اللہ میاں کا کارخانہ : خصوصی مطالعہ

مضمون نگار : عطیہ نفیس،حیدرآباد

, اللہ میاں کا کارخانہ : خصوصی مطالعہ

انسان کی سب سے بڑی صفتوں میں سے ایک خاص صفت خلوص بھی شامل ہے،خلوص جس شخص میں ہو وہی انسان کہلاتا ہے جو رسول اللہ کی سب سے بڑی خوبیوں میں تھی، دوسروں کے ساتھ خلوص سے پیش آنا ہی اصل حسن اخلاق ہے ،ایسے ہی پر خلوص معتبر ،نرم مزاج، شخصیت جن کا نام اردو ادب کے ماہر قلم میں شامل ہے ،جن کے کئی افسانے و ڈرامے فہرست ہیں، لکھنو شہر جیسے عظیم ادب وتہذیب کہ رہنے والے ماہر قلم ’’محسن خاں ‘‘سر ہیں ۔جب پہلی دافع مضمون خبرنامہ رسالے میں شامل کیا گیا تھا اس وقت آپ سے بات کرنے کا شرف حاصل ہوا ،آپ ہمیشہ شفقت کے ساتھ حوصلہ افزائی و مزید پڑھنے لکھنے کی نصیحت دیتے ہیں ،اگرتمام نئے لکھنے والوں کو محسن سرجیسی شخصیت کی شفقت ملیںتوآدب میں بے شمار نئے لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد میں مزیداضافہ ہوگا ۔محسن سر نے کئے افسانے بچوں کے لئے بھی لکھے ہیں،حال ہی میںآپ کا ناول اللہ میاں کا کارخانہ منظر عام پر آیاہے ،یہ ناول ایک بچے جبران نامی لڑکے کی دلچسپ کہانی ہے، منظر کشی ،زبان وبیان ،کردارنگاری ،پر مشتمل ہے اس ناول کا عنوان اللہ میاں کا کارخانہ رکھا گیاہے ،اس ناول میں کئی جگہ پندونصیحتیں موجود ہیں یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں ناول اللہ میاں کا کارخانہ بچوں کے لئے ایک اصلاحی ناول بھی ہے۔


ماں ،باپ،بہن،پر مشتمل جبران کا چھوٹا سا خاندان والد دنیا کی زندگی سے کونسوں دور آخرت کو ترجی دیا کرتے ہیں اور اسی اصول پر گھر کا سارا ماحول مذہبی انداز طریقہ کو اپنائے ہوئے چلتے ہیں جس میں سب سے بڑاکردار جبران کی والدہ کا ہے جو دونوں بچوں کو سدھی راہ پر چلنے کی ہدایت دیا کرتی ہے چھوٹی بہن نصرت بڑا بھائی جبران والدہ نماز کے لئے اٹھاتی ہے ،نصرت پہلے سے ہی اٹھ چکی تھی تھنڈک بہت تھی ،لحاف سے نکلنے کو جی نہیں چاہراتھا ،مگر جب دوبرہ ابا کی آواز آئی تو سردی سے کانپتا ہوا آنگن میں آگیا،اماں وضو کے لئے پانی گرم کر چکی تھیں اس سے وضو کیا ،نماز پڑھی ،پھر سپارہ پڑھنے بیٹھ گیا ۔آج اماں میٹھے کریلے پکارہی تھی ،نصرت خوشی سے مجھے بتارہی تھی میٹھے کریلے ہم لوگ بڑے مزے سے کھاتے ہیں ،مگر اس وقت گوشت کھانے کو جی چاہ رہاتھا میں نے اماں کو بتایا کہ احمد بکری کا گوشت لئے گھر جارہاتھا ،اماں کچھ دیر خاموش رہی پھر انہوں نے کہا ا للہ نے ان لوگوں کو دیا ہے ،جو چاہے کھاسکتے ہیں مگر ہمیں دوسروں کی برابری نہیں کرنی چاہئے ۔اللہ نے جو دیا ہے اس پر صبر کرنا چاہئیے اور اس کا شکر ادا کرتے رہنا چائیے۔بہت سے لوگوں کو ایک وقت کا کھانا بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے’’ نصر ت نے اماں سے کہا‘‘اللہ میاں کسی کوامیرکسی کو غریب کیوں بناتا ہے ۔۔۔؟


اماں نے کہا ’’اللہ میاں کسی کو امیر کسی کو غریب نہیں بناتے ہیں ،انہوں نے انسان کو ہاتھ پیر اور سمجھ بوجھ دے دی ہے ان سے جو آدمی جتنا کرپاتاہے ،اتنا اسے مل جاتاہے کبھی کبھی قسمت بھی ساتھ دیتی ہے تھوڑی کوشش سے بہت مل جاتا ہے اور بہت کوشش کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں مل پاتا ہے اس میں اللہ کی مرضی بھی شامل ہے ،جیسے چاہئے نوازدے اور جسے چاہئے فقیر بنادے اس کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا،اسی طرح دونوں بچوں کی پروارش ایک ماحول میں تھی اس کے باوجود نصرت اور جبران میں زمین و آسمان کافرق تھا،نصرت دل سے عبادت کیا کرتی تھی تو جبران جلدی جلدی اپری دل سے گھر کے ماحول کو اپنائے ہوئے تھا اس کا پتا اس کی باتوںحرکتوں سے بھی لگایاجاسکتا ہے بڑوں کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا کرتا جس کی وجہہ سے اسے مسجد و مد رسہ گھر و دوکان میں کئی دافع سزا مل چکی تھی اس کے باجود اس میں تبدیلی کونسو ں دور تھی اس کی اندورنی کیفیت نصرت سے بلکول مختلف تھی چاہئے وہ استاد کی چونّی چرانے کی بات ہو یا مدرسہ نا جاکر بندر کا تماشہ دیکھنے جانے کا ذکر ہو یا پھر چپل ٹھوٹ جانے پر اپنی ماں سے جھوٹا بہنا بنا کر بیان کرنا ہویا پھر سپارہ خریدنے کے پیسے سے پتنگ خرید کر دوست کے گھر چھپانا اس طرح کی حرکتیں اس کے لئے عام بات تھی۔


’’ عشاء کی نماز کے بعد جب میں بستر پر بیٹھا ڈورپتنگ کی ڈور سلجھا رہا تھا ،نصرت نے تکئیے کے نیچے ایک کتاب نکال کر مجھے دکھاتے ہوئے کہا یہ دیکھو میرے پاس ایک کتاب ہے ،کتاب نام کے ہجے لگا کر جبران پڑھنے لگا نصرت نے جلدی سے پڑھ کر بتایا ’’ دنیا کے چند عظیم لوگ ‘‘نصرت سے پوچھا یہ کتاب کہاں سے لی نصرت نے بتایا جب میں دوپہر کوکلو چچا کی دکان سے اماں کے لئے دوائی لینے جارہی تھی تو راستے میں چاچا مل گئے وہ مجھے لے کر اپنے گھر گئے چاکلیٹ والے بسکٹ کھلائے اور یہ کتاب پڑھنے کو دی یہ بھی کہا کہ یہ کتاب پڑھ لو ،بعد میں دوسری دونگا۔جبران چاچا جان نے اور کیا کھلایا ۔۔۔۔؟نصرت نے کہا کچھ نہیں بس بسکٹ کھلائے۔جبران اور دادی اماں نے پیسے نہیں دئیے۔۔۔۔؟نصرت میں نے مانگا بھی نہیں انھوں نے دیا بھی نہیں ۔۔۔!!جبران کے کردار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک بچے کے جسم میںچالاک نوجوان انسان چھپاہوا ہے۔اسے دیئے جانے والے استاد والدین پڑوسی و دکاندار کے طعنے بہت برے لگتے ہیں کبھی کبھار اس کے اندار انتقام کا جزبہ بھی ابھرنے لگتا ہے لیکن کمسنی کی وجہہ سے جزبہ وہی پست ہوجاتا ہے وجانتا ہے یہ جوبھی کررہاہے یہ غلط ہے اس کے باجود وہ اس ماحول میں مدجزر میں پنسا ہواہے۔۔!اس کی ذہنی کیفیت پر اس وقت حیرت ہوتی ہے جب استاد کہ چونی گم ہونے کا بہانا بنا کا پیسے اپنے پاس چپاکر جھوٹ کا پہاڑ لگادیتا ہے آخیر میں حقیقت کا پردہ فاش ہوتا ہے کہ چونی اس سے گم نہیں ہوئی بلکہ اسی نے لئے ہیں بس وہ بہانہ بنا رہا تھااس کی سزا استاد نے مرغا بنا کر دیا تھااس بات کا جبران کو بہت برا لگا اس لئے نہیں کے مرغا بنا پڑھا ا سلئے کے اسیے نسرین جو مدرسہ آتی تھی اسکے سامنے مرغا بننا پڑا جسے و نظریں ملائے کرتا تھاآج نظریں چرائے دل ہی دل میں افسوس کر رہاتھا ،لیکن اپنے غلطی کا ایسے کہیں احساس تک نہیں تھا،لیکن نسرین کیا سونچے گئی بس اس بات کا احساس تھا کے دوبارا نسرین کے طرف مسکرا کر نظریں نہیں ملا سکتا ۔۔۔!! اس کی کیا وجہہ ہوسکتی ہے ہاں ایک طرف تیز رفتار زندگی بچے وقت سے پہلے بڑے ہونے لگتے ہیں اس کے علاوہ قدرتی نظام کے مطابق بچے ہر و نئی چیز اطراف وکناف کے ماحول سے متاثر ہو کر سیکھنے لگتے ہیں رہی بات نسرین کی یہ عام کیفیت میں شامل ہے،سب سے اہم بات یہ پیدا ہوتی ہے مالی دوپودوں کی ایک ساتھ دیکھ بھال کرتا ہے اس کے باجود نصرت اور جبران میں اتنی حد تک تبدیلی کیوں۔۔؟ہوسکتا ہے عورت کی طبیعت میں گھریلوں ماحول میں رہنا ہوتا ہے اس لئے نصرت ماں کی شفقت میں زیادہ وقت گذارنے کا نتیجہ ہے ، یاپھر احمد کی دوستی کا اثر تھالیکن اس پورے ناول میں احمد جبران سے دو قدم پیچھے ہی معلوم ہورہاہے اس کی بڑھتی ہوئی نشونماء میں اس قدر تبدیلی کیوں جب تک و گھر میں ہوتا تھوڑبہت اپری تور پرماحول کو اپنائے رہتاہے اس قدر شرارتی ہونے کے باجود والیدین کا خاص کر والدہ کا سب سے اہم رول تھا ۔اسی لئے کہتے ہیں نا کے ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے،محسن سر کو اس بہترین ناول پر ڈھیر ساری مبارکباد پیش ہے اس ناول کی زبان وبیان خاص کر منظر کشی میں اتنی حقیقت ہے معلوم ہورہی ہے جیسے یہ منظر آنکھوں کے سامنے چل ر ہا ہومثال کے طور پرجبران اور نصرت چوزے کی خبر بنانے کا ذکر مجھے اپنا گذرا وقت یاد آگیا کے اسکول کے دنوں میں نانی ماں کے گھر جایاکرتے تھے جب میں نے اور میری سہلیوں نے مل کر بلی کی خبر بنائی تھی جو مجھے اور میری سہلیوں کو بہت پسند تھی ،کچھ اسی انداز سے جس طرح نصرت جبران چوزے کی خبر بناتے ہیں اس کے علاوہ مرغیوں کا رنگ ان کی خاصیت جو اس ناول میں بیان کی گئی ہے میری بھا ئی نے میرے کھلنے کے لئے خرگوش خرید لائے تھے ایک کالا دو بھورے ایک سفیدخرگوش ان کی صفت وغیرہ کو میں نے اس وقت معلوم کیا تھاجو محسن سر کی ناول میں موجود دو مرغیوںکا ذکر ہے اس کے علاوپڑوس میں جاکر جبران اور نصرت کا ٹی وی دیکھنے کا ذکر ،ہم جس محلے میں رہتے تھے میرے والدصاحب نے سب سے پہلے ٹی وی خریدا تھا ،مجھے جہاں تک معلوم شروعات یعنی میری پیدائش سے پہلے سے موجود تھی، میرے پڑوس کے بچے کچھ ایسے ہی ٹی وی دیکھنے آیا کرتے تھے جس طرح بہترین منظرکشی کے ذریعہ ناول میں بتایا جارہاہے ناول پڑھنے سے بچپن کے واقعات یاد آگئے،اس ناول کے مطالق ڈھیر سارے صفحہ تفصیل لکھ دوں تب بھی اس ناول کا حق ادا نا ہوگا اس ناول کی خود میں ایک پہچان ہے ناول نگار کے لئے ڈھیر ساری مبارک باد خدا کرے ناول نگار کو مزید ایسی کامیابی ملتی رہے اور ہم جیسے نئے لکھنے والوں پرآپ کی شفقت قائم رہے۔آمین
٭٭٭

شیئر کریں

کمنٹ کریں