پگڈنڈیاں نہیں ہوں گی جتنے خون کے دھارے ۔ اس کے جسم میں جذب ہو چکے ہیں۔ پیڑ کی شاخوں میں بالوں سے لٹکتی ہوئی عورتیں، پتلی پتلی اور سوکھی ہوئی ٹانگوں اور باہر نکلے ہوئے پیٹوں کے بچے، بڑی بڑی سیاہ مگر بجھی ہوئی آنکھیں ایک بار میرے سامنے ایک کسان عورت ننگی کر دی گئی۔ یہ اور اس قسم کی بے شمار تصویریں ہیں جو اگر کوئی مصور پردے پربنا دے تو دنیا چیخ اٹھے۔ ‘‘
( لکھنؤ کی پانچ راتیں۔ علی سردار جعفری۔ ص۔ ۲۴)
اس طرح کے ظلم اور استبداد سرمایہ داروں اور زمینداروں کے جابرا نہ رویے نے سردار جعفری کے حساس دل کو بے چین کردیا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ ان کی فکر اور سماج پر گہری نظر اور مشاہدات اور تلخ تجربات نے ان کے قلم کو لکھنے پر مجبور کیا ہے۔


سردار جعفری کی یہ افسانہ نگاری اس دور کی پیداوار ہے جب ہندوستانی تہذیب اور ہندوستانی قوم و ملت زندگی کے کڑے نشیب و فراز سے گزر رہی تھی۔ جب لندن میں ترقی پسند تحریک کی بنیاد پڑچکی تھی اور ۱۹۳۶ء؁ میں ہندوستان میں پریم چند کا صدارتی خطبہ بھی منظرِ عام پر آچکا تھا۔ ہندوستان کا یہ انقلابی نوجوان اپنے منفرد خیالات اور بے چین سوالات کے جواب ڈھونڈ رہا تھا۔ یہ جذباتی اور نوعمر ادیب ’’دیوانے ‘‘ اور ’’سپاہی کی موت‘‘ جیسے ڈرامے لکھ کر اور کبھی’’ آتشیں قمیص‘‘ ،’’ ہجوم و تنہائی‘‘، ’’تین پائو گندھا آٹا‘‘ اور ’’منزل‘‘ جیسے افسانے لکھ کر اپنے بے چین دل کو سکون عطا کرتا تھا۔ خود مصنف نے اپنے مجموعہ کے شروع میں پیغام دیا ہے کہ ’’آنے والے انقلاب کے نام ٗ اور یہ بھی کہا ہے کہ ’’یہ افسانے ہندوستان کی اُس تحریک کی پیداوار ہیں جس نے زندگی کا تصور بدل دیا ہے ‘‘ پھر ہندوستان کا یہ انقلابی ادیب اپنا قلم کیسے روک سکتا تھا۔ اس کے یہاں بھی تخیل کی پرواز کے ساتھ رومان حسن اور عشق کا معیار بدل چکا تھا۔ ان میں تخیل سے زیادہ حقیقت اور حسین رومان سے زیادہ نفسیات اور سماج کے بڑے مسائل اور موضوع تھے۔ لالۂ صحرائی کی خوبصورتی سے دور جمنا کی بے کسی، اِندرا کی مظلومی ، بھکارن کی بے حسی اور آدم زاد کے ذریعے کئی مسائل مثلاً کم عمری کی شادی، شوہر کی دوری، جنگ کا انجام ، جوبے آبروئی کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ مصنف نے ان افسانوں میں انسانی ریاکاری ، خودغرضی ، مکاری اور خواہشِ نفسانی کے سیاہ پردے کو چاک کیا ہے اور پورے سماجی نظام پروار کیا ہے۔


سردار جعفری کے افسانوں کی فضا ہمیں پریم چند، کرشن چندر ، منٹو ، عصمت اور بیدی کے افسانوں کی طرح ہی مانوس نظر آتی ہے۔ ان کے افسانوں کی فضائوں میں ان کے ہندوستان کے دیہات کی مٹی کی خوشبو اور ان میں جذب کسانوں اور مزدوروں کے خون کی تری ، ان کی ہوائوں میں ہندوستان کے محنت کش کسانوں کے پسینوں کی نمی اور ہندوستانی ماحول ہے۔ ان کے افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو :
’’ سورج دیوتا نے رات کی گود سے اپنا سر اٹھا کر شریر بچے کی طرح اِدھر اُدھر دیکھا۔ اُن کی ایک اچٹتی ہوئی نگاہ پیپل کے قدموں میں پڑی عورت پر بھی پڑگئی۔ جس کے پہلو میں اندھیری رات کی پیدائش کا ایک بچہ پڑا سِسک رہا تھا۔ جیسے سفید مٹی کی چھوٹی سی مورت جس میں جان پڑگئی تھی۔ ‘‘
( منزل ، علی سردار جعفری۔ ص۔ ۸۷)
اس اقتباس میں سورج دیوتا ، پیپل کا درخت اور مٹی کی مورت سے ہندو مذہب کی روایت اور مذہبی عقیدت اور تقدس نظر آتا ہے تو اندھیری رات کی پیدائش کا بچہ ، معاشرے کی سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کی شرمناک حرکتوں کا پتہ دیتا ہے۔
ان کے افسانوں میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب ، مٹی کی مورت، سورج دیوتا، پیپل کا درخت ، ہندوستانی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ دیہاتی سماج اور ہندوستانی گائوں کے گوناگوں حلقوں سے اخذ کئے گئے ہیں۔
سماج کے حقیقی مسائل، عوام کے مجروح جذبات اور مفلسی اور مظلومیت کی سچی تصویر کشی اور صحیح عکاسی کے واضح نقوش سردار جعفری کے افسانوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ جو کہیں کہیں ان کے فن کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ مگر کہیں کہیں دل کے تاروں کو جھنجھوڑ بھی دیتے ہیں۔ کہیں لطف پہنچاتے ہیں توکہیں سوئے ہوئے ضمیر کو جگا دیتے ہیں جیسے:


’’اب وہ اسے دودھ پلارہی تھی۔ اندر لوگوں نے ایک گدگدی سی محسوس کی جن میں دودھ کے ساتھ مامتا کا خون بہہ رہا تھا۔ معصوم ہونٹوں کی پولی پولی جنبش جو نرم مسوڑھوں کو تقویت پہنچا رہی تھی۔ ان تمام لذتوں کی حامل تھی جو دو شیزہ سینوں کو نوجوان انگلیوں کے پہلے مس کے بعد حاصل ہوتی ہیں۔ ‘‘
( منزل ، علی سردار جعفری۔ ص۔ ۸۷)
’’تمہارا مذہب مری جان بچانے سے روکتا ہے اچھا ‘‘ یہ کہہ کر حسرت بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔ آنسوئوں سے بھیگی ہوئی آنکھوں سے مجھے ڈر معلوم ہورہا تھا۔ ‘‘
( منزل ۔ علی سردار جعفری ، ص۔ ۷۵)
ان کی زبان نہایت سلیس،سادہ اور عا، فہم ہے۔ کہیں کہیں بامحاورہ ، معنی خیز تخلیقی جملوں کا استعمال ہوا ہے۔ مکالمہ نگاری میں ان کا فن ماہرانہ ہے۔ ہر طبقے اور علاقے کی نفسیات اور ان کے لب و لہجہ اور زبان و بیان سے واقفیت ان کے افسانوں کو جلا بخشتی ہے۔ ’بارہ آنے ‘ میں تاڑی اور شراب پینے والے لوگ ہیں اور اس کا مالک کباڑیہ شراب کے ساتھ لڑکیوں کی عصمت بھی بیچتا ہے۔ جہاں معمولی یکے تانگے اور رکشے والے پیٹ کے ساتھ اپنے نفس اور جسم کی بھوک بھی مٹاتے ہیں۔ ان کی زبان ان کی طرح سطحی اور گری ہوئی دیہاتی ، فحش کلمات سے بھری ہوتی ہے۔ مثال ملاحظہ ہو :
’’ابے کنواں ! چھیدی نے کانے کو آواز دی۔ ’’ آج جان پڑت ہے مجوری جادہ پائے ہو ‘‘ کانے نے اپنی آنکھ کو کچھ اور دبا کر کہا ’’تہاردیدی کے آنکھ تو مانگے ناہی گئین رہا‘‘ جائو بچہ چھوڑ دیا ‘‘ اب کس دیدی کے نائو لیو تو بتائی تمکا۔‘‘
(مجموعہ منزل ’بارہ آنا‘ سردار جعفری)
’’بھوک سے بیتاب بچے کو بھکارن کیسے چپ کراتی ہے۔ ’’اونہہ پاپی‘‘ مجھے کھالے ‘‘، بچے نے پھر روٹی مانگی اور بدلے میں ماں نے چٹاخ کے ساتھ ایک طمانچہ دیا ’’لے‘‘ بھوک بھوک بھوک ‘‘ اب کی آواز نکالی تو گلا گھونٹ دوں گی۔ ‘‘
( مجموعہ منزل ’مسجد کے زیرِ سایہ ‘ سردار جعفری )
’’آدم زاد میں جھناکا سے چودھری کا لڑکا پوچھتا ہے یہ بچہ کہاں سے لائیں جھناکا تنک کرکہتی ہے ’’جنا ہے اور کہاں سے آتا‘‘ چودھری کا لڑکا کہتا ہے ’’ادھر آئو تو بتائوں‘‘ جھناکا تنک کر کہتی ہے ’’بھیاَ چلوَیا تھکت ہے ڈگر یا ناہیں تھکتی۔ ‘‘
( مجموعہ منزل ’آدم زاد‘ سردار جعفری )


اس طرح کے جملے اور زبان ان کے کردار کے ساتھ ساتھ ان کی بولی ، لب و لہجہ اور اسلوب نگارش کے فن کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ بعد کے سردار جعفری ایک عظیم شاعر، اعلیٰ ادیب اور دانشور کی صف میں شمار کئے جانے لگے اور انہیں یہ مجموعہ اور یہ افسانے خود ہی مہمل لگنے لگے اور بعد میں وہ اس کا ذکر بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ افسانے نہ ان کی منزل ہیں اور نہ اردو افسانے کی منزل مگر افسانے کے ارتقائی سفرکی صحت مند تحریر اور ترقی پسند فکر کا آغاز ضرور ہیں جن سے اس عہد کے شب وروز اور مسائل سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے سردار جعفری اپنے افسانوں میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور ان کے اس مجموعے میں تخلیقی سرگرمیوں کی ایک جہت کا نشان تو ملتا ہی ہے۔ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم اپنے ایک مضمون سردار جعفری کے افسانے میں پروفیسر عقیق احمد صدیقی کی تحریر کا حوالہ پیش کرتے ہیں :
’’ان افسانوں کے ذکر یا اذکار یا حوالوں کے بغیر سردار جعفری کی تخلیقی دستار کی فضیلت اور افضلیت کا کوئی پر کم نہیں ہوتا پھر بھی شعر و ادب کی تخلیق میں سماجی شعور اور انقلاب آفرینی کی راہوں کے شعوری انتخاب کی خبر ان کی شاعری سے پہلے ہمیں یہی افسانے دیتے ہیں۔ ‘‘
(مشمولہ پروفیسر عبدالستار دلوی: علی سردار جعفری شخص،شاعر اور ادیب ، ص۔ ۴۸۳)
سردار جعفری کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر سردار جعفری شاعر نہ ہوتے یا افسانہ نگاری جاری رکھتے تو وہ کرشن چندر، منٹو ، بیدی اور عصمت کی صف میں ضرور کھڑے ہوتے۔ اگر انہوں نے اسی صنف میں اورقلم آزمائی کی ہوتی تو میرے خیال میں ان کے بعد ان کے کردار، ان کا شعور اور تکنیک ان کے موضوعات اور ان کے احساسات ، ان کے فن کو زندہ رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوتے۔ اور ان کو تخلیقی نثر کا درجہ دلاتے۔ مگر افسوس یہ عظیم شاعر نظمیں تو بہت دے گیا مگر نثر کا سرمایہ بہت کم ہے مگر اس میں شک نہیں کہ جو ہے وہ بہت قیمتی ہے۔


’ مہرہ مانجھی ‘ ایک کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ جاویدکر دار ہے۔ اس افسانے کو سردار جعفعری نے’’ رپورتاژ ‘‘ کا نام دیا ہے۔ جانے کیوں کہانی یا افسانہ نہیں کہا۔ مگر ایک بات ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِس کا ترجمہ دنیا کی سات آٹھ زبانوں میں ہو چکا ہے۔ پہلا ترجمہ روسی اور دوسرا پولش زبان میں ہوا۔ یہ صرف بنگال کے قحط زدہ علاقے، چٹ گائوں کی کہانی نہیں ہے بلکہ پورے سرمایادارانہ نظام کی داستان ہے جس کا المیہ کردار بوڑھا ماہی گیر ہے جو قلم کار کے سامنے اپنے درد کو یوں بیان کرتا ـ:
’’ پچاس برس سے دریا میں جال ڈال رہا ہوں ، اس کے ایک ایک چپے کو جانتا ہوں بہتی ہوئی موجوں کو دیکھ سکتا ہوں کہ اس کے نیچے کتنی مچھلیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آسمان دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ موسم کتنی دیر میں بدل جائے گا۔ سمندر میں طوفان کب آئے گا اور دریا کا پانی الٹا کب بہے گا ۔ پچاس برس سے یہ کام کر رہا ہوں ۔ لیکن آج تک یہ پتہ نہ چلا کہ جو ہم محنت کر تے ہیں وہ دولت کہاں جاتی ہے۔ ‘‘
(لکھنوء کی پانچ راتیں ، علی سر دار جعفری،ص ۔۸۹)
در اصل یہ سوال اس بوڑھے ماہی گیر کانہیں بلکہ جعفری کے کمیونسٹ اور سماجی ذہن کا ہے جو پوچھتا ہے کہ یہ دولت کہاں جاتی ہے اور پھر خود ہی ماہی گیر کی زبان سے وضاحت کر تے ہیں ۔
’’ یہ دریا ہزار وں برس سے بہہ رہا ہے اور اس کاپانی سمندر میں گر رہا ہے ۔ ہماری محنت بھی اس طرح بہتی ہوئی کسی بڑے سمندر کی طرف چلی جارہی ہے۔ کوئی اندھا سمندر ہے جو ہمااری چاندی کی طرح چمکتی محنت کو نگلے جارہا ہے۔ ‘‘
(لکھنوء کی پانچ راتیں ، علی سردار جعفری،ص ۹۰ )


یہ کہانی ۱۹۴۹ء میں لکھی گئی اور سردار جعفری کی عمر کم و بیش ۳۳ سال کی تھی۔ ان کا ذہن پوری طرح اشتراکی ہو چکا تھا اور وہ سوچتے تھے کہ محنت کوئی کرتا ہے پیٹ کوئی بھرتا ہے۔ اور جو محنت کرتا ہے اس کے پاس کھانے کو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں رہتا۔ یہ دولت کہاں جاتی ہے۔ سرمایہ داروں کے پاس ، یہ نظام ایسا کیوں ہے اور اس کے نتیجے کیا ہوتے ہیں ؟
’ چہرہ مانجھی‘ اس کہانی کا مرکزی کردار ہے جس کا اصل نام گل چہر ہے۔ جو ایک کسان کی بیٹی ہے۔ مگر قحط نے اس کے گھر کو برباد کر ڈالا ہے۔ حالات نے اسے مٹھی بھر چاول بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا اور پھر بھی بھیک نہیں ملتی تو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے تیرہ دن کی بھوکی گل چہرہ اپناجسم ایک سیر چاول پر بیچ دیتی ہے اور اسی سماج کے ٹھیکیدار چودھری اور پنڈت جیسے لوگ خرید لیتے ہیں۔ گل چہرہ اپنی دردناک داستان سناتی ہے اور ادیب کچھ یوں لکھتا ہے ـ:


’’ جانتے ہو میں کیا کرتی ہوں ؟ میں اپنا جسم بیچتی ہوں لوگ کہتے ہیں میں بہت خوبصورت ہوں ۔ تم سمجھتے ہو گے یہ میرا خاندانی پیشہ ہے۔ نہیں ، میں تو کسان کی بیٹی ہوں ۔ دھرتی کی طرح پاک ۔ میں نے یہ پیشہ کبھی نہیں کیا تھا۔ لیکن جب میرے ماں باپ مر گئے اور سارا گھر اجڑ گیا اور میں ہزار وں لاشوں کے بیچ اکیلی رہ گئی تو گیارہ دن کے فاقوں کے بعد لڑکھڑا تی ہوئی اپنے گائوں کے زمیندار کے پاس گئی۔ مٹھی بھر چاول کی بھیک مانگنے کے لیے وہ چاول جس کا دھان میں نے پچھلی فصل میں اپنے ہاتھوں سے کاٹا تھا۔ زمیندار کے گھر میں منوں چاول بھرا ہوا تھا۔ لاشوں کی طرح بوریاں گنجی ہوئی تھیں ۔ میں گیارہ دن کی بھوکی تھی اور میرا کوئی سہارا نہیں تھا۔ کئی بار میں نے سڑی ہوئی لاشوں کا گوشت کھانے کا ارادہ کیا مگر گھِن آگئی۔ میں نے زمیندار سے مٹھی بھر چاول منگے۔ اس نے پوچھا کیا قیمت دو گی۔میرے پاس کیا تھا۔ میں نے کہا خیرات دیدو۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ اس نے کہا تمھارے پاس جوانی ہے۔ خوبصورت چہرہ ہے ۔ بھرا ہوا جسم ہے اسے کہیں جا کر بیچ آئو ۔ میں وہاں سے بھاگ آئی اور جب میں تیرہ دن کی بھوکی تھی۔ اپنا جسم لاش کی طرح گھسیٹ کر زمیندار کے پاس لے گئی میں نے کہا میں اپنا جسم مٹھی بھر چاول میں بیچنے آئی ہوں اسے خرید و گے وہ خفا ہو گیا۔ بھدر لوگ بڑے عزت والے ہو تے ہیں ۔ زمیندار نے گھر سے نکال دیا اور اس کا بیٹا جو مجھے گھسیٹ کر باہر لا یا تھا۔ سیر بھر چاول میں میرا جسم خرید لے گیا۔ تب سے میں محسوس کر تی ہوں میرے پاس میرا جسم نہیں ہے۔ میری خوبصورتی نہیں ہے۔ یہ سب تو سیر بھر کچے چاول میں بک چکی ہیں ۔‘‘
( لکھنوء کی پانچ راتیں ، علی سر دار جعفری، ص ۱۱۰۔۱۱۱ )


گل چہر ہ ایک ایسی مچھلی ہے جسے حالت اور سماج کے اندھے سمندر نے نگل لیا اور جو سمندر کے کھارے پانی سے اپنے جیسی تمام بے بس و لاچار مچھلیوں کا بد لہ لینا چاہتی ہے۔ اسی لیے وہ ہر سفید پوش کو کیچڑ میں چلاتی ہے، کوڑے سے مارتی ہے کیونکہ اگر وہ آج اپنا جسم بیچتی ہے یا انگریزوں کے منھ چڑھی ہے تو یہ ان سفید پوش لوگوں کی دین ہے جنھوںنے ایک مجبور انسان سے اس کی مجبوری کے بد لے اس کی عزت خرید لی۔ جو کسان خود فصل بوتا ہے ، کاٹتا ہے مگر کھانے کے لیے زمیندر کے پاس جاتا ہے۔ یہ اس زمینداری اور سرمایہ دارانہ نظام کی بد صورت شکلیں ہیں، اس کے بھیانک انجام ہیں ۔ چہر، مانجھی جیسے نہ جانے کتنے کردار ہیں ۔ چہر و مانجھی کہتی ہے۔
’’ چٹ گائوں یہاں سے اسّی میل دور ہے لیکن یہاں سے چٹ گائوں تک تین لاکھ کسان عورتیں ہیں جو میری طرح پیشہ کر رہی ہیں اور ان کی کمائی بھدر لوگ کھاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ۔ چہر و مانجھی بدمعاش ہے، چہر و مانجھی آوارہ ہے۔ چہر و مانجھی بیسوا ہے۔ لیکن بھدر لوگ مجھ سے زیادہ بد معاش ہیں ، مجھ سے زیادہ آوارہ ہیں ۔ وہ سب بیسوا ہیں ، ان کی عزت ان کا مذہب ان کا دیوتا سب کچھ روپیہ ہے۔ اس کے لیے وہ اپنی مائوں کو بیچ ڈالیں ۔ اپنی بیٹیوں کو بیچ ڈالیں ۔ ان کی عزت اور ان کی شرافت صرف ان کے کپڑوں میں ہے۔ مجھے ان سے بڑی نفرت ہے۔‘‘
(لکھنؤ کی پانچ راتیں ، علی سردار جعفر ی،ص۱۱۳ )


چہر و مانجھی تخلیقی اعتبار سے ایک زندہء جاوید کردار ہے۔ سر مایہ دارانہ نطام اور زمیندر لوگوں کے کالے کرتوتوں کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں لوگ ان کی اصل شکل دیکھ لیں تو زمیندار ی اور ان کی شرافت پر سے یقین اُٹھ جائے ۔ لوگ ڈر جائیں کہ اتنا بھیانک چہرہ۔
چونکہ ایک بات غور کرنے کی ہے کہ سردار جعفری نے اپنے تمام افسانوں میں زیادہ تر نسوانی کردار ہی پیش کیے ہیں اور کہیں نہ کہیں ان پر اس سماج کے لوگوں کے ہاتھوں ظلم ہوا ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر چہر و مانجھی آوارہ ہے تو پس ِ پر دہ اس زمیندار کا ظلم ہے۔ جس نے اس کی بھوک اور افلاس کا سودا کیا۔ اگر وہ آج بیسوا ہے تو کل اسے جسم بیچنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ اس کے اندر کی عورت مر گئی ہے یا مر جاتی ہے۔ یہ مردانہ سماج پہلے اس کی عزت خریدتا ہے اور پھر سرِ عام اسے نیلام کر دیتا ہے اور تب سماج میں اس عورت کو آوارہ ، بد معاش اور بیسوا کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ کوئی اسے بہن نہیں کہہ سکتا ۔ کوئی اسے بیٹی نہیں کہتا ، کوئی غیرت مند اسے بیوی نہیں بنا سکتا ۔ مگر عورت ہمیشہ عورت ہو تی ہے۔ اس کے اندر کی معصوم اور پاکیزہ عورت کبھی نہیں مر تی ۔ وہ ہمیشہ ایک گھر، ایک شوہر اور عزت کی خواہاں ہو تی ہے۔ چہر و ما نجھی بھی رائٹر سے کہتی ہے:
’’جب یہاں سے جاناتو گنیش سے کہہ دینا میں اس کا انتظار کر رہی ہوں اس زندگی سے تنگ آگئی ہوں ۔ ‘‘
(لکھنوء کی پانچ راتیں ، علی سردار جعفری،۱۱۳۔۱۱۴ )


یہ نسوانی کردار کی وہ نسائیت ہے جسے سردار جعفری نے بڑے سادہ اور سلجھے ہوئے لہجے میں پیش کیا ہے۔اس کہانی میں قحط بنگال سے پیدا ہوئی تباہ کاریوں کا ذکر تو ہے ہی ساتھ ہی معشرے اور مذہب کے طبقاتی فرق کو مٹانے کا اشارہ بھی ملتا ہے گل چہرکا گنیش کا انتظار کرنا ’’ مذہب و ملت سے پرے ذات پات سے دور اشتراکی نظر یہ نظر آتا ہے۔ یہ بہت بڑی حقیقت ہے جس پر گہری نگاہ ڈالی ہے سر دار جعفری نے شاید اسی لیے یہ کر دار زندہء جاوید کر دار بن گیا ہے۔

۔۔۔۔۔

اپنی تخلیقات اس میل پر ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں