ارشد عبدالحمید کی شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Arshad Abdul Hameed ki gazal. You can read famous Urdu Poems, Gazal, and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

ارشد عبدالحمید کی شاعری
ارشد عبدالحمید کی شاعری

قلمی نام : ارشد عبدالحمید
اصل نام : ارشد حسن خاں
ولدیت : عبدالحمید خاں مجیدی
وطن : ٹونک (راجستھان) الہند
پیدائش : 13 اپریل 1958
تعلیم : ایم۔اے۔ پی۔ایچ۔ڈی اردو
پیشہ : پروفیسر اردو
گورنمنٹ گرلس کالج
ٹونک ۔ 304001
آغاز شاعری : 1978 ء
تصانیف : 1- صداے آبجو
شعری مجموعہ
2- تجزیہ اور تنقید
مضامین کا مجموعہ
3- فرہنگ اصطلاحت بلاغت
پی۔ایچ۔ڈی کا مقالہ


ہر سانس جو آتی ہے ستم گار قفس میں
کھینچے ہے مری جان سر _ دار قفس میں
دیکھے بھی تو کیا اپنی مسیحائی کا انجام
جھانکے بھی تو کیا نرگس _ بیمار قفس میں
اطراف ہیں طاقت کے تکبٌر کی سلاخیں
ظالم ہے خود اپنا ہی گرفتار قفس میں
پر کاٹنے والے کو یہ معلوم نہیں ہے
رکتے ہیں کہیں عزم کے پر دار قفس میں

قطعہ بند


یہ پھول ہیں, یہ سبزہ ہے, یہ باد _ صبا ہے
ارمان سنجو لائے ہیں گھر بار قفس میں
آزادی بھی حاضر ہے تو پرواز بھی موجود
خوابوں نے لگا رکٌھا ہے دربار قفس میں
صیٌاد ہمیں تیری خدائی بھی تھی تسلیم
ہوتا جو تصور بھی گرفتار قفس میں


غزل

چراغِ درد کہ شمعِ طرب پکارتی ہے
اک آگ سی لبِ دریا ے شب پکارتی ہے

عدو سے جان بچی ہے نہ دوست بچھڑے ہیں
یہ شامِ گریہ ہمیں بے سبب پکارتی ہے

چراغِ شوق پہ رہ رہ کے نور آتا ہے
ہوا بطرزِ رخ و چشم و لب پکارتی ہے

صدائیں دے کے بلاتی ہے شاہ بانو ے شہر
فقیر جس کے ہیں دیکھیں وہ کب پکارتی ہے

شہیدِ آب و نمک ہیں سو بڑھتے جاتے ہیں
شکست و فتح پیادوں کو کب پکارتی ہے

میں جیسے دن کی تب و تاب سے پریشاں ہوں
بوقتِ شام خوشی اک عجب پکارتی ہے

ہم ایسے کون انوکھے طلوع ہوتے ہیں
جو ہم کو دیکھ کے دنیا عحب پکارتی ہے

خمارِ شامِ شرر رنگ اتر گیا ارشد
چلو کہ صاعقئہ دردِ شب پکارتی ہے


غزل

کوئی بھی شے ہو میاں جان سے پیاری کسے ہے
جان ہاری ہے تو یہ دیکھیے ہاری کسے ہے

کورنش گل کو کرے , کلیوں کو آداب کہے
ہوش یہ مملکت _ باد _ بہاری کسے ہے

دل بھی بس ایک نمونہ ہے کہ دنیا پہ مٹا
نذر زیبا تھی کسے اور گزاری کسے ہے

ایک کھونٹےسے بندھےدشت و دمن دیکھتے ہیں
اب میسٌر رم _ آہو ے تتاری کسے ہے

اڑ چلو منتخب _ خاص ہیں اس کے ہم لوگ
ورنہ حاصل یہ تمنٌا کی سواری کسے ہے

اک ستارے کے لیے سیر _ فلک کرتا ہوں
دوستو ! فرصت_ سیٌارہ شکاری کسے ہے


غزل

آج کل دل نے تری یاد دلائی ہوئی ہے
دن اجالا ہوا ہے رات جگائی ہوئی ہے

حبس _ بے جا سے پریشاں ہوں مگر کیا کیجے
اس نے دنیا مرے خوابوں سے سجائی ہوئی ہے

میں بھی ہوں جیسے کنارے کا کوئی پیاسا شجر
وہ بھی ہے جیسے کوئی ندٌی سکھائی ہوئی ہے

تنگ آئے جو زمیں سے تو نکل جائیں گے
ہم نے اک کوٹھی فلک پر بھی بنائی ہوئی ہے

داد اگر دیجے تو اللہ کو دیجے اس کی
یہ غزل مجھ کو فرشتوں نے لکھائی ہوئی ہے


غزل

تصوٌرات کی جادو گری ہے کتنی دیر
تمھاری دید کی آسودگی ہے کتنی دیر

دعا ے وصل بھی آخر کو لوٹ آئے گی
کوئی امید فلک پر رہی ہے کتنی دیر

سحر کو پھر وہی سورج , وہی اندھیرا ہے
چراغ _ خواب تری روشنی ہے کتنی دیر

بس ایک ساعت فرقت بس ایک ساعت وصل
ہمارے رنج ہماری خوشی ہے کتنی دیر

تو اگلے پل ہی جہاں کو گلے لگا لے گا
مرے مزاج ! تری برہمی ہے کتنی دیر

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں