عورت صرف جنسی تسکین کا آلہ نہیں ہے

جنسی تسکین
جنسی تسکین

کالم نگار : شمائلہ نورین

مرد کو خوبصورت چہرے کے ساتھ ساتھ اخلاق والی جذبات والی سیکسی عورت سے محبت ہوتی ہے ساتھ غربت میں گزارا کرنے والی بھی ہونی چاہیے نین نقوش بھی تیکھے ہوں رنگ بھی گورا ہو بال بھی سلکی اور لمبے ہوں ہوں۔بلکل حور پری ہو آنکھیں موٹی ہونٹ نازک اور ادایں رات کو طوائف والی ہوں اور صبح کو مرد کے خاندان کے مطابق ماڈرن یا با پردہ اور شرم و حیا کی مالک شرمیلی عورت ہو۔ بچون کی تربیت بھی مرد کی نظر میں ہوتی ہے اس لئے تربیت یافتہ اور نیک ہونا بھی ضروری ہے لہذا مرد بد صورت عورت کو صرف قبول کر سکتا ہے محبت نہیں کرسکتا سمجھوتہ کر سکتا ہے اور بدتمیزی تو مرد کو بلکل بھی پسند نہیں بیشک عورت بد صورت ہو یا خوبصورت ہر حالت میں عورت پرفیکٹ ہو تو ھی مرد خوش ہوتا ہے ورنہ کوئی خواہش کہیں ڈھونڈتا کوئی کہیں کیوںکہ ایک میں سب نہیں ملتا اور عورت بیوقوف جھوٹی تعریف پے بھی خوش ہو کے مرد کو قبول کر لیتی اور خدمت بھی دل سے کرتی ہے اسکو صرف توجہ چا ہیے ہوتی ہے مرد بد صورت ہو یا خوبصورت عزت دےتو عورت جان بھی قربان کر دیتی ہے اور اگر اسے ذلت کے گڑھے میں ڈالو تو وہ وقتی ہوتا ہے جیسے ہی برداشت ختم ہو اور معاف کرنا بھی اسکے اختیار سے باہر ہو جائے ظلم کی باڑ یں اسکی روح کو چھلنی کر دیں اور انتقام پے راغب کردیں تو عورت سے زیادہ اچھا بدلہ بھی کوئی نہیں لے سکتا کان کھول کے سنو بیشک میں مرد اور عورت کو برابر سمجھتی ہوں لیکن جاہل عورت سے زیادہ کوئی ظالم نہیں اور جس نے اسے جہا لت سے نا نکالا یا مجبور کیا کہ کے وہ جاہل ہی رہے تو اس سے زیادہ کوئی گھٹیا مرد نہیں بیشک عورت کو جہالت سے مرد ہی نکال سکتا ہے تعلیم دے کے اور مرد ہی ڈال سکتا ہے عورت کی ذات کی نفی کر کے تعلیم سے محروم کر کے۔ کیونکہ گھٹیا مرد اور جاہل عورت دونوں مل کے معاشرے کو تباہی کی طرف لے کے جاتے ہیں اپنے جیسے اور گھٹیا مرد اور عورتیں پیدا کر کے تربیت بھی تعلیم کے بنا ادھوری ہے


بیشک محبت کا جسم سے بھی تعلق ہے محبت جسم کے بنا کرنا نا ممکن عمل ہے روح کس نے دیکھی هے دل کے جذبات ہی نظر آ تے ہیں جو محبت کرنے یا ہونے پے مجبور کرتے ہیں
سیکس کو کون کمبخت برا بول رہا ہے میں تو یہ بات کر رہی ہوں کے عورت کو عزت کیسے دی جائے جو وہ آ گے چل کے اچھے معاشرے کی بنیاد رکھ سکے مرد عورت کو سیکس سے آ گے کیوں نہیں دیکھ سکتا برابری کیوں نہیں دے سکتا دبا کے کیوں رکھنا چا ہتا ہے بیٹی کو بیٹے سے کمتر کیوں خیال کیا جاتا ہے تعلیم برابر نہیں دی جاتی تربیت برابر نہیں کی جاتی حصہ بھی دل چا هے تو جائداد میں سے کھا لیا جاتا ہے کہ بھائی کو دے دو دوسرے گھر کیوں جائے آ ناتو پھر ملنے بھایو ں سے ہی ہے حصہ چھوڑو گی تو بھائی عزت سے ملیں گے اور جائداد بھی گھر میں رہے گی یہ جہالت نہیں کیا؟


عورت کو انسان نہیں سمجھا جا سکتا؟
لیکن اصل مسلہ یہ ہے کے مرد عورت کو تعلیم کے ذریعے عزت دے ایک باپ کی صورت اسکے بعد اسکو برابری سے رکھنا چا ہیے بچو ں میں فرق نہیں ہونا چا ہیے کہ بیٹا اور بیٹی کمتر یا بدتر ہیں تفریق ختم ہو تو ہی آج کے بچے جوان ہو کے تفریق کو ختم کریں گے ورنہ یہ مسلہ کبھی حل نہیں ہوگا کے مرد اچھا برا یا عورت اچھی بری ؟ دونوں ہی اچھے ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی برے بھی ہو سکتے ہیں آسان حل یہ کہ دونوں ایک دوسرے کو انسان سمجھیں

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں