بارش کی شاعری

بارش شاعری برسات شعر ساون اشعار

بارش ایک خوبصورت موسم ہے۔ شعراء برسات کے موسم کو اشعار میں مختلف معانی دیتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک غموں اور آنسوئوں کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے تو کچھ کے قریب بارش کا موسم ایک رومینٹک قدرتی موسم ہے جو اپنی منفرد مزاجی کے باعث ایک شاہکاری مظہر ہے۔ بارش کو عام طور پر برکھا رت، برکھا، برسات، ساون، مینہ کے الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔ بارش کے موضوع پر متعدد شعراء نے اشعار کہے، نظمیں لکھیں اور غزلیات میں بارش و برسات کے الفاظ کو استعمال کیا۔ اردو شاعری میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بارش کے موسم میں یہ اشعار اپنے احباب تک پہنچاتے ہیں۔ آئیے چند اک اشعار ملاحظہ کرتے ہیں۔

اب کے ساون میں بھی زردی نہ گئی چہروں کی
​ایسے موسم میں تو جنگل بھی ہرا لگتا ہے​
۔
کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں​
ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا​
بہت سے لوگ دل کو اس طرح محفوظ رکھتے ہیں​
کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا​
شاعر: ​امجد اسلام امجد
۔
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہوگئے​
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہوگئے​

بادل کو کیا خبر کہ بارش کی چاہ میں​
کتنے بلند و بالا شجرخاک ہوگئے
نامعلوم شاعر

بارش کی شاعری

بارش شاعری برسات شعر ساون اشعار

اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں
بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
جمال احسانی
۔
ایک ہی شہر میں اتنی بارشیں ٹھیک نہیں​
آؤ ہم تم بانٹ لیں آنکھوں کی برسات​
میں جی لوں گا مجھ کو راس ہے تاریکی​
سارے دن تم لے لو مجھ کو دے دو رات
شاعر: نامعلوم

میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی
تو وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں
سلطان اختر
۔
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پروین شاکر
۔
ساتھ بارش میں لیے پھرتے ہو اس کو انجمؔ
تم نے اس شہر میں کیا آگ لگانی ہے کوئی
انجم سلیمی
۔
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ
بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
عبد الحمید عدم

بارش کی شاعری

بارش شاعری برسات شعر ساون اشعار

برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے
کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے
ندا فاضلی
۔
دفتر سے مل نہیں رہی چھٹی وگرنہ میں
بارش کی ایک بوند نہ بیکار جانے دوں
اظہر فراغ
۔
گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں
چھتوں پر کھلے پھول برسات کے
منیر نیازی

آنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعد
لوٹ جاتا ہے اگر کوئی خفا شام کے بعد
فرحت عباس شاہ
۔
اب جو برسی ہے یاد کی بارش
عین ممکن ہے کہ آندھی تھم جائے
(اعظم خورشید)

اس کے علاوہ بارش کے موضوع پر معروف شاعر سہیل کاکوروی کی ایک نظم “ساون” ملاحضہ فرمائیں:

اس کی پلکوں پہ گھٹا بن کے جو چھایا ساون
پھر تو میں ہنس پڑا کچھ اس طرح برسا ساون
چڑھتے سورج کے شعاعوں سے جو برسا ساون
میں نے دیکھا نہ سنا تھا کبھی ایسا ساون
ساری جاں کھنچ کے چلی آئی مری آنکھوں میں
پھول کی طرح کھلے زخم جو آیا ساون
خرمن صبر کو بجلی نے جلایا گر کر
جب کبھی دل کی تمناؤں سے الجھا ساون
برق و باراں تو ہے تصویر حیات انساں
ہنس کے رونے کا دکھاتا ہے تماشا ساون
یوں تو پہلے ہی سمیٹے تھا ہزاروں جلوے
حسن کے عکس سے کچھ اور بھی نکھرا ساون
ہر طرف پھول کھلے رنگ کے بادل برسے
اے سہیلؔ اس کی نگاہوں نے سجایا ساون


شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں