کرونا ویکسین کتنی نقصان دہ

کیا ویکسین لگانے سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحت ختم ہو جائے گی؟

مضمون نگار : علی نثار

, کرونا ویکسین کتنی نقصان دہ

کیا ویکسین لگانے سے عورتوں کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحت ختم ہو جائے گی؟
کیا یہ منصوبہ آبادی کو کنڑول کرنے کے لیے تو نہیں؟؟
اس قسم افواہ ملک میں تیزی سے گردش کر رہی ہے آئیے جانتے ہیں حقیقت کیا ہے ۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ کورونا نامی وائرس کا خوف لوگوں میں جان بوجھ کر پھیلایا گیا ۔ خوب چرچا ہوا ۔ ایک ڈر کا ماحول بنایا گیا ۔ اب اس کا انجکشن یہود کی جانب سے ایجاد کرکے خوب پیسہ کمایاجائےگا۔ یہ فائزر کہیں یہود ہی کی کمپنی تو نہیں ؟
ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ جب اسلامی ممالک اپنا دفاع کرنے کے لئے ایٹم بم بنانا چاہتے ہیں تو یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ انسانیت کے لئے خطرہ ہے۔ اسی طرح اسلامی ممالک میں ویکسین کی ٹیکنالوجی کا نہ ہونا انسانیت کے لئے خطرہ ہے اس لئے ویکسین کو بھیک نہیں انسانیت کے لئے خطرہ ختم کرنے کی مد میں کوشش کا نام دینا چاہیے۔ اسلامی ممالک کی غفلت بھی ایک فیکٹر ہے ۔ عیاش سیاست دان برج بنا نے میں لگے رہے آج مغربی ممالک کے ہاتھوں بلیک میل ہورہے ہیں ۔۔ کیا مغربی ممالک کو مسیحی اور ہیرو بنا کر پیش کرنا درست ہوگا ؟ کیونکہ جلد یا بدیر ویکسین سے ان کا جڑا مفاد نظر آہی جائے گا۔


ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ ہم اس قدر اہم ہیں کہ دنیا ہمیں ختم کرنے کے درپے ہے؟ اس وقت سب سے زیادہ ویکسین امریکہ میں اور دوسرے نمبر پر چین میں لگ چکی ہیں- دنیا بھر میں تیرہ کروڑ سے زیادہ ویکسین لگ چکی ہیں- امریکہ یا چین میں کسی کو یہ فکر نہیں ہے کہ اس ویکسین سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت خت ہو جائے گی- وہاں کی کانسپیریسی تھیوریز بھی شاید زیادہ ایڈوانسڈ ہیں- یہ سوچ ہمارے ہاں ہی پائی جاتی ہے کہ دنیا ہم سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ ہماری آبادی کو کم کرنا چاہ رہی ہے-


ہم جنہیں دن رات لعن طعن کرتے ہیں انہی سے یہ ضد بھی کرتے ہیں کہ وہ ہماری ہر طرح سے مدد بھی کریں کیونکہ ہم بہت اہم ہیں- اس قسم کا exceptionalism کا رویہ دنیا کی کامیاب ترین قوم کا بھی کوئی برداشت نہیں کرتا، تو ہمارا ایسا رویہ کوئی کیوں برداشت کرے؟


کیا آپ کو علم ہے کہ فائزر کمپنی جو ویکسین مینوفیکچر کر رہی ہے وہ ترکی کے ایک مسلمان سائنس دان نے ایجاد کی ہے؟ کیا آپ کو علم ہے کہ اس وائرس کے خلاف سو سے زیادہ ویکسینز ڈیزائن کی جا چکی ہیں جن میں سے کم از کم چار کی منظوری دی جا چکی ہے؟ یہ تمام ویکسیسن مختلف کمپنیوں نے ایجاد کی ہیں اور کچھ تو یونیورسٹیوں میں ایجاد کی گئی ہیں- کیا یہ تمام کمپنیاں اور یہ یونیورسٹیاں یہودی ہیں؟ کیا آپ کو علم ہے کہ کورونا وائرس ہزاروں سالوں سے انسانوں میں تباہ کاریاں پھیلاتے رہے ہیں لیکن تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس کی ویکسین تیار کرنے میں انسانوں کو کامیابی ہوئی ہے؟ کیا آپ کو علم ہے کہ دنیا بھر کے سائنس دانوں نے دن رات محنت کر کے یہ ویکسینز ایجاد کی ہیں اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس قدر کامیاب ویکسین تیار کی ہے جو 95 فیصد سے زیادہ پر اثر ثابت ہوئی ہے؟ کیا آپ کو یاد ہے کہ سیاست دانوں کی بیوقوفیوں اور عقابت نااندیشیوں کی وجہ سے اس وائرس سے دنیا بھر میں لاکھوں اموات بلا وجہ ہوئی ہیں؟ یہ سائنس دان ہی ہیں جو ویکسین بنا کر لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں- کیا آپ کو علم ہے کہ زیادہ تر کمپنیاں ‘یہودیوں کی’ نہیں ہوتیں بلکہ پبلک کمپنیاں ہوتی ہیں جن میں بھرتی میرٹ پر کی جاتی ہے- کیا آپ کو علم ہے کہ اکثر ممالک میں مذہب کی بنیاد پر بھرتی کرنا یا مذہب کی بنیاد پر بھرتی سے انکار کرنا قانونی طور پر جرم ہے؟ کیا آپ کو علم ہے کہ بیشتر ممالک میں ویکسین مفت لگائی جا رہی ہے؟


ویسے پولیو ویکسین تو کئی دہائیوں سے ہمارے ملک میں دی جا رہی ہے اور کئی دہائیوں سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ اس سے بچے بانجھ ہو جاتے ہیں- اس کے باوجود پاکستان کی آبادی 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ 1973 میں یہ آبادی سات کروڑ سے بھی کم تھی- اگر یہ ویکسینز سازشیں ہیں تو یقیناٍ دنیا کی ناکام ترین سازشیں ہیں
۔ ویسے سائنسی علم تو دستیاب ہے جس کی مدد سے ویکسین بنائی گئی۔ مسلمان ممالک ویکسین بنا لینے والے ممالک پہ جملے کسنے کی بجائے اُس سائنسی علم سے استفادہ کر کے خود ویکسین کیوں نہیں تیار کرتے؟
۔ کیا یہ دانش مندی ہے کہ اُن ممالک سے ویکسین کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی التجا کی جائے جو ایسے وقت میں ہمارے لیے کثیر سرمایہ بھی خرچ کریں جب وہ خود ایک وباء سے نبرد آزما ہیں اور اِس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح اِس صورتِ حال پہ قابو پایا جا سکے؟


۔ اگر وائرس پہ قلیل مدت میں ریسرچ نہ ہوتی اور اُس کے میکنزم کا نہ علم ہوتا تو روز مرہ کے معمولات جاری رہتے اور وائرس کے لیے ساز گار ماحول ہوتا۔ اگر ویکسین تیار نہ ہوتی تو اِس تصور سے روح کانپ جاتی ہے۔ جن ممالک نے ویکسین بنائی، اُن کے جذبۂ انسانیت پر محض اِس بنیاد پہ شک درست نہیں کہ مستقبل میں بعض واقعات کے رونما ہونے کی خواہش پوری ہو جائے گی۔
۔ جنگ میں ہیرو وہی ہوتے ہیں جو مخالف کی چالوں، جنگی حکمتِ عملیوں کا کھوج لگائیں، اُنہیں سمجھیں تاکہ اُنہیں غیر مؤثر کرنے کی کوئی سبیل ممکن ہو اور وہ جو مخالف کو شکست دیں اور اپنے قبیلے کو کم سے کم نقصان پہنچنے دیں یعنی ایسا دفاع کریں کہ مخالفین کے حملے سے نقصان کم سے کم ہو۔
بنی نوعِ انسان بھی ایک وائرس سے حالتِ جنگ میں ہے جس میں انسان کا بہت کچھ داؤ پہ لگا ہوا ہے۔


۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اِس صورتِ حال میں انسانیت سے حقیقی معنوں میں مخلص کون ہے، وہ جنہوں نے قلیل مدت میں وائرس کے میکنزم پہ تحقیقات کیں تاکہ اُس کے حملہ آور ہونے کا طریقہ سمجھا جا سکے اور نقصان کم سے کم ہو، پھر ویکسین تیار کی تاکہ ہمارا(بنی نوعِ انسان) دفاع اتنا مضبوط ہو جائے کہ ہم اِسے شکست دینے کے لائق ہو جائیں یا پھر وہ جنہوں نے اِس وائرس کو شکست دینے کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ اُلٹا وائرس کو ہرانے کے اسباب پیدا کرنے والوں پہ شک کیا؟
۔ باقی معاملات شاید سائنس سے متعلق نہ ہوں مگر اِس معاملہ میں تو فرق بالکل واضح ہے کہ حقیقی معنوں میں انسانیت سے مخلص کون ہے۔
مسلہ یہ جب کوئی نئی ایجاد یا ویکسین آتی ہے ہم یہ سوچتے ہیں کہیں بچہ پیدا کی صلاحیت سے محروم تو نہ ہو جائیں گئے ۔۔جیسے آئیوڈین نمک کے بارے میں یہ غلط فہمیاں تھیں یا پولیو ویکسین کے بارے میں ۔۔ان چیزوں کے استعمال سے کہیں آبادی کنٹرول نظر نہی آئی ۔۔


نئی چیز کو ایکسیپٹ کرنے میں کچھ ٹائم لگتا ہے ورنہ تو بیماری کا علاج ہی دریافت نہ ہو اور انسان اذیت سے شہریوں رگ رگ کے مر جائے۔
لوگ اس بگڑے ہوئے بچے کی طرح بات کر رہے ہیں جو کبھی کوئی کام نہیں کرتا لیکن اس بات پر بضد ہوتا ہے کہ اس کی ہر بات مانی جائے- اگر کوئی کام ہماری مرضی کے خلاف ہو جائے تو ہم ضدی بچوں کی طرح tantrum ڈالنے لگتے ہیں، چلانے لگتے ہیں، خود اپنے ہی کھلونے توڑنے لگتے ہیں- اور پھر یہ شکایت کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں لفٹ نہیں کرواتا- حقیقی دنیا میں بگڑے ہوے بچوں کو کوئی لفٹ نہیں کرواتا-
اگر کرونا انسانیت کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ تو اسکو حل کرنے میں اسلامی ممالک کی مدد کی جائے۔ ان کو ویکسین بنانے کی ٹیکنالوجی لگانے میں مدد کی جائے کیوں کہ اسلامی ممالک کی نفسیات الگ ہے یہاں حلال حرام کا خیال رکھا جاتا ہے۔


کرونا وائرس تو دراصل ایک آزمائش تھی انسان کے عزم و حوصلے کی، انسانیت دوستی کی، مزہب و قوم اور بین القوامی حدوں سے نکل کر ایک ہو کر اور مل کر ایک عالمی وبا سے مقابلے کی۔ جس میں یقننا انسان ہی کامیاب ہوا ہے۔

ویسے ہم بھی ان باتوں کو محض اندازے,شکوک وشبہات سمجھ کر رد کرتے رہے مگر آج حالات دیکھ کر شک بھی یقین میں بدلنے لگا ہے کہ ہماری قوم کا خدا ہی حافظ ہے ۔ ہم شاید کبھی ترقی نہ کر سکیں اور کنؤیں کے مینڈک ہی بنے رہیں گے ۔
عام طور پر اس قسم کی باتیں ایک خاص دینی جذبے کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ انداہ لگائیں کہ اس دینی جذبے کی تہہ سے کیسی بدعقیدگی پھیلائی جارہی۔
یہاں پر مقصد یہ نہیں کہ بات کو دینی اعتبار سے پرکھا جائے۔ بلکہ یہ بتانا مقصد ہے کہ اس قسم کے دعووں سے ایک خاص قسم کا تضاد پیدا ہوتا ہے۔سازشی نظریات سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلب کر لیتے ہیں- خدارا سازشی نظریات کو ترک کر دیجیے اور حقائق کی دنیا میں رہنا سیکھیے

شیئر کریں
علی نثار
مصنف: علی نثار
علی نثار صاحب کا تعلق حیدرآناد انڈیا سے ہے ۔ یہ کینڈا میں مقیم ہیں۔ بہترین افسانہ نگار ، ناقی اور مضمون نگار ہیں ۔ ان کے افسانے اردو کے تمام اہم رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ عالمی سطح پہ ان کی تحریروں کو مقبولیت حاصل ہے ۔ پیشے سے بزنس مین ہیں ۔

کمنٹ کریں