بغاوت پراشعار

بغاوت پراشعار, بغاوت پراشعار


میں بولتا ہوں تو الزام ہے بغاوت کا
میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے
بشیر بدر

نہیں ہے ارے یہ بغاوت نہیں ہے
ہمیں سر جھکانے کی عادت نہیں ہے
نیرج گوسوامی

ہر شخص سر پہ کفن باندھ کے نکلے
حق کے لیے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی
نامعلوم

مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں
ہم سہمے ہوئے لوگ ہیں ہمت سے گریزاں
احمد کامران

ہم نے تو خیر تجھ سے شکاہت کبھی نہ کی
ایسا نہیں کہ دل نے بغاوت کبھی نہ کی
کس حال میں ہیں تیری ستائے ہوئے یہ لوگ
تو نے ہی پوچھنے کی زحمت کبھی نہ کی
نامعلوم



جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلادو
علامہ اقبال

لہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماں
اور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواں
ساحر لدھیانوی

دل داغ داغ ہو کہ فضا ہو دھواں دھواں
اب ہم ترے چراغ کی تنویر میں نہیں
حزیں صدیقی

ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے
ابھی ہے دور سحر تھوڑی دور ساتھ چلو
احمد فراز

وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے
ساغر صدیقی

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں