امن پر اشعار

امن و سلامتی شاعری aman poetry shayari urdu اردو

عام طور پر اردو شاعری میں فاختہ کو امن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ امن و آشتی کی تمنا ہمیشہ سے انسان نے کی ہے مگر اس کی طلب کی مکمل تکمیل آج تک میسر نہ ہوسکی۔ امن ہی کی خاطر کتنا ہی جنگ و جدل ہوا، بستیاں لٹ گئیں مگر یہ ایسا عنقا عنصر ہے کہ کبھی پورا طرح دنیا کو میسر نہ آ سکا۔ ہر کہیں کچھ عرصے کے لئے سکون ہوا بھی تو انسانی شر نے اسے اگلے ہی مرحلے میں زائل کر دیا۔ امن و سلامتی کے موضوع پر اردو شاعری میں بہترین اشعار ملتے ہیں۔ کئی معروف و مشہور شعراء نے ان موضوعات پر عمدہ نظمیں، غزلیں اور اشعار تخلیق کیے ہیں۔ آئیئے کچھ بہترین اور عمدہ اشعار کا انتخاب پڑھتے ہیں۔

امن Aman Poetry شاعری اردو

امن میں حصہ چھوڑ چکا ہوں
ایک پرندہ چھوڑ چکا ہوں
عکس سمستی پوری
۔
امن کی کر خیرات عطا میرے مولا
جنگ و جدل کو دور ہٹا میرے مولا
ساحل منیر
۔
کتنا پر امن ہے ماحول فسادات کے بعد
شام کے وقت نکلتا نہیں باہر کوئی
عشرت دھولپور
۔
امن پرچار تلک ٹھیک سہی لیکن امن
تم کو لگتا ہے کہ ہوگا نہیں ہونے والا
فصیح اللہ نقیب
۔
امن ہر شخص کی ضرورت ہے
اس لئے امن سے محبت ہے
نامعلوم

رہے تذکرے امن کے آشتی کے
مگر بستیوں پر برستے رہے بم
انور شعور
۔
امن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی
جب تلک ظلم و ستم موجود ہے
اقبال کیفی
۔
مل کے سب امن و چین سے رہئے
لعنتیں بھیجئے فسادوں پر
ہیرا لال فلک دہلوی
۔
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا
جون ایلیا
۔
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
ساحر لدھیانوی

Aman Poetry امن شاعری

جنگ افلاس اور غلامی سے
امن بہتر نظام کی خاطر
ساحر لدھیانوی
۔
دھوپ کے سائے میں چپ سادھے ہوئے
کر رہے ہو امن کا اعلان کیا
عادل حیات
۔
شاید کہ سلیمؔ امن کی صورت نظر آتی
ہم لوگ اگر شعلہ بیانی سے نکلتے
سلیم کوثر
۔
مسلم مسیحی ہندو و سکھ ہیں بہت مگر
دنیا کو امن کے لئے انسان چاہئے
مهدی باقر خان معراج
۔
اب وہ دنیا عجیب لگتی ہے
جس میں امن و امان باقی ہے
راجیش ریڈی

یہ امن کی دھرتی ہے مگر آج یہاں پر
تکرار کا عالم ہے جدھر دیکھ رہا ہوں
شاداب انجم
۔
ابھی سے امن کی ٹھنڈک تلاش کرتے ہو
ابھی تو چمکی ہے یارو صلیب و دار کی دھوپ
علی عباس امید
۔
ہے دنیا کو امن و سکوں کی ضرورت
کرو ختم طوفاں اٹھانے کی باتیں
وید پرکاش ملک سرشار
۔
ہمیشہ امن نہیں ہوتا فاختاؤں میں
کبھی کبھار عقابوں سے بھی کلام کرو
ندا فاضلی
۔
اب وہ دن دور نہیں دیکھنا تم بھی یارو
امن کے نام پہ کیا فتنہ بپا ہوتا ہے
جعفر عباس

امن کی شاخ پہ بیٹھے ہوئے پنچھی سارے
شر پسندوں کی شرارت سے دہل جاتے ہیں
شبیر احمد شاد
۔
ہمارے شہر میں سب خیر و عافیت ہے مگر
یہی کمی ہے کہ امن و امان کچھ کم ہے
منظر بھوپالی
۔
یہاں تو امن و اماں سے کئی گنا زیادہ
پنپ رہا ہے سنو امن اور امان کا شور
ذیشان ساجد
۔
فطرتاً ہر آدمی ہے طالب امن و اماں
دشمنوں کو بھی محبت کی نظر سے دیکھیے
شکیل بدایونی
۔
گردن امن پہ دہشت کی چھری ہے انجمؔ
کون ایسے میں پھر آواز اٹھا سکتا ہے
شاداب انجم

امن کہتے ہیں جسے روح ہے آزادی کی
ایک عالم کو خبردار کیا ہے ہم نے
نشور واحدی
۔
کرنا ہے اپنے غم کا ازالہ بھی خود ہمیں
بارش نہ ہوگی امن کی اب آسمان سے
سنجے مصرا شوق
۔
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
محسن نقوی
۔
ہم بہت چاہتے ہیں امن و محبت ہر سو
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
عدیل زیدی

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں