بچوں کےنام رکھنے کا صحیع طریقہ

بچوں کے نام کیسے رکھیں
بچوں کے نام کیسے رکھیں

مسلمان بچے کا نام تجو یز کرتے وقت قرآن شریف سے نام کے حروف نکالنا اور بچے کے نام کے حروف کے اعداد اور تاریخِ پیدائش کے اعداد کو آپس میں ملاکر نام رکھنے کا طریقہ کسی بھی رو سے درست نہیں ہے ۔
قرآن و سنت میں علم الاعداد پر اعتماد کرنے کی اجازت نہیں، لہٰذا یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ نام رکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے حسنیٰ کی طرف نسبت کرکے نام رکھے جائیں، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اپنے بزرگوں کے ناموں پر نام رکھے جائیں۔
نومولود بچوں کے اچھے معنیٰ دار نام تجویزکرنے مہمل اور بے معنیٰ ناموں سے احتراز کرنے کے سلسلہ میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی متعدد احادیث شاہدعدل ہیں، چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں:

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول نے ارشاد فرمایا :
’’ قیامت کے دن تم اپنے اوراپنے آبائو اجداد کے ناموں سے پکارے جاؤگے لہٰذا اچھے نام رکھاکرو ۔‘‘( احمد، ابوداؤد، مشکاۃ)۔

باپ پر بچہ کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اوراس کو حسنِ ادب سے آراستہ کرے۔‘‘( البیہقی فی شعب الایمان)۔

’’ آدمی سب سے پہلے تحفہ اپنے بچہ کو نام کا دیتا ہے اس لئے چاہئے کہ اس کا نام اچھا رکھے۔‘‘(رواہ ابو الشیخ)

’’ انبیاء کے ناموں پراپنے نام رکھو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نام عبداللہ و عبدالرحمن ہیں اور سب ناموں سے سچے نام حارث وہمام ہیں اور سب سے بُرے نام حرب اورمُرہ ہیں۔‘‘(ابوداؤدومشکاۃ)

’’ جب کسی کے یہاں بچہ پیدا ہوتو اس کا نام اچھا رکھے اور تعلیم وتربیت دے ،بالغ ہوجائے تو اس کی شادی کردے اور بالغ ہونے کے بعدشادی نہیں کی اور وہ لڑکا (یالڑکی) کسی گناہ میں مبتلا ہوگیا تواس کا گناہ باپ پر بھی ہے۔‘‘(مشکاۃ)

ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے بچوںکے اچھے نام تجویزکرنے کی اہمیت و نافعیت پہ خاصہ زور دیا ہے۔نام رکھنے کا مقصد محض تعین اورپہچان نہیں ہے بلکہ مذہب کی شناخت بھی ہے ۔اسی لئے مختلف احادیث میں اچھے دلکش اور با معنی نام رکھنے کی خصوصی ہدایات دی گئی ہے اور ایسے ناموں سے منع کیاگیا ہے جو بھدے اور معنی ومفہوم کے اعتبار سے ناگوار ہوں اورجن سے شرک کی بو آتی ہو۔ جدید دور میں انگریزوں اور غیر مسلموں کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان اپنے بچوں کے اوٹ پٹانگ نام رکھنے لگے ہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے نومود کا ایسا نام رکھیں جو دور دور تک نہ ہو ۔ لوگ نئے نئے نام دریافت کرتے ہیں اور اس چکر میں نام کے مفہوم جانے بنا غلط نام تجویز کر لیتے ہیں ۔ نام کے اثرات کے سبب ان کی اولاد زندگی بھر پریشان رہتی ہے ۔
مسلم معاشرہ میں جو غیراسلامی ناموں کا رواج بڑھتا جارہا ہے اور دینی وعلمی مزاج میں کمی آ رہی یہ ایک فکرمندی کی بات ہے ۔ ہمیں یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کے رسائل وغیرہ سے اوٹ پٹانگ نام رکھنے کے بجائے انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام اورحضراتِ تابعین رحمہ اللہ، اہل علم وفضل کے ناموں کا انتخاب کریں ۔ اس کے متعلق جو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں ان پر عمل کرنے کا جذبہ عوام الناس میں بیدارکیا جائے ۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں