انوکھاروپ

افسانچہ

افسانہ نگار : شمشیرعلی شعلہ ، کانکی نارہ

, انوکھاروپ

میری کمپنی کے دفترکےسامنےوالی فٹ پاٹھ پرایک بھکارن چلّا چلّا کر صدالگاتی.
“الّلھ کےنام پردےبابا…بھگوان بھلاکرےگا.”
مجھ پرنظرپڑتےہی وہ مجھےسلام کرتی اور آوازلگاتی.میں بھی جاکراسکی تھالی میں کچھ پیسےڈال دیتا.وہ ڈھیرساری دعائیں دیتی تو میں خوش ہوجاتا.کمپنی کی طرف سےشہر کےہر برانچ میں دورےپرجاناپڑتا.مگر اب کی بارکمپنی نے سالانہ کانفرنس میں ہفتے بھر کیلئے دہلی جانےکا میرا انتخاب کیا.میں بہت خوش ہوااور دہلی کیلئے روانہ ہوگیا.


ہفتے بھر بعد دفتر آیا.مگر بھکارن کی آواز سنائ نہیں پڑی.میں نے مُڑکر دیکھا.ارے اس فٹ پاتھ پرکوئ جوان بھکاری قبضہ جماکر بھیک مانگ رہاتھا.مجھے لگا شاید بھکارن اللہ کو پیاری ہوگئ. اورمیں دفترکے کاموں میں مصروف ہوگیا
آج میں کمپنی کی جانب سےدوسرےبرانچ کےدورےپر بائک لیکر نکلا.کچھ دور جانے کےبعد میری نظر ایک بھکارن پرپڑی.میں نےاسے غورسے دیکھا
“ارے ! یہ تو وہی بھکارن ھے.”میں نے فور”ابائک روکی اور اسکی جانب لپکا.اس نے مجھے دیکھااور ہنستے ہوئےسلام کیا.


“ارے مائی ! تم یہاں ؟تمہاری جگہ پر کوئی اور بھکاری قبضہ جمائے ہوئے ھے.کیوں؟”
“پابوجی ! وہ میرا جمائی ھے.”
“جمائی ھے؟”
“ہاں بابوجی…ہم ٹھہرے بھکاری لوگ.میں تو جمائی کو کچھ نہ دے سکا.مگر آجکل شادی میں توجہیز کارواج ھے.اسلئے میرے جمائی نے اس جگہ کا مطالبہ بطور جہیز کر بیٹھااور میں انکار نہیں کرسکی.میری بیٹی اور جمائی خوش رہیں.اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ھے بابو.”
اور اس جہیز کے انوکھے روپ کو دیکھکر میرا سر چکراسا گیا…

شیئر کریں

کمنٹ کریں