اماوس میں خواب : معاصر ہندستان کا استعارہ

مضمون نگار : ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی

, اماوس میں خواب : معاصر ہندستان کا استعارہ

جدید اردوناول نگاروں میں حسین الحق ایک اہم نام ہے مگر انہوں نے افسانے پر زیادہ توجہ دی اس لئے ان کے ناول کم اور طویل وقفے کے بعد آئے۔حسین الحق نے اب تک تین ناول لکھے ہیں۔ پہلے ناول ’’بولومت چپ رہو‘‘ (۱۹۹۰)کا موضوع پرائمری ومڈل اسکول کی تعلیم اور سکنڈری لیول پر ایجوکیشن افسر کی نوکر شاہی ہے جس میں اسکول لیول پر بہار میں تعلیمی بدنظمی اور تعفن زدہ تعلیمی نظام کو اکسپوز کیا گیا ہے۔ دوسرا ناول ’’فرات‘‘ (۱۹۹۲)نئی زندگی اور نئی Sensibility کا اچھا ناول ہے جس میں ہم عصر ہندوستان کی تہذیب کے مختلف رنگوں اور ان کے ٹکراؤ کو سلیقے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔طویل گیپ کے بعد حسین الحق کا نیا ناول ’’اماوس میں خواب ‘‘ (۲۰۱۷)آیا جو ایک بڑے کینوس پر لکھا گیاہے ۔اس میں آزادی کے بعد کی سیاسی ،سماجی صورت حال بھی ہے اور مسلمانوں کی زندگی میں پیش آئے تغیرات و انقلابات بھی۔تعلیم کی کسادبازاری بھی ہے اور سیاست کی عیاری بھی۔اس میں بھیونڈی،مالیگائوں،بھاگلپور،بابری مسجد ،گجرات،لو جہاد،گئو رکچھا سب کچھ موجود ہے اور ان سب کو خوبصورتی سے قارئین تک پہنچانے کے لئے اسماعیل،قیدار،نائلہ اور رمیش جیسے مضبوط کردار بھی تراشے گئے ہیں۔آزادی کے بعد سے اب تک کی ہندستانی تاریخ کو ایک سیکولر اور غیر جانبدار نقطہ نگاہ سے دکھانے کے لئے ایک بڑے کینوس اور ہزاروں صفحات کی ضرورت تھی مگر حسین الحق نے ایک ماہر فنکار کی طرح استعارے ،تمثیل اور علامت کی زبان دے کر بڑی خوبی سے ۳۴۷صفحات میں سمیٹ دیا ہے۔یہاں ماضی اور اس کی قدریں ،اسلاف کی تہذیب،مشترکہ ثقافت خواب کی صور ت جلوہ گر ہوتی ہیں جسے تعبیر کی صورت میں اسماعیل سے نائلہ تک تین نسلیں پانا چاہتی ہیں ،مگر کیا کیجے کہ ملک نے اپنے اوپر نفرت ،سیاست اور دشمنی کے اماوس کی وہ چادر تان رکھی ہے کہ تعبیر کا چاند نکل ہی نہیں پاتا۔حسین الحق نے اس ناول میں بیانیہ کا خوبصور ت استعمال کیاہے۔ اس کا ڈکشن استعارے اور تمثیل کو نئی جہتیں دیتاہے اور بیانیہ کو دلچسپ بنادیتاہے۔
۳۴۷ صفحات پر مشتمل اس ناول میں جیسا کہ میں نے کہا آزادی کے بعد سے آج تک کی ہندستانی تاریخ کے بین السطور کو پیش کرنے کوشش کی گئی ہے۔آزادی کے بعد کا یہ عرصہ ملک کے لئے جیسے بھی تغیرات سے بھرا رہا ہو ،انسان کے لئے ذہنی انتشار،قلبی خلفشار اور فکری اضطراب کا عرصہ رہا ہے جس کا تعلق آج سے ہے اور آنے والے کل سے بھی۔جمہوریت کے
خوشنما لبادے میں قید فر د کی چھٹپٹاہٹ ،بے چینی اور جھنجھلاہٹ مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔آج کا انسان جس کی زندگی آزادی کے بعد سے مسلسل عذاب کا شکار ہے ،جس بے یقینی کا شکارہے اور جن ناہمواریوں میں سانس لینے پر مجبور ہے اس کا تخلیقی اظہار اس ناول کا وصف ہے۔اردو میں ہم عصر صورت حال پر ناول کم کم لکھے گئے ہیں۔یہ ناول موجودہ سیاسی،سماجی ،تہذیبی صورت حال کی عکاسی تاریخ کے بجائے تجربات کی روشنی میںکرتاہے۔اس میں ہر لحظہ بدلتی زندگی،ہر پل انقلاب سے دوچار معاشرے اور ہر گھڑی چونکانے والی حسیت کے اتنے مناظر سامنے آتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتاہے ہم ناول کے بجائے وقت کے ساتھ سفر کررہے ہوں۔ اپنے آس پاس کی صورت حال کو حسین الحق نے جس جذباتی قوت اور غیر معمولی حسی شدت کے ساتھ محسوس کر کے اپنے ناول کا حصہ بنایا ہے وہ اس ناول کو situation based novel localکے ساتھ ساتھ عالمی صورت حال کا آئینہ بھی بنادیتی ہے۔دم توڑتی انسانیت ،عصری سیاسی حسیت اور قدروں کا بکھرائو ایسے عناصر ہیںجو اگرچہ مقامی تناظر میں ناول کا حصہ بنے ہیں مگر بڑی آسانی سے قاری کے فکری منطقے کو عالمی صورت حال تک بھی پہنچا نے کا وصف رکھتے ہیں۔


ناول کا انتساب ’’مادر وطن ہندستان کے نام ‘‘ کیا گیاہے اور نیچے شعر درج ہے:
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
یہ شعر ہی ناول کی روح ہے۔اسماعیل ایک استعارہ ہے اس سماج کا جو آزادی کے بعد سے مسلسل منزل کی تلاش میں پل صراط سے گزر رہا ہے مگر دوسرا سرا دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔اس سفر میں اس کے دل ودماغ میں ایک محشر بپا ہے ۔وہ گر تا ہے،زخمی ہوتا ہے،مگر ہمت نہیںہارتا ۔شکست کھاکر بھی اُٹھ کھڑا ہوتاہے کہ اسے وہ قرض اتارنے ہیں جو نہ ہوتے ہوئے بھی اس پہ واجب قرار دے دئیے گئے ہیں۔ در اصل گزشتہ نصف صدی کا عہد ہی قیامت جیسے انتشار اور افراط و تفریط کاہے۔اس عہد میں جنم لینے والی بیشتر ناہمواریاں مصنف کی نگاہ میں رہی ہیں اوروہ اپنے عہد کی ہر تصویر کا گواہ ہے۔اس لئے سیاست،سماج،کرپشن،فساد،مذہب،فلسفہ اور عہد حاضر کے تمام تغیرات جب اس کے قلم کی زد میں آتے ہیں تو زندہ مناظر کی صورت سامنے سے گزرتے ہیںاورقاری کے لئے یہ مناظر صرف ماضی کی بازیافت نہ رہ کرموجودہ صورت حال اور اس کی معنویت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ناول سے کہانی اخذ کرنا مقصود ہوتو وہ چند سطروں میں بیان کی جاسکتی ہے کہ اسماعیل مرچنٹ فسادات کے بعد دربدر بھٹکتاہوا بالآخر جائے اماں کی تلاش میں ’بہار‘ پہنچتاہے اور زندگی کی آزمائشوں سے جوجھتے ہوئے بم دھماکے کا شکار ہو جاتاہے اور تقریباً یہی انجام اس کی اولاد کے ساتھ بھی پیش آتاہے اوربس۔ مگر کہانی کے ساتھ ماضی قریب سے حال تک کا تہذیبی اور معاشرتی سفر کرنا ہو تو بات چند سطروں سے نہیں بنتی ۔پھر اس کا ہر صفحہ ،اس کا ہر باب ایک نیا منظر لئے سامنے آتاہے اور آپ کو مٹی کی محبت میں قرض اتارنے والے آشفتہ سروں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتاہے۔اس منظرنامہ کو پیش کرتے ہوئے مصنف کی نگاہ عہدحاضر کے چھوٹے چھوٹے واقعات و حادثات پر رہی ہے ،اس لئے گائوں سے ممبئی جیسے شہرتک کے مناظر اس سفر کا حصہ بنے ہیں۔ناول کے ابتدائی تین ابواب گویا قصہ کی تمہید کا درجہ رکھتے ہیں ،جس میں اماوس کا اندھیرا ہی اندھیر اہے اور جس سے جوجھنے ،لڑنے اورباہر نکلنے کی چھٹپٹاہٹ ،بے چینی و اضطراب کی علامت۔مگر یہیں سے کسی فلم کی سین کی طرح مناظر دامن پکڑنا شروع کردیتے ہیں۔آئیے کچھ دور ہم بھی ان سچویشنز کا سامنا کریں۔


پہلا منظر۔دربدر بھٹکتا ہوا اسماعیل جب بہار میں پناہ لیتاہے تو اسے پٹنہ یونیورسٹی اپنے دامن میںپناہ دیتی ہے۔جہاں دوستوں میں ایک طرف فیضان رسول میرانی ہے تو دوسری طرف انیل شرما۔یہ وہ زمانہ ہے جب بہار میں ایم۔وائی کی جوڑی سیاست میں دوھوم مچا رہی تھی۔ایک دن انیل شرما اور شوبھا کی لو اسٹوری میں رقابت کی جنگ ہوتی ہے اور وہ گوالا کے بجائے اپنے دوست انیل شرما کے ساتھ کھڑا ہوتاہے۔
’’اِس سالے کو دیکھو ،یہ میاں ہے سالا؟ یہ بھومیہار کا ساتھ دیتاہے؟ سالا بھومیہار
کا ساتھ دیتاہے‘‘
فیضان اُس وقت وہاں نہیں تھا،بعد میں پہنچا۔اسماعیل نے تفصیل بتائی تو وہ ہنسنے
لگا۔اسماعیل پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگئی۔’اس میں ہنسنے کی کیابات ہے؟
ارے یار !وہ سالا عشق کا معاملہ ہے،اس میں تم بلا وجہ کود گئے۔
مگر وہ لڑکا بھومیہار بھومیہار کیا کررہاتھا؟
وہ لڑکا گوالا ہے،بہار میں مسلمان گوالوں کے ساتھ ہیں اور گوالا بھومیہار کے
خلاف ہے۔اب تم گوالے کے خلاف جاکر اور بھومیہار کے ساتھ ہوکے لڑنے
لگے تو اُس پر جھلاہٹ تو طاری ہونی ضروری تھی۔
یہ ایک نیا منظرنامہ تھا اور اسماعیل کو جگہ جگہ اس کا سامنا کرنا پڑا‘‘(ص۔۹۴)
یہ وہ منظر نامہ ہے جسے بہار کی حالیہ سیاست میں مرکزیت حاصل تھی۔مسلمان اقتدار میں حصہ داری کے نشے میں جھوم رہے تھے۔کالج کے ریزلٹ سے نوکری تک گوالوں کی حصہ داری میں اضافہ ہورہاتھا۔اور اس کے لئے جواز یہ دیا جارہاتھا کہ جب تک برہمنوں ،راجپوتوں اور بھومیہاروں کی چلی گوالوں کو تیسرا درجہ بھی نہیںدیاگیا ،اب موقع ملا ہے تو کیوں نہ فائدہ اٹھائیں؟اور رہی مسلمان کی تو وہ اسی میں خوش تھا کہ وزیر اعلیٰ اس کے بنائے کباب کھارہے ہیں،بی جے پی کو کھری کھری سنارہے ہیں اور خانقاہوں ،مزاروں کی تقریبات میں ٹوپی پہن کر شریک ہو رہے ہیں۔اس میں کوئی فرق نہ کرسکا کہ وہ ٹوپی پہن رہے ہیں یا پہنا رہے رہیں۔


دوسرا منظر:جوکاسٹ لائن گوالوں اور مقابل اعلیٰ ذات کے درمیان پید اہوئی تھی وہ بڑھتے ہوئے اس منزل تک پہنچ گئی کہ گوالہ گردی اور نکسل تحریک سے مقابلہ کے لئے سن لائٹ سینا ،ایم سی سی اور گولڈن آرمی جیسی سینائیں وجو د میں آگئیں۔اسماعیل فیضان رسول کے ساتھ’میران بیگہ ‘ کا سفر کرتاہے تو اس کے سامنے ایک اور دنیا آتی ہے جہاں ہندستان کی ۸۵ کروڑ جنتا دلت ٹولے میں ملتی ہے،شیو چرن سنگھ کا قتل چونکاتاہے،ایم سی سی اور گولڈن آرمی میں پسماندہ بنام اعلیٰ نسب اقوام کا مقابلہ جنگ کی صور ت اختیار کرتاہے اور اس جنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتاہے کہ ان کے منہ میں زبان آجاتی ہے جو صدیوں سے گونگے تھے۔اور اس طرح اپنا ہندستان بدل رہا تھا:
’’کمیونز م کے بارے میں وہ سنی سنائی باتیں افصح صاحب پر پٹخنے لگا تو وہ بولے، دیکھو
موجودہ منظرنامے کو تم صرف کمیونزم کے واسطے سے نہیں سمجھ سکتے۔ ہندستان میںکچھ اور
فکر ی دھارائیں بھی زیریں لہرکی طرح کام کررہی ہیں،لوہیا جی نے سماجی انصاف پر
جو تھیوری پیش کی ہے اس میں انہوں نے بہت صاف صاف لکھاہے کہ ہندستان میں
طبقاتی جد وجہد کو کاسٹ اورئینٹڈ ہونا ہی پڑے گا۔
’آپ کھلم کھلا ذات پات کی حمایت کر رہے ہیں‘۔اسماعیل نے بہت زور سے بدک
کر کہا۔تِس پر وہ ہنسے اور بولے۔’گاندھی میدان کے ایک بڑے جلسے میں جے
پرکاش نرائن نے کھلے عام کہا تھا۔’’سوال سماجی انصاف کا ہے ،وہ جس راستے سے
آسکے ،اسی راستے سے اُسے لانا چاہیے۔‘‘
تیسرا منظر: سیاست جب رنگ بدلتی ہے تو اس کے اثرات دورپا اور دیر پا ہوتے ہیں۔بہار کی سیاست نے جہاں سماج کو فکر سطح پر بدل دیا وہیں انتظامی سطح پر بھی تبدیلیاں پیدا کیں۔ساتویں باب میں ناول نگار نے مثال کے طور پر تعلیمی اداروں میں پیدا ہونے والی صورت حال کا منظرنامہ پیش کیا ہے۔حکومت نے ۱۹۷۰ سے پہلے کے قائم کئے ہوئے کالجوں کو کنسٹی چوینٹ کرنے کا اعلان کردیا تو ایک طر ف انتظامی مسائل پیدا ہوئے اور دوسری طرف رشوت خوری ،اقربا پروری کا بازار گرم ہوگیا۔صلاحیت کی بجائے طاقت،غنڈہ گردی،پیسہ اور سیاست نے آگ پکڑ لی۔پچھلے دروازے سے تقرری ،فرسٹ پوسٹ،سیکنڈ پوسٹ کی لڑائی میں رشوت دینے والے کی فتح،تنخواہ میں کٹوتی کی تلوار،پروفیشنل کورسز کو بڑھاوا دے کر پیسہ اگاہی کا راستہ بنانا اور دھیرے دھیرے کالجوں سے علم کا غائب ہوجا نا،اس منظرنامے کے اہم حصے ہیں:


’’اُس رات اسماعیل کو بہت دیر تک نیند نہیں آئی۔پہلی مرتبہ اُس کو اپنے پیشے سے
اکتاہٹ محسوس ہوئی۔یہ کیسی نوکری ہے جس میں غنڈہ بدمعاش جاہل لفنگا سب
گھس جاتاہے۔اگرا سی طر ح لکچرر پروفیسر بنا جاسکتاہے تو اتنی محنت،اپنے سبجکٹ
کے بارے میں حاصل کی جانے والی مہارت،برسہا برس سے دن کا چین اور رات
کا آرام حرام کرکے سارا شوق مارکر،کوڑی کوڑی بچا کر ،اپنے سبجکٹ میں آنے والی
نئی نئی کتابیںخریدنے کی اور گئی رات تک جاگ جاگ کر پڑھنے کی کیا ضرورت تھی؟
سب محنت کرنے والے گدھے ہوئے ،ارون بھاٹیہ جیسے لوگ ہی عقلمند ہوئے نا ،کہ
ہلدی لگی نہ پھٹکری رنگ آیا چوکھا۔‘‘(ص۔۱۳۹)
چوتھا منظر: ہم عصرہندستان کو ایک نئے رنگ میں رنگنے والا خوفناک واقعہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو وقوع پذیر ہوا جب بھیڑ جمع کرکے بابری مسجد شہید کر دی گئی۔یہ ایک زور دار جھٹکا تھا اُ ن لوگوں کے لئے جو ملک کی جمہوری قدروں کے امین تھے۔مگرمصنف نے کمال فنکاری سے شہادت کا واقعہ بیان کرنے کے بجائے معاشرے کی فکری صورت حال پر توجہ دی ہے ۔’’ایسی فضا کو کیا کہاجائے جس میں حبس ہو نہ کشادہو‘‘۔ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے جب یہ ثابت ہو جائے کہ کچھ ثابت نہیںہو سکتا۔‘‘یہ جمہوریت ہے یا جمورے کا تماشہ؟۔کسی نے اسے مسلمانوں کی بداعمالی کا نتیجہ قرار دیا تو کسی نے مذہبی منافرت کے شعلوں کو ہوا دی۔بات آستھا ،عقیدے سے ہوتی ہوئی مذہب اور تصوف تک پہنچ گئی مگر نتیجہ یہی نکلا کہ نجات۔۔ سیاست ،مذہب ،عقیدہ اور تصوف کے بجائے بھگتی اور تصوف کی آمیزش میں ہے جو بت پرستی اور خداپرستی سے زیادہ انسان پرستی کی راہ دکھاتی ہے۔اور جو کہتی ہے
مجھے سے کہا جبریل جنوں نے ،یہ بھی وحی الٰہی ہے مذہب تو بس مذہب دل ہے ،باقی سب گمراہی ہے
مگر کسی کو یہ بات آسانی سے کب سمجھ آئی ہے۔عام آدمی نہ تالا کھلوانے سے فکر مند ہوا اور نہ دیواروں کے ٹوٹنے سے متاثر ہوا ،پن چکیّ چلتی رہتی ہے۔ اور لوگوں کے پاس اپنے مسائل کم ہیں کہ وہ پیٹ بھرے نیتائوں،واعظوں اور مقرروں کی طرح مذہب،زبان اور تہذیب کے نام پر اپنی روٹی سینکیں؟ وقت کے ساتھ سب بھول گئے اورصورت حال یہ ہے کہ :
’’ عمارت گری پڑی ہے،کچھ لوگ تو دب کر مرہی گئے،باقی گرتے ہوئے ملبے سے چوٹ
کھا کر زخمی ہوئے،اور بہت سارے عمارت کے گرنے سے دُکھی ہوئے ،کچھ زخمی ابھی تک
کراہ رہے ہیں،بہتوں کا ہاتھ عمارت کے نیچے دبا ہے،کچھ کا پیر پھنساہے اور کچھ کی املاک
تباہ ہو گئی ہیں۔مگر صورت حال جیسی تھی ویسی ہی ہے کیوں کہ مالکان ِ اصلی اور کاشت کارانِ
اصلی دونوں کو کسی نے سمجھا دیا تھا کہ عمارت کے نیچے خزانہ دفن ہے۔اس لئے دونوں ہی اس
عمارت کی ملکیت کے دعوے دار ہیںاور وہ منہدم عمارت ،عمارت کے درجے سے آگے
بڑھ کر ماں بن گئی ہے۔حیات اللہ انصاری کی ’آخری کوشش‘ والی ماں!‘‘(ص۔۲۷۳)


پانچواں منظر: بہار میں انتخابات کا موسم بڑے برے موسم کے روپ میں شمار کیا جاتاہے۔دوسرے صوبوں میں ہو سکتاہے یہ صورت حال نہ ہو اور لوگ بخوشی الیکشن ڈیوٹی کرتے ہوں ،مگر بہار میں یہ عذاب سمجھی جاتی ہے اور پرائمری اسکو ل سے کالج کے پروفیسر تک سب اس کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ دامے ،درمے ،قدمے،سخنے جیسے بھی ممکن ہو اس ڈیوٹی سے نجات حاصل ہو جائے۔غیر تدریسی ملازمین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ سارے کام ٹیچروں سے ہی کروالیے جائیں۔ڈیوٹی سے نام کٹوانے سے انتخاب کے بعد ووٹوں کی گنتی تک جتنے مراحل ہیں وہ پل صراط سے کم نہیں۔حسین الحق خود پروفیسر رہے ہیں ،اور دوران ملازمت انہیں اس جہنم زار سے گزرنا پڑا ہوگا۔چنانچہ انہوں نے الیکشن ڈیوٹی ،ووٹ اور ملازمت کی مجبوریوں میں پھنسے ایک شریف انسان کی بے بسی،ذہنی کرب اور اذیت کو بڑے حقیقی انداز میں پیش کیاہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے سیاست ،ووٹ بینک اور بوتھ قبضے کے ذریعہ فتح حاصل کرنے کے سیاسی کھیل پر بھی گہری نظر ڈالی ہے۔ایک منظر دیکھئے
’’اسکول کے باہر لوگوں کا مجمع لگا ہوا تھا۔ہر پارٹی والے اپنے دوچار سورمائوں کے ساتھ موجود تھے۔
رکشہ والے عورتوں کو اور کبھی کبھی بوڑھوں کو بھی لے کر آتے اور اسکول سے ذرا دور پر اُتار کر پھر محلے
کے اندر چلے جاتے ۔اسماعیل کو یاد آیا کہ پارٹی والوں کی طرف سے ووٹروں کو آنے جانے کی یا کسی
قسم کی سہولت دینا اب الیکشن کمیشن کی طرف سے غیر قانوی قرار دیا جاچکاہے۔مگر اسماعیل دیکھ رہاتھا
کہ رکشے آ جا رہے تھے اور کوئی روک ٹوک کرنے والا نہ تھا۔۔۔۔۔وہ ایک پولنگ ایجنٹ سے پرچی
بنوانے لگا۔اچانک اسکول کے اندر سے پہلے تڑا تڑ لاٹھی چلنے کی آواز آنے لگی،اور پھر ہوائی فائر ہوا۔‘‘(ص۔۲۰۴)
بوتھ کیپچرنگ،قتل وغارت گری،گالی گلوج یہاں الیکشن کے لازمی عناصر ہیں جن کے درمیان عام انسان،شریف انسان خاموشی کے ساتھ پستا رہتاہے ۔یہ منظر اشارہ ہے اُس صور ت حال کا جس میںزباں بندی کا غیر اعلان شدہ حکم جاری ہو چکاہے۔آدمی کتابی،قانونی اور اصولی باتیں دماغ میں دہرا تو سکتاہے ،زبان پر ہرگز نہیں لاسکتا۔
’’میں اسماعیل رضا ولد ابراہیم رضا بابر ی مسجد کے گرنے پر کچھ نہیں کرسکتا ۔شاہ بانو کیس کی بے
معنویت پر اپنے ہم مذہبوں سے کوئی مکالمہ نہیں کرسکتا،الیکشن (ووٹ) دیتے ہوئے بلا وجہ
گرفتار کر لینے پر اور دن بھر کے لئے حراست میں ڈال دینے پر کچھ نہیں کرسکتا ۔یہاں اجماع
چاہئے۔بھیڑ،جاہلوں کی یا ایسے پڑھے لکھے لوگوں کی جنہیں جاہلوں کی بھیڑ پڑھا لکھا مان لے۔
یہاں ایک آدمی کی تنہا رائے کا کوئی معنی نہیں بنتا۔جمہوریت وہ طرز حکومت ہے۔۔(ص۔۲۰۶

)
چھٹا منظر: یہ منظروہ ہے جو ہمارے مشاہدے اور تجربے کا حصہ بن چکاہے۔رشوت خوری،اقربا پروری اور فرقہ پرستی سرکاری دفتروںاور وہاں کی ہر فائل سے جونک کی طرح چمٹ کر رہ گئی ہے۔گپتا جی ہوں یا یادو جی،سنگھ صاحب ہوں یا اسماعیل صاحب ،سب اسی جونک کا شکار ہیں۔دفتروں میں معمولی سی فائل بھی بغیر چائے پانی کی آگے نہیںکھسکتی۔جسے چاہا اور جب چاہا ،حکومت نے پروموشن دے دیا اور جب چاہا جسے چاہا ڈیموٹ کردیا یا برطرف کردیا۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔مگر کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔حکومت اور سیاست نے مداری اور اس کے کھیل کی شکل اختیار کرلی ۔کانگریس کی مخالفت کے بعد اقتدار کی ہوس نے جگلروں کو پیدا کیا جنہوں نے مذہب اور فرضی ہندومسلم تہذیب و تشخص کا شوشہ چھوڑکر تمام ہندستانیوں کو الگ الگ خانوں میں بانٹنے کا ایسا کھیل شروع کیاجس نے سماج میں ایک خوفناک اور بھیانک صورت حال پید اکردی۔ایسے میںزندگی سے انسان کا سروکار صرف جینے کی حد تک رہ گیا اور وہ اسی میں مطمئن ہے کہ کم از کم غیر فطری موت سے تو دور ہے:
’’سیماب نے اسی جوکھم کا ذکر کرتے ہوئے توفیق کی وہ بات بھی دہرائی تھی کہ ’’اب یہاں
ہندو مسلم فساد نہیں ہوتا‘‘۔اور اس بات پر اسماعیل کو ممبئی کا وہ ملنگ دوسست یاد آیا،جس نے
بہار لوٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاتھاکہ ’’بہار ایک پرسکون صوبہ ہے۔وہاں فرقہ وارانہ
فساد نہیںہوتا‘‘۔کیا انسانی سروکار میں سب سے بڑا عنصر جیناہے؟ پاگل ،مفلوج اور مند بدھی
والے بھی تو جیتے ہیں۔(ص۔۲۱۸)


اوراس مفلوج اور مندبدھی سماج میں اگر کو ئی اپنا سروکار ذہن و فکر سے قائم کرتا ہے تو اسے اس قسم کے سوالات پریشان کرتے ہیں ۔کیا زندگی کا مقصد صرف سانس لینا ہے ؟کیا انسان کی منزل صرف روٹی ہے ؟کیا کسی ایک ہی پھول سے باغ بن جاتا ہے؟ کیا آدمی کو رنگ برنگے پھولوں کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے؟ کیا سچ مچ کسی ایک پھول اور خوشبو کے علاوہ باقی ساے پھول اورخوشبوئیں صرف باہر سے برآمد کی ہوئی ہیں؟کیا اس رویے کے بغیر بھی جینے کی کوئی راہ ہے؟مگر موجودہ صورت حال کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے ایسے سوالوں سے جوجھنے والے ذہنوں کو قید کرلیاہے۔ ساتواں منظرـــ: اس منظر کے کئی شیڈز ہیں جو ہمارے معاشرے کی مذہبی ،تعلیمی اور سیاسی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔زوال روس کے اثرات،مذہبی جماعتوں کے فروغ اورمدارس کے دقیانوسی نظام تعلیم وغیرہ پہ مصنف نے نہ صرف بحث کی ہے بلکہ اس سے وابستہ قوم کی ذہنی و معاشی پسماندگی سے بھی روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔مدرسے میں عام طور پر غریب طبقہ تعلیم حاصل کرتا ہے ،جو وہاں نہ جاتا تو پاکٹ ماری،چوری چکاری کرتا یا رکشہ چلاتا،بیڑی بناتا اور مزدوری کرتا۔یہاں خوش حال طبقے کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیںہوتا۔ صدیوں پہلے فٹ بال کا کھیل وہاں بچوں کی تفریح کا سامان تھا ،وہ اب بھی ہے ٹھیک ویسے ہی جیسے صدیوں سے ان کانصاب تعلیم۔کرکٹ ،بیڈمنٹن وغیرہ سے وہ اب تک کیوں متعارف نہ ہوسکے؟بہار سے مہاراشٹر تک پورے ہندستان میں ایک ہی طرز تعلیم کیوںہے؟سالہا سال سے اس میں تبدیلی کی کوئی ضرورت کیوں نہیںمحسوس کی گئی؟
’’اسے درخت یاد آئے جو ہر سال اپنی چھال بدلتے ہیں ،پرندے یاد آئے جو اپنے پر
جھاڑتے ہیں،جاندار جسم یاد آیا جو اندر سے باہر تک لگاتار اپنے کو ادلتا بدلتا رہتاہے۔
مگر یہ لوگ؟اسے شتر مرغ یاد آیا ،جو ریت میں سر چھپا کر سمجھتاہے کہ طوفان ٹل گیا۔
یا وہ مینڈک جو کنویں میں رہتاہے اور کنویں کو ہی سمندر سمجھتاہے۔‘‘(ص۔۲۴۴)
آٹھواں منظر: یہ منظر آج کا ہے جس میں نتیش مودی کی دوستی،سوشاسن بابو اور بی جے پی کی حکمت عملی،پردھان متری کی آمد،گاندھی میدان کا بم دھماکہ،افضل گرو،جے این یو،موب لنچنگ،اخلاق کی موت اور وہ سب کچھ ہے جو ہماری زندگی ،سماج اور ملک کے بدلتے منظرنامے کی علامت ہے۔۱۴ویں باب سے ۲۳ویں باب یعنی اختتام تک ناول ہمیں اپنے آپ سے ملواتاہے۔یعنی آج کے موجودہ منظرنامے سے جہاں پٹنہ ،بہار اور ملک کی صورت بدل چکی ہے۔بے روزگاری منہ بائے کھڑی ہے،نوجوان باہر بھاگ رہے ہیں،فارورڈ بیک ورڈ اور ریزرویشن نے معاملہ اور پیچیدہ کردیاہے،فرقہ وارانہ عصبیت شہر سے بڑھتے ہوئے گائوں کی مسجد،خانقاہ اور قبرستانوں تک پہنچ گئی ہے،ذات پات کی لعنت نے غیرمسلموں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے،نکسل موومنٹ میں پسماندہ مسلمان بھی شامل ہورہے ہیں اور بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب گائوں میں ان کی میٹنگیں بھی ہو رہی ہیں۔اور اس سب کے درمیان ایک نعرہ امید کی طرح شہرت حاصل کر رہاتھا کہ اچھے دن آئیں گے۔مگر اچھے دن کے لئے جو راستہ اختیار کیا گیا اس سے معلوم ہو اکہ وہ نعرہ عوام کے لئے نہیں خودکے لئے لگایا گیا تھا۔عوام کو تو اُس آگ میں جھونک دیا گیا جس کا شکار اسماعیل،فیضان ،اخلاق اور جنید جیسے لوگ ہوئے۔


’’گئو رکچھا ۔۔وندے ماترم۔۔رام مندر۔۔۔انہی آوازوں میں کچھ اور آوازیں گڈمڈ ہو
رہی تھیں۔۔۔اسلام واحد راہ نجات۔۔۔کافروں سے قتال کار ثواب۔۔۔پھر فضائوں
میں جھنڈے لہراتے ہیں۔ہندو واہنی ۔۔۔بجرنگ دل۔۔۔گئو رکچھا سمیتی۔۔۔شیو سینا۔۔
آرایس ایس۔۔جھنڈوں کے چیختے چلاتے رنگوں میں ۔۔۔بیچ بیچ سے کچھ مدھم ہم رنگ
سر اٹھاتے۔۔۔مجلس اتحادالمسلمین۔۔۔سیمی۔۔۔انڈین مجاہدین۔۔۔قیدار ایک طرف
سے نظرچراتا تو دوسری سمت کچھ ایسا تھا جو راستہ روک کے کھڑا ہوجاتا۔۔۔ہر طرف اونچی
اونچی دیواریں۔۔۔ہر دیوار پر جھنڈے۔۔ہر دیوار کی ہر اینٹ سے گندا خون اُچھلتا کودتا
باہر آتا۔(ص۔۲۶۹)
صورت حال پہلے بھی خراب ہوئی تھی مگر اُس زمانے میں خون خرابے کی نوبت کم آتی تھی،دلوں میںدیواریں قائم نہیں کی جاتی تھیں۔جنگ کے بعد بھی دل ملے رہتے تھے یہاں تک کہ رشتے داریاں قائم ہو جاتی تھیں۔ہولی،دیوالی سے مسلمان اور شب برات محرم سے ہندو الگ کب اور کیسے ہو گئے یہ کوئی محسوس نہ کرسکا۔صورت حال کے بھیانک پن میں اضافہ ہی ہوتا گیا،یہاں تک کہ تاریخ ،تہذیب اور عشق کی ساری داستانیں بدل دی گئیں۔
مذکورہ بالا مناظر سے سب سے پہلے تو یہ و اضح ہوتا ہے کہ مصنف نے گذشتہ پچاس برسوں کے دوران ہمارے عہد اور معاشرے کو متاثر کرنے والی بیشتر ناہمواریوں پر گہری نظر ڈالی ہے۔کبھی تجربے کی صورت میں اور کبھی مشاہدے کا سہار الے کر انہوں نے صوبہ بہار کے انُ چھوٹے چھوٹے واقعات کو بھی ناول کا حصہ بنایاہے جن کا تعلق ہمعصر علاقائی صورت حال سے توہوسکتاہے ،قومی یا عالمی تاریخ سے قطعی نہیں۔مثلاً کالجوں کا کنسٹی ٹیوینٹ ہونے کا معاملہ،رنجن یادو کا سیاسی عروج،کوچنگ کلاسز کا کھیل،بوتھ کیپچرنگ،الیکشن ڈیوٹی کی بوالعجبیاں اور شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کی منتقلی وغیرہ۔مگر ناول محض ان واقعات کا بیان نہیں۔یہ مصنف کے گہرے سماجی ،سیاسی اور تہذیبی شعور کا عکاس بھی ہے۔یہ اُس قوم کی داستان بھی ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے نفرت،فرقہ پرستی اور دشمنی کا عذاب جھیل رہی ہے۔وہ عذاب جو اُس پر صدیوں سے شکلیں بدل بدل کر نازل ہوتا رہاہے کیوں کہ محبت اور نفرت،ظلم اور رحم میں ازل سے جنگ جاری ہے ،بس ان کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔تقسیم ہند کے بعد عذاب کی ایک اور صورت سامنے آئی اور اس نے محبت کرنے والوں کے لئے زمین تنگ کردی۔مصنف کاکمال یہ ہے کہ اس صورت حال کو انہوں نے تاریخ کے بجائے فلسفے کی زبان دی ہے جو فکشن کو بڑا بناتی ہے اور بلیغ علامتوں،استعاروں اور اشاروں کے سہارے فلسفۂ حیات کی سفاکیوں اور نزاکتوں کو دل پذیر انداز میں پیش کرتی ہے۔


مرکزیت بہاراور مسلمان ہونے کے باوجود اس ناول کو علاقائی یا مخصوص معاشرے کا ناول نہیں کہا جاسکتا۔صرف اس لئے نہیں کہ اس میں بھیونڈی،ایودھیا اور ممبئی کا بھی ذکر ہے یا مرکزی کردار اسماعیل ،فیضان ،قیدار اور نائلہ ہیں۔ان کے ساتھ بہت سارے کردار اپنے تفاعل کے ساتھ موجود ہیں۔مبشر رجائی،میاں والا،بنسی دھر،رمیش ،رکمنی،دلبیر سنگھ،انیل شرما،مجمدار،ٹوپو اور شوبھا وغیرہ سب کے سب ناول کا ناگزیر حصہ بن کر سامنے آتے ہیں۔اسماعیل ،فیضان ،قیدار اور نائلہ کے ساتھ ساتھ ان میں سے بھی اکثر اپنے فکر وعمل کے ذریعہ ایک اچھا ہندستان بنانے میں مصروف ہیں۔اس لئے یہ ہندستانی معاشرے اور معاشرت کا ناول ہے۔اس ہندستانی معاشرے کا جس کی معاشرت کو آزادی کے ستر سال کے بعد اس طرح بے جان کردیا گیاہے کہ اس کی حالت منٹو کے افسانہ’ کھول دو ‘کی سکینہ جیسی ہو گئی ہے۔یہ دردناک مگر بلیغ علامتی منظر دیکھئے:


’’وہ آیا ،کھانا کھایا،دیر تک بلو فلم دیکھی ،گندے گانے سنے اور اس کو پکڑکر اپنی طرف
کھینچا۔اس نے سکینہ کی طرح اپنا ازاربند کھول دیا۔یہ آزادیٔ وطن کے بعد کی سترویں
رات تھی‘‘ (ص۔۳۲۸)
اس معاشرے میں انسانوں کے انسان پر مسلط ہونے اور اقتدار پانے کا جنون ہے جس نے اسے وحشی بنادیاہے۔وحشی انسان طبقاتی ٹکرائو،مذہبی شدت پسندی اور تاجرانہ ذہنیت کا سہارالے کر سماج پر راکشش کی طرح حاوی ہوگیاہے،جس کے نیچے انسانیت،عشق ،دردمندی ،محبت دبی کراہ رہی ہے۔
’’اماوس میں خوا ب ‘‘ موضوع کے علاوہ اپنے بیانیہ کی وجہ سے بھی قابل توجہ ہے۔اس کا بیانیہ بہت عام ،سپاٹ اور سادہ نہیں ہے۔کہیں شعری بیانیہ متاثر کرتاہے تو کہیں استعاراتی اسلوب دامن دل کھینچتاہے۔کبھی تجریدیت ملتی ہے تو کبھی سفاک حقیقت نگاری ہیجان پیدا کرتی ہے۔ناول کا اسلوب ابہام اور صراحت کا آمیزہ ہے۔شروع سے ہی ناول نگار دو متوازی بیان لے کر آگے بڑھتاہے ۔ایک بیان عشق کا ہے اور دوسرا تاریخ و سیاست کا ۔کبھی ایک میں آگے بڑھتاہے اور دوسرے میں پیچھے ، کبھی ایک کو چھوڑتاہے اور کبھی دوسرے کو ۔مگر وہ رکتا نہیںہے۔کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو بات چھوٹ گئی وہ شاید ادھور رہ گئی ،مگر دوسرے یا تیسرے باب میں جاکر اس کاسرا مل جاتاہے اور بیانیہ کے ساتھ پلاٹ کا ادھورا پن بھی تکمیل کی جانب گامزن ہو جاتاہے۔یہ بیان کا انوکھا انداز ہے جو مطالعے کے لئے ذہین قاری کا تقاضا کرتاہے۔مثلاً یہ اقتباس دیکھئے:
’’اور پھر تمکنت جس نے مرنے سے پہلے خط لکھاتھا ،مجھے کینسر ہو گیاہے،میری کیمو تھیراپی ہوئی
ہے ،میرے سب بال اڑ گئے ہیں۔۔۔مجھے بھولنا چاہتے ہو تو ایک بار آکے دیکھ لو۔۔۔کہتے ہیں
پہلا پیا ر اور آخری پیار سانس ٹوٹنے تک ساتھ نباہتاہے۔کانگریس ہندستانی مسلمانوں کا پہلا
پیار ہے ،کانگریس بھی جانتی ہے کہ ہندستانی مسلمان لاکھ بدکیں مگرجائیںگے کہاں۔انہیں بھی
شاید یقین تھا کہ اسماعیل نامی شخص اُن سے چھٹ کر زندہ نہیں رہ سکے گا۔اور سچ بھی یہی تھا،وہ تو
ساری زندگی ان کے ناز سہتا رہا۔غیر کانگریسیوں نے تو مسلمانوں کو کانگریس کی داشتہ تک کہ
دیا۔اور تمکنت؟ جو مرگئی۔اور پاکستان جو صرف مرا نہیں ،اس کی لاش کو بیچ سے دو ٹکڑے کر دیا
گیا۔ (۲۳)


مگر مکمل ناول اس ایک بیانیہ پر منحصر نہیں ہے۔واقعات جس صورتحال سے گذرتے ہیں ،بیانیہ بھی اسی کے مطابق بدل جاتاہے۔آزادی کے بعد سے بھیونڈی کے فسادات تک چونکہ اسماعیل فکری اور عملی دونوں اعتبار سے اضطراب ،کشمکش اور بے یقینی کی صورت حال سے گزرتاہے اس لیے بیانیہ بھی پیچیدہ اور پریشان کن ہے ،مگر جیسے ہی اسماعیل پٹنہ پہنچ کر مطمئن ہوتا ہے بیانیہ بھی سادہ ،پرسکون اور عام فہم ہو جاتاہے۔شاید اسی لیے ناول کے ابتدائی ۷۵ صفحات سے گزرنا آسان نہیں ،اور اگر اس سے گزر گئے تو پھر اسے چھوڑنا ممکن نہیں ۔اسی طرح تمکنت،شوبھا اور نائلہ کے عشق کے مناظر بھی بیانیہ کے مختلف رنگ پیش کرتے ہیں۔شعریبیانیہ کی ایک مثال دیکھئے
’’وہ آرہی ہیں ۔۔۔ایک وہم ساہوا ۔۔۔کہیں نظر نہیں آرہی تھیں مگر ایسا لگ رہا تھاکہ وہ آرہی
ہیں۔برف یا روئی کے گالے سے تیار کی ہوئی فضا میں سنہرے گل بوٹے ٹکے ہوئے تھے اور جگنؤوں
کو حکم دیا گیا تھا کہ تم سارے میں جگمگاتے پھرو اور چاندنے منادی کی تھی کہ ابد الآباد تک میں اس
فضا پر چاندنی بکھیروں گا اور غیب الغیب سے ایک فرمان جاری ہوا تھا کہ سورج اپنی تپش کو اس جلسے
سے دور رکھے۔الٰہی یہ جلسہ کہاں ہو رہا ہے،جہاں حوران بہشتی کا مجمع دف پر گاتا تھا۔۔۔چوں
پردہ بر افتد۔۔۔چوں پردہ بر افتد۔۔۔۔اور پردہ ابھی اٹھا نہیں تھا۔حریری پردوں کی نرم سرسراہٹ
نرم بھی تھی اور ریشم جیسی کومل بھی،پردے ساکن نہیں تھے،مگر اُٹھ بھی نہیں جارہے تھے۔اہتما م یہ
تھا کہ کچھ چھپا بھی رہے ،کچھ جھلملاتا بھی رہے،ایسے ستر پردوں کے پرے وہ ساعد سیمیں ایک مستانہ
سی بوجھل اور سرشار کیفیت میں مکیّف ہوئیں کہ ماتھے پر ان کے شکنیں صف تشنگاں تھیںاو ربھویں
طلب کی آگ میں جل کر زلف زلیخا کی مانند سیاہ او ر آنکھوں کی پتلی میں سیاہی تھی،سفیدی تھی،شفق تھی،
ابر باراں تھا۔‘‘(ص۔۳۱)


اس ناول میں جہاں موجودہ زمانے کی حسیت یعنی روح عصر ہے وہیں وہیں بھرپور جذباتیت اور مادیت و روحانیت کے درمیان پھنسے ہوئے فر دکی چھٹپٹاہٹ بھی ہے۔اور ان دونوں کے درمیان سے ناول نگار کا مخصوص نقطۂ نظر سامنے آتاہے کہ زندگی کو جذباتیت،حقیقت،عصریت ،علمیت،فلسفہ یا کسی قسم کے نظریے کی ضرورت نہیں۔اسے صرف ہم سفر کی ٖضرورت ہے جو عشق سے حاصل ہوتاہے۔گویا عشق زندگی کی طرح اس ناول کاسرچشمہ ہے۔
آزادی کے بعد کا عرصہ واقعات و حادثات کے اعتبار سے ہنگامہ خیزرہاہے۔ہردن نیاسورج اورہرشب نئی تاریکی کے ساتھ آئی ہے۔حسین الحق کا حوصلہ قابل قدرہے کہ انہوں نے حالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی سچائی سے ہمیں روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔مذہب،تصوف اور ترقی پسندی جیسے تمام نظریات و افکار کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے قاری کو جو دعوت فکر دی ہے وہ فوری طور پر اثر پذیر ہو یا نہ ہو ،اسے غوروفکر پر ضرور مجبور کردیتی ہے۔اور اس لحاظ سے یہ ناول ہم عصر فکشن میں اپنا انفراد و امتیاز قائم کرلیتاہے۔


اوپر جو مناظرپیش کئے گئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناول کا کینوس بہت وسیع ہے اور شاید پورے ہندستا ن کا احاطہ کرتاہے۔ناول نگار نے مالیگائوں،بھیونڈی،دہلی،ممبئی اور پٹنہ کا ذکر کرکے اس کے کینوس کی وسعت کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔ازموں کا ٹکرائو،ذات پات کی جنگ،مذہبی تفریق اور سیاسی ریشہ دوانیاںکسی ایک جگہ تک محدو د بھی نہیں۔مگر ناول کا بڑا حصہ صوبہ بہار کی عکاسی کرتاہے۔لالو پرسادکا عروج،کالجوں کے حالات،الیکشن کے مناظر،الیکشن ڈیوٹی کی دہشت،کالجوں میںریگولر کلاسز کا نہ ہونا،کوچنگ کی طرف توجہ کا بڑھنا،پٹنہ کالج اور ساحلِ گنگا کے مناظر،دربھنگہ ہائوس،کالی مندراور پٹنہ کے مختلف علاقوں کا تفصیلی ذکراورشعبۂ اردو کی منتقلی وغیرہ اس طرح ناول میں در آئے ہیں کہ بین الاقوامی تہذیب و فلسفہ یا کم از کم قومی تغیرات کے پس منظر میں لکھے گئے ناول کے کینوس کوکچھ حدتک محدود کردیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ مقامیت آفاقیت میںپوری طرح تبدیل نہیں ہو پاتی اور پرسنل اُس طرح امپرسنل بن کر نہیں آپاتاجیسا حسین الحق کے ماقبل ناول ’فرات‘ میں سامنے آیاتھا۔مگر کسی بھی عہدکے تہذیبی ،ثقافتی،مذہبی اور سیاسی مزاج کی تلاش کے لئے ارضی حوالہ تو ضروری ہے۔غالباًمصنف نے سہولت کے کے لئے اپنی دیکھی اور بھوگی ہوئی زمین کو منتخب کیاہے۔اسی طرح ر وشنی سہائے اور قیداربن اسماعیل کی یکجائی اس بات کا اشارہ ہوسکتی ہے کہ مصنف کی نظر میں ہندستان کے محفوظ وخوبصورت مستقبل کے لئے ہندومسلمان کے درمیان محبت یا کم از کم رواداری کا رشتہ ہی ر اہ نجات ہے مگر نائلہ اور ر میش سے وابستہ میلو ڈرامائی واقعات کی پیش کش کا جواز کیاہے؟ نائلہ کا دردناک انجام بھی تواسے نمونۂ عبرت نہیںبنا سکا۔ شایدیہاں مصنف کا منشا یہ بتانا ہے کہ اس پرخطر راہ میں ہر مسافر قیداربن اسماعیل اور روشنی سہائے ہو یہ ضروری نہیں ۔
مختصر یہ کہ ’اماوس میں خواب‘ دور حاضرکا منفرد اور نمائندہ ناول کہا جائے گا کہ اس میں آزادی کے بعد سے آج تک کی ہرلمحہ تغیر پذیر تہذیب،تحریک اور ہر طرح کے بے معنی تماشوں کامکمل منظرنامہ تخلیقی انداز میں موجودہے۔اس میں سیاست،مذہب،دانشوری،تصوف ،نظریات اور جبر کی قید میںپھنسے آج کے انسان کی چھٹپٹاہٹ اور ہم عصر صورت حال کی وہ چلتی پھرتی تصویر پیش کی گئی ہے جسے ہم معاصر ہندستان کا استعارہ یا آئینہ کہ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں