اولاد کی محبت کی سائنسی تشریح

مضمون نگار : قدیر قریشی

, اولاد کی محبت کی سائنسی تشریح

آکسیٹوسن، سیراٹونن، ڈوپامین اور کئی دوسرے ہارمونز دماغ کو متاثر کرتے ہیں اور محبت کا احساس پیدا کرتے ہیں- خاص طور پر اولاد کی محبت آکسیٹوسن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے- پیدائش کے فوراً بعد مادہ کے جسم میں آکسیٹوسن ہارمون انتہائی کثرت سے موجود ہوتا ہے جس سے ماں اور بچے کی بانڈنگ بنتی ہے جو عمر بھر قائم رکھتی ہے- اس کے علاوہ جب ماں بچے کو دودھ پلاتی ہے تو بھی آکسیٹوسن کثرت سے پیدا ہوتا ہے جس سے بچے کے ساتھ ماں کی بانڈنگ بڑھتی ہے- ماں کے دودھ میں بھی آکسیٹوسن موجود ہوتا ہے (خصوصاً بچے کی پیدائش کے فورً بعد دودھ میں آکسیٹوسن بہت زیادہ ہوتا ہے) جس وجہ سے بچے کے جسم میں بھی آکسیٹوسن جا رہا ہوتا ہے اور بچے میں ماں سے بانڈنگ پیدا کرتا ہے- باپ کے جسم میں بھی بچے کی پیدایش کے بعد آکسیٹوسن کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے باپ اور بچے میں بھی بانڈنگ پیدا ہوتی ہے.


ہر فرد کے مزاج میں مختلف رجحانات کا فرق ہوتا ہے۔ اولاد کے معاملے میں کچھ لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں اور کچھ بے پروا۔ جو لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں وہ اولاد کی پرورش اور حفاظت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اس توجہ کی وجہ سے ان لوگوں کی اولاد کے زندہ رہنے اور مزید اولاد پیدا کرنے کے امکانات ان لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں جو اولاد کی طرف سے بے پروا ہوتے ہیں۔ اس کا نیتیجہ یہ ہوتا ہے پہلی قسم کے لوگوں کے ڈی این اے کی زیادہ کاپیاں تیار ہوتی ہیں اور دوسری قسم کے لوگوں کے کم۔ یہ عمل بار بار دہرانے کے نتیجے میں انسانوں میں ان لوگوں کی اکثریت ہوجاتی ہے جو اولاد پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔


کسی جاندار کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ جاندار پیدا ہو تو اس کے خود کفیل ہونے تک اس کی خصوصی نگہداشت کی جائے۔ جن جانداروں میں اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے انہیں کی نسل آگے بڑھتی ہے، ورنہ اولاد کسی قدرتی آفت یا دوسرے جاندار کا شکار بن کر ختم ہوجاتی ہے۔

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں