فلیش فکشن

اپنی کہانی خود لکھو

افسانہ نگار : کوثر جمال

اپنی کہانی خود لکھو

شہزادی سمجھتی تھی کہانی میں محبت، تحفظ اور خوشی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ کہانی کا گھر بہت حسین تھا جہاں محفلِ طرب و نشاط ہر دم برپا رہتی تھی۔ یہاں خوف، پریشانی اور درد و غم کا کوئی گزر نہیں تھا۔ ایک شہزادہ اسے اپنے ساتھ گھوڑے پر بٹھا کر کہانی گھر میں لے کے آیا تھا۔

وقت گزرا اور کہانی گھر میں ایک ہی طرح کے طرب و نشاط سے اکتاہٹ بھر گئی۔

کچھ اور وقت گزرا تو کہانی گھر کے جو دروازے اس کے لیے کھلے تھے وہ کسی اور شہزادی کے لیے کھل گئے۔ اس کے لیے بھی ایک دروازہ کھلا۔ لیکن یہ دروازہ گھر سے باہر نکلنے کا تھا۔

کہانی گھر سے باہر تاریکی تھی اور سناٹا۔ وہ رنج و غم کی شدت سے رونے لگی۔ اسے لگا اس کی کہانی ختم ہو گئی۔ وہ کافی دیر تک ایک پتھر پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی۔ پھر آنسو ختم ہو گئے۔ سناٹے میں خوف کی پرچھائیاں اسے ڈرانے لگیں۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور دیر تک اپنے خوفزدہ دل کی تیز دھڑکن کو سنتی رہی۔ دل کی دھڑکن بتا رہی تھی کہ وہ ابھی زندہ تھی۔ وہ ابھی زندہ تھی تو اس کی کہانی بھی زندہ تھی لیکن اس کہانی میں شہزادے کے بغیر بہت دکھ اور خوف تھا۔

اس نے ہمت کرکے آنکھیں کھول دیں۔ صبح ہو رہی تھی۔ چھٹتے ہوئے اندھیرے میں رات کی پرچھائیاں کہیں جا چھپی تھیں۔ پنچھی رنگ رنگ بولیوں سے صبح کا استقبال کر رہے تھے۔ اسے لگا کہ بعد مدت وہ ایسی آوازیں سن رہی تھی جو اس کی سماعت سے دور ہو گئی تھیں۔ اسی وقت ایک عمر رسیدہ عورت کا وہاں سے گزر ہوا۔ وہ بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس پرانے وقتوں کی ان عورتوں جیسی لگ رہی تھی جنھیں ان کی ذہانت، دانائی اور منفرد سوچ کی وجہ سے ملعون جادوگرنیاں قرار دے کر زندہ جلایا جاتا تھا۔ اداس شہزادی اسے دیکھ کر سہم گئی۔ عورت نے اس کے قریب آ کر کہا:

“مجھ سے ڈرو نہیں شہزادی، میں تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاوں گی۔ مجھے بتاو تم اس وقت یہاں تن تنہا کیوں بیٹھی ہو؟”

شہزادی اس کے لہجے میں ہمدردی محسوس کرکے رونے لگی۔ اس نے ہچکیوں میں کہا:

“میری کہانی ختم ہو گئی محترم خاتون۔ میرا شہزادہ مجھے چھوڑ کر کسی اور شہزادی کو اپنے گھر لے آیا۔”

عمر رسیدہ عورت نے یہ سن کر کسی تعجب کا اظہار نہیں کیا۔ اس نے کہا:

“تمھاری کہانی تو ختم نہیں ہوئی بیٹی۔ تمھاری کہانی تو اس وقت بھی تھی جب شہزادہ تمھاری زندگی میں نہیں آیا تھا۔ بس تمھاری کہانی میں نیا موڑ آ گیا ہے جہاں شہزادہ کسی اور سمت نکل گیا اور تم نے ۔۔۔۔۔ وہ رکی اور سامنے پھیلے کئی رستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔ اور تم نے اپنی سمت کا انتخاب خود کرنا ہے۔ ہر کہانی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔ کہانی میں جتنا اچانک پن، جتنی حیرت ہو، وہ اتنی ہی دلچسپ ہوتی ہے۔”

عورت کی دانائی سے بھرپور باتیں شہزادی کے سامنے کتنے ہی بند دروازے کھولتی چلی گئیں۔ پھر بزرگ عورت نے ایک قلم شہزادی کو دیتے ہوئے کہا:

” اگر چاہو تو اس قلم سے اپنی کہانی تم خود لکھ سکتی ہو، وہ شہزادہ تو تمھاری کہانی کا صرف ایک کردار تھا۔”

شیئر کریں

کمنٹ کریں