عبداللہ حسین کا فن اور ’’باگھ‘‘

مضمون نگار : محمد عباس

عبداللہ حسین کا فن

عبداللہ حسین کے تین ناول ہیں۔ عام طورپر جس محفل میں بھی کچھ صاحبانِ نظر سے ان تین ناولوں پر بات ہو تو ہر دفعہ یہی رائے سننے میں آتی ہے کہ’’ باگھ‘‘ عبداللہ حسین کا ہر لحاظ سے اچھا ناول ہے۔ کہانی دلچسپ ہے۔ کرافٹ بہت خوبصورت ہے۔ منظر نگاری اور جزئیات نگاری پر خاص توجہ ہے ۔ کردار محدود مگر محنت سے تخلیق کیے گئے۔ مکالمے جاندار اور حقیقی ہیں۔ موضوع بھی بہت دلیری سے چنا گیا ہے اور اظہار کے لیے علامتی پیرایہ اپنایا گیا ہے۔ باگھ کی علامت بہت وسیع ہے ۔ جبر کی صورتیں اور آزادی کی اہمیت دکھائی گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں آج چھ دن سے اس کے ساتھ جوُجھ رہا ہوں۔ وہ سِرا ہاتھ نہیں آرہا جو ان لوگوں کے ہاتھ آتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ناول کو ادبی معیار کی بجائے کسی اور معیار سے پڑھتے ہیں اور اگر ہلکا سا شائبہ بھی ہو جائے کہ اس میں سیاسی بصیرت ، معاشرتی حقائق یا نفسیاتی ژرف بینی دکھائی گئی ہے تو اُٹھ اُٹھ کر اس کی تعریف کرتے ہیں۔ جب کہ میں ناول پڑھنے بیٹھوں تو میرا پہلا سروکار یہ ہوتا ہے کہ کیا یہ تحریر ناول بن پائی ہے یا نہیں۔ اگر مصنف اسے ناول بنا پایا ہے تو پھر اس ناول کے ہر جملے کو لذت سے پڑھتا ہوں لیکن اگر ناول نگار سے ناول نہ بن رہا ہو تو پھر اس کی ادھر ادھر کی فلاسفیاں میرے لیے سانڈے کا تیل بیچنے والے دوا فروش کے دعوؤں جیسی مضحکہ خیز ہوتی ہیں۔ جب دیکھا کہ ناول نہیں بن رہا تو ناول نگار کبھی اِس نظریے کی طرف جھانکتا ہے، کبھی اُس فلسفے کا پلو کھینچتا ہے ، کہیں سیاسی حالات و واقعات کو کھینچ گھسیٹ کر ناول کا حصہ بنا رہا ہے، کسی جگہ مذہب کو زیرِ بحث لا کر کچھ سوالات اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ جیسے کھانا خراب ہونے پر باورچی اس میں مصالحے تیز کر دیتا ہے ایسے ہی ناول نگار بھی فن کی طرف سے ناکام ہوکر اس میں بہت سے مصالحے ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔


’’باگھ ‘‘بھی کچھ ایسا ہی ناول ہے۔ اس کی کہانی بہت سیدھی سادی ہے۔ اسد کریم کے والدین مر چکے ہیں۔ چچا کے گھر رہ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے کہ سانس کی لاعلاج بیماری اسے چمٹ جاتی ہے۔ علاج کے لیے کشمیر کے ایک گائوں ’گم شد‘ کے حکیم کے ہاں جا کر رہنے لگتا ہے۔ وہاںاُسے حکیم کی لڑکی یاسمین جو اُس سے عمر میں چھ سال بڑی ہے، سے محبت ہو جاتی ہے۔ انہی دنوں اس علاقے میں اکثر باگھ کی آوازسنائی دینے لگتی ہے لیکن وہ کسی کے سامنے نہیں آتا نہ ہی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک رات حکیم صاحب پر اسرار طریقے سے قتل ہو جاتے ہیں اور اگلے دن پولیس اسد کریم کو پکڑ کر تھانے لے جاتی ہے جہاں اس پر تشدد کر کے اس سے قتل کا اقبال کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسد نہیں مانتا۔ تب ذوالفقار نامی آدمی آتا ہے جو شواہد سے کسی سرکاری خفیہ ادارے سے وابستہ ہے۔ وہ اسد کو پیش کش کرتا ہے کہ اگر وہ کشمیر کاز کے لیے پاکستان کی طرف سے کام کرے تو اس پر سے تمام الزامات ختم ہو جائیں گے اور وہ نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ اسد اس کی پیش کش قبول کر لیتا ہے اور گوریلا کاروائیوں کی باقاعدہ تربیت لے کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جاتا ہے۔وہاں اسے ریاض نامی ایک جوان کی رفاقت ملتی ہے جو بھارتی فوجیوں کو گوریلا کاروائیوں کے ذریعے مارنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اسد اور ریاض ایک آپریشن

پاکستانی کمانڈوز کے ساتھ کرتے ہیں جس میں ریاض مارا جاتا ہے اور اسد اپنی خفیہ شناخت کی وجہ سے اپنی بقا کے لیے محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ تمام کاروائیاں ترک کر کے واپس گم شد گائوں کا رُخ کرتا ہے ۔ ایک طویل اور پر صعوبت سفر کے بعد وہ واپس یاسمین کے پاس پہنچتا ہے جہاں اسے خبر ملتی ہے کہ وہ باپ بننے والا ہے اور پہنچتے ہی ذوالفقار کے آدمی اسد کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں۔ اسد کو چھڑوانے کے لیے یاسمین ہاتھ پائوں مار تی ہے اور اسی ہاتھا پائی میں اس کا بچہ ضائع ہو جاتا ہے ۔ اسد کو کسی نامعلوم جگہ لے جایا جا رہا ہے اور اسی سفر کی غیر یقینی صورت حال میں ناول ختم ہو جاتا ہے۔


کہانی جس طرح کی بھی ہو، اچھے ناول کے ضمن میں اس پر زیادہ بحث نہیں ہوتی کہ ناول میں کہانی کی بہ نسبت وہ سماجی ، ثقافتی ، معاشی و سیاسی عوامل ، وجوہات اور کرداروں کی نفسیات زیادہ اہم ہوتے ہیں جو کہانی کے ساتھ مل کر ناول کو بُنتے ہیں۔ اس کے باوجود کہانی پر توجہ کرنی ہی پڑتی ہے کہ یہی وہ بنیادی تار ہوتا ہے جس سے پورے ناول کے سبھی دھاگے جڑے ہوتے ہیں۔ ’’باگھ‘‘ کی کہانی کمزور ہے بلکہ اتنی کمزور ہے کہ بعض جگہوں پر باقاعدہ نظر آتا ہے کہ ناول نگار کو قدم آگے بڑھانے کے لیے کوئی سراغ نظر نہیں آرہا اور وہ بیانیے کو طول دے کر کوئی اگلا سرا پکڑ میں لانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ پہلی دفعہ اس کا احساس تب ہوتا ہے جب اسد تھانے جاتا ہے۔ تھانے دار اسد کو تھانے میں لے جاتا ہے ، اس کو حوالات میں بند رکھ کے اس سے زبردستی اقبالِ جرم کروانے کی کوشش کرتا ہے ، ناول کے اندر یہ عمل سو صفحات تک جاری رہتا ہے۔ سو صفحات کے دوران اسد پر جو تشدد کیا گیا ہے، وہ تشدد کے نام پر بھونڈا مذاق ہے جس کی نظیر پاکستان کے کسی اچھے سے اچھے تھانے میں بھی نہیں ملتی۔ (گو کہ یہ تھانہ آزاد کشمیر کا ہے لیکن اگر وہاں پاکستانی ایجنسیوں کا اثرو رسوخ دکھایا گیا ہے تو ہم اسے پاکستانی تھانہ ہی سمجھ سکتے ہیں)سولہ دن تک تھانے میں رہا اور تھانے دار اتنا بڑا جرم قبولوانا چاہتا ہے اور حیرت، اچنبھے کی بات یہ ہے کہ تھانے دار نے اسے ایک تھپڑ تک نہیں مارا جب کہ وہ تھانہ ایک روایتی تھانہ ہے جہاں کسی اَور کمرے میں رات بھر دوسرے قیدیوں پر سخت جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اور محض اس قیدی کا واویلا سن کر ہی ’’کئی گھنٹے تک وہ اسی طرح کمبل اوڑھے زمین پر پڑا کسی خوف زدہ مویشی کی طرح کپکپاتا رہا۔‘‘ حیرت ہے کہ اتنا چالاک تھانے دار یہ بھی نہ جان سکا کہ اسد کتنا بودا آدمی ہے اور اگراس خوفزدہ مویشی کو ایک ہی دفعہ لٹکایا جاتا تو حکیم کیا، لیاقت علی خا ن کے قتل کا اعتراف بھی کر لیتا۔ اتنا رحم دل تھانے دار بہت ہی غیر منطقی نظر آتا ہے اور لگتا ہے کہ عبداللہ حسین ڈیڑھ دہائی تک انگلینڈ جیسے ملک میں رہ کر اپنے ملک کی زریں روایات سے نابلد ہو چکے تھے۔ پھر آگے چل کر ہم پر کھلتا ہے کہ اس سارے چکر کا مقصد یہ تھا کہ اسد کو کشمیر کاز کے لیے خفیہ کاروائیاں کرنے پرآمادہ کیا جا سکے اور وہ خلوصِ دل سے ان کے لیے کام کرے۔ اگر مقصد یہ تھا تو تھانے کے واقعات کا اتنا باریک بیان ضروری ہی نہ تھا۔ ناول کے ایک چوتھائی حصے سے بھی زیادہ جگہ کو تھانے میں گزرے سولہ دِن بیان کرنے میں ضائع کر دیا گیا۔ اور ان سولہ دنوں کی اہمیت یا معنویت یہ ہے کہ وہ کسی اور کام کے لیے تیاری کا ذریعہ تھے۔تفصیلی واقعات تو وہ لکھے جاتے ہیں جن کی اپنی کوئی معنویت ہو۔ ایسے ذرائع کو تو کسی اور طرح سے مختصر انداز میں بیان کر دیا جاتا ہے۔ جیسے اسی ناول میں اسد کی جہادی ٹریننگ کو دکھائے بغیر مختصراًبتا دیا گیاہے۔


کہانی میںدوسری کمزور ی یہ ہے کہ نہ تو اسد، نہ قاری ہی جانتا ہے کہ اسد نے کشمیر میں جا کر کرنا کیا ہے۔ آخر کس لیے یہ تربیت دی گئی اور اگر حالات یہ رخ اختیار نہ کرتے تو اس کے ذمے کیا لگایا گیا تھا۔ اس سوال کا واضح جواب ناول نگار کے پاس بھی نہیں ہے ، اسی لیے پہلے تھوڑی دیر تک عبداللہ حسین اسد کو کشمیر کی وادی میں گھماتے پھراتے ہیں اور اس کے بعد ریاض کے ساتھ گوریلا کاروائی میں شامل کروا دیتے ہیں ۔ کہانی جو اپنی جگہ اٹکی ہوئی تھی، اسے بھی ایک نیا رخ مل جاتا ہے اور ناول نگار اس رخ پر کہانی کو لیے بھاگ پڑتا ہے۔ چند سنسنی خیزواقعات پیش آتے ہیں۔ پھر ریاض کی ناگہانی موت کے بعد اسد جب واپسی کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ فیصلہ کوئی جواز نہیں رکھتا۔ وہ انڈر کور ایجنٹ ہے۔ وہ ریاض سے زیادہ اہم ہے۔ اگر وہ اپنی صفائی دے دے تو صاف بچ سکتا ہے لیکن ناول نگار اپنی حدود سے واقف ہے۔ تخیل کے طائرِ سدرہ کے پر جلنے لگے ہیں ، جتنا دکھا سکتے تھے دکھا دیا تھا،اب آگے جانے کی کوئی سکت نہیں سو کمزور سا جوازگھڑ کے اسد کو واپس لے آتے ہیں۔ کہانی کے آخر پر اسد کی یوں واپسی کتنی بڑی حماقت ہے۔ یہ فرار ایک بیوقوفی ہی کہی جاسکتی ہے کہ فرار کا رُخ سیدھا شکنجے کی طرف ہے۔ اسد ایجنسیوں سے بھاگ رہا ہے اور بھاگتے ہوئے اس کا رُخ آزاد کشمیر میں اس گائوں کی طرف ہے جہاں یقینا ایجنسیاں اس کی منتظر ہیں۔ تو پھر اس قدر طویل اور دشوار گزار فرار کی ضرورت کیا تھی۔ اگر انہی کے ہاتھ آنا تھا تو اس کے بہت سے آسان راستے بھی تھے جو اسد اور قاری دونوں کو بہت سی فضول مشقت سے بچا دیتے۔ اسد کاکشمیر جانا بھی بے مقصد اور اس کی واپسی بھی بے جواز۔ ان دونوں کے درمیان کہانی انڈین تھرڈ ریٹ فلموں کی سی برستی گولیوں ،پھٹتے ڈائنا مائیٹ ،بے رغبت جنسیت اور ایڈونچرازم کی سنسنی خیزی پر بال کھولے ماتم کر رہی ہے۔


کہانی بُننے کا عمل ناول نگار کا امتحان ہوتا ہے۔ ناول ایک ہی وقت میں بہت سے پیچیدہ سوالات اور حالات سے الجھنے کا نام ہے۔ فرد کے انفرادی مسائل سے لے کرمعاشرے کے پیچیدہ معاملات اور ابدی گونج رکھنے والے عالمگیر سوالات سبھی پر ناول اپنی بصیرت کا جال پھینکتا ہے۔ اس لیے ناول کسی بھی موضوع کو اپنا سکتا ہے۔ کسی بھی سوال پر رائے بنا سکتا ہے اور زندگی کا کوئی بھی پہلو دکھا سکتا ہے۔ ناول نگار کو کھلی آزادی ہے۔ دنیا اس کے سامنے ہے۔ آگے بڑھے اور تسخیر کر لے لیکن اس کے لیے ناول کا فن اس پر پہلی شرط یہ عائد کرتاہے کہ ناول کے لیے جو کہانی تعمیر کی جائے وہ پوری طرح عیوب سے پاک ہو۔ کہانی میں ندرت ہو، مربوط ہو اور اس کے تمام واقعات ناول نگار کے سبھی موضوعات کو اپنے ساتھ کلاوے میں لے کر چلیں۔ کوئی موضوع الگ نہ پڑا رہ جائے اور کہیں سے کہانی کسی موضوع کو پکڑ میں لاتے لاتے بے ڈول نہ ہو جائے۔ عبداللہ حسین اس ناول میں جو سوالات اٹھانا چاہتے تھے اور جن کی طرف اردو کے تقریباً سبھی ناقدین نے اشارہ بھی کیا ہے، وہ محبت کا موضوع ، ایجنسیوں کی طرف سے کشمیر کاز کے لیے کی جانے والی خفیہ سرگرمیاں،باگھ کی شکل میں ڈکٹیٹر کا وجود، باگھ کو وادی میں ان دیکھے خوف کی علامت بنانا، بنتے ہیں۔ ممتاز احمد خان نے تو ایک جگہ بہت سے اورموضوعات گِن دیے ہیں:
’’باگھ میں انہوں نے شعوری طور پر یہ کوشش کی ہے کہ معاشرہ میں جو نئی سیاسی و سماجی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں اور روایت کے برعکس جو نئی سوچ اور نئی سچائیاں سامنے آئی ہیں، ان کی بھرپور عکاسی کی جائے۔ ان کے ہیرو نے آج نئی صورت حال میں یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ بھرپور عزم و ارادے کے باوجود وجود کا مسئلہ کیوں درپیش ہے؟ جنت و جہنم یہیں زمین پر واقع ہیں کہ نہیں؟ اس سماج میں ثابت قدمی اور استقلال کی کیا اہمیت ہے؟ نیز یہ کہ زندگی کا سفر جو ماضی میں اس قدر پیچیدہ نہ تھا، اس لاینحل مسئلہ کی حیثیت سے سامنے کیوں آ رہا ہے اور یہ کہ اس میں استعجاب کا عنصر کیوں شامل ہو گیا ہے؟ اس طرح کے سوالات سے نبرد آزما ہیرو در اصل آج کا ہیرو ہے۔‘‘ ٭۱


ویسے تو یہ سب پڑھ کر قاری اساس تنقید کا تصور سمجھ آ جاتا ہے لیکن پھر بھی یہ سب موضوعات اور سوالات اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن کیا جس کہانی کے ذریعے یہ ہم تک پہنچے ہیں ، وہ کہانی اتنے بڑے فرائض سر انجام دینے کے قابل ہے؟کیا اس کہانی میںاتنی گنجائش ہے کہ اس میں سے یہ سب موضوعات اخذ کیے جا سکیں؟اوراگر ان موضوعات کو چھیڑا ہے تو کیا ان کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے؟


اس ناول میں محبت کی کہانی بہت ہی غیر جذباتی سی ہے جس میں پہلے ملاپ سے لے کر اسقاطِ حمل تک کہیں بھی جذبات کو داخل نہ ہونے دیا گیا۔ جیسے ایک رسمی سا تعلق ہو اور اس میں کچھ بھی سنسنی نہ باقی بچی ہو۔ عبداللہ حسین کے تینوں ناول مد نظر رکھ کر یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ محبت کی کہانی لکھ ہی نہ سکتے تھے۔ محبت کی کہانی لکھنے کے لیے وہ حساس قلم درکار ہوتا ہے جو جذبات کی ہلکی سی آنچ پر تپ جائے اور اس کی ہر لہر سے جلترنگ بجتی نظر آئے۔ جملوں میں بدن کی تنی ہوئی رگوں کا کسائو در آئے اور تحریر کے انگ انگ میں محبت کی میٹھی آگ کا جوش ہو جب کہ عبداللہ حسین لکھنے بیٹھتے ہیں تو محسوس کرنے والا دل کہیں ایک طرف رکھ کے آتے ہیں اور محض دیکھنے والی بے حِس آنکھ لے کر لکھتے ہیں۔ محبت کا تعلق دِل سے ہے، آنکھ سے نہیں سو اُن کے لیے محبت کی کہانی لکھنا ممکن ہی نہیں۔دوسرا موضوع کشمیر کاز اور خفیہ اداروں کی کاروائیاں بھی اس ناول میں پوری طرح پیش نہیں ہوا۔ناول میںمحض یہی دکھایا گیا ہے کہ خفیہ ادارے دشمن ملک کے فوجیوں کو گھات لگا کر قتل کرتے ہیں… اور بس۔ اس کے بعد اسد واپسی کا سفر اختیار کر لیتا ہے۔ ناول نگار جو دکھانا چاہتا تھا، دکھا چکا، اب کردار کی باگیں موڑ لی ہیں۔ کشمیر جو دنیا کا متنازعہ ترین علاقہ ہے، اس وقت جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا،اس کشیدگی کو ناول میں دکھایا ہی نہیں گیا۔ تنازعے کے عقب میں پاکستان اور انڈیا کے کون سے مفادات وابستہ ہیں ،ان مفادات کو بچائے رکھنے کے لیے کون کون سے سیاسی حربے اپنائے جاتے ہیں، کن ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کو بھارت یا پاکستان سے الحاق کی ترغیب دی جاتی ہے، خود کشمیری عوام کی امنگیں آرزوئیں کیا ہیں، ان سبھی بنیادی سوالات سے بھی نظریں بچا لی گئی ہیں، باقی پیچیدہ سوالات تو ان کے بعد اٹھتے ہیں۔ انڈین آرمی کے دو چار فوجی مارد ینے تک محدود رہنا اس موضوع پر ناول نگار کیمطالعے کی قلت کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کاز پر ان کی ساری توجہ کا حاصل ہماری عام روایتی سوچ سے ذرا بھی آگے نہیں جا سکا۔تیسرے موضوع باگھ اور اس کے علامتی استعمال پر آگے چل کر تفصیل سے بات کی جائے گی۔


اس ناول کی کہانی اتنی سیدھی اور یک رخی ہے کہ اس میں اتنے بڑے سوالات لائے ہی نہیں جا سکتے۔ اس کہانی کو تھوڑا سا تبدیل کر کے پاپولر تفریحی ناول لکھا جا سکتاہے۔ البتہ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کہانی اتنی اچھی نہیں ہے تو یہ ناول اتنا مقبول کیوں ہے۔ اس کا جواب ہے کہ کہانی بیان کرتے ہوئے عبداللہ حسین نے کچھ استادی حربے استعمال کیے ہیں جن کی وجہ سے باگھ میں ظاہری طور پر ہی سہی، ایک ادبی شان پیدا ہو گئی ہے اور اس چمک کے پار جانا آسان نہیں۔اس کے لیے ناول کا باقاعدہ قاری ہونا ضروری ہے۔ یہ حربے اسد اور یاسمین کی محبت کا بیان، حکیم کے قتل کو پر اسرار رکھنا،شعور کی رَو، باگھ کو علامت بنانے کی کوشش ، خوبصورت مناظر تخلیق کرنا، مکالموں کو فطرت کے قریب رکھنا،یا پھر سنسنی کے لیے ا نڈین فوجیوں کا قتل اور میرحسن کا دو دفعہ سامنے آ کر چونکادینا ہیں۔ اگر کسی ماہر فنکار نے یہ حربے استعمال کیے ہوتے تو کہانی کے باقی عناصر کے ساتھ مل کر یہ معنویت سے بھر پور نظر آتے لیکن اب یہ حربے بے معانی واقعات کے انبار میں دبے پڑے سسک رہے ہیں اور کچھ ناقابلِ فہم قسم کی آہ و بکا کررہے ہیں۔


اس ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کی منظر نگاری ہے۔ لگتاہے کہ بہت محنت سے ، جم کر ، لگن کے ساتھ ان مناظر کو تخلیق کیا گیا ہے۔ باریک سے باریک جزئیات اور معمولی سے معمولی تفصیلات کو دکھایا گیا ہے۔ اس ناول میں ظاہری حسن پیدا کرنے میں اس کے مناظر کا بہت اہم کردار ہے۔عبداللہ حسین کسی منی ایچر آرٹسٹ کی طرح بہت ہی مشاقی سے منظر کو ہر پہلو سے ابھارتے ہیں۔ممتاز احمد خان نے بجا طور پر لکھا ہے:


’’جہاں تک منظر نگاری کا تعلق ہے، وہ اس میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ اس ناول میں گم شُدکی تصویر کشی، اسد کا سرحد پار کا سفر ، دہشت پسند کاروائیوں ، پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے ماحول ، تھانوںکی عقوبت گاہوں میںانسان پر ظلم و ستم اور اذیتوں کے نئے نئے ہتھکنڈوں کا اس پر استعمال اور آسمان تلے فطرت کے بیان کو تمام تر جزئیات کے ساتھ اس قدر فنی پختگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیا ہے کہ کوئی واقعہ پڑھنے والے کے ذہن سے محو نہیں ہو سکتا۔‘‘٭۲


مناظر میں واقعی بہت محنت کی گئی ہے۔’’اداس نسلیں‘‘ میں بڑے بڑے واقعات کی تصویر کشی سے انہوں نے اپنی مہارت ثابت کر رکھی ہے لیکن باگھ میں انہوں نے چھوٹے چھوٹے مناظر پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ یہاں عام روزمرہ کے مناظر اور ہم سب کی نظروں سے اکثر گزرنے والے مناظر خاصی مہارت سے دکھائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر :


’’اسد نے دسترخوان سے انگلیاں پونچھیں اور خاموشی سے پانی کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔ گلاس خالی کر کے اس نے دسترخوان سے ہونٹ خشک کیے ۔ پھر اس نے سر اٹھا کر ذوالفقار کی طرف دیکھا۔ ذوالفقار نے ایک تازہ سگریٹ نکال کر پہلے سگریٹ کے ٹکڑے سے سلگایا اور ٹکڑے کو ٹین کی ایش ٹرے میں مسل کر بجھا دیا۔ پھر وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کمرے کا دروازہ بند تھا اور اندر سگریٹ کا دھواں پھیل رہا تھا۔ اس وقت ذوالفقار کو اپنے سامنے کرسی پہ بیٹھے اطمینان سے سگریٹ کے کش لیتے ہوئے دیکھ کراسد کے دل میں شکر اور خلوص کے جذبات امڈ آئے۔ ‘‘٭۳


’’گھر صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ ایک دیوار میں مٹی کا راکھ بھرا چولہا سرد پڑا تھا۔ چولہے کے آگے نصف دائرے میں زمین پر تین بچے پڑے تھے۔ دو چھوٹے بچے ابھی محوِ خواب تھے جب کہ نو دس سال کی ایک بچی آنکھیں کھولے چِت لیٹی تھی۔ ایک طرف ادھیڑ عمر کی ایک عورت بیٹھی بھاری ڈنڈے کے ساتھ پتھر کی دَوری میں آہستہ آہستہ کچھ کوٹ رہی تھی۔ دیوار کے ساتھ ایک کھاٹ پڑی تھی جس کی ادوائن ٹوٹ کر نیچے لٹک رہی تھی۔کھاٹ پر مَیلے مَیلے پھٹے ہوئے لحاف اور کئی دوسرے کپڑے ڈھیر کی شکل میں پڑے تھے۔ نو دس سال کی بچی اٹھ کر بیٹھ گئی اور ٹکٹکی لگا کر اسد کو دیکھنے لگی۔‘‘٭۴


یہ سب مناظر فنکار کی مہارت کی دلیل ہیں۔ قاری کی آنکھوںکے سامنے نقشہ کھنچ جاتا ہے۔ لیکن جانے کیا بات ہے کہ عبداللہ حسین کے مناظر کوئی خاص گہری تاثیر نہیں رکھتے۔ شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ صرف خارج پر نظر رکھتے ہیں۔ داخل پر ان کا دھیان جاتا ہی نہیں۔ منظر کو دیکھتے ہیں تو کسی بے حِس تماشائی کی آنکھ سے جس پر منظر کوئی اثر ہی نہیں ڈالتا۔ جیسا بھی منظر ہوگا، اسے ایک سی بے تاثر زبان میں بغیر جذبات و احساسات شامل کیے لکھتے چلے جائیں گے۔ کسی منظر کوپڑھتے ہوئے احساس نہیں ہوتا کہ اس منظر کولکھنے والے قلم نے کچھ محسوس بھی کیا ہو گا۔اس کی خوبصورتی یا کرختگی نے اس کے دل پر لطف یا صدمے کی کوئی کیفیت طاری کردی ہو گی۔ بس سیدھا سادا سپاٹ سا بیان ہے جو کسی بھی طرح کے سقم سے پاک تو ضرور ہے لیکن اس میں تخلیقیت کی وہ شان نظر نہیں آتی جس کی بدولت منظر آنکھ کے رستے دل میں اترجاتا ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل دو بیانات ملاحظہ کیجیے:


’’چوڑی سی ننگی ہڈی والی عورت سپاٹ قدموں سے چلتی ہوئی پچھلے کمرے سے نمودار ہوئی ۔ وہ ایک ہاتھ میں چاء دانی اور دوسرے میں مٹی کے پانچ پیالے، جو ایک دوسرے کے اندر جمے تھے، اٹھائے ہوئے تھی۔ سلطان شاہ نے پیالوں کا چھوٹا سا مینار عورت کے ہاتھ سے لے کر اسی طرح زمین پر کھڑا کر دیا۔ پھر اس نے ایک ایک پیالہ اٹھا کر چائے سے بھرنا شروع کر دیا۔ جب چاروں کے ہاتھوں میں بھرے ہوئے پیالے جا چکے اور دری پر رکھا ہوا پانچواں پیالہ بھی بھر ا گیا تو عورت خالی چاء دانی لے کر واپس پچھلے کمرے میں چلی گئی۔ چند سیکنڈ کے بعد نوجوان لڑکے نے لکڑی کا ایک گول سا برتن لا کر دری پر رکھ دیا۔ تھال، کشمش، بادام، اخروٹ کی گِری اور خشک خوبانیوں سے بھرا ہوا تھا۔ لڑکے نے پانچواں پیالہ اٹھایا اور دری کے کنارے پر بیٹھ کر چائے پینے لگا۔‘‘٭۵


’’چند منٹ کے بعد عورت دونوں ہاتھوں میں مٹکی تھامے اندر داخل ہوئی۔ اس نے مٹکی زمین پر رکھ کر چٹکی بھر پسی ہوئی سرخ مرچیں اس میں چھڑکیں۔ اس کے بعد مٹی کے ایک برتن سے نمک کی چھوٹی سی ڈلی نکال کر مٹکی میں گرائی۔ پھر اس نے المونیم کا ایک گلاس پانی سے دھویا اور ایک ہاتھ سے مٹکی اٹھا کر لسی گلاس میں انڈیلی۔ نمک کی ڈلی لسی کے ساتھ کھٹاک سے گلاس میں گِر پڑی۔ پھر گلاس کو اونچا لے جا کر ایک دھار سے لسی واپس مٹکی میں گرائی۔نمک کی ڈلی کھٹاک سے مٹکی میں آ گری جِس سے لسی کا ایک ہلکا سا چھینٹا مٹکی کے منہ سے اڑ کر باہر زمین پر آ گرا۔ دو تین بار اسی طرح لسی کو پھینٹنے کے بعد اس نے مٹکی اور گلاس ان دونوں کے سامنے زمین پر لا رکھے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔‘‘٭۶
اس میں کوئی شک نہیں کہ منظر عمدہ ہیں، متحرک تصویر کھینچ دی گئی ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ میںکس قدر لاتعلقی نظر آتی ہے ۔ بس خارجی تفصیلات ہیں جیسے کوئی فنکار نہیں لکھ رہا، کیمرہ اپنی آنکھ سے دکھا رہا ہے۔ جیسے مناظر اور انسان کے درمیان احساس کا کوئی رشتہ ہی نہیں اور دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔ ناول کا دوسرا حصہ ان کی اس لاتعلقی کا واضح مظہر ہے۔ کشمیر کی جنت نظیر وادی، جو رنگوں اور خوشبوئوں اور سُروں کے مجسم احساس کا دوسرا نام ہے، جو شعر میں آئے تو نطق کو اعجاز کا درجہ ملے ۔ افسانے میں آئے تو الفاظ رنگ بن کر مناظر کی تصویر کشی کریں اور اگر کیمرے میں اتر آئے تو چشمِ حیراں ، تخیل میں دیکھے سب نظارے بھول جائے، جب عبداللہ حسین کے بے رنگ قلم کی زد میں آتی ہے تو یہ قطعۂ فردوس بھی پوٹھوہار کے بے آب و گیاہ خِطّے کی مانند نظر آنے لگتا ہے۔ اسدناول کا آخری ایک تہائی حصہ کشمیر کے اس حصے میں رہا جسے زیادہ خوبصورت کہا جاتا ہے لیکن کسی بھی جگہ مصنف نے اس کے قرب و جوار ، ماحول یا فضا میں یہ تاثر پیدا نہیں ہونے دیا کہ یہ پہاڑ گجرات کے اس پہاڑی سلسلے سے مختلف ہیں جہاں سے اسد اٹھ کر آیا ہے۔ ناول نگار اگر کسی فضا کو زندہ نہ کر سکے تو پھر کوئی اور حربہ اس ناول میں سانس نہیں پھونک سکتا۔ ناول کا زندہ ماحول ہی تو اسے ناول بناتا ہے۔ یہاں عبداللہ حسین کے متعلق یہ بات کی جا سکتی ہے کہ وہ اس طرح کی تخلیقی نثر نہیں لکھ سکتے جس کی ضرورت کشمیر جیسے حسین خطے کو بیان کرنے کے لیے پڑ سکتی ہے۔ لیکن ایسے میں لکھنا ضروری ہے کیا۔ فن کار اپنی حدود سے باہر ناول لکھنے کا سوچے ہی نہیں تو زیادہ بہتر رہتا ہے۔ دنیا کے ہر ناول نگار کی ایک حد ہے اور اچھے ناول نگار اس حد سے باہر جاتے ہی نہیں۔ عبداللہ حسین بھی اگر کشمیر کو ناول میں دکھا نہیں سکتے تھے تو کشمیر کی بجائے کوئی اورموضوع چُن لیتے۔ اب اس ناول میں انہوں نے جس موضوع پر لکھنا تھا، اسے ہی پوری طرح سے زندہ اور متحرک نہ دکھا سکے تو پھر ناول کے پاس کون سا اثاثہ بچتا ہے؟ مناظر کے ساتھ احساس کا رشتہ نہ بن سکے تو محض کاغذ پرتصویریں کھینچتے جانے سے کیا حاصل؟


مناظر کے ساتھ ساتھ مکالمے بھی کچھ ایسی ہی کیفیت رکھتے ہیں۔ عبداللہ حسین نے ان پر بھی بہت محنت کی ہے۔ چست اور جامع مکالمے ہیں۔ ادائے مطلب کے لیے موزوں ترین الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے اور سبھی کردار بہت نپی تلی گفتگو کرتے ہیں۔ کہیں کوئی بات ایسی نہیں جو ضروری اور ناگزیر نہ ہو۔ نثر اگر کم الفاظ کے استعمال کا ہنر ہے تو ’’باگھ ‘‘ میں عبداللہ حسین نے اس ہنر کو خوب منوایا ہے۔ کردار یوں بولتے ہیں جیسے الفاظ کوسنار کی ترازو پر تول کر لا رہے ہوں۔ یہ چستی، یہ اختصار اور یہ مہارت سبھی قابلِ داد ہیں لیکن اس کے باوجود مکالموں پر ایک خاص قسم کی بیزار کن یکسانیت چھائی نظر آتی ہے۔ سبھی لوگوں کے بولنے کا انداز ایک ہی جیسا ہے اور زندگی کا و ہ عنصر کہیں بھی چمکتا نظر نہیں آتا جو ہر کردار کو حقیقت کی جھلک دیتا ہے۔ گو کہ ان مکالموں میں حقیقت کا تاثر پیدا کرنے کے لیے انہوں نے بعض جگہ گالیوں کا بھی استعمال کیا ہے جو شاید کچھ لوگوں کی طبع نازک پہ گراں بھی گزرا ہے لیکن ایک پنجابی کے لیے یہ روزمرہ کی بات ہے۔ ان گالیوں سے تھانے دار کا کردار اور تھانے کا ماحول کسی حد تک جاندار ہو گیا ہے۔اور زندگی کے اسی تاثر کی بدولت تھانے والاطویل حصہ پڑھتے ہوئے بوریت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ جتنے کردار ہیں سبھی ایک جیسی نپی تلی گفتگو کرتے ہیں۔ عام طور پر ناول میں جب کردار بولتے ہیں تو بے ساختہ بولتے ہیں ۔ ان کی گفتگو میں بہت سی باتیں بظاہرموضوع کے مطابق نہیں ہوتیں لیکن ناول کی زندگی کے لیے یہ زیادہ ضروری ہوتی ہیں۔ ایسی باتوں سے کردار ہمارے سامنے حقیقت کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔ لیکن عبداللہ حسین کے کردار صرف وہ جملے بولتے ہیں جن سے کہانی آگے بڑھتی ہے یا اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ انہیں صرف کارآمد ہونے کی وجہ سے ناول میں رکھا گیا ہے۔ کردار کو مرضی سے بولنے نہیں دیا جاتا اور عقب میں بیٹھے پُتلی ماسٹر کی طرح عبداللہ حسین ان کٹھ پتلیوں سے اپنے معیار کے مطابق الفاظ اگلواتے ہیں۔ یہ احساس ہوتا ہے کہ کردار بے ساختہ نہیں بول رہا بلکہ فن کار اس کے اظہار پر اپنے فن کا پہرہ لگا کر بیٹھا ہے۔ وہی لفظ آگے آ سکتا ہے جو ہر لحاظ سے کارآمد ہو۔ ایک ایسے ٹاک شو کی طرح جو طویل مدت انتہائی سنجیدگی سے چلتا رہے اور تمام شرکاء اس میں مدلل انداز میں اپنی اپنی باری پر سلجھی ہوئی گفتگو کر رہے ہوں، ذرا تصور کیجیے سننے والے کس کوفت کا شکار ہو جائیں گے اور پروگرام کس قدر بیزار کن سمجھا جائے گا۔ یہی حال ’’باگھ‘‘ کے مکالموں کا ہے۔ حتیٰ کہ دو بچھڑ ے ہوئے پریمی جب ملتے ہیں، ناول میں دو دفعہ ایسا ہوا، تو ان کے درمیان محبت کے چار جملے تک ادا نہیں ہوتے، یہ تک نہیں پوچھتے بتاتے کہ جدائی کے دنوں میں زمانے کی جھلساتی دھوپ نے تمہارے بدن کو کیا کیا آزار پہنچائے۔ یہ تک دریافت نہیں کرتے کہ ہجر کی تنہا کالی راتوں میں خوف کے کون سے کنکھجورے تمہارے بستر میں سرسراتے تھے اور کن رنگین سپنوں کی خوشبو سے تم نیند کی میٹھی آغوش میں آسودگی سے مخمور پڑی رہتی تھی۔ بس کرتے ہیں تو صرف وہ باتیں جن سے ناول کا رُکا ہوا عمل آگے بڑھتا ہے۔


بیانیہ کی تعمیر بظاہر بہت خوبصورت ہے اور اس میں کوئی مسئلہ محسوس نہیں ہوتا لیکن یہ پردہ ان کی خوبصورت کرافٹ نے تان رکھا ہے۔ عبداللہ حسین جیسا کہانی کار آخر کہانی کے فنی حربوں پر قدرت تو رکھتا ہی ہے، اس لیے انہوں نے بیانیے پر پوری توجہ دی ہے۔البتہ وہ جو خرابی اس ناول کی تعمیر میں مضمر تھی، وہ اس بیانیے میں کئی جگہ رخنے ڈال دیتی ہے۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جس موضوع پر وہ لکھنا چاہتے ہیں ، اس کے متعلق انہیں کامل آگاہی نہیں ،پھر اس ماحول کا انہیں تجربہ نہیں جس کی کہانی لکھنا چاہ رہے ہیں۔ کشمیر کے جو اصل مسائل ہیں، وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہیں اور انہی وجوہات کی بنا پر اتنا مضبوط بیانیہ بھی کھوکھلا نظر آتا ہے۔اہم سوالات نہ ہونے کی وجہ سے ناول نگار کسی خاص چیز کو بتانے کی بجائے عام سی چیزوں کو بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہے تا کہ دھند اور ابہام کے پردے میں چھپے رہنے سے کچھ بھرم قائم رہ جائے۔ کھلنے کی ان کے پاس گنجائش ہی نہیں کہ ان کے پاس کہنے کو کچھ خاص ہے ہی نہیں۔ اس لیے انہیں نے چھپنے میں عافیت ڈھونڈی ہے اور چیزوں کو ابہام سے معنویت دینے کی کوشش کی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اس ابہام کی مثالیں کافی ہیں۔ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ انہوں نے شروع میں اسد کے اپنے شہر اور بڑے شہر کا نام نہیں لکھا۔ یوں خفیہ رکھا جیسے اسے چھپانے میں بہت زیادہ مصلحت ہے۔ لیکن تھوڑی آگے چل کر پتا چل جاتا ہے کہ وہ بڑا شہر گجرات تھا۔ خیر یہ تو معمولی سی بات ہے، انہوں نے بہت سی چیزوں کو یوں ہی بے مقصد طور پر مخفی رکھ کر معنویت کا شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔مثلاً باگھ، حکیم کا قتل، اسد کا آخری انجام وغیرہ۔


تھانے والے قصے پر پہلے بات ہو چکی ہے۔اسد کو تھانے میں لے جایا گیا جہاں اس پر تشدد ہوتا رہا جوکہ برائے نام ہی تھا۔لیکن اس قصے کوخواہ مخواہ100صفحے تک طول دے کر سزا در اصل قاری کو دی گئی۔ تشددکا یہ عمل کہانی کے اندر صرف اتنا بتانے کے لیے تھا کہ خفیہ ادارے کشمیر کاز کے لیے کس طرح لوگ بھرتی کرتے ہیں۔ دونوں طرف کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ کشمیر کاز کے لیے کام کرنے کو ہر وقت ہزاروں مخلص اور کار آمد لوگ اداروں کو مِل سکتے ہیں۔ پھر ایک میٹرک پاس اسد ہی کو کیوں چُنا گیا ہے اور اس پر اتنی محنت کی جارہی ہے جب کہ اس طرح تیار کیے ہوئے آدمی کے متعلق یقین بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ دل و جان سے کام کرے گابھی یا نہیں۔ دوسری طرف اس سے زیادہ پڑھے لکھے، زیادہ باصلاحیت لوگ اس مقصد کے لیے دستیاب ہیں۔ آخر اسد میں ایسا کیا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے ، ایسا کیا ناگزیر ہے جس کے لیے خفیہ اداروں کو اتنی محنت کرنی پڑی۔ اور اگر اس میں اتنا کچھ تھا ہی تو پھر ناول میں وہ کچھ استعمال کیوں نہیں ہوا۔اسد تو اِس کاز کے لیے بہت بودا ثابت ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ خفیہ اداروں والے اتنے کم اہل ہیں کہ جسے بہت کارآمد سمجھ کر اتنی محنت سے تیار کریں وہ اتنا ناکارہ نکلتا ہے۔
ناول کے ابتدائی حصے میں ناول نگار نے دو دفعہ بندوق کا ذکر خواہ مخواہ گھسیڑنے کی کوشش کی جس کا سیاق و سباق سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً ایک جگہ جب اسد خواب میں بحری جہاز سے اتر کر تیرتا ہوا جزیرے تک جانے کی کہانی گھڑتا ہے۔ اس کے بعد یوں لکھا ہے:


’’رات کو اس نے چچا کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور خاموشی سے سونے کے لیے چارپائی پر چلا گیا۔ تکیے پر سر رکھ کر اس نے آنکھیں بند کیں تو کمرے کی دیوار کے ساتھ حسبِ معمول بندوق کھڑی تھی جس کی لبلبی اس کی پہنچ میں تھی۔ ‘‘٭۷


اس بندوق کا ذکر تھوڑی دیر بعد ایک اور جگہ ملتا ہے۔
’’اسد اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔ اس نے بستر سیدھا کیا اور اس پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں ۔ دروازے کے پاس ایک بندوق ہمیشہ سے دیوار کے ساتھ کھڑی تھی جس کی لبلبی یہاں سے لیٹے لیٹے ہاتھ بڑھا کر دبائی جا سکتی تھی۔ ایک دن اطمینان سے اسد نے سوچا، میں اٹھوں گا اور دنیا مِٹ چکی ہو گی۔ ‘‘٭۸


بندوق کے متعلق ان دونوں بیانات سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بندوق ناول کے عمل سے کوئی جوڑ نہیں رکھتی۔ اس بندوق کا کوئی ذکر، کوئی استعمال ناول میں نہیں آتا۔ تو پھر اس کا دو دفعہ اتنی خصوصیت سے ذکر کرنے کی ضرورت ہی کیاتھی۔ ویسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جملے انہوں نے کچھ سوچ کر یہاں بعد میں اضافہ کیے ہوں گے لیکن پھر شاید اُس خیال کو ترک کر دیا لیکن ان جملوں کو حذف کرنا بھول گئے۔
ناول کے دوسو سے زائد صفحات گزر جانے کے بعد ناول اپنی اصل ڈگر پر آتا ہے۔یہاں تک پلاٹ بہت سست رہا ہے۔ جتنی دیر میں کوئی اچھا ناول اپنا آدھا کام کر بھی چکا ہوتا ہے، اتنے میں اس ناول نے آغاز کیا ہے۔کتنے اطمینا ن سے عبداللہ حسین نے یہ وقت ضائع کیا۔ کشمیر پہنچ کر ایک جگہ بیانیہ سست پڑا ہوا ہے۔قاری بے مقصد پڑھے جا رہا ہے۔ ناول نگار کو اندازہ ہے کہ قاری بیزار ہونے والا ہے۔ اس کے ذہن کو جگانے کے لیے کچھ تحرک دینا ضروری تھا۔ ایسے میں انہوں نے اسد کے ذہن میں کچھ سوالات ٹھونسنے شروع کر دیے۔ ایسے سوالات جن کا اسد کی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں۔یہ یقینا اسد سے زیادہ قاری کوذہنی طور پر فعال کرنے کے لیے بنائے گئے تا کہ قاری بھی ذہنی طور پر کہانی کے اندر شامل ہو جائے۔ اسد کشمیر کے ایک گھر میں رات کے وقت لیٹایوں سوچے جارہا ہے:


’’یہ کیا ہورہا ہے؟ وہ یہاں پر کیسے آن پہنچا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں؟ میں یہاں پر کیا کر رہا ہوں؟میرا طور، میرا طریقہ؟…اب کب تک یہ میرا گھر رہے گا… میں کون ہوں؟ اس کے اندر سے ایک گہری مبتلا آوازآئی۔ میں کیا ہوں؟‘‘٭۹


یوں لگتا ہے کہ ایک سست رو بیانیے کو سوالات کے چابک سے ذرارواں کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ سب سوالات بے محل ہیں۔ اسد کے ذہن میں یہ سوال بنتے ہی نہیں۔ اس طرح کی الجھی سوچیں اس وقت آتی ہیں جب آدمی بے یقینی کی فضا میں ہو۔جس سچویشن میں الجھا ہوا ہو، اس کا اسے ادراک بھی نہ ہو اور اس کے پاس کوئی حل بھی نہ ہوجب کہ اسد اپنی مرضی سے یہاں آیا ہے، اس کا اپنا ایک مقصد ہے۔ اس کے ذہن میں یہ سوال ٹھونسنا بے معنی ہیں۔


اسی طرح اسد جب مقبوضہ کشمیر سے واپس آزاد کشمیر کے لیے راستے میں خوار ہو رہا ہے تو بیانیے میں ایک جگہ یہ جملے ملتے ہیں:
’’بعد میں کبھی ان واقعات کے اوپر دماغ دوڑانے کا موقع اسے ملا تو اس نے یاد کیا کہ اس کے فراری سفر میں شاید یہ وہ مقام تھا جہاں قسمت نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ کئی سال کے بعد ان باتوں پر غور کرتے ہوئے ایک بار اس نے سوچا کہ قسمت ایک طرح کی ہمت ہوتی ہے۔ ہمت ٹوٹ جائے تو قسمت ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ اس جگہ پر پہنچ کر اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔‘‘٭۱۰


ناول کا اختتام وقت کے جس نقطے پر ہوا ہے، وہ اس پیراگراف کے زمانی نقطے سے پندرہ دن بعد کی بات ہے۔ یعنی اس واقعے کے پندرہ دن بعد ناول ختم ہو جاتا ہے اوراس کے بعد کے واقعات ناول کے عمل سے باہر ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ جو وقت ناول کے عمل سے ہی باہر ہو، تب کی بات ناول میں مذکورہو؟ ویسے بھی ناول اِس غیر یقینی صورت حال پر پہنچ کر ختم ہوتا ہے، انجام کی خوبصورتی ہی یہی بے یقینی ہے، کہ جانے اسد کو زندہ رکھا جائے گا یا مار دیا جائے گا۔ اگر اسد اس کے کئی سال بعد بھی زندہ ہے ، اور یہ یقینی بھی ہے تو پھر اس مدت کی کہانی کیوں نہیں سنائی گئی۔یہ جملے لکھتے وقت بھی عبداللہ حسین چوک گئے ہیں اور ناول کی زمانی مدت سے باہر چلے گئے ہیں۔


اس ناول کو مضبوط بنانے والی تین چیزیں ہیں۔ باگھ، اسد اور شعور کی رَو کی تکنیک۔ جہاں تک شعور کی رَو کا تعلق ہے، وہ عبداللہ حسین نے بعض جگہوں پر بڑی عمدگی سے استعمال کی ہے۔ اس ناول کا یہ پہلو متاثر کن لگتاہے۔ قاری اس الجھے بیانیے سے خاصا متاثر ہوتا ہے جو اردو میں عام طور پر نہیں ملتا۔اس تکنیک پر انہیں خاصی مہارت حاصل ہے۔ لیکن یہ دیکھنا لازم ہے کہ جہاں انہوں نے یہ تکنیک استعمال کی، وہاں جواز بنتا تھا کہ نہیں۔ تھانے کے اندر تو یہ پوری طرح سے جواز رکھتی ہے کہ وہاں ایسی الجھی سوچیں ہی آسکتی ہیں۔ لیکن ناول کے بالکل آخر پر شعور کی رَو کو ایک طرح کے مدافعتی عمل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ناول کی کہانی اگر عبداللہ حسین نے اسی موقع پر ختم کرنی تھی جو انہوں نے یقیناطے کر رکھا ہو گا تو وہ ایک جھٹکے سے ختم ہو جانی تھی ۔ یوں محسوس ہوتا جیسے واقعاتی سلسلے کو کسی نے یک دم توڑ دیا ہے۔ عبداللہ حسین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ناول کو دھیرے دھیرے اپنے انجام کی طرف بڑھانا چاہیے، سو عبداللہ حسین نے اسد کو ایجنسیوں کی گاڑی میں ڈالا اور پھر شعور کی رَو چلا دی۔ ناول لٹکتاگیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ انجام کو مطلوبہ معیار کے قریب قریب طول مِل گیا ہے تو انہوں نے آخری چار سطریں اسد کی موجودہ صورت حال پر لکھیں اور گویا ان آخری سطروں کے ذریعے ناول کو منطقی انجام دینے کی کوشش کر دی۔آخری چار سطروں کا جوڑ لگاہوا صاف نظر آتا ہے۔ اس سے ہٹ کر یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایسے موقع پر اسد جیسا آدمی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرنے کی بجائے اس طرح شعور کی رَو میں کیسے بہنے لگا اور پھر ان سبھی خیالات کا ناول کے ساتھ تعلق کیا ہے۔ شعور کی رو بے لگام ہوتی ہے لیکن ناول کے اندر وہ اس قدر بے جواز نہیں ہوتی جتنی ’’باگھ‘‘ کے آخری صفحات میں ہو گئی ہے۔


جہاں تک باگھ ا ور اسد کا تعلق ہے، ان دونوں کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔باگھ اِس ناول کی مرکزی علامت بھی کہی جا سکتی ہے اور اس ناول کے گرد جو سریت کا ہالہ قائم ہے، وہ اسی عنصر پر منحصر ہے۔ ناول کے آغاز سے ہی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جس پہاڑی سلسلے میں ’گم شد‘ واقع ہے، اس میں کوئی ایک باگھ بھولے بھٹکے آگیا ہے اور اب اس اکیلے پن سے وحشت کھا کے اکثر دھاڑتا رہتا ہے۔ وہ خود سامنے نہیں آتا، اس کے صرف دھاڑنے کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے۔ ناول کے ختم ہونے تک نہ تو کسی انسان نے اسے دیکھا اور نہ ہی اس نے کسی جاندار کو نقصان پہنچایا۔ شروع میں بڑی شدومد سے باگھ کا ذکر آیا ہے۔ حکیم کے قتل ہونے تک ناول کے معمولی واقعات میں دلچسپی کا تار باگھ کے ذکر سے بندھا ہوا ہے۔ بار بار اس کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن حکیم کے قتل کے بعد عبداللہ حسین باگھ کو بھول جاتے ہیں۔ پھر اس کا ذکر نہیں آتا۔ دو تین دفعہ خواب میں اسد شیر اور یاسمین کو اکٹھے دیکھتا ہے یا پھر بالکل آخر پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے پکڑنے کے لیے ہانکا کیا جارہا ہے اور جنگلات کے افسروں نے اسے مارنے کے لیے ایک شکاری کا انتظام کیا ہے۔اس کے علاوہ باگھ فراموش ہی رہتا ہے۔ ناول کے اندر باگھ کا عمل دخل بہت محدود ہے لیکن اس باگھ کی ناقدین نے تشریحات بہت سی کی ہیں۔ کسی نے اسے استعارہ کہا اور کسی نے علامت کا درجہ دیا۔ کوئی خوف کی علامت کہتا ہے، کسی نے جرأت کی علامت قرار دیا۔ کہیں باگھ اور اسد کو ایک دوسرے کا مثالیہ بنایا گیا۔ یہاں ہم باگھ کے متعلق دو اقتباسات دیکھ کر پھر اس موضوع پر بات آگے بڑھاتے ہیں:


’’باگھ لفظ لفظ ، سطر سطر اور صفحہ صفحہ ازخود کھلتا بھی ہے اور سمٹتا بھی ہے۔ منکشف بھی ہوتا ہے اور غائب بھی، بالکل باگھ کی طرح۔ اسی کی طرح پر اسرار اور دہشت ناک۔ وہ خود ہونہ ہو، اُس کی دہشت ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ یہ معنویت ’’باگھ‘‘ کی استعارہ بندی ہے۔ عبداللہ حسین نے اسی ناول میں قرآنِ مجید کی ایک بہت ہی مختصر سی اور معنی خیز آیت کو قول کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’’باگھ‘‘بند استعارہ ہی ہو سکتا ہے۔


’’یہ تھوڑے احوال ہیں بستیوں کے کہ ہم سناتے ہیں تجھ کو ، کوئی ان میں قائم ہے اور کوئی کٹ گیا۔‘‘(۱۰۰:۱۱)


باگھ کے متعلق عبداللہ حسین کا استعارہ بند ہی ثابت ہوتا ہے۔ اس نے اس استعارہ کو جتنا بھی لف و نشر کیا، کسی نتیجہ کا سبب نہ بننے دیا۔ تخلیقی ابہام اور ایہام کی صنعت کے ذریعے اس نے باگھ کی اسراریت کو پر اسراریت کے حجابوں ہی میں پیش کیا۔ ‘‘٭۱۱


’’باگھ نہایت معنی خیز علامت ہے ۔ اس فوجی ڈکٹیٹر کی جو کمزور اور امن پسند عوام کو مستقل خوفزدہ رکھتاہے تا کہ اپنے اقتدار کو محفوظ رکھ سکے کیوں کہ اس کے وجود کی تصدیق ہی تشدد کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر ناول کی معنویت پر از سرِ نو غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ’باگھ‘ ایک کے بعد ایک فوجی آمروں کے ہاتھوں کچلے اور خوفزدہ کیے جانے والے ان پاکستانی حریت پسندوں کی داستان ہے جو اس طرح کی بشریت کُش اور غیر انسانی مشینری سے اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے وطن میں طرح طرح کی اذیتیں اور صعوبتیں جھیل کر جدو جہد کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں اور جنگل کا یہ باگھ ایک آدم خور نہ رہ کر ایک خونخوار اور مکار قسم کا آمر بن جاتا ہے جو اسد جیسے بے گناہوں کی چھوٹی چھوٹی مسرتوں اور پر امن گھریلو زندگیوں کو جہنم میں تبدیل کر چکا ہے۔ ‘‘٭۱۲


ہمارے نقاد من مانی تشریح کے امام ہیں۔ ناول کے اندر باگھ نے اسد کو ’بھائو‘ کر کے ڈرایا تک نہیں جب کہ تشریح میں باگھ ایسا ڈکٹیٹر بن گیا ہے جو اسد جیسے لوگوں کی ان کی خوشیوں سے محروم کرتا ہے۔ ناقدین کا اصرار ہے کہ باگھ علامت یا استعارہ ہے لیکن جو بھی ہو، اس کا ایک قرینہ ہوتا ہے اور وہ اس فن پارے کے اندر پایا جاتا ہے۔ ’’نمبردار کا نیلا‘‘میں سید محمد اشرف نے بیل کوطاقتور کا استعارہ بنا دیا ہے۔ ’’بہائو‘‘ میں مستنصر حسین تارڑ نے بھینسے کو طاقت کا استعارہ بنایا ہے۔ لیکن عبداللہ حسین کے ہاں باگھ استعارہ نہیں بن سکا۔ یہاں باگھ کا ذکر جتنی دفعہ بھی آیا ہے، حقیقی باگھ کے طور پر آیا ہے۔جیسے ابو الفضل صدیقی کے افسانوں میں جانور، صرف جانور کی حیثیت سے ہی آتے ہیں۔ عام طور پر علامت کا مغالطہ اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ وہ پورے ناول میں سامنے ہی نہیں آیا۔ سمجھا جاتا ہے ،کیوں کہ وہ غائب رہا، اس لیے عبداللہ حسین نے اسے علامت ہی بنایا ہو گا۔لیکن علامت یا استعارہ یوں نہیں بن جاتے۔ اس کے لیے چیز کی معنویت اور اس کی حیثیت کثیر سطحی ہونی چاہیے۔اس ناول میں شیر کا ذکر جہاں بھی آیا ہے، محض شیر کی حیثیت سے آیا ہے۔کوئی دوسرا معنی یا دوسری سطح نہیں رکھتا۔ حتیٰ کہ اسد کے خوابوں میں بھی جس باگھ کا ذکر آتا ہے وہ حقیقی شیرہے نہ کہ کوئی علامت یا استعارہ:
’’خواب میں جگہ جگہ یاسمین کے چہرے گردش کر رہے تھے اور عقب میں دور دور تک وسیع سرزمین پر ایک شیر کا ننھا سا سایہ لمبی زقندیں بھرتا تھا۔‘‘٭۱۳


’’جیسے جیسے اس کے خواب بڑھتے جا رہے تھے، ویسے ویسے اس کا جاگتا ہوا ذہن یاسمین اور گم شد کے شیر کے اوپر تکیہ کرتا جا رہا تھا۔‘‘ ٭۱۴


یہاں شیر صرف شیر کی حیثیت سے ہے۔ وہ تو اسد کے دل یا دماغ پر بھی کوئی کیفیت پیدا نہیں کرتا۔ اس پورے ناول میں باگھ کے کردار پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ عبداللہ حسین نے ناول کے آغاز میں باگھ کی حیثیت کے متعلق کوئی اور منصوبہ بنایا تھا۔ بعد ازاں جب اسد تھانے گیا تو اس کے بعد ان کا ذہن بدل گیا اور باگھ ان کے ذہن سے محو ہو گیا۔ قلم کسی اور طرف بھاگتا رہا اور باگھ فراموش ہی رہا۔درمیان میں اگر کہیں کہیں یاد آ گیا کہ مدت سے باگھ کا ذکر نہیں آیا تو ایسے ہی بے موقع باگھ کا ذکر لے آئے۔ صفحہ 70 کے بعد ناول کے آخر تک دو دفعہ مندرجہ بالہ جگہوں پر باگھ کا ذکر آیا ہے۔ دونوں جگہوں پر بلاجواز۔ بن بلائے مہمان کی طرح۔ اگر مرکزی علامت ہو تو وہ ناول کے بیشتر حصے میں یوں اوجھل نہ رہتا۔ ناول کے عمل میں کہیں نہ کہیں تواس کا حصہ بھی ہوتا۔اردو کے اکثر ناقدین من پسند معانی اخذ کرتے رہتے ہیں اور باگھ کو علامت بنا کر اس کی تشریحات اسی طرح کی مثالیں ہیں۔


ناول کے مرکزی کردار اسد کو بہت سراہا جاتاہے۔ اس کی استقامت اور بغاوت کو اس کے کردار کی بنیادی خوبیاں کہا جاتا ہے۔ کہیں وہ باگھ کے متبادل نام کی وجہ سے قابلِ تعریف ہے اور کہیں اسے جبر اور آزادی کے استعارے سے لے کر زندہ و جاوید کردار تک کہا گیا ہے۔ اس کی معنویتیں اور پرتیں بتانا بہت آسان ہے، اس کے ہر ہر عمل کی نفسیاتی اور سماجی تشریح کرتے چلے جائیں تو اس ناول سے بڑی دستاویز تیار ہو سکتی ہے۔ اگر یوں ہی کرنا ہو تو کسی خراب ناول کے سطحی کرداروں کی تشریح بھی ممکن ہے۔دیکھنے کی بات یہ ہونی چاہیے کہ اسداپنی جگہ کردار بن بھی سکا یا نہیں۔ کیا اس میں اتنی زندگی پائی جاتی ہے جو کسی زندہ آدمی میں ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر اصغر علی بلوچ نے لکھا ہے کہ ’بعض کرداری جھول کے باوجود اسد کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔‘٭۱۵


ڈاکٹر صاحب نے احتیاط سے کام لیا ہے ورنہ یہ معمولی جھول نہیں۔ اسد کا کردار ناول کا مرکزی کردار ہے اور پورا ناول اسی کی کہانی ہے۔ اگر اس کردار میں بھی جھول رہ جاتے ہیں تو ناول کس چیز پر قائم رہ سکے گا۔


اسد کا کردار کہانی میں جس قدر ہمارے سامنے آتا ہے، ہم دیکھ چکے ہیں، اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ کیا وہ کردار کی شرائط پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ ناول جب شروع ہوتا ہے تب اسد کی عمر انیس سال دس مہینے ہے یعنی بالکل نوخیز نوجوان اور کیوں کہ اس کے چند مہینے بعد ناول کا عمل ختم ہو جاتا ہے تو ناول کے تمام دورانیے میں اس کی عمر تقریباً یہی رہے گی۔ یہ نوخیز نوجوان پورے ناول کے دوران کہیں بھی اتنا ناتجربہ کار یا نوخیز جذبات کا مالک نظر نہیں آتا۔ وہ یاسمین کے ساتھ محبت کے معاملات میں پوری طرح سلجھا ہوا مرد ہے۔ کسی پختہ کار اور تجربہ کار مرد کا سا ٹھہرائو رکھتا ہے۔ ایک جگہ تو یاسمین جو اس سے چھ سال بڑی ہے، جذبات کے ریلے میں بے دست و پا بہتی جا رہی تھی لیکن اسد اپنے جذبات کو سنبھالے ہوئے تھا۔ حکیم کے قتل کے بعد بھی اسد جس طرح ٹھنڈے مزاج سے سارے ثبوت ہٹا کر، فنگر پرنٹس مٹانے کے بعد یاسمین کو خبر کرتا ہے،اس کے لیے اسد کے کردار کی کوئی بنیاد دکھانی چاہیے تھی عام طور پر اتنی عمر کا لڑکا ایسا ہوشیار نہیں ہوتا۔ پھر اس کے ذہن میں ایسے بڑے بڑے خیال ٹھونسے جاتے ہیں جو اس کی عمر سے لگّا نہیں کھاتے۔ مثال کے طور پر:


’’پہلی بار اسد کو احساس ہوا کہ ہمیشہ ہمیشہ سے وہ حالات کی یلغار کے آگے ادھر سے ادھر لامدد بھاگتا رہا ہے، کہ اپنے ارادے سے ، اپنے عمد سے اس نے آج تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ حالات کے اس دھارے کو روکنے کی اس کا رخ موڑنے کی سعی نہیں کی کہ جس وقت جس طور اور جس طرف بھی اس کی زندگی کے حالات نے رُخ کیا ہے، اس نے اسی پہ اپنا رُخ موڑ لیا ہے اور بے اختیار و جنبش اس طرف کو چل دیا ہے۔ اس نے زندگی سے، اسد نے سوچا، کبھی مہلت حاصل نہیں کی، ہمیشہ وصول کی ہے۔ ایک سے دوسری ، دوسری سے تیسری، مہلت ، مہلت، مہلت۔ اس نے محسوس کیا کہ عمر بھر سے اس کے دل کے اوپر بے عملی کے اس بار کا مینار چنا جاتا رہا ہے۔ اس کے سینے کا دبائو بڑھتا جا رہا تھا مگر ساتھ ہی ساتھ اب یہ خیال اس کے اندر جنم لے رہا تھا کہ وہ جب چاہے اس حلقے کو توڑ سکتا ہے۔ہاتھ کی ایک جھٹک سے اس دھارے کی روک کر سکتا ہے کہ یہ اب اس کے ہاتھ میں ہے۔‘‘٭۱۶


یہ پورا پیرا گراف کسی ڈھلتی عمر کے آدمی کی سوچ رکھتا ہے۔ ایک نوخیز جوان ’ہمیشہ ہمیشہ‘ جیسا خیال کب سوچ سکتا ہے۔ اسد کا کردار عبداللہ حسین کے دوسرے کرداروں کی طرح ہی محسوس کرنے والا کردار نہیں، محض دیکھنے والا کردار ہے۔ اس کی نظر خارج کے واقعات پر ہوتی ہے۔ اسے دوسروں کے اندر کا کوئی دکھ نظر آتا ہے اور نہ خود اس کے اندر کسی جذبے کی رَو جاگتی ہے۔ وہ محبت کرتا ہے، تشدد جھیلتا ہے، دشمن ملک میں جاسوس بن کر جاتا ہے، جان بچانے کے لیے بھاگتا پھرتا ہے،وہ باپ بننے کی امید سنتا ہے، یہ امید ٹوٹتی دیکھتا ہے،آخر پر اسے اغوا کر کے کسی نامعلوم جگہ ، نامعلوم مقصد کے لیے لے جایا جارہا ہے اور ان سب کے دوران اسد کے جذبات اور احساسات میں کوئی اتار چڑھائو نہیں آتا۔ کہیں رُک کر نہیں بتایا جاتا کہ اس کے اندر خوشی یا غم کا کوئی جذبہ، رنج والم، ملال یا تاسف کچھ بھی پیدا ہوا۔ بس واقعات گزر گئے، اسد نے سہہ لیے یا اس نے دیکھ لیے۔
اسد کا کردار نعیم سے بھی زیادہ بے جان ہے بلکہ کئی جگہوں پر تو مجبورِ محض کٹھ پتلی نظر آتا ہے جسے ناول نگار اپنے مقاصد کے لیے کسی بھی جگہ لے جا سکتا ہے۔ باقی ان کے متعلق جو ممتاز احمد خان صاحب کا مشہور بیان ہے کہ ’اسد جیسے کردار جبر اور غلامی کے مقابلے پر مزاحمت اور آزادی کی علامت ہیں۔‘ کچھ خاص اہم نہیں ہے۔ جو لڑکا حکیم کے خلاف بھی اپنی بغاوت قائم نہ رکھ سکا،تھانے میں کسی نامعلوم شخص پر ہونے والے غائبانہ تشدد کی محض آوازیں سن کر بزدل مویشی کی طرح پوری رات کانپتا رہا ، جو مقبوضہ کشمیر میں ذرا سا قدم غلط پڑ جانے پر سہمے ہوئے خرگوش کی طرح بھاگتا پھرا اور بے وقوفوں کی طرح ’گُم شد ‘آ کر بیٹھ گیا ،ذوالفقار کے آدمیوں کے جھپٹنے پر معمولی سی مزاحمت کے بغیر تن بہ تقدیر ان کے ہمراہ چل دیا ، وہ اتنے بلند آہنگ استعارے کے مقام تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔


ڈاکٹر خالد اشرف نے لکھا ہے کہ ’کرافٹ اور فضا آفرینی کی بنا پر ’’باگھ‘‘ کو اردو کے نہ صرف چند معیاری نمونوں میں شمار کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے دنیا کی سبھی زبانوں کے اعلیٰ نمونوں کے بالمقابل پیش کیا جا سکتا ہے۔‘ اس بیان کا دوسرا حصہ تو بچگانہ حد تک مضحکہ خیز ہے جب کہ پہلے کے متعلق بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ ناول ایک کُل ہوتا ہے اور اس کی تعیینِ قدر کسی جزو کی وجہ سے کیے جانے کا رواج نہیں ہے۔ کہیں یہ نہیں ہوتا کہ فلاں ناول کردار نگاری کی وجہ سے بہترین ہے، فلاں مکالموں کی وجہ سے۔اُس ناول کی زبان عمدہ ہے، اِس ناول میں اشعار کا بہترین استعمال ہے۔ یہ ناول پلاٹ کے حوالے سے سرِ فہرست ہے اور وہ ناول جزئیات نگاری کی بنا پر چوٹی کا ناول ہے ۔ ناول کی تنقیدی تاریخ میں ناول کی قدر ایسے کبھی متعین نہیں ہوئی۔ ناول کو بہ حیثیتِ کل دیکھا جاتا ہے اور اگر اس کے تمام اجزاء اسے ایک مکمل ناول کی حیثیت دیتے ہیں تو پھر وہ ناول کہلاتا ہے۔اگر یہ نامیاتی رشتہ نہ بن پائے تو اسے عمدہ ناول کبھی نہیں کہا جاتا بے شک اپنے اپنے طور پر اس کے سبھی اجزاء کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں۔


مجموعی طور پرعبداللہ حسین کا یہ ناول اوسط درجے کا ناول ہے اور ان کے باقی دونوں ناولوں ’’اداس نسلیں‘‘ اور ’’نادار لوگ‘‘ کے درجے تک نہیں پہنچتا۔ وہ دونوں ناول اپنے مقصد کے حوالے سے زیادہ واضح بھی ہیں اور عبداللہ حسین نے ان میں جان بھی ڈال دی ہے۔ ’’باگھ‘‘ میں وہ زندگی کا عنصر نہیں لا سکے۔ بلاشبہ انہوں نے اس پر محنت بہت کی ہو گی، اس کی نوک پلک سنوارنے میں کافی وقت بھی صرف کیا ہو گا اور شاید اسی لیے انہیں یہ ناول اپنے دوسرے ناولوں سے زیادہ اچھا لگتا تھا لیکن اس ناول کے بنیادی ڈھانچے میں ان سے وہ بات نہیں بنی جو باقی دونوں ناولوں میں ہے۔ ضروری نہیں کہ فن کار جس فن پارے پر زیادہ محنت کرے، وہی اس کا سب سے اچھا فن پارہ بن سکے، بعض بے ساختہ لکھی چیزوں میں زیادہ حسن ہوتا ہے۔ ’’اداس نسلیں‘‘میں پھیلائو ہے، وسعت ہے، موضوع پر مطالعہ ہے۔ ’’نادار لوگ‘‘ میں بے ساختگی ہے، بہائو ہے، موضوع پر ارتکاز ہے۔ جب کہ ’’باگھ‘‘ میں یکسانیت ہے، میکانکیت ہے اور موضوع کے ساتھ ناول کا گہرا رشتہ بن ہی نہیں سکا۔’’باگھ‘‘جس مقصد کے لیے لکھا گیا تھا، وہ پورا نہ کر سکا۔ مصنف کی نہ تو موضوع سے کامل آگاہی تھی، نہ اس ماحول کو وہ پوری طرح سے کینوس پر اتار سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے پاس ایک اچھی کہانی کا بھی فقدان ہے جس میں ناول کے تمام مسائل گوندھ کر قاری تک پہنچائے جا سکیں۔ ان خامیوں کی وجہ سے عبداللہ حسین کی تمام تر محنت کے باوجود’’باگھ‘‘ ان کا سب سے کم اہم ناول بنتا ہے اور کسی طرح ان کے باقی دونوں ناولوں کے مدِ مقابل نہیں کھڑا ہوتا۔
٭٭٭٭

حوالہ جات

۱۔ ممتاز احمد خان،ڈاکٹر، ’’اردو ناول کے بدلتے تناظر‘‘، لاہور،مغربی اردو اکیڈمی پاکستان، طبع ثانی، اپریل 2007ء،
ص:209
۲۔ ایضاً،ص:211
۳۔ عبداللہ حسین،’’باگھ‘‘،لاہور،سنگِ میل پبلیکیشنز، ص:221
۴۔ ’’باگھ‘‘،ص:242
۵۔ ’’باگھ‘‘،ص:251
۶۔ ’’باگھ‘‘،ص:278
۷۔ ’’باگھ‘‘،ص:45
۸۔ ’’باگھ‘‘،ص:61
۹۔ ’’باگھ‘‘،ص:256
۱۰۔ ’’باگھ‘‘،ص:329
۱۱۔ خالد محمود خان، ’’باگھ: عبداللہ حسین کا بند استعارہ‘‘ مشمولہ :’’انگارے‘‘، شمارہ نمبر 67تا70، جولائی تا
اکتوبر2015ء،ص:181
۱۲۔ خالد اشرف،ڈاکٹر،’’ برصغیر میں اردو ناول‘‘،لاہور، فکشن ہائوس، 2005ء، ص:269
۱۳۔ ’’باگھ‘‘،ص:178
۱۴۔ ’’باگھ‘‘،ص:330
۱۵۔ اصغر علی بلوچ،ڈاکٹر،’’عبداللہ حسین کا ناول ’باگھ‘ کرداری مطالعہ‘ ‘مشمولہ:’’انگارے‘‘، ص:209۔
۱۶۔ ’’باگھ‘‘،ص:220

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)
2 کمنٹ
  1. Avatar

    ایک عرصہ بعد کسی ناول پر اتنا جامع مضمون پڑھنے کو ملا ہے۔ اس بات کو کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اردو میں ناول نگاری اس وقت بھی ابتدائی مراحل میں ہے البتہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ناول لکھے جارہے ہیں اور ناول کے قارئین کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس مضمون میں ناول میں موجود جھول کے بارے میں مظبوط دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ ہمارے سماج میں روایت سی پڑ گئی ہے کہ اگر کوئی نام بڑے ادیب کے طور پر مشہور ہوجائے تو نقاد اس پر تنقید سے گریز کرتے ہیں۔ مضمون نگار کے اس مضمون سے علمی دیانت عیاں ہے

    Reply
  2. Avatar

    سر عباس صاحب اپ نے ہر بات بجا فرمائ مگر لکھنے والے کی ذہنی حالت بھی دیکھنی چاہیے ہو سکتا ہے جب وہ ناول لیکھ رہے ہوں وہ نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوں میں یہ نہی کہوں گی کہ اپ کی تنقید غلط مگر اپ کے الفاظ بہت سخت ہیں انہوں نے بچپن میں کافی کچھ برداشت کیا ہے اور ایک جگہ ٹکنے کی ان کی عادت نہی تھی جہاں بھی جاب کی اسے ادھورا چھوڑ دیا یہ سب انہیں وراست میں ملا ذہنی پیریشانی تبھی شاید انہوں نے ناول کا اختتام نہی کیا بہت ساری اہم باتوں کو ادھورا چھوڑا ہے مگر اتنی سخت تنقید سہی نہیں ہے ہو سکتا ہے اگر وہ اج وہ زندہ ہوتے تو اپ کی یہ تنقید پڑھ کر اتنے دل برداشتہ ہوتے کہ لیکھنا ہی چھوڑ دیتے معذرت کے ساتھ

    Reply

کمنٹ کریں