بد نصیب سال 2020

مضمون نگار : تبسم فاطمہ

بدنصیب سال 2020

اس وقت ساری دنیا یہ سوچ رہی ہے کہ ۱۲۰۲ میں موت کے وائرس کا کھیل کتنا خطرناک ہوگا

الوداع ۰۲۰۲— ۰۲۰۲ ء ہلاکت اورتباہیوں کا سال ثابت ہوا۔۰۲۰۲ سے قبل ۰۲۹۱ میں مہاماری پھیلی تھی۔ یہ بھی کہا گیا کہ فطرت ہر سو برس بعد انتقام لیتی ہے۔ پچھلی پانچ صدی فطرت کے انتقام سے متاثر رہی۔ انگلینڈ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہاں کورونا سے بھی خطر ناک وائرس کا حملہ ہوچکا ہے۔ اس وقت انگلینڈ سے تمام رابطے بند ہیں اور وہاں لاک ڈاؤن لگادیا گیا ہے۔۰۲۰۲ ایسی تباہی لے کر آیا، جس کے بارے میں سوچنا بھی، تصور کرنا بھی محال تھا۔ ایک امریکی ایجنسی کا خیال ہے کہ تاریخ کے نقشے سے سال ۰۲۰۲ کو غائب کردینا چاہیے۔۰۲۰۲ کو تو غائب نہیں کیا جاسکتا مگر اس کے مضر اثرات کے بارے میں غور تو کیا ہی جاسکتا ہے۔ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کی کمزور انتظامیہ کو کنارے کیا جائے تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا امریکہ، چین، فرانس جیسے سپر پاور بھی اس حد تک کمزور ہیں کہ اب تک ایسے وائرس سے جنگ کرنے کے لیے ایک اچھی ویکسین تک تیار نہیں کرپائے؟ سب سے پہلے کورونانے چین کے ووہان شہر میں تباہی مچائی اور سپر پاور چین وائرس کے سامنے گھٹنے ٹیکتا ہوا نظر آیا۔ جب امریکہ میں تباہی پھیلی تو امریکہ کا بھی یہی حال تھا۔فطرت کے سامنے کمزور ممالک اور سپر پاور ایک جیسے ہیں۔انسانی ہلاکت کی تاریخ نے یہ بھی واضح کیا کہ فطرت کی مرضی کے سامنے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔سائنس اور تکنالوجی کی دنیا میں کرشمہ کرنے کا دعویٰ کرنے والے ممالک بھی کورونا وائرس کے آگے جھک گئے اور ابھی تک عالمی معیشت کا بازار ٹھنڈا ہے۔ ہندوستان جیسے ممالک وہاں پہنچ گئے، جہاں معاشی اعتبار سے بلند ہونے میں کئی برس لگ جائیں گے اور آنے والے دس برس ملک اور دنیا کے لیے بھیانک ثابت ہوں گے۔

۰۲۰۲ نے ایک مغرور تانا شاہ کے غرور کو توڑا۔ ٹرمپ کی شکست ہوئی مگر ٹرمپ ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ۰۲۰۲ زلزلوں کا سال بھی رہا۔ دلی میں بھی ہر ماہ چھوٹے موٹے زلزلے آتے رہے۔اس برس اس قدر اموات ہوئیں کہ شمار کرنا بھی مشکل ہے۔بڑے بڑے ادیب اور سیاست داں خاموشی سے گزرگئے۔کچھ کورونا کا شکا ربھی ہوئے۔ ۰۲۰۲ ہندوستان کے لیے انقلاب کا سال ثابت ہوا۔ ۰۲۰۲ کی شروعات میں شاہین باغ احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ کورونا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے شاہین باغ احتجاج کو ختم کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن شاہین باغ احتجاج ایک ایسا احتجاج ثابت ہوا، جس نے کسانوں کو بھی حوصلہ دیا۔ حکومت جب زرعی قانون لے کر آئی تو کسان برہم ہوگئے اور اس موقع پر کسانوں کو شاہین باغ کا احتجاج یاد آیااور کسان عزم وحوصلہ کے ساتھ حکومت کے مقابل کھڑے ہوگئے۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ مودی حکومت، کسانوں کے انقلاب سے خوفزدہ ہے یا نہیں۔ اگر حکومت اب بھی یہ سوچتی ہے کہ زور زبردستی وہ کسانوں کو جھکنے پر مجبور کردے گی تو وہ غلطی پر ہے۔ ۰۲۰۲ میں مرکزی حکومت کے سات برسوں کے مظالم کسانوں نے گنوائے۔ حکومت کو سرمایہ داروں کی حکومت قرار دیا۔ کسانوں نے بتایا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے کس طرح معیشت کی کمر توڑی اور مودی کی حکومت نے ہر محاذ پر ناکامی کا منہ دیکھا۔ کورونا کے دنوں میں حکومت کی حالت یہ تھی کہ ورلڈ بینک سے قرض لینے کی نوبت پیش آئی۔ لیکن یہ قرض کہاں گیا، کسی کو نہیں معلوم۔ حکومت نے کورونا کے لیے پی ایم کیئر قائم کیا لیکن کروڑوں کے فنڈ کہاں گئے، کوئی نہیں جانتا۔ ۰۲۰۲ میں یہ بھی ہوا جب اچانک لاک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد ملک کے لاکھوں مزدور سڑکوں پر آگئے۔ ریاستیں خاموش رہیں اور مرکزی حکومت نے مزدوروں کو سڑکوں پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ جب کورونا عروج پر تھا حکومت،بہار انتخابات کی تیاریاں کررہی تھی۔ بہار انتخابات کے نتائج پر آج بھی مطلع صاف نہیں ہے اور بہار کی نتیش حکومت کو زور زبردستی کی حکومت کہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔

۰۲۰۲ میں میڈیا کی فسطائیت عروج پر نظر آئی۔ میڈیا نے کورونا کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ٹھہرایا۔ تبلیغی جماعت والوں کو مجرم ٹھہرایا اور تبلیغی جماعت کی آڑ لے کر میڈیا مسلسل مسلمانوں پر الزام تراشی کرتی رہی۔یہاں تک کہ اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور سپریم کورٹ نے میڈیا کو تبلیغی جماعت والوں سے معافی مانگنے کو کہا ہے۔ لیکن کون معافی مانگے گا۔ ہندوتوا کے علمبردارارنب گوسوامی کو مہاراشٹر حکومت نے اسی برس جیل کی ہوا بھی کھلادی۔ ارنب باہر تو آگئے لیکن ابھی بھی وہ الزامات سے بری نہیں ہوئے ہیں۔ اور اب ہر پاکستانی کو دہشت گرد قرار دینے کے عوض دفتر برائے مواصلات، برطانیہ نے ارنب کو بیس لاکھ کا ہرجانہ بھرنے کو کہا ہے۔ پرشانت بھوش کے مطابق، یہ بیس لاکھ صرف ایک پروگرام کو لے کر ہے۔ ذرا سوچیے کہ اگر ارنب گوسوامی کے تمام پوگراموں پر فوکس کیا جائے تو ارنب گوسوامی دیوالیہ ہوجائیں گے کیونکہ یہ شخص موت کی کھیتی کررہا ہے۔

۰۲۰۲ میں کورونا کے باوجود مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ غیر ملکی نیوز ایجنسیوں نے بھی تسلیم کیا کہ ہندوستان نفرت کے بارود پر کھڑا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ مسلسل زیادتیاں ہورہی ہیں۔۰۲۰۲ میں بہت حد تک حکومت بے نقاب ہوئی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صدی تقریبات میں مودی نے یونیورسٹی کو منی انڈیا بتایا۔ یہ بھی ۰۲۰۲ کی ایک بڑی خبر ہے۔ کسانوں کی حمایت میں مسلمانوں کا اترنا بھی سال کی بڑی خبر ہے۔ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ملک کا مسلمان حاشیہ پر رہنے کو تیار نہیں ہے اور وہ بھی نا انصافی اور ظلم کے خلاف بولنا سیکھ رہا ہے۔

ملک میں ماب لنچنگ اب کوئی نئی بات نہیں رہی۔ماب لنچنگ کی خبریں بیشتر ہندی اور انگریزی اخبارات کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ میڈیا اپنا کردار سمجھ چکاہے اور اس لئے نفرت کو فروغ دینے کے لئے اور مسلمانوں کی مخالفت میں آواز تیز کرنے کے لئے نہ اسے کوئی خطرہ ہے نہ خدشہ۔ بلکہ ان کے حوصلے بلند ہیں اور میڈیا اس بات کو سمجھ چکاہے کہ چینل چلانا ہے تو ضمیر کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ آر ٹی آئی بل تو پہلے ہی پاس ہوچکا ہے۔ جبکہ اس بل میں نہ تبدیلی کی کوئی مانگ تھی نہ ضرورت۔ اس کے تحت جو 90 فیصد معاملے آتے ہیں انہیں حکومت کے ذریعہ ہی فراہم کرایا جاتا ہے۔ اب حکومت خود مختار ہے۔ این آئی اے کو بھارت کے حق میں کام کرنے کے لئے پوری چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب بھی خاص طور پر سمجھا جاسکتا ہے کہ این آئی اے کے فیصلے اب کیا ہوں گے۔۰۲۰۲ میں اپوزیشن چلاتی رہی کہ حکومت جمہوریت کا قتل کررہی ہے لیکن اب حکومت کو اس شور غل سے کوئی واسطہ نہیں رہ گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن کمزورہے اور مودی حکومت کے پاس آئندہ برسوں کے لئے بھی راستہ صاف نظر آرہا ہے۔ کم از کم۴۲۰۲ تک ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ کانگریس یا دیگر سیاسی پارٹیاں مل کر بھی بی جے پی کے لئے مشکلات کھڑی کرسکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ۴۲۰۲ آتے آتے ریاستی سطح کی زیادہ تر پارٹیوں کا وجود ہی مٹ جائے۔ایس پی، بی ایس پی، ترنمول، آر جے ڈی، عآپ کسی کے پاس بھی وہ علاء الدین کا چراغ نہیں کہ اپنی پارٹی کی سا لمیت کو برقرار رکھ سکیں۔ مغربی بنگال میں ممتا کمزور پڑ چکی ہیں۔اکھلیش یادو اور مایا وتی حاشیہ پر آچکے ہیں۔ کانگریس کا حال ان میں سب سے بدتر ہے۔

۱۲۰۲ میں کیا ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے ۰۲۰۲ کے بعد بھی خطرناک صورتحال میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ کورونا ابھی بھی ختم نہیں ہوا ہے۔ نیاوائرس پیدا ہوچکا ہے۔ ملک کی معیشت کمزور۔ بے روزگاری بڑھ چکی ہے۔ کسان ہڑتال پر اور مزدور بھوکے مررہے ہیں۔ حکومت کے پاس مغربی بنگال کے لیے تو فنڈ ہے مگر عوام کے لیے نہیں۔ حکومت نے عوام کے بارے میں سوچنا بند کردیا ہے۔ این آر سی اور این پی آر کو لے کر امت شاہ سنجیدہ ہیں۔ ملک میں مسلم مخالفت کا کھیل عروج پر ہے۔ ۱۲۰۲ کی تباہیاں ابھی سے نظر آنے لگی ہیں۔

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    عمدہ مضمون ہے

    Reply

کمنٹ کریں