اللہ کے شہر میں

تحریر : اسلم حسن

, اللہ کے شہر میں

مکّہ یعنی اللہ کا شہر ۔مانا جاتاہے کہ سعودی عرب کے اسی شہر میں اللہ کا گھر ہے ۔کعبہ یعنی اللہ کا گھر جس کے در ودیوار کو چومنے کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ جوان ہوکر دل پہ اپنا تسلط جما لیتی ہے ۔زمین پر اللہ کے گھر کا دیدار کر کے سارے گناہوں سے پاک ہونے کی خواہش صدیوں سے اس ریگستانی اور بیاباں پہاڑی وادیوں کو آباد کرتا رہا ہے ۔امید اور کامل ایمان کی علامت شہرِ مکہ صحیح معنوں میں اللہ اور بندے کے بیچ کی وہ کڑی ہے جہاں دنیا سمٹ آتی ہے ۔شاید اسی وجہ سے دوریوں کی پرواہ کیے بغیر ہزاروں لاکھوں قدم اُس راہ پر چل پڑتے ہونگے جہاں کی گرم فضاؤں میں گناہوں سے نجات کی ٹھنڈی امید رہتی ہوگی۔


ویسے جدید وسائل نے اب سفر کو کافی آسان بنا دیا ہے لیکن قرون وسطی میں حج سفر کی جو تاریخ ملتی ہے اُس سے اُن دنوں کی مشکلات بھرے سفر کا با آسانی تصور کیا جا سکتا ہے۔اِ بن بطوطہ نے اپنے یادداشت میں مکہ ،مدینہ کے سفر کا بھی ذکر کیا ہے ۔آسمانی آفت ،بیماری اور لٹیروں کا ذکر کرتے ہوئے بطوطہ اپنے اس سفر میں سلامتی کے لیے اللہ کا شکریہ ادا کرتا ہے ۔قدم قدم پر ملنے والی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی حاجی اپنا سفر جاری رکھتے تھے ۔گنگا ساگر سفر کی مانند ہی جان ہتھیلی پر لیے ہوئے عقیدت مندوں کا کارواں آگے بڑھتا رہتا تھا ۔حالات ایسے بنے کہ مجھے جون ۲۰۱۸ میں اِس پاک شہر کے سفر پہ ایک بڑی ذمہ داری کے ساتھ نکلنا پڑا ۔نوئیڈا سے وشاکھا پٹنم کا میرا تبادلہ شاید اِسی مقصد کے لیے ہوا ہوگا ۔وشاکھا پٹنم کو ’’سٹی آف ڈیسٹنی‘‘(City of Destiny) یعنی قسمت کا شہر بھی کہتے ہیں۔ایک دن اِسی شہر میں قسمت نے دستک دی ۔ پتہ چلا بھارت سرکار ہر سال حج انتظامیہ اور ہندوستانی حاجیوں کے لیے اپنے اہل کاروں کی دیکھ بھال سعودی عرب میں کرتی ہیں ۔لگ بھگ چار مہینوں کے لیے سعودی عرب میں موجود ہندوستانی ایمبسی کے ساتھ ڈیپوٹیشنشرمنسلک ہوتی ہے۔میں نے بھی حج کو آرڈینیٹر کے لیے درخواست دی ۔خوش نصیبی سے انٹرویو کے بعد میرا چُنائو اِس پوسٹ کے لیے ہو گیا ۔میں نے جو کوشش کی اُسے اوپر والے نے تقدیر میں بدل دیا۔ باہر ملک میں رہ کر اپنے ملک کی خدمت کرنے کا سنہرا موقع پا کر میں بہت خوش تھا ۔مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ بہت سارے امیدواروں کے درمیان میرا انتخاب ہو چکا ہے ۔اچانک مجھے اللہ کے شہر سے اس طرح بُلاوا آئے گا میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔ وہ دن بھی قریب آگیا جب مجھے زندگی کے یادگار لمحوں کو سمیٹنے کے لیے روانہ ہو نا تھا ۔وشاکھاپٹنم ائیرپورٹ پر بیوی اور بیٹی سے جُدا ہوتے وقت دل ذرا بھاری اور آزردہ سا تھا ۔آنے والے چند مہینوں کے لیے اِن سے دور رہنا مجھے کمزور اور جذباتی بنا رہا تھا ۔ میں خود کو نارمل رکھنے کی سعی میں مصروف ہی تھا کہ فلائٹ کا اعلان ہونے لگا ۔میں نے ایک الودائی نگاہ بیوی اور بیٹی پہ ڈالی اور ایک نئے سفر کی جانب قدم بڑھا دیا ۔کچھ ہی دیر میں ائیر انڈیا کا دیو ہیکل جہاز رن وے پر رینگنے لگا

دو گھنٹے کے سفر کے بعد میں غالب کی دلّی کی آغوش میں تھا ۔صبح کے ۱۰ بج رہے تھے ۔ چمکیلی دھوپ چاروں طرف پھیلی تھی ۔ زندگی تیز گام کے ساتھ سفر میں تھی ۔ میں ائیر پورٹ سے سیدھے حج وزرات کے آفس کی طرف نکل پڑا ۔یہاں ہمیں اپنی آمد کی اطلاع دینی تھی ۔اقلیتی بہبود وزرات کے تحت ہمیں دلّی میں رہ کر ہر ضروری فارمیلیٹیز پوری کرنی تھی ۔ہمیں دلّی میں ایک خاص ٹریننگ دی گئی جس میں ہمیں اس خاص کام کے لیے ضروری رہنمائی کی گئی۔
یک روزہ ورک شاپ میں کچھ تجربہ کار افسران نے ہم سےاپنے ذاتی تجربات شئیر کئے۔سب سے زیادہ بار بار اس بات پہ زور دیا جارہا تھا کہ آپ کس طرح مخالفت حالات میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں ،خاص طور پر حادثے کے وقت ۔پہلے بتایا گیا تھا کہ ہم سیدھےدلّی سے جدّہ کے لیے پرواز کریں گے لیکن بعد میں کسی وجہ سے ہمیں فلائٹ ممبئی سے جدُہ کے لیے پکڑنی تھی ۔۲۸ جون کی صبح دلّی سے ممبئی پھر شام کو ممبئی سے جدّہ کے لیے ائیر انڈیا کی فلائٹ سے روانہ ہوئے۔اس دن آسمان پوری ممبئی پہ بادلوں کا سایہ کئے جھما جھم برس رہا تھا۔ بوندیں سڑک پہ گرتی تھیں اور تیزی سے پھسلتی تھیں ۔ میں کار کے شیشے سے ناک چپکائے بارش کے درمیان تیزی سے نگاہوں کے سامنے سے پھسلتی ہوئی ممبئی کو اپنی یادداشت کے ڈبے میں محفوظ کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ ائیر پورٹ پہنچا تو جدّہ کے لیے فلائٹ تیار تھی ۔ائیرانڈیا کے ملازمین صرف ہماری آمد کا انتظار کر رہے تھے ۔ہم تمام لوگ تقریباََ بھاگتے ہوئے ہوائی جہاز میں داخل ہوئے۔اپنی سیٹ پہ بیٹھتے ہی مجھے دن بھر کی تھکان اور بھوک نے اپنے آغوش میں سمیٹ لیا۔ آنکھیں بھاری ہوکر ڈوبنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر شکم کی بھوک نے نیند پر غلبہ حاصل کر لیا ۔میرے ساتھ دو اور حج کار ڈینیٹر بھی تھے جن کی حالت بھی مجھ جیسی ہی تھی ۔ ائیرانڈیا کے وسیع جہاز نے بارش کی تیز بوچھارمیں ٹیک آف کیا ۔ میرے پورےجسم میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی میں نے لاشعوری طور پر اپنے سر پہ ہاتھ پھیرا اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی ۔ویسے بھی ہوئی سفر اگر طویل ہو تو اندر کہیں اندر ایک ڈر کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے ۔


کچھ ہی دیر بعد ناشتہ دیا گیا تو میری جان میں جان آئی ۔ میں نے ایک تیز سانس لے کر کھانے کی اشتہا انگیزخوشبو کو اپنے اندر اتارا ۔اس سفر میں ہمارے ساتھ حج ڈیوٹی کے لیے چُنے گئے کچھ افسران اور ڈاکٹر زبھی تھے۔باقی زیادہ تر مسافر مکہ جانے والے تھے جنھوں نے احرام پہنا ہوا تھا ۔احرام یعنی بغیر سِلا ہوا سفید کپڑا جسے کمر اور بدن پہ لپیٹ لیا جاتا ہے ۔حج اور عمرہ کے موقع پر اس خاص احرام کو پہنا جاتا ہے جو مجھے کبھی کفن کی مانند دکھتا ہے کبھی سادگی کا مظہر نظر آتا ہے ۔جو بھی ہوبندہ خُدا کو یقین کرانا چاہتا ہے کہ تمہارے دربار میں گنہگار بے سر و سامانی کے ساتھ آرہا ہے ۔ہمارے بغل میں بیٹھے کشمیر سے آئے ہوئے حج کو آرڈینیٹر پہلے بھی حج ڈیوٹی کر چکے تھے ۔انہوں نے تفصیل سے اپنی کہانی بیان کرنی شروع کر دی کہ کس طرح انہوں نے اپنے آفیشیل ڈیوٹی کو انجام تک پہنچایا تھا اور کیسے انہوں نے چیلنجز کا سامنا کیا اور کس طرح ہمیں اپنا کام جانفشانی کے ساتھ کرنا چاہئے۔اُن کی باتیں شاید کچھ حد تو کام کی لگ رہی تھی لیکن میرا منتشر ذہن سننے پہ آمادہ نہ تھا ۔ بار بار نیند کا غلبہ سوار ہو جاتا ۔ چند لمحوں بعد میں چونک جاتا اور شرمندہ ہوکر ان کے ہلتے ہوئے لبوں پہ توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرنے لگتا ۔کچھ ہی دیر بعد ہوائی جہاز میں اعلان کیا گیا کہ ہوائی جہاز اب یلملم کی پہاڑی کے اوپر سے گزرنے والا ہے اور میکات آنے والا ہے ۔میکات یعنی پاک شہر ،مکہ کی سر حد یہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ جغرافیائی روپ سے یہ حدیں حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی طے کردیں تھیں۔یلملم کی پہاڑیاں مشرق کی جانب سے آنے والے لوگوں کے لیے وہ مخصوص جگہ ہے جہاں پر پہنچنے کے ساتھ ہی حاجی اللہ کے گھر پر حاضر ہونے کی نیت باندھ لیتے ہیں۔جہاز میں بیٹھے حاجیوں نے میکات کا اعلان ہوتے ہی اونچی آواز میں ’’حاضر ہوں اللہ ،آپ کے گھر پر حاضر ہوں‘‘کی صدائیں لگانی شروع کر دیں ۔ جہاز کے اندر روحانیت سی پیدا ہو گئی ۔اسی پاکیزہ ماحول میں ہم سلامتی کے ساتھ جدّہ ائیر پورٹ پر لینڈ کر گئے ۔میں نے دل ہی دل میں اُس مالک کا شکریہ ادا کیا جس نے پوری کائنات کو صرف نیک مقصد کے لیے پیدا کیا ۔رات ہونے کی وجہ سے کچھ خاص نظر نہیں آرہا تھا ۔جدیدجگمگاتی عمارت میں عربی ملبوسات پہنے افسران اور ملازمین کا گروپ علاؤالدین کی جادوئی دنیا کے کردار معلوم ہو تےتھے ۔حالانکہ کچھ محکمے یعنی کسٹمز،سیکیوریٹی اور ویزا سیکشن میں کام کرنے والے افراد اپنے وردی میں دکھائی سے رہے تھے ۔اندر ایک بڑا سا بورڈ لگا تھا جس میں شاہی خاندان کے لوگوں کی تصویروں کے ساتھ’’Welcome To Land Of Prophcy‘‘لکھا تھا۔


ایک آزاد ملک کے شہری کے لئے بادشاہت کی دنیا نئی تھی۔دولت نے عربوں کو سست اور لاپرواہ بنا دیا ہے ۔اس کا احساس ہمیں تب ہوا جب کچھ تکنیکی خرابی وجہ سے ہمیں تقریبًا چار گھنٹے سے زیادہ وقت ائیر پورٹ پر ہی گزارنا پڑا ۔حالانکہ ساتھ آئے دوسرے مسافر باہر نکل چُکے تھے ۔صرف ڈیپوٹیشن پر آئی پارٹی کے لیے رسمی طور پر کام کرنے کے لیے کافی وقت لگ رہا تھا ۔ہمارے صبر کا امتحان چل رہا تھا ۔ہندوستانی ایمبسی سے آفسروں کے مداخلت کے بعد ڈھیلے ڈھالے لباس والوں نے کچھ چُستی دکھائی اور ہم باہر آگئے۔صاف سُتھری اور چوڑی چوڑی سڑکیں ،بڑی بڑی عمارتیں ،قرینے سے کھڑے ہوئے کھجور کے درخت اور باغ مکہ کو ایک جدید شہر کی صف میں کھڑا کرتے ہیں۔قرآن شریف میں اس شہر کو بلد الامین کہا گیا ہے یعنی امن کا شہر ۔مکہ شہر سے کچھ ہی دور واقع عرفات کے میدان کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ جنت سے نکالے جانے کے بعد اسی میدان میں آدمؑ اور حوّا دونوں ایک دوسرے سے ملے تھے ۔عرفاء کا عربی مطلب جان پہچان سے ہے ۔مانا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق اسی میدان سے ہوئی اور اسی عرفات کے میدان میں کائنات کے خاتمہ کے بعد اللہ کا دربار لگے گا اور انصاف ہوگا ۔پوری دنیا سے آئے حاجی اسی میدان کی تپش میں کھڑے ہو کر کفن لپیٹے اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔سفید کپڑوں میں لپٹے حاجی یوں لگتے ہیں مانو قبروں سے اُٹھ کر کفن پہنے مُردے کسی ریہرسل میں مصروف ہوں ۔تقریبًا سات بجے صبح ہم مکہ میں واقع کئی منزلہ حج آفس پہنچ گئے ۔آفس کے اندر قدم دھرتے ہی یوں لگا وقت پلٹ گیا ہے یا زمین سکڑ کر ہندوستان کی دھرتی بن گئی ہے ۔ میں نے سر کو جھٹکا دوبارہ دیکھا وہی جانا پہچانا اپنے ملک کا ماحول ۔ چاروں طرف اپنے لوگ ،ہندی میں لکھے سمت،ریسپشن کے سامنے لگا ترنگا ہولے ہولے ہل کر ہمارا استقبال کر رہا تھا ۔ ایک اپنائیت کا احساس ہوا ۔ قدموں سے لپٹا ہوا پرائی دھرتی کا لمس زائل ہونے لگا۔


کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں نہا دھو کر تیار ہوا اور اپنا چارج لینے کے لیے نیچے آفس میں گیا ۔ایک بات جو مجھے اچھی لگی کہ عربی افسران میں کچھ برقع پہنے خواتین آفسر بھی دیر تک ڈیوٹی پر موجود تھیں جو قدامت پسند ملک کی الگ تصویر پیش کر رہی تھیں۔ہم لوگوں کے پاس وائٹ آفیشیل پاس پورٹ تھا لیکن اس کے باوجود اتنا وقت لگنا شاید اس بات کی طرف اشارہ کر تھا کہ وہ اپنے ملک میں کسی دوسرے ملک کے افسران کے داخل ہونے سے پہلے ساری باتوں پر اطمینان کر لینا چاہتے ہیں۔ بادشاہت کے نظام میں مقامی حکمراں کے حدود کو سمجھا جا سکتا ہے ۔باہر نکلتے ہی میرے انتظار میں کھڑےڈرائیور سلمان نے لپک کر گرم جوشی سےاستقبال کیا ۔پتہ چلا کہ میرے لیے ایک الگ گاڑی کا انتظام ہے ۔سلمان برما کا رہنے والا ایک خوش مزاج باتونی لڑکا تھا جو آسانی سے ہندی بول سکتا تھا ۔مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ چلو کم سے کم مجھے زبان کا مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔کار میں داخل ہوتے ہی سلمان نے میرا حال چال لینا شروع کیا اور بغیر پوچھے ہی اپنے بارے میں تفصیلات بتانے لگا ۔ اسکی باتیں دلچسپ تھیں ۔ میں سنتا اور بیچ بیچ میں مسکرا پڑتا ۔ کچھ ہی دیر بعدمجھے احساس ہوا کہ شاید ہم ایک دوسرے کو بہت دنوں سے جانتے ہے۔ کب سے ؟ میں نے خود سے سوال کیا ۔ کیا پچھلے جنم سے ؟ لاحول ولاقوۃ ۔ میں نے سر جھٹکا ۔ پچھلے جنم کا تصور اس پاک زمین پر سوائے گناہ کے اور کچھ نہیں ۔ سلمان جہاندیدہ تھا اس نے میرے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگا لیا کہ مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔ اس نے گاڑی ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی کر دی ۔ مجھ سے پوچھا کہ سر آپ کو تو بھوک لگی ہوگی ،مجھے بھی لگ رہی ہے ۔میرے کچھ بولنے سے پہلے وہ فلافِل اور کافی لے کر آگیا۔فلافِل ایک عربی سینڈوچ ہوتا ہے جو مجھے کھانے میں کچھ خاص نہیں لگا ۔خیر میری بھوک کو کسی حد تک تسلّی مل گئی اور گرما گرم کافی نے مجھے ترو تازہ کر دیا ۔میں نے سلمان کو پیسے دینے کی کافی کوشش کی پر وہ نہیں مانا میں نے اُس کے خلوص کو دیکھتے ہوئے پیسے چپ چاپ اپنی جیب میں واپس ڈال لئے ۔کار اب جدّہ مکہ ہائے وے پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ باہر کی روشنی میں مجھے سڑک کے دونوں کناروں پر کالے دیو جیسےچٹّانی پہاڑ دِکھ رہے تھے اور کہیں کہیں ریگستانی بنجر زمین ۔پہاڑوں کا یہ سلسلہ طویل تھا کالی رات کے دبیز سائے میں دور دور تک کوئی آبادی نظر نہیں آرہی تھی صرف سرپٹ دوڑتی گاڑیاں ،ایک دو پٹرول پمپ ،قہوہ خانے اور کہیں کہیں چھوٹی موٹی آبادی کے ساتھ لگی مسجدیں۔میں ایسی جغرافیائی بناوٹ پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔پہاڑ رات کے اندھیرے میں خوفناک لگ رہے تھے اور میرے دل میں بھی اللہ کا خوف بیٹھ رہا تھا ۔جیسے جیسے میں اُس پاک شہر کے قریب آرہا تھا میرا ضمیر میرے اب تک کی گناہوں کو سرگوشیوں میں بیان کرنے لگا ۔ مجھے بتانے لگا کہ ایک گنہگار بندے کے روپ میں مجھے بھی اُس کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اُس کے در پر گڑگڑاکر معافی مانگنی ہے ۔یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے اور مجھے اللہ کی رضامندی پر یقین تھا ۔تھوڑی دیر کے سفر کے بعد ہی اندھیرا چھٹنے لگا اور ہم صبح کی سفید روشنی میں اللہ کے شہر میں داخل ہو گئے ۔آبادی نظر آنے لگی تھی ،مکہ کے باہری علاقہ میں آباد محلّے اور کالونیاں یہاں کی خوشحالی کی داستاں کہہ رہے تھے ۔زیادہ تر نئے مکاں نظر آئے ۔مکّہ کے داخلی دروازہ میں شامل ہونے سے ٹھیک پہلے ایک بہت بڑی مسجد نظر آئی ۔سلمان نے بتایا یہ مسجدعائشہ ہے ،یہاں سے بھی لوگ عمرہ کی نیت کرتے ہیں سلمان نے محمدﷺ کے زندگی کی اس جگہ سے جُڑی ہوئی باتوں کو تفصیل سے بتایا ۔اب میں اللہ کا نام لے کر اللہ کے شہر میں داخل ہو چکا تھا ۔


وہاں ہندوستانی فارن سروس آفیسر شاہد عالم صاحب موجود تھے اور انہوں نے ہم سب کا استقبال کیا اور مختصر الفاظ میں مجھے میرے کاموں کے بارے میں بتایا ۔چونکہ اُس دن چھٹی کا دن تھا تو ہمیں بتایا گیا کہ آج آپ لوگ آرام کریں دوسرے دن کانسلر جنرل نور رحمان شیخ صاحب کے ساتھ ہم لوگ کی آفیشل مٹینگ ہونی تھی ۔ہندوستانی فارن سروس آفسر تجربہ کار اور ملنسار افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ہم تینوں کو آرڈینیٹراللہ کے گھر کی حاضری کے لیے نکل پڑے جو ہمارے آفس کے کافی قریب تھا ۔ رہنمائی کی کمان کشمیر سے آئے کوآرڈینیٹر صاحب نے سنبھال لی اور ہمیں بتایا کہ کعبہ کے سامنے پہنچنے سے پہلے ہی اپنی نظریں نیچی کر لینی چاہیے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار کعبہ پر نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے ۔ ہمارے ساتھ ایک خاتون کوآرڈینیر بھی تھی۔اس سال ہندوستانی سرکار کے تاریخی فیصلہ کے بعد کسی عورت کی حج کوآرڈینیٹر کے طور پہ تقرری کی گئی تھی۔ نظریں نیچی کیے ہم تینوں آگے بڑھ رہے تھے ۔ میری نظریں بغاوت پہ آمادہ تھیں ۔ اور ہر منظر کو قید کرلینا چاہتی تھیں ۔ میں نے بہت مشکل سے اپنے اضطراب پہ قابو رکھا ۔ نگاہوں کو صاف ستھرے سنگِ مر مر کے فرش پر جمائے جمائے آگے بڑھنے لگا ۔ مجھے یوں لگا ہم اللہ کے گھر کے کافی قریب آچکے ہیں ۔ دل زور زور سے ڈھڑکنے لگا ۔ہمیں بتایا گیا کہ ہم کعبہ کے ٹھیک سامنے کھڑے ہیں اور اُس پاک گھر کو دیکھ سکتے ہیں ۔میرا دل خوف سے بیٹھنے لگا ۔ ہاتھ پیر میں واضح کپکپاہٹ تھی ۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں اُس مالک کے در پر کھڑا ہوں جس کی چوکھٹ چومنے کے لیے ہزاروں سجدے ترستے ہیں ۔ میں نے آنکھوں کو کہا کہ خدا کا گھر سامنے ہے ۔ جی بھر کر دیکھ لو ۔ مگر آنکھوں پہ بھی خوف طاری تھا ۔ پلکیں اٹھنے سے انکاری تھیں ۔ میں نے ذرا ہمت باندھی اور دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ کالے غلاف میں لپٹا ہوا اللہ کا گھر کعبہ ۔ یوں لگا ایک سیاہ نگینہ سامنے ہو ۔ پلکیں کئی کئی بار جھپک گئیں ۔ ایک نور ایک روشنی تھی جو اس سیاہ نگینے سے نکل کر منعکس ہو رہی تھیں ۔ میں اس نور کی بارش میں شرابور ہونے لگا ۔ شاید کچھ مانگنا تھا ۔ پہلی نگاہ ڈالتے ہی مجھے کوئی خاص دعا مانگنی تھی۔میں نے ذہن پہ زور دینے کی کوشش کی مگر یاد نہ آسکا۔ کچھ مانگا یا نہیں،پتہ نہیں،آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے ۔
“اے اللہ تیرے سامنے تیرا گنہگار بندہ حاضر ہے ،اللہ میں حاضر ہوں”۔میں اپنی ساری کمزوریوں کے ساتھ حاضر تھا ۔صدیوں سے ایشور پر یقین کی وجہ سے انسان کی اپنی حدیں رہی ہیں۔انسان اپنی کمزوریوں کے ساتھ ہمیشہ ایک غیبی طاقت کے سامنے جھکتا رہا ہے ۔مذہب کوئی بھی ہو انسان اپنی دینداری اور خُدا کی وحدانیت کو سر جھکا کر قبول کرتا ہے۔ کعبہ کا طواف سات بار کیا جاتا ہے ۔طواف کرتے ہوئے میرے دل میں سناتن دھرم اور بُدھ دھرم کی تصویر اُبھر کر آئی ۔یو گیوں اور راہبوں کی طرح کپڑا لپیٹے ہوئے لوگوں کی تہذیب مجھے مائل کر رہی تھی ۔طواف کے بعد سر کے بالوں کو مونڈنا۔شاید مذہب بھی تسلسل کے ساتھ بدلتے ہوئےمختلف پیکر میں ڈھل جاتا ہے اورعلاقہ،زبان اور مقامی روایات کے ساتھ گھُل مِل جاتا ہے ۔ایک ساتھ مرد ،عورت کعبہ کے وسیع احاطہ میں طواف کر رہے تھے ۔مرد ،عورت،گورے،کالے کا کوئی بھید نہیں ۔اللہ کے گھر کا یہ آزادانہ ماحول کیوں باہر آکر قدامت پسند ی ، اختلاف ، نفرت میں بدل جاتا ہے یہ میری سمجھ سے باہر تھا۔
دوسرے دن ہمیں کام دیا گیا ۔مجھے جنرل ویل فیئر اور لا پتہ سامان کا کام دیکھنا تھا کائونسلر جنرل صاحب نے مٹینگ میں اہم باتوں پر گفتگوکی اور تفصیل سے بتایا کہ کس طرح ہمیں ٹیم کے روپ میں کام کرنا ہے۔اس میٹنگ کے بعد مجھے پوری طرح احساس ہو چکا کہ ہمارا کام اتنا بھی آسان نہیں تھاجتنا میں سمجھ رہا تھا ۔ہندوستان سے حج ڈیوٹی پر آئے لوگوں کے علاوہ مقامی سیزنل لوگوں میں سے بھی کچھ اسٹاف کو مقرر کیا جاتا ہے ۔ان میں سے کچھ عربی زبان کے جانکار بھی ہوتے ہیں ۔عرب میں رہ رہے یہ مقامی سیزنل اسٹاف کا تجربہ اور زبان کے علم کا فائدہ ہمیں فطری طور پر ملنا تھاکیونکہ ہندوستان سے حج مسافروں کا آمدشروع نہیں ہوئی تھی ۔ اس لیے میرے پاس کام کے بعد بھی کافی وقت رہتا تھا جس کا میں اچھا استعمال کر سکتا تھا ۔اس وقت کا استعمال میں نے مذہبی جگہوں کی زیارت کے ساتھ ساتھ عرب کی تاریخی،سیاسی،معاشرتی بناوٹ کو سمجھنے کے لیے کیا ۔خوش نصیبی سے’’ Centre Of Makkah History Or Ummul Qura‘‘یونیورسٹی کی لائبریری کا سہارا مل گیا ۔مجھے کچھ انگریزی اور ہندی،اردو میں ترجمہ کی ہوئی کتابیں ملی جو میرے ناقص علم میں اضافے کا سبب بنیں۔
خانہ بدوش عربی قبیلوں کی داستاں یہاں کی مشکل آب وہوا کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔صدیوں سے عرب کے لوگوں کی زندگی کا خاص پیشہ تجارت ہی رہا ہے۔ گرم درجہ حرات اور بنجر علاقوں میں پنپتی عربی تہذیب کے پاس تجارت کے علاوہ اور چارہ بھی کیا تھا ۔پانی کی کمی نے یہاں زرخیز زمین کو پھیلنے کا موقع ہی نہیں دیا ،بس میٹھے کھجور،لوبان اور دوسری خوشبودار چیزوں کے ساتھ سیریا،یمن،ہند وغیرہ ملکوں کا سفر کرنے والے خوشحال عربی تاجر ریگستان میں پھول کھلاتے رہے۔اسلام کے پھیلنے سے پہلے بھی مکہ ایک نمایاں تجارتی شہر تھا جو یمن ،سیریا کے درمیانی تجارتی راستہ کے قریب تھا ۔کارواں کے روپ میں گزرنے والے تاجر وں کا گروپ یہاں آرام اور تجارت کے لیے رُکتے تھے۔مکہ کے میٹھے پانی کا کنواں اور مقامی بازار اِن میں چُستی بھرتا تھا ۔یہیں سے تازہ د م ہو کرتاجر دور کے سفر کے لیے نکل جاتے۔ جدّہ کے نزدیک کی بندرگاہ سمندری سفر کے لیے سازگار ماحول ہے ۔مکہ میں ہونے والے سالانہ،مذہبی تقاریب نے بھی یہاں کے بازار کو ترقی دی۔اسلام سے پہلے بھی کعبہ کو اللہ کا گھر تسلیم کیا جاتا تھا۔کہتے ہے محمدﷺ کے پیغمبری سے پہلے بھی سینکڑوں سالوں سے دور دراز علاقوں سے جھنڈ پر جھنڈ مسافر مکہ آتے اور مہینوں قیام کر اپنے مذہبی رواجوں کو پورا کرتے ۔حج اورعمرہ کی روایت اسلام سے پہلے کی بتائی جاتی ہے ۔اسلام نے اس کی شکل میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے۔ بنیادی طور پر تمام رسومات وہی ہیں ۔ یقینی طور پر حاجی نے مشرقی عرب کی معشیت میں ایک ہم کردار ادا کیا ہے جو آج بھی اسی شکل میں چل رہی ہے ۔


مکہ شہر کے آباد ہونے کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔کہتے ہے اس ویران جگہ پر حضرت ابراھیم ؑ نے اللہ کے حکم سے اپنی بیوی ہاجرہ اور بیٹے اسمعیل کو اس ویران جگہ پر چھوڑ کر واپس لوٹ گئے ۔چھوٹے بچے اسمعیل کی پیاس کی شدت نے ماں کو بے چین کر دیا۔وہ صفا مروہ پہاڑوں کے بیچ پانی کی تلاش میں دوڑتی رہی لیکن پانی نہ مل سکا۔اس بیچ اسمعیل کے پائوں رگڑنے کی جگہ سے ایک پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ ماں کی نظر جب اس بہتے ہوئے پانی پر پڑی تو وہ اچانک پانی کو دیکھتے ہی بول پڑی’’زم زم‘‘،زم زم یعنی ٹھہرو ،مانا جاتا ہے کہ اسی میٹھے کنویں زم زم کے پاس ہی خانہ بدوش قبیلے ٹھہر کر آباد ہوتے گئے اور اس طرح مکہ شہر کی بنیاد پڑی۔اس زم زم کے پاس حضرت ابراھیم ؑ اور اُن کے بیٹے حضرت اسمعیل ؑ نے اللہ کے گھر کی تعمیر کی اور اس پانی میں گُھل مل کر عقیدت لمحہ لمحہ بہتی رہی ۔آج بھی حاجی صفا مروہ پر دوڑ کر اُس واقعہ کو دہراتے ہیں۔شاید یہ ایک بے بس ماں کو خراج تحسین ہے ۔اُس وقت بھی مالی لحاظ سے قریش قبیلہ نمایاں تھا۔طاقت اور گھمنڈ میں چور یہ دولت مند تاجر غلاموں اور غریبوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے تھے ۔آپسی تسلط کی دوڑ میں یہ لڑاکوں قبیلے میں عورتوں کےی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ اسلام ایک نیا اور جدید مذہب تھا جس نے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی اس عربی روایت پر فخر کرنے والے لوگوںکو روک دیا۔ اصولی طور پر وہ اب مساوات اور بھائی چارے کے اصول پر یقین کرنے لگے۔
’’ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز‘‘
لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف رہی۔موجودہ حالات میں تیل کے کنویںخوشحالی کی کہانی سُناتے ہیں۔سعودی عرب آج دولت بادشاہت اور حاکمیت کی وجہ سے پوری دنیا کا توجہ طلب ملک ہے جو آج بھی صدیوں پُرانے قانون کی حمایت کرتا ہے ۔عرب کا لفظی مطلب ہوتا ہے زبان۔عرب والوں کو اپنی زبان اور ادب پر اتنا فخر تھا کہ یہ اپنے آپ کو عربی زبان والے مسافر کہتے تھے اور جبکہ دنیا کے باقی حصّوں کو یہ عجم کہہ کر پکارتے تھے ،عجم مطلب گونگے ۔اس سے آپ آسانی سے پتہ لگا سکتے ہیں کہ عرب سماج کس حد تک اپنی جھوٹی شان کے ساتھ انا کے شکار تھے ۔حضرت محمد ﷺ نے اعلان کیا کہ نہ کسی گورے کو کالے پر نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں سب ایک ہیں۔


عربوں کے بنائے قانون اور ملک میں موجود بندشوں نے یہاں کے لوگوں کو خاموش بنا رکھا ہے ۔میں حیرت میں تھا کہ اللہ کے اس شہر میں سڑکوں کے نام بھی شاہی خاندان کے لوگوں کے نام پر سجایا گیا ہے،یہاں تک کہ کعبہ کا داخلی دروازہ بھی۔ جدید شاپنگ مال،بڑے بڑے ہوٹل اور مصروف بازار مکہ میں آئے ہوئے عقیدت مندوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔کھجور،لوبان،مصلّے اور تسبیح سے سجے بازار انھیں لبھاتے ہیں۔خریداری کرتے حاجی بھی سالوں کی روایت نبھاتے ہیں ۔بازار کی صورت بھلے ہی بدل گئی ہو لیکن تجارت میں مہارت رکھنے والے عربی شیخ آج بھی اُتنے ہی ہوشیار ،ہنر مند ہے جتنے وہ پہلے ہوا کرتے تھے ۔دنیا کی دھوکہ بازی سے یہ جگہ بھی الگ نہیں ہے ۔اللہ کے اس شہر میں دین کے ساتھ دنیا کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔دھیرے دھیرے حج مسافر کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا اور مصروفیت بھی بڑھنی شروع ہوئی ۔روزانہ ہمیں کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔اکثر معاملے حاجیوں کی شکایت سے جُڑے ہوئے تھے ۔اُن کے رہنے کے انتظام میں کمی کی شکایت عام تھی اس کے علاوہ بھیڑ میں کھو جانے والے حاجیوں کی تعداد ہر دن اچھی خاصی رہتی جنھیں ڈھونڈ کر طے شدہ جگہ پر پہنچانے کی ذمہ داری کو نبھانا آسان نہیں تھا ۔کبھی کبھی ہمیں رات رات بھرجاگ کر کام کرنا پڑتا تھا ۔ہندوستان سے آئے ہوئے حاجیوں میں بزرگ حاجیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔یہاں کے سخت آب و ہوامیںیہ اکثر بیمار پڑ جاتے ہیں ۔ان کی صحت اور حفاظت کا دھیان رکھنے کے لیے ہمارا پورا عملہ تعینات رہتا ۔ڈاکٹروں اور نرسوں کے بے پناہ کام کو بُھلایا نہیں جا سکتا ۔یہ لوگ دن رات لوگوں کی تیماداری میں لگے رہتے ہیں۔پاسپورٹ ،سامان،پیسوں کا کھو جانا عام بات تھی ،بہت سے حاجی ٹھگوں کے ذریعہ بھی ٹھگے جاتے ہیں۔کبھی کبھی یہ معصوم حاجی قاعدہ قانون توڑنے کی وجہ سے بھی گرفتار ہوتے یعنی ہم بے شمار طریقوں سے مصروف ہی رہتے ۔ہمارا فون دن رات بجتا رہتا ۔ان کالوں میں زیادہ تر تعدادہندوستان سے حاجیوں کے رشتہ داروں کی ہوتی تھی ۔عام طور پر حاجیوں کے بہت سے گروپ معلم کے ماتحت ہوتے تھے ۔معلم مطلب مقامی عالم یا مولانا جیسے لوگ ،جو خاندانی طور پر اس وراثت کو سنبھالتے ہیں ۔یہ معلم موٹی کمیشن کے بدلے برائے نام حاجیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔حاجیوں کی ٹھہرنے کی جگہ کو مختب کہا جاتا ہے۔ہر مختب کی ایک خاص تعداد ہوتی ہے ۔ہندوستانی مختب میں پہچان کے لیے ہندوستانی ترنگا لگا رہتا ہے تاکہ اپنے وطن سے آئے حاجی اپنے وطن کے مختب کو آسانی سے پہچان سکے اس کے علاوہ ہندوستانی جھنڈا لیے حرم ٹاسک فورس کے لوگ بھی بھیڑ بھاڑ والے جگہوں پر رہتے ہیں تاکہ گُم ہوئے لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچایا جا سکے۔’’حج‘‘ مکہ شہر کے کچھ فاصلہ پر واقع مینا،عرفات اور مزدلفہ میں قیام کرنے کا نام ہے ۔۵۔۶ دن ٹینٹ میں رُک کر حاجی اللہ کے سامنے گناہوں سے معافی کی فریاد کرتے ہیں ۔بے سر و سامانی کے عالم میں احرام پہنے پوری دنیا کے حاجی گرمی کی شدّت کو برداشت کر جاتے ہیں ۔حاجیوں کے ساتھ معلموں کی لاپرواہی ایک عام بات ہے۔اس دوران ہماری پوری کوشش ہوتی تھی کہ ملک کے لوگوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچایا جا سکے ۔عربی افسران کے ساتھ مل کر ہم اپنے کام کو انجام دیتے تھے ۔تمام پریشانیوں کے باوجود حج کے بعد حاجیوں کے چہرے کا سکون آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا ۔وہ دنیا کے لوگوں کے دئے درد کو بھول کر اللہ کا شکرادا کرتے ۔


ایک بار میں جب کعبہ کا طواف کر رہا تھا تو میرے سامنے بنگلہ دیش سے آئے ہوئے بزرگ بھی طواف کر رہے تھے وہ صرف بنگلہ میں زور زور سے دوہرا رہے تھے ’’اللہ معاف کر دو ،بخش دو‘‘کوئی عربی آیت تھی ،دعا نہیں۔ایک غریب کا یہاں تک پہنچنا مشکل ہے اور یہ بزرگ اُسی کی عکاسی کر رہے تھے مجھے اپنے ملک کی اُن غریبوں کی یاد آنے لگی جو صرف پیسوں کی وجہ سے اس پاک گھر تک نہیں آسکتے۔جبل نور یعنی نور کا پہاڑ ،عرب میں عربی زبان میں پہاڑ کے لیے جبل لفظ کا استعمال ہوتا ہے اور کنویں کے لیے بیٖر۔اسی جبل نور پر ایک دن کہتے ہے محمد ﷺکو اللہ کا پیغام ملا۔اچانک جبرائیل ؑ محمد ﷺ کے پاس آئے اور اللہ کا پیغام سنایا اور دہرانے کہا’’اقرأ بسم ربک الذی خلق ‘‘ترجمہ ’’پڑھو اللہ کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا‘‘ اور رسول ﷺ اسی روشنی کو لے کر نیچے اُترے۔
اسی سفر کے دوران مجھے یوم آزادی کے موقع پرجدّہ میں ہندوستانی کونسلر جنرل کے دفتر میں پرچم لہرانے والے پروگرام میں حصہ لینے کا موقع ملا۔اپنے وطن سے دور دوسرے ملک کی زمین پر ترنگا لہراتے دیکھنا ایک یاد گار لمحہ تھا ۔بچوں نے رنگا رنگ پروگرام پیش کیے۔اس موقع پر وہاں کے ہندوستانی لوگوں کے علاوہ کچھ اورخاص عربوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ایک عربی نے تو گاندھی جی کا پسندیدہ بھجن ویشنوا۔جن۔تے۔نے ۔کہیے……..زور سے پڑھا ۔میں حیرت زدہ تھا ،مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا ۔ویسے عرب کے لوگ ہندوستانی لوگوں کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیںاور ہندوستان کے لیے وہ الہند کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ عربی میں ’’ال‘‘ لفظ عزت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ویسے ہمیں بتایا گیا تھا کہ پاکستان،بنگلہ دیش ہی نہیںاور ملکوں کے مقابلے میں عربی ہندوستان کو ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں۔ذاتی طور پر میں نے اس کا تجربہ بھی کیا جب کوئی مقامی آفسر نے مجھے جاننے کے بعد مجھے ’’الہند برادر‘‘ کہہ کر خطاب کرتا تو مجھے اچھا لگتا۔ایک بار جب میں ایک لائبریری میں بیٹھا پڑھ رہا تھا تو اچانک لائبریری کے چنداسٹاف میرے پاس آکر مجھ سے عربی میں عزت کے ساتھ بات کرنے لگے ،میں باہر آگیا تو وہ بھی پیچھے پیچھے میرے ساتھ باہر آگئے اور بات کرتے رہے ۔ایک ٹرانسلٹر کی مدد سے مجھے پتہ چلا کہ یہ عربی آدمی بھارت میں اپنا علاج کرانا چاہ رہے تھے ۔ٹرانسلٹر نے بتایا کہ یہ بھارت کے لیے کافی عزت رکھتے ہے اور وہاں کے ڈاکٹرو ں کی کافی تعریف کر رہے ہیں۔میرا سینہ فخر سے پھول گیا ۔ویسے یہاں کے لوگ ہندی فلم کے دیوانے ہیں ۔بندشوں کے باوجود وہ چوری چھپے لطف اٹھاتے ہیں۔ایک بند سماج میں بندشوں کا ہونا زیادہ معنی نہیں رکھتا ۔انسان اعتدال پسند ماحول میں رہنا چاہتا ہے ۔ہندوستانی اسکالر مسلمان یہاں کافی مشہور ہیں۔یہاں کی لائبریری میں ہندوستانی اسکالرز کی لکھی ہوئی کتابیں آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے۔اس سال اللہ کے کرم کی بدولت کسی بڑے حادثہ کے بغیر حج کا مکمل ہونا ہم سب کے لیے سکون کا باعث تھا ۔اب ہمارے لوٹنے کے دن قریب آرہے تھے۔ حاجی بھی دھیرے دھیرے اپنے ملکوں کی طرف لوٹ رہے تھے ۔شاید تمام انسانی تہذیبوں کی بنیاد میں ایک مثالی زندگی کا خاکہ چھپا ہوتا ہے ۔ یہ زندگی اپنی مخصوص علاقائی رنگ روپ کے ساتھ مختلف نظر آتی ہے ورنہ انسان کا انسان سے آپسی رشتہ صرف انسانیت کا ہے ۔ہزاروں سالوں سے دور دراز ملکوں کا سفر برداشت کرنا ان بہادر لوگوں کے سلوک کی بنیاد پر آسان ہوتا ہوگا۔آپسی لین دین اور تعاون سے ساری دنیا ایک دھاگہ سے بندھی ہوئی ہے جہاں مذہبی بندیشیں اپنی محدود دائرو ں میں رہ کر تمام تہذیبوں کی ٹھنڈی ہوا کو بہنے دیتی ہیں۔شاید اسی پس منظر میں حضرت محمد ﷺ بھی اکثر مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے صحابیوں سے کہا کرتے تھے کہ’’ مجھے الہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آرہی ہے۔ ‘‘
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
2 کمنٹ
  1. Avatar

    الحمدللہ۔ بہت خوب۔جزبات ایکسپرینس و روحانی ردعمل کا سنگم ایک حوبصورت لہجہ میں ایسے دلوں پر بخوبی نازل کر دیا گیا ہے جس کی حسرت کعبہ شریف کی ذیارت ابھی پوری ہونی باقی ھو ۔

    Reply
  2. Avatar

    الحمدللہ۔ بہت خوب۔جزبات ایکسپرینس و روحانی ردعمل کا سنگم ایک حوبصورت لہجہ میں ایسے دلوں پر بخوبی نازل کر دیا گیا ہے جس کی حسرت کعبہ شریف کی ذیارت ابھی پوری ہونی باقی ھو ۔

    Reply

کمنٹ کریں