اقوالِ زریں

گلستانِ سعدی ؒ سے اقتبا سات !

راقم گل بخشالوی ( ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں پاکستان)

, اقوالِ زریں

داناؤں کا قول ہے کہ امارت ہنر سے ہے مال اور دولت سے نہیںاور ب بزرگی !! عقل اور دانائی سے ہے عمر سے نہیں!
میں یہ تو کر سکتا ہوں کہ کسی کا دل نہ دکھاؤں ،مگر حاسد کا کیا کروں وہ تو اپنی آگ میں آپ جل رہا ہے!
بد بخت لوگ خوش بخت لوگوں کے زوال کے دل جان سے خواہش مند ہوتے ہیں!
جو یہ چاہتا ہے کہ مصیبت کے دنوں میں کوئی اس کی داد فریاد سنے تو اسے کہہ دو کہ بھلے دنوں میں لوگوں سے بھلائی کرے!
غلام پرنوازشاتنہیں کرو گے تو وہ بھی وقت پڑنے پر کھسک جائے گا لطف اور مہربانی سے کام لو اس سے غیر بھی رام اور غلام ہو جاتے ہیں!


ہربچہ دین ِ فطرت ہی پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین پھر ا سے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں
صحبت ِ بد میں نوح کا بیٹا
شان پیغمبری کی کھو بیٹھا
سگ ِ اصحاب ِ کہف نیکی سے
مل کے نیکوں میں نیک ہو بیٹھا
جانتے ہو ! زال نے بہادر رستم کو کیا نصیحت کی تھی ؟ دشمن کو کھبی حقیر اور ناتواں مت سمجھنا!


بھیڑئے کا بچہ خواہ انسانوں می کے ساتھ ہی کیوں نہ پلے بڑا ہو کر بھیڑیا ہی بنتا ہے!
گھٹیا قسم کے لوہے سے اچھی تلوار کیسے بن سکتی ہے، نہ ہو طبیعت ہی جن کی قابل وہ تربیت سے نہیں سنورتے!
بارش کی لطافت ِ طبع تو ہر جگہ یکساں ہوتی ہے مگر باغ میں اس کے طفیل لالے کے پھول اور شور زمین میں ببول ہی اگتے ہیں!
بنجر زمین میں کھبی پھل اور پھول نہیں اگتے،نہ بیج ضائع کر اور نہ جان مار!


بدوں کے ساتھ بھلائی نیکوں کے ساتھ بدی کرنے کے برابر ہے!!
تازہ کاشت کئے ہوئے پودے کو ایک ہی آدمی کی طاقت زمین سے جڑ کے ساتھ اکھاڑ باہر کر سکتی ہے لیکن اگر اسے پھلنے پھولنے دیا جائے تو اس کی جڑیں جم جانے کے بعد پھر اسے چرخی سے بھی اکھاڑنا ناممکن ہو جاتا ہے!
چشمے کے سرے کو تو ایک سلائی سے بند کیا جاسکتا ہے لیکن جب وہ بھر کر ٹھاٹھیں مارنے لگے تو پھر ہاتھی پر سوار ہو کر بھی اس میں سے گذرنا ناممکن ہو جاتا ہے!
بد اصل نیکوں کا کھبی اثر نہیں لیتا،نا اہلکی تربیت گنبد پراخروٹ رکھنے کے مترادف ہے!
آسمان سے اگر آب ِ حیات بھی برسے تو شاخ ِ بید سے پھل حاصل نہیں ہو گا!


رزیل شخص کے ساتھ کوئی معاملہ نہ رکھ اس لئے کہ پٹسن کی نے سے شکر نہیں ملا کرتی!!!
جو انسان زندگی سے ہاتھ دہو لیتا ہے تو جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے
جب صلح کرنے یا بھاگ جانے کی گنجائش نہیں رہتی تو مجبور ہو کر آدمی تلوار کی تیز دھار کو ہاتھ سے روک لیتا ہے!
مایوس انسان کی زبان قابو میں نہیں رہتی جس طرح بلی جب مغلوب ہوتی ہے تو کتے پر حملہ کر دیتی ہے!!
یہ دنیا کسی سے وفا نہیں کرتی بہتر ہے کہ اپنے خالقِ حقیقی سے لو لگا لو ،
دنیا کی سرداری اور بادشاہت پر بھروسہ مت کر اس نے تجھ ایسے کتنوں کو اپنی آغوش میں پالا اور پھر خود ہی مار ڈالا،


جب روح نے جسم کو چھوڑنے کا ارادہ کر ہی لیاتو پھر تخت یا فرش خاک پر مرنا ایک برابر ہے!
اگرچہ نوشیروا ں کو مرے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا مگر نیک نامی کی وجہ سے اس کا نام آج بھی زندہ ہے توبھی اس چند روزہ زندگی کو غنیمت سمجھ ا ور اس وقت سے پیشتر کہ لوگ کہیں آج فلاں آدمی اس جہاں سے کوچ کر گیا تم بھی کچھ نیکیاں کما لو!!
ضروری نہیں کہ جو قد کاٹ میں بڑا ہو اس کی قیمت بھی بڑی ہو گی، بکری چھوٹی ہے مگر پاکیزہ اور حلال ، ہاتھی بڑا ہے مگر مردار!!
گھوڑا خوا کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو گدھوں کے پورے طولے سے بہتر ہے،،،
میدان ِ جنگ میںموٹا تازہ بھاری بھر کم بیل نہیں دبلا پتلا گھوڑا ہی کام آتا ہے!
دس درویش ایک گدڑی میں سو سکتے ہیں لیکن ود بادشاہ ایک ملک میں نہیں سما سکتے!

شیئر کریں
والدین کا دیا ہوا نام : سبحان الدین ۔ قلمی نام : گل بخشالوی ۔ تعلیم : میٹرک ( پرائیویٹ ) پیدائش 30مئی 1952 ۔ مقام ِ پیدائش : بخشالی ضلع مردان،خیبر پختونخواہ ۔مادری زبان : پشتو شاعر کالم نگار ادب دوست ، ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں۔ ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز1984ء حال مقیم کھاریاں شہر ضلع گجرات پنجاب (پاکستان)

کمنٹ کریں