مضمون نگار : محمد عباس

, بہائو

جہلم تیرے پانیاں اندر پہلے جئیاں گلّاں کتھے
ریتاں دے وچ بیڑے پھسدے، گھمن گھیر تے چھلاں کتھے
چاندی ورگا جُثّہ تیرا اج رتا کس نے کیتا اے
اِس رَت رنگے جُثے نوں دس ہاں نیلا کس نے کیتا اے
سِر تے آرا کس نے دھریا، توں کھچائیاں کھلّاں کتھے
جہلم تیرے پانیاں اندر پہلے جئیاں گلّاں کتھے
تیرا چوڑا سینہ سجناں وانگ سمندر لگدا سی
ویری ناگ دی شوکر سی کہ تیرا پانی وگدا سی
ہُن تے آپ نئیں ٹُر سکدا توں، تیرے نال میں چلّاں کتھے
جہلم تیرے پانیاں اندر پہلے جئیاں گلّاں کتھے


جب نصیر کویؔ مرحوم کی یہ نظم دریائے جہلم کے گھٹتے پانی کے متعلق پڑھی جائے تو ذہن میں اس دریا کا خیال بھی آتا ہے جومدتوں قبل اسی سرزمین پر بہتا تھا اور گھٹتے گھٹتے معدوم ہو گیا۔ وقت کے ایک موڑ نے اس کے سر پر آرا دھرا اور اس کی کھال کھینچ کے رکھ دی۔ آدمی کے متخیلہ کی حد نہیں اور وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے کہ جب وہ دریا ختم ہوا تو اس کے کنارے بسنے والی زندگی پر کیا کیا نہ بیتی ہو گی ۔ لیکن مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ناول ’’بہائو‘‘ میں جس طرح اس بستی کو دکھایا ہے ، وہ فسوں خیزی، طلسم کاری اور جادوبیانی چشمِ تخیل کے بس کی بات نہیں ہے۔


کسی ناول کی یہ نمایاں خوبی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں ہونے والے بہت سے دانشورانہ مباحث کو اپنی فارم میں سمو لے۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے دانشور طبقے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس نوزائیدہ ریاست کو دانشورانہ طور پر تسلیم کرنا تھا۔ ان میں سے کچھ لوگ تو ایسے تھے جنہوں نے آسانی اپنائی اور دو قومی نظریے کی تشریح میں پناہ لی اور اسلام کی ترویج اور ہندومت کے خوف کی بنیاد پر پاکستان کو تسلیم کیا جب کہ دوسری طرف دانشوروں کا ایک مکتبۂ فکر ایسا تھا جنہوں نے پاکستان کے خطے کو جغرافیائی طور پر ایک قدیم اکائی سمجھا اور اسے ثقافتی طور پر ایک آزاد خطہ قرار دیا۔ ان کے مطابق آج کے ہندوستان اور پاکستان شروع سے ہی دو الگ ثقافتی خطے رہے ہیں اور کبھی بھی ثقافتی حوالے سے یکجا نہ ہوے ۔ اعتزاز احسن کی ’’سندھ ساگر‘‘ اسی دانشورانہ رخ پر چلتی ہے اور پاکستان کے موجودہ خطے کو وادیِ سندھ کی تہذیب کے ساتھ جوڑتی ہے۔ ڈاکٹر رفیق مغل اور ڈاکٹر احمد حسن دانی سائنسی اور تہذیبی حوالے سے اس خطے میں مملکتِ پاکستان کی جڑیں تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے انتہا پسندانہ کتاب ابنِ حنیف کی ’’سات دریائوں کی سرزمین‘‘ ہے جس میں وہ اس خطے کا ذکر پانچ ہزار سال پہلے کے دور میں بھی کرتے ہیں تو پاکستان ہی لکھتے ہیں۔ایک عام خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ مستنصر حسین تارڑ نے ’’بہائو‘‘ لکھنے کے دوران اس کتاب سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ خیر وہ تو اس کتاب کو سرسری نظر سے دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ’’بہائو ‘‘ لکھنے میں اس کتاب کی مدد کسی طرح بھی شامل نہیں ہے۔ آمدم برسرِ مطلب ، پاکستان کے دانشور طبقے کو جڑوں کی تلاش کایہ مسئلہ اپنی گرفت میں لیے ہوے تھا اور وہ یہ ثابت کرنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے تھے کہ یہ خطہ ازل سے ہی اپنی جغرافیائی اور ثقافتی حدود کی بنیاد پر بھارت کے خطے سے الگ تھا، اس لیے ہماری تاریخ 1947ء سے یا 712ء سے شروع نہیں ہوتی بلکہ ہماری تہذیبی جڑیں ٹیکسلا، پاٹلی پتر، ہڑپہ اور موہنجوداڑو تک جاتی ہیں۔ اسی صورتحال میں مستنصر نے ’’بہائو‘‘ کی بنیاد رکھی اور اپنی تخلیقی قوت سے پکلی کے آوے پر بننے والے برتن، سمرو کے تراشے ہوے منکے اور مالائیں اور موہنجو کی تعمیر میں کام آنے والی اینٹیں تک سامنے رکھ کر دکھا دیا کہ ہم یہاں سے اپنے تہذیبی سفر کا آغاز کرتے ہیں ، ایک ایسے وقت میں جب دنیاابھی شہر تعمیر کرنے کے بنیادی اصولوں اور شہری زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضوابط سے ناآشنا تھی۔ مستنصر کا یہ ناول ہماری مقامی تہذیب کو شناخت مہیا کرنے کے ساتھ اسے ٹھوس بنیادوں پر قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جس قدر ہڑپہ اور موہن جوداڑوکی کھدائی کرنے والے محققین کا کام اہم ہے ، اسی قدر مستنصر کا یہ ناول بھی وقعت رکھتا ہے۔


علم الآثارِ قدیمہ نے وادیِ سندھ کی چارہزار سال پرانی تہذیب کو دریافت کیا اور اس کے ساتھ بشریات کے ماہرین نے ان شواہد کی روشنی میں اس دور کے لوگوں کی اجتماعی و انفرادی زندگی کے انداز، رجحانات، میلانات، طرزِ بودوباش، رسم و رواج، ذرائع پیداوار وغیرہ پر کافی تفصیل سے لکھا۔ ابنِ حنیف، ڈی ڈی کوسمبی، رفیق مغل ، احمد حسن دانی وغیرہ نے علمی طریقے سے ازمنۂ قدیم کی اس زندگی میں رنگ بھرنے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں کی کاوش صرف ان لوگوں تک محدود رہتی ہے جو علم کی اس شاخ سے وابستہ ہیں یا اس کی اصطلاحات سمجھتے ہیں ۔ ’’بہائو‘‘ میں مستنصر نے اس ادھورے رنگوں والی تصویر کو لیا اور اسے اپنے اعجازِ مسیحائی سے ایک زندہ اور متحرک بستی کی صورت بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ بستی اپنے باسیوں کی دھڑکنوں کے ساتھ مل کر دھڑکتی ہے اور اس کی فضائوں میں پیاسی مٹی پر پانی پڑنے کی سوندھی خوشبو ہے ، مٹی کے تپتے توے پر پکتی کنک کی اشتہا انگیز مہک ہے ، کنویں سے نکلتے پانی کا تازہ ذائقہ ہے اور چیتر کی چاندنی میں لشکتی گھاگرا کی پرسکون سطح ہے ۔بستی کی اجتماعی زندگی کا پورا جیتا جاگتا عکس ہے اور اس عکس میں تمام تمثالیں مکمل ہیں۔ باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ۔ خاص طور پر شامہ کی حِس زیادہ متحرک ہے کہ جنگل کی تہذیب شامہ پر زیادہ اعتبار کرتی ہے۔ پاروشنی کے حدت دیتے بدن کی نمی کی مہک اور اس کے سلگتے اپلوں کے دھویں سے امڈتی خوشبو سبھی شامہ کی دسترس میں ہیں۔ دریا سے بستی ، بستی سے ڈوبو مٹی اور ان کے پار رکھوں اور ان رکھوں کے اندر پانی کی مرتی جھیل تک سبھی اس عکس کووسعت دیتے ہیں اور بستی کے لوگوں کی اجتماعی زندگی میں سانجھے داری اس بستی کو ایک ثقافتی کل بنا کر پیش کرتی ہے جو اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی طاقت یا قوت کی محتاج نہیں بلکہ حیاتی کے تمام سوتے اس کے اپنے ہی اندر سے پھوٹتے ہیں۔ ناول کے اس پہلو پر ممتاز احمد خان یوں لکھتے ہیں:


’’بہائو ایک ایسا ناول ہے جس میں تاریخ ، علم البشریات، لسانیات، عمرانیات، ایک مخصوص خطے کا بنتا بگڑتا جغرافیہ اور تمدن ایک نکتے پر مرتکز ہو کر ایک دلچسپ و حیرت انگیز تحریر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ حیرت انگیز اس لیے کہ ایک ایسی بستی جو ہزاروں سال پہلے اپنی معدوم ہوتی ہوئی خصلت کے ساتھ موجود تھی، ناول نگار کے کرب آمیز طویل مطالعہ کی راہ سے گزرتے ہوے ایک اہم دستاویزی ریکارڈ میں تبدیل ہوگئی ہے۔‘‘٭۱


اس ناول کے لیے تحقیق ناگزیر تھی لیکن اس ناول میں کہیں بھی تحقیقی انداز نظر نہیں آتا۔ کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اپنی کسی تحقیق کا حاصل ناول کے اندر کھپا رہے ہیں یا قدیم زندگی کے متعلق خواہ مخواہ کے تبصرے کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس تحقیق کو اپنے تخیل میں سمویا ہے اور اس کی مدد سے ایک ایسی بستی کوتشکیل دیا ہے جو ’’بہائو‘‘ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ نظر آئے گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحقیق کے دوران مستنصر اس زندگی کو پڑھتے نہیں رہے بلکہ تخیل کی مدد سے اس زندگی کو گزار کر آئے ہیں۔ زندگی کا اتنا بھرپور احساس اور ہر چیز پر اتنی گہری نظر اس زندگی کو بھوگے بغیر ممکن نہیں ہوتی، فنکار اگر اسے ظاہری طور پر نہیں بھوگتا تو اپنے تخلیقی باطن میں بھوگ کر ہی اسے تخلیق کر سکتا ہے۔ یہی اس ناول کا کمال ہے کہ یہ صرف تحقیق کی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس تحقیق سے آگے جا کر تخلیقی ہنر مندی سے تمام ماحول کو تخلیق کرتا چلا جاتا ہے۔اسی موضوع پر محمد نعیم نے لکھا ہے :


’’…تارڑ ایک ایسی زندگی کی تصویر ہمارے سامنے لانا چاہتاہے جسے نہ اس نے دیکھا ہے، نہ جیا ہے۔ یہ اب اس کے تخیل کا کارنامہ ہے کہ اس نے اپنے عہد کے تجربے سے کس طرح ان انسانی عناصر کی کھوج لگائی ہے جو آج سے چار ہزار سال پہلے کے انسان کا حصہ تھے۔ نہ صرف وہ انسان بلکہ اس کی معاشرتی زندگی کی اکثر جزئیات ناول کے ذریعے سامنے لائی گئی ہیں۔ بستی والوں کی ترجیحات ، زندگی گزارنے کا ڈھنگ، بیج کے گرد گھومتی زندگی ، شادی بیاہ، عبادت ، خدا کا تصور، غرض زندگی کے تقریباً تمام پہلو ناول کے پڑھتے پڑھتے ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ ‘‘٭۲


’’بہائو‘‘ کا بیانیہ ایک سنجیدہ اور متین بیانیہ ہے ۔ اس کا مقصد ایک قدیم بستی کے اجڑ جانے کا منظر بیان کرنا ہے اور اس کے ساتھ علامتی طور پر کسی بڑی اور چھتنار تہذیب کے مٹنے کی داستان کہنا ہے۔ اس کے علاوہ بیانیہ کسی اور چیز پر توجہ نہیں کرتا۔ بالکل وقت کے بے رحم دیوتا کی طرح جو وسیع و عریض سلطنتوں اور فلک مرتبہ شخصیتوں کو روندتے ہوے بے نیازی کے ساتھ آگے بڑھتا چلا جاتاہے اور کسی کو سنبھلنے ، بچ نکلنے کا موقع نہیں دیتا۔ نہ کہیں ہنستا ہے نہ کہیں روتا ہے۔ نہ کسی پر ترس اوررحم ،نہ کسی پر مسرور و شادمان۔ ایسے ہی ’’بہائو‘‘کا بیانیہ اپنی سنجیدگی اور متانت قائم رکھتا ہے اور اپنے کرداروں اور ان کے المیے سے بے نیاز بہتا چلا جاتا ہے۔ اس کے بہائو میں وہ سبک رفتاری ہے جو گھاگرا کے اپنے بہائومیں ہے۔ یہ وجدانی نوائے سروش صریر خامہ کی دھیمی سی سرسراہٹ کے ساتھ اپنے مقصد کے سوا اور کوئی چیز بیان نہیں کرتی۔ نہ طنز ہے ، نہ رقت ہے ، نہ کہیں کوئی اندھی جذباتیت ہے ، تہذیبوں کے عروج و زوال پر اندھا دھند فلسفوں کی بھرمار نہیں ہے، بس دھیمی رفتار سے بہتا ہوا بیانیہ ہے جو آغاز سے لے کر انجام تک یکساں متانت سے ایک کہانی کہتا چلا جاتا ہے۔


بظاہر سیدھا سادا نظر آنے والا بیانیہ اپنی اصل میں بہت ہی پرکار ہے۔ اس پرکاری کی چار تہیں ہیں۔ زبان ، کردار، واقعات کا انتخاب اور نقطۂ نظر ۔ زبان اس ناول کا بنیادی ڈھانچہ ہے جس پر ناول کا پورا وجود قائم ہے۔ ناول میں گھاگرا کے معدوم ہوتے وقت کی ایک اجڑتی بستی کی تصویر کشی کے لیے مستنصر نے زبان بھی ایسی ہی ڈھال لی جو اپنے مزاج کے مطابق اسی دور کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ اب یہ بات محققین کی جانفشانی کی متقاضی ہے کہ گھاگرا کے آخری ایام میں کون سی زبان بولی جاتی تھی اور کون کون سے الفاظ مستعمل تھے۔ البتہ مستنصر نے جو زبان تخلیق کی ہے اسے پڑھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ لوگ اس دھرتی پر تھے تو ایسی ہی زبان بولتے ہوں گے۔ اسی زبان کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے کہ مستنصر کے بتائے بغیر ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کہانی کسی قدیم عہد کی رہتل کی ہے۔ حالانکہ ناول اردو زبان میں لکھا گیا ہے اور اس کے 99فیصدسے زیادہ الفاظ اردو کے ہی ہیں مگر مستنصر نے اس کے ڈکشن میں کچھ ایسے بنیادی الفاظ رکھ دیے ہیں جو بیانیے کے ساتھ نامیاتی طور پر جڑ جاتے ہیں اور اس 99فیصد کا ذائقہ بدل دیتے ہیں۔ ہندآریائی زبان محض چند لفظوں کے تال میل سے دراوڑی نظر آنے لگتی ہے اور پھر اس معجز نمائی کے سبب اس زبان کے پردے میں جس کے ذریعے سلطنت مغلیہ، محلاتی زندگی اور ہندوستان کے مہذب شہروں کی زندگی کا بیان ہوتا رہا، ہندوستان کے قبل از تاریخ معاشرے کی زندگی سانس لیتی جھلکتی ہے اور اس زندگی کی تصویریں ، مرقعے اور امیجری بھی اسی قدر زندہ اوربھرپور ہے جس طرح اشرف صبوحی، شاہد احمد دہلوی اور ملا واحدی وغیرہ کے ہاں دہلی کی زندگی ملتی ہے۔ ستائش مصنف کا حق بنتا ہے کہ دہلی اور لکھنئو کے گلی کوچوں کی ٹیکسال میں دھلی زبان کے ذریعے پکلی کے آوے میںپکے برتنوں میں بنے کھانے تک کا سواد بیان کر رہا ہے:


’’وہ چھوٹی سی روٹی جس میں اُپلوں کی باس رچی ہوئی تھی اور ان کا دھواں اس کے مزے میں ملا ہواتھا ، گرم تھی اور اس میں اس کنک کی مست مہک تھی جو کبھی ان کی بستی میں کال میں نہ تھی اور بہت تھی اور ان کے تالو سویر،شام اس کے سواد سے ملتے تھے اور وہ ان کے اندر جا کر انہیں بھی مست کرتی تھی اور اب کتنے دنوں بعد اس کا سواد انہوں نے چکھا تھا؟‘‘٭۳


کنک، باس اور سواد تین لفظوں نے مل کر پورے بیانیے کی شناخت بدل دی اور صدیوں کا فاصلہ عبور کر کے ویدک دور میں لا کھڑا کیا۔بعض اوقات تو محض ایک آدھ لفظ کے استعمال سے ہی وہ پورے بیانیے کو جادوئی مَس دے کر اس کی شکل ہی بدل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل بیان ملاحظہ کیجیے:


’’ابھی منہ اندھیرا تھا جب وہ دونوں گھاٹ پر آ گئے تھے۔ گھاٹ پر وہ کپڑا بنانے والوں کے گھروں والی گلی میں سے ہو کر آئے ۔گھروں کے اندرکھڈیاں چلتی تھیں ، تانے اور پیٹے چلتے تھے اور ان کی آواز موہنجو کی سویر میں گونجتی تھی۔ ورچن جب کبھی ادھر کو آتا تو رکتا اور سنتا… دھاگے کی نالی جب تیرتی ہوئی سُوت کے بیچ میں سے گزرتی اور ہاتھ چھاج کو ایک دھچکے سے اس ایک دھاگے کو بُنے ہوے کپڑے کا ایک حصہ بناتے تو اس دھچکے سے کھَٹ کی آواز آتی۔ وہاں بہت ساری کھڈیاں تھیں اور ان سب کی آواز مل کر موہنجو کے اندر ہی اندر کھَٹ کھَٹ کرتی گم ہوتی رہتی تھی۔ ورچن اس گم ہوتی کھَٹ کھَٹ کے لیے وہاں رکتا اور سنتا ۔ اس نے اس لَے کو ساری رُتوںمیں سنا۔ گرمیوں میں یہ کھٹ کھٹ پسینے میں بھیگے بدن پر پھسلتی ۔ پالے کی رُ ت میں یہ بندے کے اندر نِگھی ہو کر بیٹھتی جاتی۔ برساتوں میں مدھم ہو جاتی اور چاند کا تھال جب پُورا ہوتا تو زمین کو چھوڑ کر اوپر ہی اوپر اٹھتی جاتی۔ اس کی کشتی سندھو میں تیرتی تھی پر اُس کے کانوں میں چپوئوں کی شپاشپ کی بجائے ابھی تک کھٹا کھٹ چل رہی تھی۔‘‘٭۴


زبان کے اس استعمال میں ضرور تحقیق صرف ہوئی ہے اور مستنصر نے کافی محنت کے بعد ان لفظوں کو استعمال کیا ہو گا لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ لفظ محض لفظ نہیں ہیں بلکہ ان کا استعمال تخلیقی طور پرکیا گیا ہے، بیانیے کے اندر کسی آزاد حیثیت سے نہیں آتے، نہ ہی کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ علمیت بگھارنے اور کسی خاص لفظ کو کھپانے کے لیے کوئی خاص جملہ تخلیق کیا گیا ہو گا بلکہ لفظ جملے کے ساتھ بہتے چلے آتے ہیں اور جملے کی بناوٹ اور بیانیے کی ساخت کا ایسا نامیاتی جزو بن جاتے ہیں جس کی کوئی علیحدہ شناخت باقی نہیں رہتی۔ زبان کا یہی تخلیقی استعمال اس ناول کو’’ حقیقی زندگی کا عکاس‘‘کا اعتبار بخشتا ہے۔


اردو میں ایسے ناول بہت ہیں جو شروع میں تو کسی خاص زبان کا ذائقہ دیتے ہیں لیکن آگے چل کر رفتہ رفتہ ان کی زبان بے ذائقہ اور پھسپھسی ہونے لگتی ہے لیکن مستنصر کی زبان آخر تک اپنی وہی مہک قائم رکھتی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تاثر ابھارنے کے لیے وہ جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ، وہ آج ہماری پنجابی کا حصہ ہیں اور وہ جس بستی کا قصہ سنا رہے ہیں وہ سندھ کی سرزمین پر آباد تھی لیکن اس کے باوجود اس زندگی کی تصویرکشی کے لیے یہ الفاظ مٔوثر کردار ادا کرتے ہیں۔


بیانیے کی دوسری پُرکاری کردار ہیں۔ ناول پوری بستی کی کہانی بیان کرتا ہے لیکن اس میں کردار بہت محدود ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ بستی میں صرف یہی گنے چنے لوگ ہیں کیوں کہ پاروشنی کی شادی کے موقع پر اور بڑے پانیوں کے انتظار میں گھاگرا کنارے ڈیرہ لگانے کے دنوں میں بہت سے گھرانوں کا ذکر ملتا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہاں اور بھی بہت سے لوگ تھے لیکن بیانیے کے اندر صرف چند کرداروں کا ذکر ملتا ہے۔ پاروشنی، ورچن، سمرو، مامن ماسا، دھروا، ماتی اور اس کے تین بیٹے، پکلی اور اس کے دو بیٹے اور ڈورگا۔ یہی اہم کردار ہیں۔ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ناول نگار سبھی کرداروں کا بیان کرنے سے قاصر تھا، مستنصر جیسے لکھاری کے لیے یہ بات زیب نہیں دیتی ، پھر اس کی دوسری وجہ صرف یہی نظر آتی ہے کہ مستنصر نے صرف انہی کرداروں کو وقت دیا جو ناول کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ کہانی سنانی ہے موہنجوداڑو تہذیب کی تباہی سے قبل گھاگرا کنارے ایک چھوٹی سی بستی کے مٹ جانے کی، یوں انہوں نے بستیوں کے تقابل کے لیے ورچن کا کردار چنا۔ پانی حیاتی کے لیے کس قدر ضروری ہے اور اس کی کمی بستیوں کو کیسے بانجھ بنا دیتی ہے ، اس کے لیے پاروشنی ہے جو پورے گائوں کو پانی فراہم کرتی ہے اور خود بھی ہر وقت بڑے پانیوں کی زد میں رہتی ہے۔جسے یقین ہے کہ جب تک پانی ہیں ، اسے بانجھ عورتوں کے رُکھ پر دھاگہ باندھنے کی ضرورت نہیں۔ بستیوں کے تباہ ہونے کے بعد ان کے ہونے کا ثبوت دینے کے لیے کچھ فن پارے ضروری ہیں ، پکلی سامنے آتی ہے۔ بستی کے مٹ جانے کا پیشگی احساس دلانے کے لیے ایک فنکار درکار ہے جو انہوں نے سمرو کی شکل میں تخلیق کیا۔ ان کے علاوہ جو بھی کردار ہیں وہ اپنی جگہ ناول کے موضوع کی شدت کو ابھارنے اور کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے ناگزیر ہیں ۔ کوئی کردار غیر ضروری نہیں ہے۔ ہر کردار کو مؤثر آلے کی صورت مناسب وقت پر استعمال کیا گیا ہے یا پھر موزوں وقت پر منظر سے ہٹا دیا گیا ہے۔


ناول کے بیانیے میں تیسری Essentialچیز واقعات کا انتخاب ہے۔ واقعات کا بامعنی انتخاب اس ناول کی بنیادی صفت ہے ورنہ اتنے بڑے موضوع کو لے کر چلنے والا ناول پھیلتا ہی چلا جاتا ہے۔ مستنصر نے اس ناول کے پلاٹ پر بہت توجہ رکھی ہے اور محض وہی واقعات شامل کیے جو ناول کے عمل کے لیے ضروری تھے ۔ ایک ایک پیراگراف کی لہروں پر ہلکورے لیتا ناول آگے کو بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہر واقعہ آگے آنے والے واقعات کی پیش روی اور پیش گوئی کرتا ہے اور ہر اگلا واقعہ گزشتہ واقعات کے ساتھ منسلک ہو کر آتا ہے۔ کوئی واقعہ آزادیا الگ نہیں اور کہیں کوئی ایسا کھانچہ بھی نہیں جہاں کچھ بتانے کو رہ گیا ہو۔ یوں یہ ایک مکمل پلاٹ کا مکمل ناول ہے جو کہ اردو میں بہت ہی نایاب چیز ہے۔ واقعات کے انتخاب کی ذیل میں واقعات کی ترتیب بھی اہم ہے ۔ ناول میں کہیں بھی واقعاتی ترتیب کے بگڑنے یا خراب ہونے کا احساس نہیں، بس جو واقعہ جہاں بیان ہونا چاہیے، وہ وہاں ہی بیان کیا گیا ہے ۔ ناول کے شروع میں بڑے پانی کی آمد اور اس پر زندگی کے انحصار کا بتایاگیا اور ورچن کے ذریعے بستیوں کے تباہ ہونے اور اجڑ جانے کے متعلق روشناس کرا دیا گیا ۔ بعد ازاں ماتی کے کھیت کے خشک رہ جانے اور سمرو کی جھجر خالی ہونے کے بیان سے اس پانی میں آنے والی کمی بیان کی گئی ۔ یوں رفتہ رفتہ کہانی اس پیاس کی طرف بڑھتی ہے جو بعد ازاں خشک دھول کی صورت بستی کی گلیوں میں اڑتی ہے اور ان کے سینوں کو سکھاتی چلی جاتی ہے۔ واقعات کا حسنِ ترتیب ناول کو دھیرے دھیرے وہ المیاتی شان دیتا ہے جو بستیوں کے اجڑنے کے اس موضوع پر لکھے گئے ناولوں کا خاصہ ہے۔ ناول کے واقعاتی بیانات میں تین بیان ایسے ہیں جو کہانی کی بڑھوتری میں براہِ راست شامل نہیں ہیں لیکن ان کے ذریعے کہانی کی بہت سی ان کہی باتوں کو واضح کر دیا گیا ۔ ناول کے بالکل آغاز میں پرندے کا اڑتے اڑتے پیاس سے مر جانا اور دو دفعہ اوپر پہاڑوں پر ہونے والی بارش سے پہاڑی پودے کا اُکھڑ اُکھڑ کر گھاگرا میں بہہ آنے کا بیان ۔ یہ تینوں واقعات بظاہر کہانی کا حصہ نہیں ہیں لیکن درحقیقت کہانی کو سست کرنے کی بجائے تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں اور علامتی انداز میں پانی کے نہ آنے کی وجہ اور اس کے نتیجے میں بستی اجڑ جانے کا سبب بیان کرتے ہیں۔


چوتھی چیز جو اس ناول کو ایک خوبصورت اور جامع ناول بناتی ہے ، وہ ہے نقطۂ نظر ۔ اردو کے باقی ناولوں سے ’’بہائو‘‘ کو ممیز کرنے کے لیے یہ صفت بہت اہم ہے۔ دیکھنے کا زاویہ اور فاصلہ ہی منظر کی شدت اور اہمیت طے کرتا ہے ۔یہ طے کرنا فنکار کا کام ہوتا ہے کہ کون سا واقعہ کس کے نقطۂ نظر سے بیان ہو کر ناول کی شدتِ تاثر کو بڑھاتا ہے البتہ اگر اس کے انتخاب میں غلطی ہو جائے تو ناول کا تاثر خام رہ جاتاہے ۔ اردو میں عام طور پر بلکہ تمام دنیا میں ناول کو بیان کرنے کے لیے ہمہ دان راوی کی تکنیک کو مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس میں لکھنے والے کے لیے حدود اور مشکلات بہت کم رہ جاتی ہیں جب کہ راوی واحد متکلم وغیرہ کے نقطۂ نظر سے بیانیے کی بہت سی حدود متعین ہو جاتی ہیں۔ ’’بہائو‘‘میں مستنصر نے بھی ہمہ دان راوی کا نقطۂ نظر اپنایا ہے جو سبھی کرداروں کے متعلق سبھی کچھ جانتا ہے۔ البتہ ناول نگار خارج کے مناظر اور واقعات کے متعلق لکھتے وقت اپنے نقطۂ نظر سے کم اور اس کردار کے نقطۂ نظر سے زیادہ دیکھتا ہے جس کردار کے سامنے وہ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس کی سب سے خوبصورت مثال وہ ہے جہاں ورچن اور ڈورگا ایک ہی کشتی میں بیٹھے سندھو کو عبور کر رہے ہیں اور دونوں کا بیان اک دوجے کی نظروں سے ہوا ہے۔ دوسری مثال وہ ہے جہاں مامن ماسا دیوار سے اچک کر ماتی کو بتاتا ہے کہ بڑے پانی تمہارے کھیت تک نہیں پہنچے۔ اس بات کو بتانے کے لیے ماسا سے موزوں کوئی شخص نہیں تھا۔ بتانا تو یہی تھا کہ گھاگرا کا پانی کم ہونے لگا ہے اور دور دراز کے کھیتوں تک نہیں پہنچ پایا ۔ اس کی اطلاع دینے کے لیے ناول نگار نے نہ تو ہمہ دان راوی بن کر خود یہ فرض نبھایا اور نہ ہی ماتی جو کھیت کی مالک ہے ، کی نظروں سے دکھلایا کہ وہ ایک جانبدار نظر تھی اور بیانیے میں رقت کے جذبات پیدا کر سکتی تھی جو اس متین بیانیے پر ایک بوجھ ہوتا۔ مستنصر نے ایک لحظے کے لیے بھی بیانیے کو رقت یا آہ وزاری کے راستے پر نہیں چلنے دیا ورنہ اس کہانی میں تو بڑے آرام سے درجنوں جگہ پر بین کرنے کے مواقع بھی میسر تھے۔ ناول کے آخر پر جب تمام بستی گھاگرا کنارے ڈیرہ ڈال دیتی ہے مگر بڑے پانی پھر بھی نہیں آتے ، تب ورچن یہ تجویز دیتا ہے کہ ہمیں پانی کو کھیتوں تک لے جانا چاہیے۔ دریا کو پیاسے کھیتوں تک برتنوں کے ذریعے لے جانے کی یہ سعیِ لاحاصل اس قدر رقت انگیز اور الم ناک ہے کہ اس کا بیان ناول پر غیر ضروری جذباتیت طاری کردیتا ، سو ناول نگار نے یہ منظر نہ تو ہمہ دان راوی کی حیثیت سے خودبتایا اور نہ ہی کسی ایسے شخص کی آنکھوں سے دکھلایا جو اس پاگل کوشش میں شامل تھا۔ اس کو بیان کرنے کے لیے ناول نگار نے ایک بار پھر مامن ماسا کا سہارا لیا جو بستی والوں سے الگ ہو چکا ہے اور اب ان کے لیے اور ان کی جدوجہد کے لیے کوئی ہمدردانہ جذبات نہیں رکھتا۔ اس کی آنکھوں سے بھی براہِ راست دکھانے کی بجائے اس کی زبانی اس واقعے کو بیان کیا گیا جس سے اس کی شدت مزید کم ہو تی جاتی ہے۔ یہ وہی تکنیک ہے جو انارکلی ڈرامے میں امتیاز علی تاج نے اپنائی تھی اور انارکلی کے زندہ دیوار میں چن دیے جانے کو کسی منظر کا حصہ بنانے کی بجائے اس کی شدت کو کم کرنے کے لیے ثریا کی زبانی بتایا جاتا ہے۔ البتہ انارکلی ڈرامے کی طرح ہی ’’بہائو‘‘ میں بھی یہ واقعہ اپنی معنوی شدتِ تاثر کی وجہ سے اس قدر زوردار ہے کہ کسی اور کی زبانی سننے پر بھی دل و دماغ پر ایک المناک احساس طاری کر دیتا ہے اور ہم اپنی چشمِ تخیل سے پوری بستی کو مٹی کے برتنوں سے کھیت سیراب کرنے کی بے سود کوشش میں جلتے دیکھتے ہیں اور ’’ان کا پسینہ زیادہ بہا اور کھیت کو پانی کم ملا‘‘ جیسے جملے ان کی آخری امید کا رائگاں جانا یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کا سارا افسوس قاری کی آنکھوں میں سمٹ آتا ہے۔ اگر یہ واقعہ مستنصر براہِ راست بیان کرتے تو شاید منظر قاری کو کچھ جذباتی کر دیتا لیکن المیاتی احساس کی یہ شدت نہ پیدا ہوتی جو مامن ماسا کے غیر جانبدارانہ اندازِ بیان نے کر دی ہے۔ناول کے آخر پر خشک سالی سے جانوروں کے مرنے کابیان کرنا ہے تومستنصر دھروا اور اس کے بیلوں کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ مانا کے پوتر بیل ہیںاور نسل کشی کے کام آتے ہیں ۔ ان کو بستی والے کبھی بھوکا نہیں رکھ سکتے، خواہ اُن کے اپنے جنوربھوکے رہ جائیں لیکن زیبو بیلوں کے لیے انہوں نے کچھ نہ کچھ مہیا کرنا ہی ہے اور اگر یہ بھوک سے مرنے لگیں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ پوری بستی کے جانور بھوک کا شکار بن چکے ہیں۔یوں مستنصر جب لکھتے ہیں کہ ’’ایک ہی ماہ میں تیسرے بیل کی آنکھیں پتھر ہو گئیں ‘‘ تو اس کا صریحاً مطلب یہی ہے کہ تمام بستی کے جنور بھوک سے ختم ہو چکے ہیں اور پھر جب ڈورگا کی دیکھا دیکھی سبھی اس پوتر بیل کا ماس اتار لیتے ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھوک ان پر اس قدر حاوی ہو چکی ہے کہ اب وہ خود دیوتائوں کو بھی کھا جانے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ مستنصر کی مہارت ہے کہ محض بیلوں کے بیان سے ہی انہوں نے پوری بستی کے تمام جنوروں اور باسیوں کی ہڈیوں میںاُتری بھوک دکھا دی ہے۔


جب مستنصر حسین تارڑ کا حسنِ بیان ، ان چاروں عناصر کو خوبصورتی کے ساتھ سمو کر آگے بڑھتا ہے تو ہر صفحے پر، ہر باب میں ایک دلکش بیانیہ تخلیق ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک ایسا دلکش بیانیہ جو پڑھتے وقت بھی اور پڑھنے کے بہت دیر بعد بھی قاری کے حواس پر ایک میٹھے نشے کی طرح چھایا رہتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آدمی ہوا بھری ربڑ کی کشتی میں نیم دراز دریا کی لہروں پر سوار ہے اور دریا کے بہائو کے ساتھ کشتی دھیرے دھیرے آگے بڑھتی جا رہی ہے ۔ کہیں کوئی چونکا دینے والا اتار چڑھائو نہیں ، کہیں کوئی غیر ضروری رکاوٹ نہیں، بس لہروں کا جھلائو ہے اور اس کا سرور ہے۔


ناول کی اصل زندگی ہے۔ ناول زندگی سے جڑا ہوا ہو تو کامیاب اور بامعنی ناول بنتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ناول جس زندگی سے جڑنے کا دعویٰ کر رہا ہے ، جس زندگی کی عکاسی کر رہا ہے ، کیا ناول کے اندر وہ فضا، وہ ماحول بن سکے ہیں جو اس زندگی کے ساتھ منسوب ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ناول میں زندگی کوئی اورپیش کی جا رہی ہے اور ماحول کوئی اور بن رہا ہے؟اس فضا اور ایسے ماحول کی تشکیل میں زبان، مناظر ، مکالمے اور کردار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مناظر مکمل ہوں اور زبان بھرپور ہو تو فضا قائم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہائو‘‘ میں جو زندگی پیش کی گئی ہے، اس کی پیش کش میں وہی فضا اور ماحول پیدا کیا گیا ہے۔پاروشنی اور ورچن کی یہ تخیلاتی بستی اتنی ٹھوس نظر آتی ہے کہ خیال ہوتا ہے ، اک ذرا وقت کی جست لگائیں تو ہم اس بستی میں گھوم آئیں گے۔ فضا اس قدر مانوس دکھائی دیتی ہے جیسے کہیں ٹرین سے گزرے بس میں سفر کرتے یہ بستی دیکھ رکھی ہو۔ ناول پڑھتے ہوے بھی یہی احساس ہوتا ہے کہ ہم اس بستی کے متعلق پڑھ نہیں رہے بلکہ اس کے اندر زندہ رہ رہے ہیں۔


ناول میں ازمنۂ قدیم کی یہ فضا قائم کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر کردار زبان کا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اپنی تحقیق کے بعد اس ناول میں وہ اصل زبان بھی استعمال کر سکتے تھے یا اس زبان کے کئی الفاظ جو وہاں رہنے والے اس وقت بولتے ہوں گے لیکن یوں لسانی حوالے سے ناول میں تنافر کا احساس پیدا ہو جاتا۔ ان الفاظ کے معانی کوئی جان ہی نہ پاتا اور حاشیے میں ان کے معانی لکھنے پڑتے جو کہ اپنی جگہ ایک غیر تخلیقی عمل ہے۔ اس طرح وہ زبان فضا تخلیق کرنے کا مقصد پورا نہ کر سکتی۔ اس مسئلے کا انہوں نے تخلیقی حل یہ نکالا کہ اردو پنجابی کے اندر سے ہی وہ الفاظ چنے جو اپنے مزاج اور کیفیت کے حوالے سے مٹی کی خوشبو میں رچے ہوے ہیں اور انہی کی مدد سے اپنا بیانیہ تشکیل دیا۔ یہ گنتی کے چند الفاظ بنتے ہیں :


کنک، جنور، لیڑا، پیڈا، پنڈا، پینڈا،جُسّہ، مہاندرا، رُت، رَت،نگھی، لنگی،سمے، بھار، بھرا(بھائی)سانجھے،اگیتا،باسی، مال ڈنگر، کالاشاہ، سفید بگا،ماس، جانُوں (ماہر)، روڑے، گیٹے، کاج، بوٹا، پکھیرو، ڈھیم، پوٹا، اسوا، بودن، آناسا، مامن، وسنیک، گھانی، جھاٹا، رانگلا، بھوکڑ، واہک، واہیک،ہواڑ،لوکائی،ترکھا، سیک،ٹچکر،تراٹ،بُرکی،ہڑبیں، بھُسر(مٹی جس میں ریت نہ ہو) ،جھجر، صحنک، گھڑا، چاٹی، چھونی، کُنی، ڈولا، گڈوا، مَٹ، دَوری، جھانواں، کُجّا،گتی،گڑاونی،کلہوٹی،مونگلی، کہی، چنگیر، بُسّا(کورا سادہ برتن)، دھامن، کھبل، کترن،کھیپ، چھتری(یہ پانچوں بوٹیوں کے نام)، ٹھِلنا، ترہیانا،لوُسنا، لشکنا،اڈیکنا، اسارنا، پاسے پلٹنا، پلانگیں بھرنا، پائوں دھرنا،ہیک لگانا، پدھرا کرنا، پھَوٹ پڑنا،لشکارے مارنا،تربکنا،بیج ڈالنا،ڈوبو مٹی، بڑے پانی، یم کتے،جم پل،ٹوئے ٹبے، پباں بھار، چار چفیرے، انگ ساک، جیاجنت،بے وسائی، بھانڈے ٹنڈر، سیت پالا۔


محض یہ الفاظ ہیں جن کی مدد سے وہ پورے ناول میں قدیم رہتل کی فضا قائم کرتے ہیں۔البتہ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ بیانیے میں ایسے الفاظ کم درآنے پائیں جو فارسی مخرج سے ہوں۔ ذ، ز، ض، ظ،خ، ث،ژجیسے حروف کو بہت کم استعمال کیا گیا اور مقامی مخرج سے منسلک حروف زیادہ برتے گئے۔ ڈ، ٹ، ڑ اور بھ، پھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ، گھ وغیرہ۔ مقامیت کی خوشبو دیتے ان الفاظ اور مقامی لہجے سے امڈتی صوتی آوازیں سبھی مل کر ’’بہائو ‘‘ کو اسی دھرتی پر مبنی فضا قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اس ناول کے لیے زبان وہی اہمیت رکھتی ہے جو بستی کے لیے گھاگرا رکھتا ہے۔ زبان کی اہمیت کے حوالے سے ممتاز احمد خان لکھتے ہیں:


’’…یہ سب ایسی زبان بولتے ہیں جو سراسر مستنصر حسین تارڑ نے ایک طویل تحقیق اور ریاضت کے بعد تلاشی ہے ، مستنصر حسین چاہتے تو شاید یہ ہی پوری زبان وہ استعمال کر لیتے مگر اردو میں پرانی درواڑی ، برسوں پرانی پنجابی اور سندھی علاقوں کی زبان کے الفاظ کی آمیزش سے انہوں نے ایک لطیف قسم کا حسن تخلیق کر دیا ہے۔ ان کرداروں کے نام ہی سے محسوس ہوتا ہے کہ ایسے ہی ہوں گے اور پھر وہ الفاظ بھی اپنی ذات میں ان حقیقی الفاظ کا تاثر دیتے ہیں گویا کہ ماقبل تاریخ وہ ہی استعمال ہوتے ہوںگے ۔ اس طرح مستنصر حسین فکشن کی دنیا سے برآمد شدہ ماہرِ لسانیات بھی نظر آتے ہیں۔‘‘٭۵
اس ناول میں مستنصر نے جس کفایت لفظی سے کام لیا ، وہ خصوصی توجہ کی طالب ہے۔ ناول کی فارم بظاہر ایک وسیع فارم ہے جس میں جنگل کا سا گھنا پن اگ آتا ہے۔ زندگی پر محیط وسعت اور کائنات کی حدوں تک پھیلائو اس کی بنیادی صفات ہیں۔ یوں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہاں ناول نگار الفاظ کو اس اختصار کے ساتھ استعمال نہیں کرتا ہو گا جومثلاً افسانے کا امتیاز ہے۔ درحقیقت ایسا نہیں ہے اور ناول کی فارم بھی اپنی تمام تر وسعتِ بیان کے باوجود اسی احتیاط کی متقاضی ہے جو دیگر اصنافِ ادب ملحوظ رکھتی ہیں۔ ناول میں کوئی واقعہ یا منظر اضافی نہیں ہو سکتا اور اگر ہو تو یہ اس کی خامی یا عیب ہی تصور ہو گا۔ دوسرے کوئی واقعہ منظر یا مکالمہ طولِ بیان کا شکا ر ہو تو وہ بھی طبعِ سلیم پر گراں گزرتاہے۔ ناول میں اختصار نہیں ہوتا، الفاظ کا محتاط استعمال ہوتا ہے اور ناول میں یہ بہت مشکل ہے کہ سینکڑوں صفحات پر پھیلے ہوے ناول میں ہر لفظ اپنے ہونے کا جواز رکھتا ہو۔ شاعری میں ترنم ، آہنگ یا وزن الفاظ کی تعداد کا تعین کر دیتے ہیں، افسانے میں ایک ہی موضوع پر ارتکاز فنکار کو صراطِ مستقیم پر رکھتا ہے جب کہ ناول میں بھٹکنے اور الفاظ کے ضیاع کے ہزارہا اندیشے لاحق رہتے ہیں۔ یہاں ناول نگار کو ہر لفظ اور ہر سطر پھونک پھونک کر لکھنی پڑتی ہے، تب جا کر ناول اپنی حدود میں رہتا ہے ورنہ تو اس قدر پھیل جائے کہ الفاظ کا سیلابی پانی تمام ماحول کو آلودہ کر کے رکھ دے۔ مستنصر نے اپنے اس ناول میں انتہائی حد تک کفایتِ لفظی سے کام لیا ہے اور کسی بھی جگہ کوئی لفظ اضافی نہیں معلوم ہوتا۔ ناول کا بیشتر حصہ مختصر جملوں اور مکالموں سے تعمیر ہوا ہے ، بعض اوقات مختصر جملے اتنے تواتر کے ساتھ آتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے ناول نگار نے لفظوں کو کسی سُنار سے خرید کر استعمال کیا ہے۔ کئی جگہوں پر تین لفظوں کے جملے اور انہی جملوں سے منظر بنتا چلا جاتا ہے۔ مناظر کے بیان میں بھی مستنصر نے قدرتِ زبان کے مظاہرے کی بجائے زبان سے محض منظر کی صحیح کیفیت بیان کرنے کا ہی کام لیا ہے۔ ذیل میں ایک مثال ملاحظہ کیجیے جہاں ناول میں اختصار اپنے کمال دکھا رہا ہے:


’’ہاڑ کے بیچ میں وہ آندھی اٹھی اور سب نے اسے اپنے سانسوں میں بھر بھر کر خوشی سے اور بھیگتی آنکھوں سے اپنے اندر اتارا کہ اب جو آندھی آئی ہے تو اس کے ساتھ مینہ بھی ہو گا پر ایسا ہوا نہیں اور آندھی کے ساتھ ریت تھی جو اندھیرا کرتی تھی… اور ایسا پہلی بار ہوا کہ ہوا میں ریت ہو۔ اس آندھی نے چھپر اڑائے جو ریت کی ہوا میں اڑتے گھاگرا میں جا گرے اور لوگ اپنے سر گھٹنوں میں چھپائے آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے … اور یہ بہت دیر نہیں چلی۔ بس اٹھی ، چلی اور تھم گئی۔ لوگ گھروں سے نکلے اور گلی میں پڑی اپنی چیزیں اٹھا اٹھا کر واپس لانے لگے جو آندھی سے اُڑ کر ادھر ادھر ہو گئی تھیں۔ آسمان بھی صاف ہو گیا۔ پر ایک عجیب بات ہوئی کہ مینہ کی ایک بوند بھی نیچے نہ آئی اور ریت کی ایک موٹی تہہ ہر سُو بچھی ہوئی تھی۔ ویہڑوں میں، گلی میں ڈوبو مٹی پر، گھاگرا کے کنارے، سروٹوں کے پتوں پر ۔‘‘٭۶


ناول کی زبان اس کے موضوع کے ساتھ یکجان ہو کر آئی ہے۔اس ناول کا موضوع دراوڑوں اور آریائوںکی باہمی آویزش یا ایک تہذیب کی موت اور دوسری طاقت ور تہذیب کا عروج بتانا ناول کے ساتھ زیادتی ہے۔ ناول کا موضوع محض گھاگرا کے خشک ہونے پر وہاں کی بستیوں پر اس کے اثرات ہیں یا کسی حد تک اپنی جڑوں کی تلاش جس کے متعلق پہلے تفصیلی بات ہو چکی ہے۔ آریائوں کی آمد اور دراوڑوں پر ان کا غلبہ اس ناول کا ایک ذیلی مبحث ہے، اس کا مرکزی موضوع نہیں۔ بستی کا دریا خشک ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے بستی کی حیاتی جس طرح موت کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، یہ کون سا آریائوں کی سازش تھی، محض ایک قدرتی عمل تھا، اس کے مٹ جانے میں جب کسی انسانی ہاتھ کی کارفرمائی نہیں تو پھر یہ ان قوموں کی باہمی آویزش بھی نہیں ہے۔ یقینامستنصر یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ بستیاں جس بنیادی ضرورت کے گرد قائم ہوتی ہیں، وہی ختم ہو جائے تو اجڑ جاتی ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال میں یہی رمز پوشیدہ ہے کہ قومیں خود اپنی تعمیر میں مضمر خرابی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوتی ہیں نہ کہ کسی طاقتور حریف کے مدِ مقابل آنے سے۔ کسی قوم کی اندرونی کمزوریاں ہی اسے تاریخ میں ماضی کا قصہ بنا دیتی ہیں۔ تخلیقی سوتے خشک ہوجانے پر بستیاںمٹ جانا ایک سادہ سی حقیقت ہے۔


پرندے کی اُڑان اور موت ایک ایسی تمثیل ہے جو اس ناول کے مرکزی خیال کو واضح کرتی ہے۔ پرندہ وسیع تر معانی میں ایک انسانی تہذیب کی Personificationہے۔ پرندے کی اڑان کسی تہذیب کے ابتدائی مظاہر، تشکیل(ان کا بیان تمثیل میں نہیں ہے جیسے ناول کے آغاز میں بستی کی ابتداء کا کوئی بیان نہیں ہے۔ )عروج اور پھر زوال کی مانند ہے۔ اس تمثیل میں پرندے کی مرتی ہوئی اڑان کسی بھی تہذیب کی اجتماعی فکری زندگی کے مردہ ہوتے چلے جانے کی مثال ہے، جس کے لیے نئے نظریات و افکار کی پیدائش کا عمل رک چکا ہو۔پرندے کی اڑان اور جستجوئے آب تہذیب کے اسی فکری المیے کا علامتی بیان ہے۔ پانی وہ فرحت بخش افکار ہیں جو کسی تہذیب کو نمو اور عروج دیتے ہیں(پانی بذاتِ خود کائنات کا بنیادی تخلیقی عنصر ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقی عمل کا باعث اور علامت بھی ہے۔ ) رگوں میں خشک ہوجانے والے خون سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ تہذیب کو زندہ رکھنے والے یہ عوامل اب عمومی زندگی سے خارج ہو چکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ صرف دل تک خون رہ جانے کا مطلب کہ اس تہذیبی زندگی کا مرکز ابھی مردہ نہیں ہوا۔ ابھی کچھ لوگ زندہ ہیں جہاں میں۔ پروں کا کمزور ہو جانا، بازوئے شمشیر زن یا افرادی قوت کی کم یابی کی طرف اشارہ ہے۔ پروں کی رنگت بدلنا تہذیب کے زمانۂ عروج کے خارجی مظاہر اور تہذیبی نقوش کے دھندلا پڑ جانے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پگھلتی ہوا قدرتی حالات کے ناموافق ہوجانے کو بتاتی ہے جن کی وجہ سے کوئی تہذیب لحظہ بہ لحظہ زوال آمادہ ہوتی جاتی ہے۔ آگے چل کرپرندہ سوچتا ہے کہ ’’کہیں ایسا تو نہیں کہ اڑان ایک خواب ہے اور اسی لیے حرکت مدھم پڑتی جا رہی ہے۔‘‘ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب قوموں کو اپنی ساری ترقی اور سارا تہذیبی سرمایہ ایک فریب محسوس ہونے لگتا ہے اور اسی احساس کے تلے وہ کسی اور فریب کا شکار ہو کر اپنی تہذیبی بنیادوں کو مزید کھوکھلا کرد یتی ہیں۔ نمی کی جھلک دکھائی دینا کسی تہذیب کی موت کی آخری ہچکی سے پہلے نظر آنے والی امید کی کرنیں ہیں جب احساس ہوتا ہے کہ شاید اب یہ تہذیب سنبھل جائے ، پہلی صدی قبلِ مسیح میں یونان، چھٹی صدی عیسوی میں روم، بارہویں صدی عیسوی میں عرب، بیسویں صدی میں برطانیہ اور اواخرِ بیسویں صدی میں روس اس کی بہترین مثالیں ہیں۔’’اسی لمحے اس کی اڑان کا رخ اپنے آپ بدل گیا‘‘ تہذیبی زندگی کا ایک ایسا لمحہ جب اپنی تہذیب کو مرتا دیکھ کر ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ امید کی آخری کرن کا سہارا لیا جائے مگر اس وقت تک اس تہذیب کے اندرونی عوامل ، اس کے ترکیبی عناصر پر اس قدر منفی اثر ڈال چکے ہوتے ہیں کہ سب کی خواہش کے باوجود بھی اس تہذیب کا سفر اپنے منطقی انجام کی طرف جاری رہتا ہے۔


کسی بھی ناول کی دلچسپی کی قوت اس کی کہانی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ مستنصر صاحب کو کہانی کہنا آتاہے اور کہانی کا فن ان کے دوسرے ناولوں ’’راکھ‘‘ اور ’’دیس ہوے پردیس‘‘ اور ’’پیار کا پہلا شہر‘‘میں بھی نظر آتا ہے۔ ’’بہائو‘‘ کی کہانی بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ خوشحالی سے شروع ہو کرانتہائی بدحالی کی طرف دھیرے دھیرے بڑھتی ہوئی کہانی قاری کو بھی اپنے ساتھ لیے چلتی ہے۔کہانی کا آغاز ، جھیل کنارے پرندے کی موت سے ہوتا ہے جسے پاروشنی دیکھتی ہے۔پہلے باب میں اس بستی کی زندگی اور اس میں پانی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ عہدِ قدیم میں انسان کی بسائی ہوئی اولین بستیاں پانی کے کناروں پر ہی تھیں۔ اس وقت انسان کی زندگی کا دارومدار پانی پر ہی تھا ۔ ان بستیوں کی زندگی پانی سے مشروط ہوتی تھی۔ پانی ختم ہو جائے تو پھر یہ پوری بستی نقل مکانی کر کے کسی نئی جگہ پر ڈیرہ ڈال لیتی جہاں پانی میسر ہوتا۔ ناول میں بھی ایک ایسی ہی بستی کی کہانی ہے اور کہانی کا آغاز ایسے لمحے سے ہو رہا ہے جب بستی کا امرت دھارا خشک ہوتا جا رہا ہے۔ فکرمندی کی لہر اس وقت شروع ہوتی ہے جب خبر ملتی ہے کہ پانی ماتی کے کھیتوں تک نہیں پہنچا۔ تب یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے سال بھی وہاں بمشکل پانی پہنچا تھا، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پانی ہر سال بتدریج کم ہو رہا ہے۔ناول میں اس لمحے سے حزنیہ احساس کی وہ لہر پیدا ہوتی ہے جو دھیرے دھیرے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ قاری کو پانی کی اہمیت بتا دی گئی ہے، اب پانی نہ آنے کے نقصان بتائے نہیں جا رہے اور قاری خود ہی اپنی متخیلہ سے سمجھتا جا رہا ہے کہ جس جس کھیت تک پانی نہیں پہنچ رہے ، اس کے مالک کے ساتھ کیا المیہ پیش آیا ہے۔قاری ان سب کے لیے فکر مند ہوتا جا رہا ہے اور پانی آ جانے کی امید پر ان کے ساتھ چلتا ہے لیکن امید اس وقت ٹوٹتی ہے جب پاروشنی کہتی ہے کہ اب بڑے پانی کبھی نہیں آئیں گے۔ پاروشنی کی ناول میں مرکزی حیثیت کی وجہ سے اس کے لبوں سے ادا ہوے یہ لفظ کسی ہاتفِ غیبی کی آواز سنائی دیتے ہیں۔تب قاری جان لیتا ہے کہ اب بڑے پانی نہیں آنے والے۔ ناول کے کردار اس اشارے کو ابھی سمجھ نہیں رہے اور امید باندھے بیٹھے ہیں، اس لیے ا ن کی یہ بے خبری اور بے سود مشقت کا نظارہ حزنیہ احساس کی شدت کو بڑھانے لگتا ہے۔ قاری کو ان سب سے ہمدردی ہے لیکن لکھے ہوے کو وہ جان چکا ہے ، وہ ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتا، بس ان کے المیے پر ملول ان کے شب وروز کی رائگانی کا نظارہ کرتاجاتا ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ ان سب نے دھیرے دھیرے ڈھے جانا ہے ، اسے یقین ہو گیا ہے کہ یہ بستی اب رفتہ رفتہ خاک ہو جائے گی، اور وہ خاموش تماشائی بنا ہوا ان کی زندگی کے آخری سانسوں کا تماشائی ہے۔ کہانی میں حزن ہے مگر اس کے بیان میں ایسی دلکشی ہے کہ قاری اسے چھوڑ دینے کی بجائے اس کے دھارے میں بہتا چلا جاتا ہے۔ بستی اجڑتی جا رہی ہے ، لوگ بچھڑتے جا رہے ہیںاور قاری اپنی تمام دل گرفتگی کے ساتھ کہانی کے انجام تک پہنچنا چاہتا ہے ، اسے فنکار سے امید ہے کہ کہیں تو امید کا کوئی دیا دکھائے دے گا، کہیں تو کوئی تازہ جذبہ ملے گا اورتب پاروشنی کا بنجر وجود نم ہوتا ہے اور بڑے پانیوں کی امید میں بیج جذب کرتا ہے۔بستی ختم ہو چکی ہے ، پاروشنی بھی ختم ہو جائے گی مگر اس کے توانا جذبے کی ’’ہوئو دھم،ہوئو دھم‘‘پر ختم ہونے والی کہانی بہر حال قاری کو ایک امید دلاتی ہے، امید نسل آگے بڑھنے کی، امید بستی کے دوبارہ آباد ہونے کی۔سہارا آدھی مٹھی کنک کا، آسرا ٹھہرے ہوے بیج کا۔


پاروشنی کے علاوہ جب ناول کے آخر میں پانی ناپید ہو جانے کی وجہ سے خارجی طور پر تخلیقی عناصر مردہ اور تخلیقی عمل ساکن ہو جاتے ہیں تو تمام کرداروں کے اندر داخلی طور پر تخلیق کا جذبہ شدت اختیار کر کے یہ ظاہر کرتا ہے کہ کائنات میں کبھی بھی تخلیقی عمل رک نہیں سکتا اور انسان کے لیے تخلیق کردہ اس ارضی و فانی جنت میں بھی تخلیقی عمل کو فنا نہیں۔ اگر ایک طرف زمین کے تخلیقی سوتے خشک ہو رہے ہیں تو دوسری طرف زمین کے باسیوں کا رجحان تخلیق کی طرف پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔
؎کٹے تنے سے اگی شاخ اور کھلا حیدرؔ
کہ سر کٹا کے بھی جوشِ نمو شجر میں ہے
حیدر گیلانی


پکلی کا برتن بنانا ، سمرو کا نگینے تیار کرنا ، پاروشنی کا سمبھوگ کو تیار ہونااور ورچن کا نئی دنیائوں کو نکل جانا(کہ یہی اس کے لیے تخلیقی عمل ہے)اسی امر کی نشانی ہیں ۔ ناول کے آخر پر پاروشنی کی اوکھلی میں کنک کوٹنے کی ’’ہوئو دھم، ہوئو دھم‘‘ کا ردھم ’’آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون‘‘ کاعملی اظہار ہے۔ تخلیق کا شجر سر کٹا کے بھی جوشِ نمو سے محروم نہیں ہوتا بلکہ کسی نہ کسی طرف سے نئی شاخیں نکال ہی لیتا ہے۔
طلسمی حقیقت نگاری کی تکنیک مابعد جدید فکشن میںا یک انتہائی قابلِ ذکر تکنیک گردانی جاتی ہے ۔ یہ تکنیک ابتدائی وحشی انسان کے متخیلہ کو جدید ترقی یافتہ ہیئت میں استعمال کرنے کا نام ہے۔ مستنصر کے اس ناول کا موضوع ہی انسان کی ابتدائی ثقافتی زندگی کا بیان تھا، اس لیے انہوں نے اس تکنیک سے بھی کافی کام لیا۔ سادہ حقیقت نگار بیانیہ مہذب شہروں کی جدید زندگی کو بخوبی پیش کرسکتا ہے لیکن ایک ماقبلِ تاریخ معاشر ے کی داستان کہنے کے لیے اسے لامحالہ طلسمات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ناول کے دو کردار مامن ماسا اور چیوا جو درختوں پر رہتے ہیں ، حقیقت نگاری میں فوق حقیقت کی جھلک دکھاتے ہیں۔ زیبو بیلوں کے متعلق یہ اسطورہ ہے کہ اگر ان بیلوں کی لاش کو گدھ اور کوے کھاجائیں تو یہ باوجود مرے ہونے کے اٹھتے ہیں اور اپنے نگہبان کو کھا جاتے ہیں۔ یہاں تک تو یہ اسطورہ ہی ہے لیکن جب ناول کے آخر پر یہ بیل اپنے نگہبان دھروا کو کھا جاتے ہیں تو پھر یہ اسطورہ حقیقت کے ساتھ آمیز ہو کر طلسمی حقیقت بن جاتی ہے۔ تیسری جگہ وہ ہے جہاں ڈورگا رکھوں کے اندر رہنے والے بھینسے کو مار ڈالتا ہے ، تب ایک طلسمی حقیقت نگار بیانیہ جنم لیتا ہے۔


’’بھینسے کا سیاہ اور زور والا جسم ٹھنڈا ہو گیا … اور وہ اس کے سامنے پڑا تھا۔
پھر پہلی چیونٹی آئی…
اور اس کے بعد خشک پتے اور سوکھی ٹہنیاں ان سے سیاہ ہونے لگیں جیسے پتے چلنے لگے ہوں۔ جیسے ٹہنیوں میں جان پڑ گئی ہو۔ پر وہ ساری چیونٹیاں تھیں اور ادھر آتی تھیں اور ڈورگا نے انہیں دیکھا تو ڈرا اور اس کے ڈر کو سونگھ کر ایک چیونٹی نے کہا:’’ہم تجھے نہیں، اسے لینے آئی ہیں۔‘‘اور وہ اس کے سیاہ جسے پر چڑھنے لگیں اور اس کے نیچے اور اوپر ہر طرف سیاہ ہونے لگیں ، یہاں تک کہ بھینسے کا مردہ جسم دھیرے دھیرے ویسے ہی چلنے لگا جیسے چیونٹیوں سے بھرا ہوا روٹی کا ایک ٹکڑا چلتا ہے اور وہ اسے اٹھا کر لے جا رہی تھیں۔‘‘٭۷
اس تکنیک کے استعمال سے ناول کے اندر اس قدیم بستی کے متحرک متخیلہ کی سچی تصویر نظر آتی ہے اور محض حقیقت نگاری پر مشتمل بیانیہ اس کے تاثر کو یوں تنوع نہ دے سکتا تھا۔ ناول کے بیانیے میں بستی کے لوگوں کے توہمات کا بیان بھی اسی تکنیک کا مرہونِ منت ہے ۔ مثلاً پاروشنی کا سورج کی طرف پیٹھ نہ کرنا کہ ایسا کرنے سے برا سامنے آتا ہے ، پھر جب وہ بڑے پانیوں کی آمد سے با خبرہو جاتی ہے تو کسی کو اس کے متعلق بتاتی نہیں کہ بتانے سے بڑے پانی لوٹ جاتے ہیں،ورچن کا بستی کی طرف واپسی پر مردوں کے ٹیلوں پر پانی پھینکنا تا کہ وہ پیچھے سے آواز نہ دیں، ڈورگا کے پہلی دفعہ بھینسے کے ساتھ میل کے وقت رُکھوں کا مکالمہ اور پھر آخر پر بستی والوں کا یہ عقیدہ کہ اگر دریا میں اپنی سب سے پیاری چیز پھینک دی جائے تو بڑے پانی آ جائیںگے۔ یہ سبھی مل کر اس بستی کے لوگوں کے عقائد اور ان کی سوچ کے زاویے ہم پر واضح کرتے ہیں اور ایک ایسے معاشرے کی تصویر بنانے میں بہت کارگر ثابت ہوتے ہیں جس کی بنیاد اساطیر اور دیومالا پر رکھی گئی ہے۔
پاروشنی ناول کا مرکزی کردار ہے اور ناول کا مرکز بھی۔ ناول کا بیشتر حصہ اسی کے گرد گھومتا ہے۔ پاروشنی اپنی نسل کا خاص قد بت لیے ہوے ہے ، ہلکا سیاہی مائل رنگ ، گھنگریالے اور بھورے بال جو ایک ستھرے گھونسلے کی طرح سر پر رکھے ہوے تھے، بھنویں اوپر کو اٹھی ہوئیں ، ناک چوڑی مگر اونچی ، جبڑا ذرا آگے کو نکلتا ہوا، قد بت ایسا کہ کنک کی فصل میں چلتے ہوے پہلی نظر پر دکھائی نہ دے، ہونٹ موٹے اور بھرے بھرے اور کولہے پھنیر سانپ کے پھیلے ہوے پھن کی طرح۔ ان نقوش اور اس رنگت کی حامل کوئی عورت ہمیں راستہ چلتے نظرآئے تو شاید ہم اسے ستائش کی نظر سے نہ دیکھیںلیکن مستنصر نے اس بھرے بھرے پچھائے والی عورت کو اس قدر توانائی اور حرارت بخشی ہے کہ پورے اردو ناول میں اس قدر بھرپورعورت نظر نہیں آتی۔ سانولے رنگ کی اس متحرک لڑکی پر مستنصر اس قدر فدا ہیں کہ بار بار رک کر بہ نظرِ تحسین اس کے بدن کے خطوط کا نظارہ کرنے لگتے ہیں۔ قاری بھی ان کے ساتھ کھڑا اس عورت کے بھرپور نسوانی وجود کے نظارے لیتا ہے ۔ ناول کے اندر اس کے بدن کے تمام خطوط ،ابھار، ڈھلوانیں ،پاٹ سبھی کچھ اپنی پوری شہوانی حسیت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ پاروشنی کے حدت دیتے بدن کی نمی سے اٹھنے والی مست مہک ناول کے شروع میں قاری کی شامہ سے ٹکراتی ہے اور ناول کے اخیر تک یہ مہک پاروشنی کے وجود کا ہالہ بن کے رہتی ہے۔ پاروشنی متخیلہ کے ذریعے صرف باصرہ کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ شامہ کو بھی متحرک کرتی ہے۔ پاروشنی کا وجود ایک مکمل اور بھرپور عورت کا وجود ہے جس کا تصور بھی قاری کو نشہ طاری کر دے۔ وہ جب چلتی ہے تو اس کے انگ انگ سے مورکی آواز پھوٹتی ہے۔ جب اس کے بدن پر پکلی بوٹے الیکنے بیٹھی تو رنگ ختم ہوگئے مگر بدن ختم نہیں ہوا۔ وہ اتنی ہری بھری ہے کہ اسے کبھی بانجھ عورتوں کے رُکھ پر رنگین دھاگہ باندھنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ وہ جب بھاگتی ہے تو اس کے بدن سے اٹھنے والی باس سے پیچھے آتے مرد ہی بائولے نہیں ہوتے، آگے دوڑتا بھینسا بھی مست ہو جاتا ہے۔ اس کے بدن کی توانائی ، انگوں کی تھرک، بیچ کی تھرتھراہٹ ، نم کی پھوٹنے والی مہک، کچھوں سے نکلنے والی باس اور جُسے کی لشکتی جلد مل کر اسے وہ بناتی ہیں جو کچھ کہ وہ ہے، اور جو کچھ پاروشنی ہے وہ اردو ناول میں اور کوئی نہیں ہے۔


پاروشنی بدکردار نہیں ہے اور نہ ہی گمرا ہ ہے۔اس کے جسم سے امڈتے شہوت انگیز پسینے کی بُو اور اس کے نسوانی بدن کے Pheromones کی مہک تک ہماری شامہ سے ٹکراتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ نہ کسی کو ترغیبِ گناہ دیتی ہے اور نہ ہی پڑھنے والے کے دل میں کوئی اسفل جذبہ ابھارتی ہے۔ اس کے پوشیدہ اعضا ء نظر آتے ہیں مگر محض اس لیے کہ وہ اس کے بدن کا حصہ ہیں اور وہاں کوئی بھی عورت اپنے بدن کو چھپانے کا اہتمام نہیں کرتی۔)وہ ایک عورت ہے اور اپنے پورے نسوانی وجود کے ساتھ ناول کے منظرنامے میں زندگی کرتی ہے۔ نہ تو کچھ چھپانے کی کوشش کرتی ہے اور نہ کچھ زیادہ دکھانے کی لٹک رکھتی ہے۔ اگر پاروشنی کو دیکھنا اور اس کی نسوانیت کو سراہنا ہوتو ذیل کے بیانات ملاحظہ کریں :
’’پانی کو پیاس سے دیکھتے اس نے آسے پاسے دیکھے بغیر اپنے سینے پر کَسا ہوا لیڑا ڈھیلا کر کے کھول دیا۔ لیڑے کی پکڑ سے چھوٹنے پر اس کی چھاتیاں پل دو پل کے لیے ایسے تھرتھرائیں جیسے چنکارے ہرن کی پیٹھ پر زہریلی مکھی بیٹھ جائے تو وہ ہلتی ہے۔ تھرتھرائیں اور پھر اپنے بوجھ کو سہار کر پنڈے کا ایک خاموش حصہ بن گئیں۔ دریا کی باس کو ان کی اٹھان نے ایک ناک کی طرح سونگھا اور اپنے اندر رچایا۔بستی کی ساری عورتیں اپنے اوپر والے حصے کو نہیں ڈھکتی تھیں ، صرف وہ جو بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے ڈھیلی پڑ چکی تھیں یا وہ جنہیں چلتے پھرتے ان کے بوجھ کی وجہ سے انہی پر تھکان ہو جاتی ، ایسا کرتی تھیں۔پاروشنی پر بوجھ بہت تھا۔ پھر اس نے لونگی کے لڑ کھولے ، ہاں وہ بہت کسی ہوئی تھی۔ اس نے کولہوں کے گردا گرد ہاتھ پھیرا تو ماس یوں دبا اور ابھرا ہوا تھا جیسے رات اس حصے پر کوئی زہریلا برساتی کیڑا چل گیا ہو۔ اس نے لونگی اتار کر جھجھر کے ساتھ ٹھیکریوں پر رکھ دی اور سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ‘‘ ٭۸


’’ننگی پیٹھ پر پانی کی ایک بوند گری اور اس کا ایک حصہ اس کے کولہوں پر سے دھیرے دھیرے ایک گیلا راستہ بناتا نیچے اترا اور اس کی کمر تک پہنچتے ہوے ختم ہو گیا اور دوسرا حصہ دوسری طرف سوچ سوچ کے اترا اور دونوں پاٹوں کے بیچ میں جذب ہونے لگا۔پاروشنی کو اچمنی سی ہوئی اور اس نے بدن کے اُس حصے کو ایسے ہلایا جلا یا جیسے کان میں پانی پڑ جائے تو سر کو ہلاتے ہیں۔ اوپر چھپر، پیچ گیا تھا اور اب اسے ٹپکتے رہنا تھا۔‘‘٭۹
پاروشنی اپنے بدن کی تمام کشش کے علاوہ ذہنی طور پر بستی والوں سے آگے ہے۔ اس کی ذہانت اور فکر کی گہرائی ظاہر سے نظر نہیں آتی۔ سمرو اسے دیکھتا ہے تو سوچتا ہے:’’اس کا چہرہ پاروشنی کا ، ڈوبو پانی ایسا تھا۔ اوپر سے ہموار اور نیچے سے گہرا اور ڈوبوُ۔‘‘(ص:۲۷) وہ مانا کے ماننے والوں کے درمیان ایک لبرل اور روشن خیال عورت ہے۔ شروع میں ہی جب وہ دھروا سے مانا کے ہونے نہ ہونے پر سوال کرتی ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دیوتائوں پر اس کا یقین نہیں ہے ۔آگے چل کربڑے پانیوں کو بلانے کے لیے وہ لِنگ پر پھول چڑھانے کی مخالفت کرتی ہے ۔ جب بستی کے سبھی لوگ اپنی سب سے پیاری شے دریامیں ڈالنے جاتے ہیں تو وہ اس عمل کو بے سود جان کر اپنی جگہ بیٹھی رہتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ سہارا ڈھونڈتے ہیں اور ایسا کرنے سے ان کا بوجھ ہلکا ہو گا۔ دوسری دفعہ یہ روشن خیالی اس وقت سامنے آتی ہے جب پاروشنی دھروا کے ساتھ زیبو بیل کے متعلق بات کرتی ہے کہ ’’انہیں مر جانے دے، یہ تو گھاس پھونس سے بھی بڑھ کر بیکار ہیں۔‘‘اور جب دھروا اسے زیبو بیلوں کا تقدس بتاتا ہے تو وہ اسے یوں جواب دیتی ہے :’’جنور نہیں، بندے پوتر ہوتے ہیں جو انہیں چارہ دیتے ہیں۔ انہیں مر جانے دے۔ ‘‘ یہاں وہ جدید زمانے کی انسان دوست فکر کی علمبردار نظر آتی ہے جس کے مطابق’’ مذہب آدمی کے لیے بنا ہے، آدمی مذہب کے لیے نہیں۔‘‘


اپنی روشن خیال سوچ کے ساتھ ساتھ پاروشنی گہری فکر کی مالک ہے ۔ سمرو اُسے کہتا ہے کہ تم ہم سے آگے ہو، ہم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتی ہو۔البتہ اس فکر کے باوجود وہ جذباتی بھی ہے۔ اس کی اپنی بستی کے ساتھ محبت جذباتی ہے۔ وہ یہی سوچتی ہے کہ جو کچھ یہاں ہے، ان کے سوا اس کا جُسہ کچھ نہیںمانگتا ۔ آخر تک پہنچتے پہنچتے جو کچھ یہاں تھا، ختم ہو چکا ہے اور وہ پھر بھی یہاں سے جانے کو تیار نہیں۔ وہ آخری دم تک اسی جگہ پر اپنی امید لگائے بیٹھی ہے ۔ جب دریا سوکھ گیا ہے ، پوری بستی خالی ہو گئی ہے ۔ پاروشنی کے پاس ایک مٹھی کنک ہے اور وہ اس میں سے آدھی کنک پانی آنے کی امید میں بیج کے لیے بچا رکھتی ہے اور اس کے الفاظ ’’سب کچھ کبھی بھی گم نہیں ہوتا… کھیت ہرے بھرے ہو جاتے ہیں اگر تمہارے پاس آدھی مٹھی کنک ہو تو۔‘‘اس کی نامختتم امید ظاہر کرتے ہیں اور اس کی شخصیت میں موجود یہ رجائیت ناول کے آخر تک رہتی ہے جب بستی میں صرف وہی بچی ہے اور فاقہ کشی کا عفریت اس کا بدن چاٹ چکا ہے اور اب محض کمزور سی ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے تو پھر بھی وہ اس آدھی مٹھی کنک میں سے آدھی بچا لیتی ہے ۔ بستی کے مٹنے کے الم ناک احساس کے سامنے پاروشنی کی یہ رجائیت ناول کے پورے عمل کو ایک مثبت پہلو کی طرف لے جاتی ہے۔


پاروشنی کے کردار کی سب سے بڑی گرہ یہ ہے کہ اسے سمرو اور ورچن میں سے کون زیادہ اچھا لگتا ہے۔ کون ہے جس کے خیال سے اس کے بدن میں حدت اور نمی پیدا ہوتی ہے۔ ناول کے بالکل آغاز میں وہ ان دونوں کے متعلق سوچتی ہے تو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے میں جب اس کا بدن خواہش سے بھر جاتا ہے تو وہ چکی میں کنک پیسنے کی بجائے اوکھلی میں ڈال کر مونگلی سے جی بھر کے کوٹ کر اپنے بدن کو تھکالیتی ہے۔یہاں مونگلی اور اوکھلی واضح طور پر جنسی اعضاء کا اشارہ ہیں اور مونگلی کوٹنا دراصل فرسٹریشن کے اخراج کا راستہ ہے:


’’کبھی کبھار جب وہ باریک آٹے کی روٹی بنانا چاہتی تو وہ چکی کو چھوڑ کر اسے اوکھلی میں جی بھر کے کوٹ لیتی۔ پر یہ صرف ان دنوں میں ہوتا جب وہ رکھوں کی طرف جاتی ، جھیل سے ہو کرآتی ، ان دنوں اس کے اندر کا چین کم ہوتا اور اس کے بازو ٹانگیں جیسے پتھرانے لگتے اور تب وہ اوکھلی میں کنک ڈال کر اسے مونگلی سے خوب کوٹتی اور ہلکی ہو جاتی۔‘‘٭۱۰
پاروشنی کے اس عمل کی علامتی توضیح محمد نعیم نے کچھ ان الفاظ میں کی ہے:
’’جب پاروشنی ورچن اور سمرو کا سوچتی ہے تو اس کے بیچ میں تھرتھراہٹ اور گرمی کا احساس پیدا ہوتا ہے،جب وہ گھر پہنچتی ہے تو اوکھلی میں کنک کے دانے ڈال کر مونگلی سے کوٹنا شروع کر دیتی ہے۔ جذبات کے انخلاء کے لیے ایک قوت کا رُخ موڑ کر دوسری قوت کی طرف کر دیاگیا ہے۔ پاروشنی کے سانسوں کی ’’ہوئو ‘‘ اور مونگلی کی ’’دھم‘‘سے ایک عجیب تان پیدا ہوتی ہے ۔ ’’ہوئو دھم‘‘۔ مونگلی اور اوکھلی واضح طور بر قضیب اور محبل کا نشان ہیں اور ہوئو دھم میں جنسی ملاپ کی آواز اور ردھم شامل ہے۔ ‘‘٭۱۱


پاروشنی جس بستی میں رہ رہی ہے، وہ مادر سری ہے۔ اس معاشرے کا نظام عورت کو زیادہ مرد رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے باوجود پاروشنی کا مزاج دو کی طرف مائل نہیں ہوتا، وہ کسی ایک کا حتمی انتخاب کرنا چاہتی ہے لیکن کر نہیں پاتی۔ اس کے اندر دونوں کے لیے ایک جیسی طلب تھی۔ بظاہر اسے لگتا ہے کہ ورچن کی طرف جھکائو زیادہ ہے، لیکن عین رُکھ پر پکھیرو اترنے کے وقت اسے تریہہ لگتی ہے اوروہ سمرو کی جھجر پہ لب رکھ دیتی ہے، پھر پہلی رات اس رُکھ کی کوکھ میں دو پکھیرو اترتے ہیں۔ اس کے بعد بھی وہ کسی ایک کی نہیںہو پاتی۔ وہ جو رویا نہیں، اگر وہ روتا تو اسے دیکھ کر یہ ٹیوا لگایا جاتا کہ کس کا بیج پاروشنی کے اندر اترا تھا اور شاید اسی طرف پاروشنی جھک جاتی لیکن وہ تو رویا ہی نہیں تھا اور نہ رونے کی وجہ سے پاروشنی کے اندر ایک سیاہ کالی رات بھر گیا تھا، ایسی رات جس میں وہ کسی ایک کی طرف جانے کی رہنمائی نہیں حاصل کر پاتی۔ سمرو جب اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسے یہ کہہ کر روک دیتی ہے:


’’تم دونوں برابر کے باٹ ہو، نہ کم نہ زیادہ… ہاں کبھی ہوا کے چلنے سے جھکائو ایک طرف ہو جاتا ہے پر پل دو پل کے لیے جیسے سروٹ تھوڑی دیر کے لیے جھکتا ہے… اور پھر سیدھا ہو جاتا ہے… پھر برابری آ جاتی ہے۔ پر اب یہ سب کچھ بھی گم ہوا اور میں تم دونوں سے پرے ہو گئی ہوں۔ابھی تم نے میرے سینے پر ہاتھ دھرا تھا تو میرا دم گھٹا… اور آج میں تمہیں بتاتی ہوں کہ تم دونوں یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ جو رویا نہ تھا ، کس کا تھا تومجھے خود نہیں پتا کہ وہ تم دونوں میں سے کس کا تھا۔ تم دونوں برابر کے باٹ ہو۔‘‘٭۱۲


ان دونوں کے درمیان انتخاب مشکل ہے اور اس کے پاس کوئی حتمی معیار بھی نہیں ہے۔ صرف بدن کی حدت معیار ہے اور وہ دونوں کے لیے پگھلتا ہے ۔ سو انتخاب مشکل ہے۔ البتہ ناول کے آخر میں ایک معیار سامنے آتا ہے ۔ مٹی سے محبت۔ پاروشنی بستی سے محبت کرتی ہے اور اسی کے لیے جھکنا چاہتی ہے جو پوری طرح بستی کا ہو۔ ورچن جس کے پائوں میں چکر ہے اور کسی ایک جگہ اسے چین نہیں ملتا ، جب بستی چھوڑ کے چلا جاتا ہے تو پاروشنی کی ترازو پوری کی پوری سمرو کی طرف جھک جاتی ہے۔


پاروشنی حتمی تجزیے میں اپنی نسوانیت اور اس کے بھرپور اظہار کی بنا پر ، اپنی ذہانت اور روشن خیالی کی وجہ سے ،اپنی شخصیت کی اس الجھی گتھی کے باعث اور اپنے رجائی انداز کے بل پر اردو ناول کی سب سے بھرپور عورت کہلاتی ہے۔ایک ایسی عورت جو تمام فلسفوں سے عاری، انقلاب کی سوچ سے ناآشنا، اور جنسی بے راہ روی کے تصور سے بھی لا علم صرف عورت ہی ہے۔ مستنصر صاحب اس قدر توانا نسوانی کردار کی تخلیق پر بھی داد کے مستحق ہیں۔


سمرو اور ورچن ۔ دو مرد جو پاروشنی کے وجود میں حرارت کا باعث ہیں۔ سمرو ایک فنکار ہے جو گائوں والوں کے لیے کسیاں اور کدالیں بناتا ہے اور فارغ وقت میں اپنی فنکاری کے اظہار کے لیے منکے ،مہریں اور گہنے بناتا ہے۔ پتھر کی ایک چٹان سے سنگریزے توڑ کر ان پر اپنے نقش کندہ کرتا ہے۔ سمرو مرد کا وہ روپ ہے جو گھر کا سکھ چاہتا ہے جو دھرتی کے ساتھ جڑ کر رہتا ہے اور اس سکھ کو چھوڑ کر کہیں جانے کا خواہش مند نہیں ہے۔سمرو کے بدن میں ہر وقت اک آگ بھخی رہتی ہے جسے بجھانے کے لیے وہ باربار پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ آگ یقینا وہ تپش نہیں جو کسی دوسرے بدن کی طلب پر جنم لیتی ہے کہ پاروشنی کے ساتھ ملاپ کی رات بھی اس کی یہ پیاس قائم رہتی ہے۔ بدن کے اندر ہر گھڑی تپش دینے والی یہ آگ فنکار کے اندر لپکتے جستجو کے شعلوں کی ہے، یہ اپنے اندر پلتے نت نئے نقوش کو باہر پتھر پر منتقل کرنے کے جذبے کا سیک ہے جو سمرو کے اندر بھڑکتا رہتا ہے، اسی لیے وہ ہر وقت مہریں، منکے اور گہنے بنانے میں لگا رہتا ہے۔


سمرو کے لیے پاروشنی کے ا ندر کشش بظاہر کم ہے لیکن پھر بھی وہ اس کی طرف کھنچتی ضرور ہے۔ شروع میں جب سمرو اسے کہتا ہے کہ تُو ورچن کے لیے دن گزارتی اور رات سوتی ہے تو میں بھی تو ورچن ہی ہوں تب پاروشنی اسے کہتی ہے کہ ’’ہاںتم وہی تو ہو… پر وہ آ جائے تو۔‘‘(ص:۲۸) اسے یہ خیال ہے کہ شاید ورچن ہی اس کے لیے اہم ہے اور سمرو تو محض ورچن کا پرتو ہے مگر بیاہ کی رات جب وہ پکلی کے گھر سج سنور رہی ہے تو سوچتی ہے، سوچتی ہے اور پلڑا سمرو کی طرف جھکنے لگتا ہے:’’اور اس کے اندر پھر سمرو کا خیال آیا… نہیں ورچن سمرو سے آگے نہیں تھا…وہ تو پردیس ہوا تب یوں لگا کہ آگے ہے پر ہے نہیں۔‘‘(ص:۱۱۶) ملاپ کی رات ورچن اس کے اندر سے اس کا جوہر جگانے میں ناکام رہتا ہے ۔ تب ’’ہاں سمرو ورچن سے آگے تھا اور ورچن نے جان لیا تھا پر اب کیا ہو سکتا تھا؟‘‘(ص:۱۱۸)ہو نے کو تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا لیکن مادرسری رہتل میں یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا، وہ تو اٹھتی ہے اور بے خود چلتی اپنی پیاس بجھانے سمرو کے کنارے جا پہنچتی ہے۔سمرو اس کے وجود کو ورچن کے اثر کے ساتھ مل کر مکمل کرتا ہے۔ ورچن کے بغیر پاروشنی کا بدن جاگ نہیں سکتا اور سمرو کے بغیر تکمیل نہیں پا سکتا۔آخر پر جب پاروشنی کے اندر مرد کا میل مر چکا ہے اور وہ اسے دوبارہ جگانے کی خواہش مند ہے ،تب ورچن وہاں نہیں رکتا اور وہ سمرو کے وجود سے سیراب ہوتی ہے۔


ورچن ایک سیلانی روح ہے ۔ پاروشنی کے بدن میں مرد کا میل سمرو اور ورچن دو ہی مردوں کی بدولت جاگتا ہے۔ ورچن کے پائوں میں چکر ہے اور وہ کسی ایک جگہ راحت نہیں پا سکتا۔ ناول میں اس کا تعارف ہی ایک جہاں گردسیاح کے طور پر ہوتا ہے جو ہر جگہ گھوم پھر کر دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ کسی ایک جگہ بیٹھ نہیں سکتا، بستی کے عام لوگوں کی طر ح وہ گھر میں قید نہیں رہ پاتا۔ پانی کے دنوں میں جب پوری بستی سوتی ، کھاتی اور پھر سو جاتی ہے، اس کے تلووں میں کھجلی ہوتی ہے اور وہ اٹھ کر چل دیتاہے۔ ایک جگہ پاروشنی کو اپنی طبیعت کے متعلق یوں بتاتا ہے:


’’میں کوئی من مرضی سے تھوڑا جاتا ہوں… میری مرضی تو ادھر تیرے پاس ہے… پر میں اپنے آپ میں نہیں ہوتا اور نکل جاتا ہوں …میرے تلووں میں چیونٹیاں کروٹ لیتی ہیں کہ چل چل… اور میں چل دیتا ہوں اور جب پہلی رات آتی ہے اور میں کسی ان جانی مٹی پر لیٹتا ہوں اور اس کی باس میرے اندر جاتی ہے اور پھر اس آسمان کو دیکھتا ہوں جو دیکھا ہوا ہے پر وہاں سے کوئی اور لگتا ہے… تو پھر میرے اندر بُلبُلے چھوٹتے ہیںجیسے نیچے مچھلی ہو تو اوپر پانی پر چھوٹتے ہیں اور پھر … میں اس بڑے جُسّے کا ایک حصہ بن جاتا ہوں جو یہ سب کچھ ہے۔ ہمارے آس پاس، اوپر اور نیچے ، آسمان ، مٹی ،تارے اور دریا اور سب کچھ جو اِن میں سانس لیتا ہے اور رینگتا ہے تو میں اس بڑے جُسّے کا ایک حصہ بن جاتا ہوں اور تب تک بنا رہتا ہوں جب تک وہ مجھے اپنائے رکھتے ہیں … اور پھر ایک ایسا سانس آتا ہے جو مشکل آتا ہے اور اس میں کہیں اپلوں کا دھواں اور گھاگرا کی ٹھنڈک تیرتی ہے اور پھر میں ایسے میں من مرضی کے بغیر اس بڑے جُسّے سے اپنے آپ کو الگ کر لیتا ہوں اور اپنی بستی کی طرف لوٹتا ہوں۔‘‘٭۱۳


اس کی سیلانی طبیعت پاروشنی کو کھلتی ہے اور وہ ورچن سے کہتی ہے کہ ہم رُکھوں اور جنوروں کی طرح ہی زمین سے جڑے رہیں تو زندہ رہتے ہیں ، دور ہو جائیں تو سانس کم ہو جاتے ہیں لیکن ورچن کی تخلیقی حِس صرف نئی سے نئی زمین پر پائوں دھرنے سے ہی تسکین پاتی ہے ، اسے معلوم ہے کہ یوں ساری دنیا کی خاک چھان کر اس کی اپنی عمر کے سانس کم ہوتے جا رہے ہیں لیکن وہ رکتا نہیں ، اس کو ایک جگہ چین آ ہی نہیں سکتا۔ خود ایک جگہ ڈورگا سے کہتا ہے :


’’ایسا ہی ہونا تھا… جو ایک جگہ پر ٹِکے نہیں وہ جڑیں نہیں پکڑتا اور پھر گھومتا ہے اور اس کے بالوں میں مٹی اور ریت رہتی ہے۔ اور وہ سب کچھ دیکھتا ہے جو بستی سے پرے ہے اور دریا سے پرے ہے اوروہ نرا اپنی بستی کے لیے نہیں ہوتا ، دوسری بے انت بستیوں میں رہنے والے بے انت لوگوں کے لیے بھی ہوتا ہے اور ان کے لیے کڑھتا ہے اور سوچتا ہے اور دیکھتا ہے … اور یوں وہ کچھ جلدی سے بوڑھا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے برس ذرا شتابی سے گزار لیتا ہے۔ ‘‘٭۱۴


ورچن پاروشنی کی رجائیت میں اس کے ساتھ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ناول میں وہ بھی تحرک کی ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ اسے ایک جھوٹی امید کے سہارے مری ہوئی زمین پر نہیں رہنا کہ اس کے سامنے دھرتی کا ستر کھلا پڑا ہے اور وہ کہیں بھی تخلیق کے عمل کو جاری رکھ سکتا ہے ۔ اس کے سامنے افق کھلے ہیں اور وہ زندگی کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے نئے آفاق کی تلاش میں چل نکلتا ہے ۔ اسی لیے تو جب پاروشنی آخری دفعہ اس سے کہتی ہے کہ میرے پاس آدھی مٹھی کنک ہے تو وہ اسے مرا ہوا سوچتا ہے اور اسے چھوڑ کر چل دیتا ہے، کسی نئی جگہ زندگی کرنے کے لیے۔ زندگی کی حقیقت تو یہی ہے کہ جس طرف زیست کرنے کے امکانات زیادہ ہوں اسی طرف کو سفر کیا جائے ۔


ورچن کے کردار کو مستنصر نے دو طرح سے استعمال کیا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جو ناول کی وسعت میں اضافہ کرتا ہے ۔ وہ اپنے لمبے سفر میں موہنجو جا پہنچتا ہے جہاں اس نے کافی وقت گزارا اور اس تہذیب کے متعلق کافی کچھ جان لیتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب آریائوں کی آمد کے سلسلے کو ہزار سال ہو رہے ہیں اور ان کے گھوڑوں کے سموں تلے تمام’ آناسا‘ لوگوں کی زمین روندی جا رہی ہے۔ ورچن انہیں دیکھ کر آگاہی حاصل کرتا ہے کہ ان کی وجہ سے مقامی تہذیب موہنجو اپنے نزع کے عالم میں ہے۔ ورچن کی اسی آگاہی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بحث کی مدد سے مستنصر گھاگرا کنارے کی نامعلوم بستی کی کہانی کو موہنجو داڑو کی داستان کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ ورچن کے بغیر یہ کہانی محض بستی کی تباہی کی کہانی تھی لیکن ورچن کی وجہ سے ہمیں اس کہانی کے پس منظر میں سندھو کنارے کی تہذیب بھی مٹتی نظر آرہی ہے اور ہم اس بستی کے اجڑنے کے بعد چشمِ تصور سے موہنجو کے اجڑنے کا منظر بھی دیکھ سکتے ہیں۔


ورچن کے پورن کے ساتھ مکالمے بعض جگہوں پر تخلیقی حسن کم رکھتے ہیں اور علمی شان کے حامل زیادہ ہیں۔ ’’جیسے تم ہر شے کو دیوی دیوتا بنا کر اپنے سے الگ کر دیتے ہو اور اس سے دور جا بیٹھتے ہو اور اسے چھوتے نہیں ، اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہو اور اسے دیکھتے نہیں ، آنکھیں بند کر لیتے ہو۔‘‘ یہ الفاظ ورچن جیسے کردار کی زبان سے ادا نہیں ہو سکتے، ان کے پیچھے ایک جدید، آزاداور لبرل ذہن کی سوچ کارفرما ہے۔ یہاں مستنصر اپنے ناول کو ایک وسیع تر افق کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور موہنجو تہذیب کا ارتقاء، آریائوں اور دراوڑوں کی آویزش اور موہنجو کی تباہی کے اسباب سب کچھ جلدی جلدی بتا دینا چاہتے ہیں اور اسی افراتفری میں بعض جگہوں پر ورچن اپنی عمر اور تجربے سے بڑھ کر بولتا نظر آتا ہے۔ ایک ہی مکالمے میں اتنا کچھ بتانے کا ہابڑا ہو تو کہیں تھوڑی بہت چوک ہو ہی جاتی ہے ورنہ بہ حیثیت مجموعی مستنصر نے پورے ناول میں کہیں بھی اپنی تحقیق کے بل پر اپنی علمیت جتانے کی کوشش نہیں کی۔


اوپر کرداروں کے ضمن میں بات ہوئی تھی کہ ناول کے تمام کردار ناول کے عمل کا ناگزیر حصہ ہیں اور ناول کے عمل کو آگے بھی بڑھاتے ہیں۔ ڈورگا، مامن ماسا، دھروا، گاگری، پکلی، ماتی، چیوا، گجرو، گیرو، چمرو، پنڈو، سکرا، چندرو، کواسی، ہنگا، گٹا، کولا، گوگا، بوٹی، جبّو، لکھی، چولی، ہرمی، کومی اور جانوروں میں مور، بھینسا، زیبو بیل اور پندرو ہرن سبھی ناول میں اہم ہے۔ ناول کے بڑے کرداروں کے علاوہ کچھ چھوٹے کردار ایسے ہیں جو ناول کے مجموعی منظر نامے کی جزئیات کو بیان کرنے اور کہانی کہنے کے عمل میں تنوع لانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے اہم کردارڈورگا ہے۔ ڈورگا موہنجو کے ایک بھٹے پر پیدا ہوا اور نسل در نسل غلامی کے طوق میں جکڑا ہوا اینٹوں کو سانچے میں ڈھالنے کا کام کرتا تھا۔ آخر جب اس کی کمر صدیوں کے اس بوجھ کو اٹھاتے اٹھاتے دہری ہو گئی تو آزاد فضا میں سانس لینے کی خواہش سے مغلوب وہ ان نادیدہ زنجیروں کو توڑ کر بھاگ نکلتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کئی لوگ فرار کی ناکام کوشش کے بعد پہلے سے بھی زیادہ مشقت کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ واپس نہ لوٹنے کے لیے بھاگ نکلتا ہے۔بستی میں آ کر بھی اس کے مہاندرے میں ابھی پچھلے ہزار سال کا بوجھ نظر آتا ہے۔ ’’جیسے ہرن ڈرا ڈرا ہوتا ہے اور چوکنا کھڑا ہوتا ہے، جیسے سانپ زمین کے ساتھ لگ کر تیزی سے آگے سرکتا ہے اور جیسے پکھیروکا بوٹ آلنے سے گرے تو جہاں گرتا ہے وہیں پڑا رہتا ہے۔‘‘ (ص:۱۰۷) ڈورگا تھا تو بستی کے لوگوں جیساہی مگر اس کی شکل ’’مورتیوں ایسی سخت پتھر تھی، جیسے زیادہ آگ دینے سے اینٹ کھنگر ہو جاتی ہے۔‘‘اس کے متعلق یہ پڑھ کر نصیر کوی ؔ صاحب کی معروف نظم ’’مصلی ‘‘ یاد آ جاتی ہے،جو کچھ یوں ہے۔
ویلے دے بھٹّے اُتے
میں کھنگر بنیا
ہر اوکڑ جھلّی
میرے پیودا نا ں دراوڑ
تے میرا ناں مصلّی


تو یہ ڈورگا بھی در اصل دراوڑ ہے اور بھٹے میں ہزاربرسوں سے اینٹیں بناتے بناتے خود بھی زیادہ تپش سے کھنگر بن گیا ہے۔ ڈورگا کا یہ کردار اس چھوٹی سی بستی کو موہنجو جیسی مہذب زندگی کے ساتھ معنوی طور پر مربوط کرنے کا کام دیتا ہے۔ وہ بستی کے اندر اینٹیں پکا کر ایک چاردیواری تعمیر کرتا ہے جسے اس کا ننھا موہنجو قرار دیا جا سکتا ہے۔یوں یہ ایک اکیلا کردار اس ناول کواتنی زیادہ وسعت دے دیتا ہے۔ یہاں بستی میں آکر اسے گھر کا سکھ ملتا ہے اور وہ پکلی کے لیے اپنے دل میں محبت اور خاطر کے جذبات محسوس کرتا ہے لیکن وقت نے اسے اوراس کی گزشتہ نامعلوم نسلوں کو جس جبر تلے دبائے رکھا تھا، اسے اس کا خیال ستاتا ہے۔ محمد افضال بٹ کہتے ہیں:


’’ڈورگا کے کردار میں مصنف نے درد ، ارمان اور حسرتوں کو پنہاں رکھتے ہوے طبقاتی تفریق سے جڑے ہوے استحصالی سماج میں امیرغریب، مظلوم اور ظالم کی داستان بیان کی ہے۔ اس کی روح زخم خوردہ ہے۔ ‘‘ ٭۱۵


وہ اپنی اس حالت کا انتقام لینا چاہتا ہے اور اس کے اجداد آ آ کر اسے انتقا م کے لیے پکارتے ہیں۔ اسے یہ انتقام لینے کے لیے کوئی طاقتور ہستی درکار ہے جسے مار کر وہ اپنے اس جذبے کی تسکین کر سکے۔ رکھوں کے اندر موجود بھینسا جسے بستی والے ہر چیتر میں مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ کبھی کسی سے نہیں مرتا، ڈورگا کو اپنی نسلوں پر ظلم کرنے والے طاقتور اور با اختیار لوگوں کی علامت نظر آیا، پہلی دفعہ ہی جب ڈورگا ورچن کے ساتھ جنگل میں پہنچتا ہے جہاں پاروشنی پڑی ہے اور وہ بھینسے کے متعلق یوں سوچتا ہے:’’میرے حصے کا اَن پانی اس نے لیا اور مجھے بھوک اور پیاس دی… اِس نے … تو میں اب آیا ہوں تو اس سے میل کرنے … اور وہ بھی جان گیا ہے۔ میں آ گیا ہوں۔‘‘(۱۰۴) اور وہ اس سے اپنے اجداد کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ ’’ڈوبو مٹی کے خاتمے پر جب اُس نے رکھوں کی سیاہی کے اندر پائوں رکھا تو وہ مسکرایا۔ تم یہاں ہو، میں جانتا ہوں۔ میں تم سے میل کرنے آیا ہوں ۔ تم وہاں ہو سندھو کے کنارے اُس بھٹے کی چاردیواری کے ا ندر پر یہاں بھی ہواِن رکھوں کے اندر… تم جہاں بھی ہو میں میل کرنے آیا ہوں۔‘‘(ص:124)اس کے لیے بھینسا وہی جبر ہے جو اس نے اینٹوں کے بھٹے میں ہزار برس تک بھوگا ہے، اب وہ اس جبر کا بدلہ لینے آیا ہے، لیکن بیانیے کی خوبصورتی اس بات میں ہے کہ بھینسا بھی یہ احساس رکھتا ہے کہ ان دونوں کا آپسی تعلق کیا ہے۔ ذیل کا بیان ملاحظہ کیجیے جہاں وہ دونوں مدمقابل کھڑے مخالف کے متعلق سوچ رہے ہیں:


’’(ڈورگا)میں ان سب کی طرف سے آیا ہوں جو کبھی تمہاری چاردیواری میں تھے، جھُکے ہوے لوگوں کی طرف سے جو تمہارے لیے اینٹیں ڈھوتے تھے، جن سے موہنجو کے کنک گودام، حویلیاں، تالاب اور کنویں بنتے تھے۔ کہاوت ہے کہ اس ساری زمین پر لوگ پتھر اور گارے کی بستیوں میں رہتے ہیں اور یہ صرف موہنجو میں ہے کہ یہاں پکی اینٹ لگتی ہے۔ کسی نے آج تک یہ نہ پوچھا کہ ان اینٹوں کو بناتا کون تھا اور انہیں پکاتا کون تھا۔ سب نے موہنجو کے گودام اور کنویں دیکھے اور اُن کو نہ دیکھا جو شہر سے پرے سندھو کے کنارے چاردیواری کے اندر بھٹوں پر جنور بنے کام کرتے تھے اور گارا بناتے تھے ، اسے سانچے میں ڈھالتے تھے۔ دھوپ میں سکھاتے تھے اور پھر بھٹے میں رکھ کر اس کے گرد آگ جلا کر پکاتے تھے اور آگ جلا ئے رکھتے تھے… اور وہ تم تھے جس نے پہلے پہل وہ چاردیواری بنائی۔
(بھینسا)ان رُکھوں میں میرا راج تھا، یہ کدھر سے آگیا… موہنجو تو یہاں سے بہت دور ہے! رُکھوں اور ریت کے پار کئی دن اور کئی رات کی مسافت پر اور یہ وہاں سے یہاں کیسے آ گیا… پر اچھا ہو جو آ گیا۔‘‘٭۱۶


ناول کے آخر میں جب بھینسا بھی خشک سالی سے کمزور ہوا پڑا ہے ، ڈورگا اسے مار ڈالتا ہے۔ اسے مارنے پر اسے اپنے کندھوں پر پڑے بوجھ سے نجات کا احساس ہوتا ہے لیکن یہاں مستنصر چیونٹیوں کے ساتھ ہونے والے اس کے مکالمے کے ذریعے دکھادیتے ہیں کہ ظالم مظلوم ، جابر مجبور کا یہ رشتہ اٹوٹ ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا:
’’ہم اسے لے جائیں گی پر یہ پھر آ جائے گا…‘‘ ایک چیونٹی نے کہا۔
’’پھر آ جائے گا؟…‘‘ ڈورگا پھر ڈرا۔
’’ہاں…‘‘ دوسری بولی:’’اور تم پھر اسے مارو گے…اور ایسا ہوتا رہے گا۔‘‘
’’ہاں ہمیشہ۔‘‘سب چیونٹیوں نے مل کر کہا:’’یہ پھر آئے گا…اس کے بغیر کوئی سمے پورا نہیں ہوتا۔‘‘
’’اور میرے بغیر؟‘‘
’’اور تمہارے بغیر بھی… ‘‘ سب چیونٹیاں بول رہی تھیں:’’اور تم پھر اسے مارو گے… اور ایسا ہوتا رہے گا۔‘‘ اور وہ اسے لے گئیں۔‘‘٭۱۷


ڈورگا ناول کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھی ضروری ہے اور آندھی میں جب بستی کا کوئی بھی آدمی باہر نہیں نکلتا، اس وقت اسی کی آنکھوں سے آندھی کا منظر دیکھا جاتا ہے، کیوں کہ وہ بستی کا نہیں اس لیے اس کا خوف بستی والوں کے خوف سے الگ ہے۔ اور خوف سے یہی علیحدگی اس وقت بھی کام آتی ہے جب وہ زیبو بیلوں کا گوشت کھانے میں پہل کرتا ہے۔ بستی والوں کے لیے تو وہ مانا کے بیل ہیں لیکن اس کے لیے محض گوشت کا ایک ڈھیر جسے اگر نہ کھایا گیا تو گل سڑ جائے گا۔


دوسرا اہم کردار مامن ماسا ہے۔ مامن ماسا وہ شخص ہے جس نے جانا کہ رکھوں کے پار کیا ہے اور جاننے کے بعد بتانے سے عاری ہے سو بستی جانے کی بجائے وہ رکھوں میں ہی پڑا رہا ۔ یہ کردار اتالو کلوینو کے Barren In The Treesکے مرکزی کردار سے متاثر ہے لیکن محض نقالی نہیں بلکہ ناول کے منظر نامے میں پورا فعال کردار رکھتا ہے ۔ رُکھوں کے اندر کی جو بھی زندگی ہے، بھینسے کا شکار ہو، پاروشنی کے اندر کا غبار ہو یا ڈورگا کے ساتھ بھینسے کا میل ، سبھی مامن ماسا کی آنکھوں سے ہی دیکھا جاتا ہے۔ دو جگہ پر مامن ماسا ناول کا عمل آگے بڑھاتا ہے۔ ایک ماتی کے کھیت تک پانی نہ پہنچنے کی اطلاع دے کر اور دوسرا جب بستی والے دریا سے اپنے برتنوں میں پانی لے کر کھیتوں میں ڈالتے ہیں تو یہ منظر مامن ماسا کی زبانی سنایا جاتا ہے۔ مامن ماسا بستی کی پیدائش ہے مگر بستی چھوڑ کر فطرت کی آغوش میں آ چکا ہے اور اسی کے ساتھ ہی معدوم بھی ہو جاتا ہے۔


ناول کا ایک اور کردار دھروا ہے جو بستی کی زندگی میں اہم حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ نسل کشی کے کام آنے والے ،مانا کے زیبو بیلوں کا رکھوالا ہے۔ ان کے لیے پانی اور چارے کا بندوبست کرتا ہے البتہ اس کردار کو ایک علامتی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ خود گھاس پھونس اور سروٹ ہے اور اس کی سوانی ناگری اس کے پہلو سے اٹھ کر ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے۔ وہ کسی کام کا نہیں رہا۔ اس کردار کو زیبو بیلوں کی رکھوالی پر رکھنا اس امر کی پیشین گوئی کرتا ہے کہ اب بستی میںسے زرخیزی ختم ہورہی ہے اور اگلی نسل کے آنے کا امکان نہیں ہے۔خود زیبو بیلوں کے متعلق بھی ایک جگہ پاروشنی ایک ایسا جملہ بولتی ہے جوکئی بار بہ تکرار دھروا کی نامردمی کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے، ’’تو انہیں مر جانے دے مامن… یہ تو گھاس پھونس سے بھی بڑھ کر بیکار ہیں‘‘(ص:۲۱۷)اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ناول نگار نے دھروا کو زیبو بیلوں کا راکھا اسی مقصد کے لیے مقرر کیا ہے۔


پکلی بستی کی زندگی میں سب سے منفرد حیثیت کی مالک ہے۔ وہ پکی مٹی کے برتن بناتی ہے۔گیلی مٹی سے برتن بنا کر پہلے ان پر پھول بوٹے الیکتی ہے اور پھر انہیں اپنے آوے میں پکاتی ہے۔ یہ پکلی استعارہ ہے ہنر مندی اور فنکاری کا۔ ہنرمندی برتن بنانے میں اور فنکاری ان پر پھول بوٹے الیکنے میں۔ یہ کردار ناول کے مرکزی خیال کو ابھارنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ بستی ختم ہونے کو ہے مگر اس نے برتن بنانے کو آوا چڑھا رکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ کچھ گھڑے بنا رہی ہے جو دریا کنارے رکھے جائیں تو ان کو خالی دیکھ کر بڑے پانی آ جائیں گے۔ ڈورگا اس کی محبت میں تمام گھڑے ڈھو کر دریا کنارے رکھے آتا ہے اور تب معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھڑے پانی کی پکار کے لیے نہیں بلکہ ایک فنکار کی ’’حیات بعد از مرگ‘‘ کی خواہش کا اظہار ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے مر جانے کے بعد بھی اس کے ہاتھوں سے بنے ہوے یہ شاہکار دیکھ کر لوگ اس کے بنانے والے کی تعریف کریں۔ کون فنکار ہے جو یہ خواہش ذہن میں رکھ کر اپنے فن پارے نہیں تراشتا؟ اور پکلی کی حد تک تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی یہ خواہش پوری ہوئی کہ مستنصر کے ایک اور ناول ’’راکھ‘‘ کے کردار جب ریگستان کی زمین پر ٹھیکریاں دیکھتے ہیں تو وہ پکلی کو یاد کرتے ہیں۔ حقیقت میں نہ سہی مگر مستنصر کے آرٹ میں تو پکلی کی یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔


ناول کے آخر پر کرداروں کے مرنے کا بیان بہت خوبصورت ہے اور اس میں مستنصر نے سبھی کرداروں کی انفرادیت قائم رکھی ہے۔ موت سبھی کو آنی ہے، بستی نے خالی ہوناہی ہے لیکن مرنے کا یہ عمل اگر محض موت ہی بن کر رہ جائے تو اس میں فنکار کا کیا کمال ہے۔ فنکار تو تب اپنا آپ منواتا ہے جب اس کے کردارمر کر بھی زندہ ہونے کاشائبہ دیں، یہ احساس رہے کہ یہ لوگ جو مرے ہیں، یہ مرے نہیں ہیں ، بلکہ ناول کے عمل میں انہوں نے پردہ پوشی کی ہے اور اپنی اصل زندگی میں ابھی بھی جیتے ہوں گے۔ مستنصر نے اس ناول کے سبھی بڑے کرداروں کی موت کا بیان ایسے ہی لکھا ہے کہ ان کی موت پر یقین نہیں ہوتا۔ وہ مرے نہیں ہیں ، بس وقت کے ایک لمحے پر نظر آنا ختم ہو گئے ہیں ۔ ان کی سانسیں زندہ ہیں ، ان کے ہاتھ ابھی متحرک ہیں۔ ان کرداروں میں سب سے خوبصورت موت پکلی کی ہے جو مرنے سے قبل آنے والی نسلوں کو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے گئی ہے اور کون ہے جو کہہ سکے کہ پرانے زمانے کے برتن اوران پر الیکے پھول بوٹے دیکھ کر اس کے ذہن میں پکلی کے وہ سوکھے ہاتھ نہ آئے ہو جن کی چابکدستی موت کے اندھیروں سے بھی لڑ جانا چاہتی تھی۔ اس کے بعد دھروا کی موت ہے، جس کی بنیاد ناول میں بہت پہلے رکھ دی گئی تھی اور آخر پر پرانی اسطورہ کے مطابق زیبو بیل اسے کھا گئے اور اب صرف ان کی آنکھیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دھروا اب کہاں ہے۔ دھروا کے بعد سمرو رخصت ہوا اور اس کے جانے کا انداز بھی مستنصر کی فنکاری کا مظہر ہے۔ پورے ناول میں وہ سوتے سے اٹھ کر دریا پر آتا ہے اور پیاسا رہتا ہے اور آخر پر سوکھتے دریا کنارے پر پاروشنی کے ہرے بدن سے سمبھوگ کرکے سیراب ہو کر جاگتے کی دنیا میں واپس چلا جاتا ہے۔ جیسے وہ پاروشنی کے خواب کی دنیا میں آیا تھا اور واپس چلا گیا۔ آخری کردار جو مرتا ہے وہ مامن ماسا ہے ، اپنے کردار کے تقاضے کے مطابق اس نے درخت سے اترنا ہی نہیں اور درخت تو سوکھ رہے ہیں تو پھر وہ کہاں جائے گا؟ وہ بھی وہیں پڑا رہا اور جب درخت ریت ہوے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی ریت ہو گیا۔


ناول کے کردار تخلیق کرتے وقت مستنصر نے وہی کردار ناول میں شامل کیے جو کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے بہت ضروری تھے البتہ ایک کردار ایسا ہے جس کا انہوں نے ناول میں محض ایک جگہ ذکر کیا جو ناول میں مامن ماسا کی طرح ہی کام آ سکتا تھا۔ اس کے ذمے بھی ایسی ہی ذمہ داری تھی جو ایک افسانوی کردار کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔
’’بوٹی بستی میں کتوں کے ساتھ مل کر راکھی کرتا تھا۔ یہ تو نہیں کہ وہاں چرانے کو بہت کچھ تھا یا بستی میں کوئی ایسا تھا جو دوسروں کی چیزوں پر نظر رکھتا ہو پر کبھی ایسا ہوتا کہ بستی کے آس پاس رات دو رات ٹھہرنے والا کوئی تپڑی واس ادھر آ جاتا ہے اور جو کچھ ہاتھ لگتا ، لے جاتا… اور راکھی کی ضرورت یوں بھی تھی کہ کوئی ڈھور ڈنگر کھل کر کہیں چلا نہ جائے۔ ادھر ڈوبو مٹی کی طرف یا ریت میں… تو اس لیے اسے بوٹی راکھا بھی بولتے تھے۔‘‘ ٭۱۸


ناول میں کچھ کردار ایسے بھی ہیں جو انسان نہیں بلکہ جنور اور پکھیرو ہیں۔ ان میں سب سے توانا کردار جو پورے ناول میں اپنی آواز سے مختلف سمعی حسیات پیدا کرتا ہے، مور ہے۔ مور انسان کی جذباتی زندگی کی علامت ہے اور اس ناول میں اپنی اس علامتی سطح کے ساتھ یہ بذاتہٖ بستی کی علامت بن کر بھی ابھرتا ہے۔ بوڑھی جبّو جسے یہ معلوم نہیں کہ وہ کب سے ہے مگر اتنا جانتی ہے کہ جب اس نے چلنا پھرنا سیکھا تو رکھوں میں مور پہلی بار بولا تھا۔ مور کی عمر قدرتی طور پر اوسطاًپندرہ سے بیس سال ہوتی ہے، یوں یہ مور حقیقت میں تو ممکن ہی نہیں ۔ اس لیے ہم اسے علامتی سطح پر ہی لیتے ہیں۔یہ مور بستی کے ساتھ ہی جوان ہوتا ہے اور بستی کی رونق ختم ہونے پراس کے رنگ بھی پھیکے پڑتے جا رہے ہیں۔ ادھر بستی ساری اجڑ چکی ہے اور ادھر مور آخری بار بولتا ہے۔ یہ مور رکھوں کے اندر کے ہولناک سناٹے اور گُمّے کا احساس کم کرتا ہے اور اپنی’ می آئوں‘ سے اس ویرانے میں آواز سے زندگی بھرتا ہے۔ اور ایک مور پاروشنی کے اندر بھی ہے جو کسی خوبصورت جذبے کے ابھرنے پر بے تابی سے بولتا ہے۔ دوسرا کردار بھینسا ہے جو فطرت کی اندھی طاقت کا استعارہ بن کر ابھرتا ہے اور ڈورگا اسے اسی لیے مارتا ہے کیوں کہ یہ وہاں سب سے طاقتور ہے۔ تیسرا کردار پندرو ہرن ہے جو اس بھینسے کا ضد اور فطرت کی خوبصورتی کا استعارہ ہے۔
جانوروں کے یہ کردار اپنی جگہ اہم ہیں اور ناول نگار کے فطرت سے قریب ہونے کا اشارہ دیتے ہیں لیکن ایک بات تعجب کی ہے کہ اس ناول میں جن پوتر بیلوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی تعداد چودہ ہے ، اس کا مطلب ہے کہ وہاں اچھی خاصی تعداد میں گائیں موجود ہیں۔ اور اس کے باوجود پوری بستی میں کسی ایک بھی گائے کا ذکر موجود نہیں، یہ تب کا ذکر ہے جب یہ پوری دنیا گائے کے سینگوں پر کھڑی تھی اور ادھر پورے ناول میں گائے دکھائی نہیں دیتی، محض ایک آدھ دفعہ مکالمے میں اس کا ذکر ہوتا ہے۔ بھینس کا ذکر دو دفعہ ملتا ہے۔البتہ جہاں ذکر ملتا ہے وہاں مستنصر صاحب ایک تضاد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ورچن ایک جگہ ڈورگا سے جھڑک کر کہتا ہے:


’’اچھا میں تمہیں اپنی پیٹھ پر بٹھا کر پار لے جائوں ، میں کوئی بھینس ہوں؟‘‘٭۱۹
اس کہے سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے کہ ورچن بھینس کے اوپر بیٹھ کر دریا پار کرتا رہتا ہے لیکن اس سے اگلے صفحے پر ورچن ڈورگا کو یوں بھینس سے متعارف کرواتا ہے:
’’کالا ہوتا ہے، کالا شاہ۔ رکھوں کے اندر رہتا ہے اور مار ڈالتا ہے۔ پر کئی ایسے ہیں ہماری بستی میں جو جان جوکھوں میں ڈال کر اس کے تھن چنگھ آتے ہیں۔ اس کا ماس بڑا سواد والا ہوتا ہے۔ ‘‘٭۲۰
اور یہاں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی بھینس کو اپنا مطیع کیا ہی نہیں ہے۔ جانوروں کے بیان میں یہ ایک چھوٹا سا تضادہے۔
ناول کی کہانی بہت کسی ہوئی ہے اور اس میں کوئی بھی واقعہ اضافی نہیں ہے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کا جواز ناول میں نہیں بنتا اور نہ ہی یہ واقعہ ناول کے پورے بیانیے میں آگے پیچھے کہیں ربط یا تعلق رکھتا ہے ۔ بس آزاد حیثیت سے بلا جواز یہ واقعہ ناول میں در آتا ہے۔ کچھ کتے سیہہ کے پیچھے رکھ پارکر کے ریت کے علاقے میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سے لوٹتے ہیں تو ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا ہے اور وہ باولے ہو چکے ہیں۔ وہ کتے سیدھے بستی کی طرف جاتے ہیں۔ ان کتوں کے بائولا ہونے کا منظر کافی محنت سے لکھا گیا اور بیانیے میں اسے خصوصی جگہ دی گئی جتنی کہ بارش سے اکھڑنے والے پہاڑی پودے کو، تو آخر یہ کتے اس کے بعد کدھر گئے؟ ناول میں یہ دوبارہ نظر کیوں نہیںآئے؟ محض ایک بار ان کا ذکر ملتا ہے جب پاروشنی ورچن کو بتاتی ہے کہ دھروا کو ہلکائے کتوں نے کاٹ لیا تھا اور اس پر بھی ورچن کا تاثر کچھ خاص نہیںجیسے معمول کی بات ہو۔ اگر ان کتوں کو استعمال نہیں کیا جانا تھا تو پھر انہیں ہلکا کیوں کروایا گیا؟

جہلم تیرے پانیاں اندر پہلے جئیاں گلّاں کتھے
ریتاں دے وچ بیڑے پھسدے، گھمن گھیر تے چھلاں کتھے
چاندی ورگا جُثّہ تیرا اج رتا کس نے کیتا اے
اِس رَت رنگے جُثے نوں دس ہاں نیلا کس نے کیتا اے
سِر تے آرا کس نے دھریا، توں کھچائیاں کھلّاں کتھے
جہلم تیرے پانیاں اندر پہلے جئیاں گلّاں کتھے
تیرا چوڑا سینہ سجناں وانگ سمندر لگدا سی
ویری ناگ دی شوکر سی کہ تیرا پانی وگدا سی
ہُن تے آپ نئیں ٹُر سکدا توں، تیرے نال میں چلّاں کتھے
جہلم تیرے پانیاں اندر پہلے جئیاں گلّاں کتھے
جب نصیر کویؔ مرحوم کی یہ نظم دریائے جہلم کے گھٹتے پانی کے متعلق پڑھی جائے تو ذہن میں اس دریا کا خیال بھی آتا ہے جومدتوں قبل اسی سرزمین پر بہتا تھا اور گھٹتے گھٹتے معدوم ہو گیا۔ وقت کے ایک موڑ نے اس کے سر پر آرا دھرا اور اس کی کھال کھینچ کے رکھ دی۔ آدمی کے متخیلہ کی حد نہیں اور وہ بہت کچھ دیکھ سکتا ہے کہ جب وہ دریا ختم ہوا تو اس کے کنارے بسنے والی زندگی پر کیا کیا نہ بیتی ہو گی ۔ لیکن مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ناول ’’بہائو‘‘ میں جس طرح اس بستی کو دکھایا ہے ، وہ فسوں خیزی، طلسم کاری اور جادوبیانی چشمِ تخیل کے بس کی بات نہیںہے۔
کسی ناول کی یہ نمایاں خوبی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں ہونے والے بہت سے دانشورانہ مباحث کو اپنی فارم میں سمو لے۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے دانشور طبقے کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس نوزائیدہ ریاست کو دانشورانہ طور پر تسلیم کرنا تھا۔ ان میں سے کچھ لوگ تو ایسے تھے جنہوں نے آسانی اپنائی اور دو قومی نظریے کی تشریح میں پناہ لی اور اسلام کی ترویج اور ہندومت کے خوف کی بنیاد پر پاکستان کو تسلیم کیا جب کہ دوسری طرف دانشوروں کا ایک مکتبۂ فکر ایسا تھا جنہوں نے پاکستان کے خطے کو جغرافیائی طور پر ایک قدیم اکائی سمجھا اور اسے ثقافتی طور پر ایک آزاد خطہ قرار دیا۔ ان کے مطابق آج کے ہندوستان اور پاکستان شروع سے ہی دو الگ ثقافتی خطے رہے ہیں اور کبھی بھی ثقافتی حوالے سے یکجا نہ ہوے ۔ اعتزاز احسن کی ’’سندھ ساگر‘‘ اسی دانشورانہ رخ پر چلتی ہے اور پاکستان کے موجودہ خطے کو وادیِ سندھ کی تہذیب کے ساتھ جوڑتی ہے۔ ڈاکٹر رفیق مغل اور ڈاکٹر احمد حسن دانی سائنسی اور تہذیبی حوالے سے اس خطے میں مملکتِ پاکستان کی جڑیں تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے انتہا پسندانہ کتاب ابنِ حنیف کی ’’سات دریائوں کی سرزمین‘‘ ہے جس میں وہ اس خطے کا ذکر پانچ ہزار سال پہلے کے دور میں بھی کرتے ہیں تو پاکستان ہی لکھتے ہیں۔ایک عام خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ مستنصر حسین تارڑ نے ’’بہائو‘‘ لکھنے کے دوران اس کتاب سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ خیر وہ تو اس کتاب کو سرسری نظر سے دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ’’بہائو ‘‘ لکھنے میں اس کتاب کی مدد کسی طرح بھی شامل نہیں ہے۔ آمدم برسرِ مطلب ، پاکستان کے دانشور طبقے کو جڑوں کی تلاش کایہ مسئلہ اپنی گرفت میں لیے ہوے تھا اور وہ یہ ثابت کرنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے تھے کہ یہ خطہ ازل سے ہی اپنی جغرافیائی اور ثقافتی حدود کی بنیاد پر بھارت کے خطے سے الگ تھا، اس لیے ہماری تاریخ 1947ء سے یا 712ء سے شروع نہیں ہوتی بلکہ ہماری تہذیبی جڑیں ٹیکسلا، پاٹلی پتر، ہڑپہ اور موہنجوداڑو تک جاتی ہیں۔ اسی صورتحال میں مستنصر نے ’’بہائو‘‘ کی بنیاد رکھی اور اپنی تخلیقی قوت سے پکلی کے آوے پر بننے والے برتن، سمرو کے تراشے ہوے منکے اور مالائیں اور موہنجو کی تعمیر میں کام آنے والی اینٹیں تک سامنے رکھ کر دکھا دیا کہ ہم یہاں سے اپنے تہذیبی سفر کا آغاز کرتے ہیں ، ایک ایسے وقت میں جب دنیاابھی شہر تعمیر کرنے کے بنیادی اصولوں اور شہری زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضوابط سے ناآشنا تھی۔ مستنصر کا یہ ناول ہماری مقامی تہذیب کو شناخت مہیا کرنے کے ساتھ اسے ٹھوس بنیادوں پر قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جس قدر ہڑپہ اور موہن جوداڑوکی کھدائی کرنے والے محققین کا کام اہم ہے ، اسی قدر مستنصر کا یہ ناول بھی وقعت رکھتا ہے۔
علم الآثارِ قدیمہ نے وادیِ سندھ کی چارہزار سال پرانی تہذیب کو دریافت کیا اور اس کے ساتھ بشریات کے ماہرین نے ان شواہد کی روشنی میں اس دور کے لوگوں کی اجتماعی و انفرادی زندگی کے انداز، رجحانات، میلانات، طرزِ بودوباش، رسم و رواج، ذرائع پیداوار وغیرہ پر کافی تفصیل سے لکھا۔ ابنِ حنیف، ڈی ڈی کوسمبی، رفیق مغل ، احمد حسن دانی وغیرہ نے علمی طریقے سے ازمنۂ قدیم کی اس زندگی میں رنگ بھرنے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں کی کاوش صرف ان لوگوں تک محدود رہتی ہے جو علم کی اس شاخ سے وابستہ ہیں یا اس کی اصطلاحات سمجھتے ہیں ۔ ’’بہائو‘‘ میں مستنصر نے اس ادھورے رنگوں والی تصویر کو لیا اور اسے اپنے اعجازِ مسیحائی سے ایک زندہ اور متحرک بستی کی صورت بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ بستی اپنے باسیوں کی دھڑکنوں کے ساتھ مل کر دھڑکتی ہے اور اس کی فضائوں میں پیاسی مٹی پر پانی پڑنے کی سوندھی خوشبو ہے ، مٹی کے تپتے توے پر پکتی کنک کی اشتہا انگیز مہک ہے ، کنویں سے نکلتے پانی کا تازہ ذائقہ ہے اور چیتر کی چاندنی میں لشکتی گھاگرا کی پرسکون سطح ہے ۔بستی کی اجتماعی زندگی کا پورا جیتا جاگتا عکس ہے اور اس عکس میں تمام تمثالیں مکمل ہیں۔ باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ۔ خاص طور پر شامہ کی حِس زیادہ متحرک ہے کہ جنگل کی تہذیب شامہ پر زیادہ اعتبار کرتی ہے۔ پاروشنی کے حدت دیتے بدن کی نمی کی مہک اور اس کے سلگتے اپلوں کے دھویں سے امڈتی خوشبو سبھی شامہ کی دسترس میں ہیں۔ دریا سے بستی ، بستی سے ڈوبو مٹی اور ان کے پار رکھوں اور ان رکھوں کے اندر پانی کی مرتی جھیل تک سبھی اس عکس کووسعت دیتے ہیں اور بستی کے لوگوں کی اجتماعی زندگی میں سانجھے داری اس بستی کو ایک ثقافتی کل بنا کر پیش کرتی ہے جو اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی طاقت یا قوت کی محتاج نہیں بلکہ حیاتی کے تمام سوتے اس کے اپنے ہی اندر سے پھوٹتے ہیں۔ ناول کے اس پہلو پر ممتاز احمد خان یوں لکھتے ہیں:
’’بہائو ایک ایسا ناول ہے جس میں تاریخ ، علم البشریات، لسانیات، عمرانیات، ایک مخصوص خطے کا بنتا بگڑتا جغرافیہ اور تمدن ایک نکتے پر مرتکز ہو کر ایک دلچسپ و حیرت انگیز تحریر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ حیرت انگیز اس لیے کہ ایک ایسی بستی جو ہزاروں سال پہلے اپنی معدوم ہوتی ہوئی خصلت کے ساتھ موجود تھی، ناول نگار کے کرب آمیز طویل مطالعہ کی راہ سے گزرتے ہوے ایک اہم دستاویزی ریکارڈ میں تبدیل ہوگئی ہے۔‘‘٭۱
اس ناول کے لیے تحقیق ناگزیر تھی لیکن اس ناول میں کہیں بھی تحقیقی انداز نظر نہیں آتا۔ کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اپنی کسی تحقیق کا حاصل ناول کے اندر کھپا رہے ہیں یا قدیم زندگی کے متعلق خواہ مخواہ کے تبصرے کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس تحقیق کو اپنے تخیل میں سمویا ہے اور اس کی مدد سے ایک ایسی بستی کوتشکیل دیا ہے جو ’’بہائو‘‘ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ نظر آئے گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحقیق کے دوران مستنصر اس زندگی کو پڑھتے نہیں رہے بلکہ تخیل کی مدد سے اس زندگی کو گزار کر آئے ہیں۔ زندگی کا اتنا بھرپور احساس اور ہر چیز پر اتنی گہری نظر اس زندگی کو بھوگے بغیر ممکن نہیں ہوتی، فنکار اگر اسے ظاہری طور پر نہیں بھوگتا تو اپنے تخلیقی باطن میں بھوگ کر ہی اسے تخلیق کر سکتا ہے۔ یہی اس ناول کا کمال ہے کہ یہ صرف تحقیق کی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس تحقیق سے آگے جا کر تخلیقی ہنر مندی سے تمام ماحول کو تخلیق کرتا چلا جاتا ہے۔اسی موضوع پر محمد نعیم نے لکھا ہے :
’’…تارڑ ایک ایسی زندگی کی تصویر ہمارے سامنے لانا چاہتاہے جسے نہ اس نے دیکھا ہے، نہ جیا ہے۔ یہ اب اس کے تخیل کا کارنامہ ہے کہ اس نے اپنے عہد کے تجربے سے کس طرح ان انسانی عناصر کی کھوج لگائی ہے جو آج سے چار ہزار سال پہلے کے انسان کا حصہ تھے۔ نہ صرف وہ انسان بلکہ اس کی معاشرتی زندگی کی اکثر جزئیات ناول کے ذریعے سامنے لائی گئی ہیں۔ بستی والوں کی ترجیحات ، زندگی گزارنے کا ڈھنگ، بیج کے گرد گھومتی زندگی ، شادی بیاہ، عبادت ، خدا کا تصور، غرض زندگی کے تقریباً تمام پہلو ناول کے پڑھتے پڑھتے ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ ‘‘٭۲
’’بہائو‘‘ کا بیانیہ ایک سنجیدہ اور متین بیانیہ ہے ۔ اس کا مقصد ایک قدیم بستی کے اجڑ جانے کا منظر بیان کرنا ہے اور اس کے ساتھ علامتی طور پر کسی بڑی اور چھتنار تہذیب کے مٹنے کی داستان کہنا ہے۔ اس کے علاوہ بیانیہ کسی اور چیز پر توجہ نہیں کرتا۔ بالکل وقت کے بے رحم دیوتا کی طرح جو وسیع و عریض سلطنتوں اور فلک مرتبہ شخصیتوں کو روندتے ہوے بے نیازی کے ساتھ آگے بڑھتا چلا جاتاہے اور کسی کو سنبھلنے ، بچ نکلنے کا موقع نہیں دیتا۔ نہ کہیں ہنستا ہے نہ کہیں روتا ہے۔ نہ کسی پر ترس اوررحم ،نہ کسی پر مسرور و شادمان۔ ایسے ہی ’’بہائو‘‘کا بیانیہ اپنی سنجیدگی اور متانت قائم رکھتا ہے اور اپنے کرداروں اور ان کے المیے سے بے نیاز بہتا چلا جاتا ہے۔ اس کے بہائو میں وہ سبک رفتاری ہے جو گھاگرا کے اپنے بہائومیں ہے۔ یہ وجدانی نوائے سروش صریر خامہ کی دھیمی سی سرسراہٹ کے ساتھ اپنے مقصد کے سوا اور کوئی چیز بیان نہیں کرتی۔ نہ طنز ہے ، نہ رقت ہے ، نہ کہیں کوئی اندھی جذباتیت ہے ، تہذیبوں کے عروج و زوال پر اندھا دھند فلسفوں کی بھرمار نہیں ہے، بس دھیمی رفتار سے بہتا ہوا بیانیہ ہے جو آغاز سے لے کر انجام تک یکساں متانت سے ایک کہانی کہتا چلا جاتا ہے۔
بظاہر سیدھا سادا نظر آنے والا بیانیہ اپنی اصل میں بہت ہی پرکار ہے۔ اس پرکاری کی چار تہیں ہیں۔ زبان ، کردار، واقعات کا انتخاب اور نقطۂ نظر ۔ زبان اس ناول کا بنیادی ڈھانچہ ہے جس پر ناول کا پورا وجود قائم ہے۔ ناول میں گھاگرا کے معدوم ہوتے وقت کی ایک اجڑتی بستی کی تصویر کشی کے لیے مستنصر نے زبان بھی ایسی ہی ڈھال لی جو اپنے مزاج کے مطابق اسی دور کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ اب یہ بات محققین کی جانفشانی کی متقاضی ہے کہ گھاگرا کے آخری ایام میں کون سی زبان بولی جاتی تھی اور کون کون سے الفاظ مستعمل تھے۔ البتہ مستنصر نے جو زبان تخلیق کی ہے اسے پڑھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ اگر وہ لوگ اس دھرتی پر تھے تو ایسی ہی زبان بولتے ہوں گے۔ اسی زبان کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے کہ مستنصر کے بتائے بغیر ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کہانی کسی قدیم عہد کی رہتل کی ہے۔ حالانکہ ناول اردو زبان میں لکھا گیا ہے اور اس کے 99فیصدسے زیادہ الفاظ اردو کے ہی ہیں مگر مستنصر نے اس کے ڈکشن میں کچھ ایسے بنیادی الفاظ رکھ دیے ہیں جو بیانیے کے ساتھ نامیاتی طور پر جڑ جاتے ہیں اور اس 99فیصد کا ذائقہ بدل دیتے ہیں۔ ہندآریائی زبان محض چند لفظوں کے تال میل سے دراوڑی نظر آنے لگتی ہے اور پھر اس معجز نمائی کے سبب اس زبان کے پردے میں جس کے ذریعے سلطنت مغلیہ، محلاتی زندگی اور ہندوستان کے مہذب شہروں کی زندگی کا بیان ہوتا رہا، ہندوستان کے قبل از تاریخ معاشرے کی زندگی سانس لیتی جھلکتی ہے اور اس زندگی کی تصویریں ، مرقعے اور امیجری بھی اسی قدر زندہ اوربھرپور ہے جس طرح اشرف صبوحی، شاہد احمد دہلوی اور ملا واحدی وغیرہ کے ہاں دہلی کی زندگی ملتی ہے۔ ستائش مصنف کا حق بنتا ہے کہ دہلی اور لکھنئو کے گلی کوچوں کی ٹیکسال میں دھلی زبان کے ذریعے پکلی کے آوے میںپکے برتنوں میں بنے کھانے تک کا سواد بیان کر رہا ہے:
’’وہ چھوٹی سی روٹی جس میں اُپلوں کی باس رچی ہوئی تھی اور ان کا دھواں اس کے مزے میں ملا ہواتھا ، گرم تھی اور اس میں اس کنک کی مست مہک تھی جو کبھی ان کی بستی میں کال میں نہ تھی اور بہت تھی اور ان کے تالو سویر،شام اس کے سواد سے ملتے تھے اور وہ ان کے اندر جا کر انہیں بھی مست کرتی تھی اور اب کتنے دنوں بعد اس کا سواد انہوں نے چکھا تھا؟‘‘٭۳
کنک، باس اور سواد تین لفظوں نے مل کر پورے بیانیے کی شناخت بدل دی اور صدیوں کا فاصلہ عبور کر کے ویدک دور میں لا کھڑا کیا۔بعض اوقات تو محض ایک آدھ لفظ کے استعمال سے ہی وہ پورے بیانیے کو جادوئی مَس دے کر اس کی شکل ہی بدل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل بیان ملاحظہ کیجیے:
’’ابھی منہ اندھیرا تھا جب وہ دونوں گھاٹ پر آ گئے تھے۔ گھاٹ پر وہ کپڑا بنانے والوں کے گھروں والی گلی میں سے ہو کر آئے ۔گھروں کے اندرکھڈیاں چلتی تھیں ، تانے اور پیٹے چلتے تھے اور ان کی آواز موہنجو کی سویر میں گونجتی تھی۔ ورچن جب کبھی ادھر کو آتا تو رکتا اور سنتا… دھاگے کی نالی جب تیرتی ہوئی سُوت کے بیچ میں سے گزرتی اور ہاتھ چھاج کو ایک دھچکے سے اس ایک دھاگے کو بُنے ہوے کپڑے کا ایک حصہ بناتے تو اس دھچکے سے کھَٹ کی آواز آتی۔ وہاں بہت ساری کھڈیاں تھیں اور ان سب کی آواز مل کر موہنجو کے اندر ہی اندر کھَٹ کھَٹ کرتی گم ہوتی رہتی تھی۔ ورچن اس گم ہوتی کھَٹ کھَٹ کے لیے وہاں رکتا اور سنتا ۔ اس نے اس لَے کو ساری رُتوںمیں سنا۔ گرمیوں میں یہ کھٹ کھٹ پسینے میں بھیگے بدن پر پھسلتی ۔ پالے کی رُ ت میں یہ بندے کے اندر نِگھی ہو کر بیٹھتی جاتی۔ برساتوں میں مدھم ہو جاتی اور چاند کا تھال جب پُورا ہوتا تو زمین کو چھوڑ کر اوپر ہی اوپر اٹھتی جاتی۔ اس کی کشتی سندھو میں تیرتی تھی پر اُس کے کانوں میں چپوئوں کی شپاشپ کی بجائے ابھی تک کھٹا کھٹ چل رہی تھی۔‘‘٭۴
زبان کے اس استعمال میں ضرور تحقیق صرف ہوئی ہے اور مستنصر نے کافی محنت کے بعد ان لفظوں کو استعمال کیا ہو گا لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ لفظ محض لفظ نہیں ہیں بلکہ ان کا استعمال تخلیقی طور پرکیا گیا ہے، بیانیے کے اندر کسی آزاد حیثیت سے نہیں آتے، نہ ہی کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ علمیت بگھارنے اور کسی خاص لفظ کو کھپانے کے لیے کوئی خاص جملہ تخلیق کیا گیا ہو گا بلکہ لفظ جملے کے ساتھ بہتے چلے آتے ہیں اور جملے کی بناوٹ اور بیانیے کی ساخت کا ایسا نامیاتی جزو بن جاتے ہیں جس کی کوئی علیحدہ شناخت باقی نہیں رہتی۔ زبان کا یہی تخلیقی استعمال اس ناول کو’’ حقیقی زندگی کا عکاس‘‘کا اعتبار بخشتا ہے۔
اردو میں ایسے ناول بہت ہیں جو شروع میں تو کسی خاص زبان کا ذائقہ دیتے ہیں لیکن آگے چل کر رفتہ رفتہ ان کی زبان بے ذائقہ اور پھسپھسی ہونے لگتی ہے لیکن مستنصر کی زبان آخر تک اپنی وہی مہک قائم رکھتی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تاثر ابھارنے کے لیے وہ جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ، وہ آج ہماری پنجابی کا حصہ ہیں اور وہ جس بستی کا قصہ سنا رہے ہیں وہ سندھ کی سرزمین پر آباد تھی لیکن اس کے باوجود اس زندگی کی تصویرکشی کے لیے یہ الفاظ مٔوثر کردار ادا کرتے ہیں۔
بیانیے کی دوسری پُرکاری کردار ہیں۔ ناول پوری بستی کی کہانی بیان کرتا ہے لیکن اس میں کردار بہت محدود ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ بستی میں صرف یہی گنے چنے لوگ ہیں کیوں کہ پاروشنی کی شادی کے موقع پر اور بڑے پانیوں کے انتظار میں گھاگرا کنارے ڈیرہ لگانے کے دنوں میں بہت سے گھرانوں کا ذکر ملتا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہاں اور بھی بہت سے لوگ تھے لیکن بیانیے کے اندر صرف چند کرداروں کا ذکر ملتا ہے۔ پاروشنی، ورچن، سمرو، مامن ماسا، دھروا، ماتی اور اس کے تین بیٹے، پکلی اور اس کے دو بیٹے اور ڈورگا۔ یہی اہم کردار ہیں۔ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ناول نگار سبھی کرداروں کا بیان کرنے سے قاصر تھا، مستنصر جیسے لکھاری کے لیے یہ بات زیب نہیں دیتی ، پھر اس کی دوسری وجہ صرف یہی نظر آتی ہے کہ مستنصر نے صرف انہی کرداروں کو وقت دیا جو ناول کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ کہانی سنانی ہے موہنجوداڑو تہذیب کی تباہی سے قبل گھاگرا کنارے ایک چھوٹی سی بستی کے مٹ جانے کی، یوں انہوں نے بستیوں کے تقابل کے لیے ورچن کا کردار چنا۔ پانی حیاتی کے لیے کس قدر ضروری ہے اور اس کی کمی بستیوں کو کیسے بانجھ بنا دیتی ہے ، اس کے لیے پاروشنی ہے جو پورے گائوں کو پانی فراہم کرتی ہے اور خود بھی ہر وقت بڑے پانیوں کی زد میں رہتی ہے۔جسے یقین ہے کہ جب تک پانی ہیں ، اسے بانجھ عورتوں کے رُکھ پر دھاگہ باندھنے کی ضرورت نہیں۔ بستیوں کے تباہ ہونے کے بعد ان کے ہونے کا ثبوت دینے کے لیے کچھ فن پارے ضروری ہیں ، پکلی سامنے آتی ہے۔ بستی کے مٹ جانے کا پیشگی احساس دلانے کے لیے ایک فنکار درکار ہے جو انہوں نے سمرو کی شکل میں تخلیق کیا۔ ان کے علاوہ جو بھی کردار ہیں وہ اپنی جگہ ناول کے موضوع کی شدت کو ابھارنے اور کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے ناگزیر ہیں ۔ کوئی کردار غیر ضروری نہیں ہے۔ ہر کردار کو مؤثر آلے کی صورت مناسب وقت پر استعمال کیا گیا ہے یا پھر موزوں وقت پر منظر سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ناول کے بیانیے میں تیسری Essentialچیز واقعات کا انتخاب ہے۔ واقعات کا بامعنی انتخاب اس ناول کی بنیادی صفت ہے ورنہ اتنے بڑے موضوع کو لے کر چلنے والا ناول پھیلتا ہی چلا جاتا ہے۔ مستنصر نے اس ناول کے پلاٹ پر بہت توجہ رکھی ہے اور محض وہی واقعات شامل کیے جو ناول کے عمل کے لیے ضروری تھے ۔ ایک ایک پیراگراف کی لہروں پر ہلکورے لیتا ناول آگے کو بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہر واقعہ آگے آنے والے واقعات کی پیش روی اور پیش گوئی کرتا ہے اور ہر اگلا واقعہ گزشتہ واقعات کے ساتھ منسلک ہو کر آتا ہے۔ کوئی واقعہ آزادیا الگ نہیں اور کہیں کوئی ایسا کھانچہ بھی نہیں جہاں کچھ بتانے کو رہ گیا ہو۔ یوں یہ ایک مکمل پلاٹ کا مکمل ناول ہے جو کہ اردو میں بہت ہی نایاب چیز ہے۔ واقعات کے انتخاب کی ذیل میں واقعات کی ترتیب بھی اہم ہے ۔ ناول میں کہیں بھی واقعاتی ترتیب کے بگڑنے یا خراب ہونے کا احساس نہیں، بس جو واقعہ جہاں بیان ہونا چاہیے، وہ وہاں ہی بیان کیا گیا ہے ۔ ناول کے شروع میں بڑے پانی کی آمد اور اس پر زندگی کے انحصار کا بتایاگیا اور ورچن کے ذریعے بستیوں کے تباہ ہونے اور اجڑ جانے کے متعلق روشناس کرا دیا گیا ۔ بعد ازاں ماتی کے کھیت کے خشک رہ جانے اور سمرو کی جھجر خالی ہونے کے بیان سے اس پانی میں آنے والی کمی بیان کی گئی ۔ یوں رفتہ رفتہ کہانی اس پیاس کی طرف بڑھتی ہے جو بعد ازاں خشک دھول کی صورت بستی کی گلیوں میں اڑتی ہے اور ان کے سینوں کو سکھاتی چلی جاتی ہے۔ واقعات کا حسنِ ترتیب ناول کو دھیرے دھیرے وہ المیاتی شان دیتا ہے جو بستیوں کے اجڑنے کے اس موضوع پر لکھے گئے ناولوں کا خاصہ ہے۔ ناول کے واقعاتی بیانات میں تین بیان ایسے ہیں جو کہانی کی بڑھوتری میں براہِ راست شامل نہیں ہیں لیکن ان کے ذریعے کہانی کی بہت سی ان کہی باتوں کو واضح کر دیا گیا ۔ ناول کے بالکل آغاز میں پرندے کا اڑتے اڑتے پیاس سے مر جانا اور دو دفعہ اوپر پہاڑوں پر ہونے والی بارش سے پہاڑی پودے کا اُکھڑ اُکھڑ کر گھاگرا میں بہہ آنے کا بیان ۔ یہ تینوں واقعات بظاہر کہانی کا حصہ نہیں ہیں لیکن درحقیقت کہانی کو سست کرنے کی بجائے تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں اور علامتی انداز میں پانی کے نہ آنے کی وجہ اور اس کے نتیجے میں بستی اجڑ جانے کا سبب بیان کرتے ہیں۔
چوتھی چیز جو اس ناول کو ایک خوبصورت اور جامع ناول بناتی ہے ، وہ ہے نقطۂ نظر ۔ اردو کے باقی ناولوں سے ’’بہائو‘‘ کو ممیز کرنے کے لیے یہ صفت بہت اہم ہے۔ دیکھنے کا زاویہ اور فاصلہ ہی منظر کی شدت اور اہمیت طے کرتا ہے ۔یہ طے کرنا فنکار کا کام ہوتا ہے کہ کون سا واقعہ کس کے نقطۂ نظر سے بیان ہو کر ناول کی شدتِ تاثر کو بڑھاتا ہے البتہ اگر اس کے انتخاب میں غلطی ہو جائے تو ناول کا تاثر خام رہ جاتاہے ۔ اردو میں عام طور پر بلکہ تمام دنیا میں ناول کو بیان کرنے کے لیے ہمہ دان راوی کی تکنیک کو مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس میں لکھنے والے کے لیے حدود اور مشکلات بہت کم رہ جاتی ہیں جب کہ راوی واحد متکلم وغیرہ کے نقطۂ نظر سے بیانیے کی بہت سی حدود متعین ہو جاتی ہیں۔ ’’بہائو‘‘میں مستنصر نے بھی ہمہ دان راوی کا نقطۂ نظر اپنایا ہے جو سبھی کرداروں کے متعلق سبھی کچھ جانتا ہے۔ البتہ ناول نگار خارج کے مناظر اور واقعات کے متعلق لکھتے وقت اپنے نقطۂ نظر سے کم اور اس کردار کے نقطۂ نظر سے زیادہ دیکھتا ہے جس کردار کے سامنے وہ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اس کی سب سے خوبصورت مثال وہ ہے جہاں ورچن اور ڈورگا ایک ہی کشتی میں بیٹھے سندھو کو عبور کر رہے ہیں اور دونوں کا بیان اک دوجے کی نظروں سے ہوا ہے۔ دوسری مثال وہ ہے جہاں مامن ماسا دیوار سے اچک کر ماتی کو بتاتا ہے کہ بڑے پانی تمہارے کھیت تک نہیں پہنچے۔ اس بات کو بتانے کے لیے ماسا سے موزوں کوئی شخص نہیں تھا۔ بتانا تو یہی تھا کہ گھاگرا کا پانی کم ہونے لگا ہے اور دور دراز کے کھیتوں تک نہیں پہنچ پایا ۔ اس کی اطلاع دینے کے لیے ناول نگار نے نہ تو ہمہ دان راوی بن کر خود یہ فرض نبھایا اور نہ ہی ماتی جو کھیت کی مالک ہے ، کی نظروں سے دکھلایا کہ وہ ایک جانبدار نظر تھی اور بیانیے میں رقت کے جذبات پیدا کر سکتی تھی جو اس متین بیانیے پر ایک بوجھ ہوتا۔ مستنصر نے ایک لحظے کے لیے بھی بیانیے کو رقت یا آہ وزاری کے راستے پر نہیں چلنے دیا ورنہ اس کہانی میں تو بڑے آرام سے درجنوں جگہ پر بین کرنے کے مواقع بھی میسر تھے۔ ناول کے آخر پر جب تمام بستی گھاگرا کنارے ڈیرہ ڈال دیتی ہے مگر بڑے پانی پھر بھی نہیں آتے ، تب ورچن یہ تجویز دیتا ہے کہ ہمیں پانی کو کھیتوں تک لے جانا چاہیے۔ دریا کو پیاسے کھیتوں تک برتنوں کے ذریعے لے جانے کی یہ سعیِ لاحاصل اس قدر رقت انگیز اور الم ناک ہے کہ اس کا بیان ناول پر غیر ضروری جذباتیت طاری کردیتا ، سو ناول نگار نے یہ منظر نہ تو ہمہ دان راوی کی حیثیت سے خودبتایا اور نہ ہی کسی ایسے شخص کی آنکھوں سے دکھلایا جو اس پاگل کوشش میں شامل تھا۔ اس کو بیان کرنے کے لیے ناول نگار نے ایک بار پھر مامن ماسا کا سہارا لیا جو بستی والوں سے الگ ہو چکا ہے اور اب ان کے لیے اور ان کی جدوجہد کے لیے کوئی ہمدردانہ جذبات نہیں رکھتا۔ اس کی آنکھوں سے بھی براہِ راست دکھانے کی بجائے اس کی زبانی اس واقعے کو بیان کیا گیا جس سے اس کی شدت مزید کم ہو تی جاتی ہے۔ یہ وہی تکنیک ہے جو انارکلی ڈرامے میں امتیاز علی تاج نے اپنائی تھی اور انارکلی کے زندہ دیوار میں چن دیے جانے کو کسی منظر کا حصہ بنانے کی بجائے اس کی شدت کو کم کرنے کے لیے ثریا کی زبانی بتایا جاتا ہے۔ البتہ انارکلی ڈرامے کی طرح ہی ’’بہائو‘‘ میں بھی یہ واقعہ اپنی معنوی شدتِ تاثر کی وجہ سے اس قدر زوردار ہے کہ کسی اور کی زبانی سننے پر بھی دل و دماغ پر ایک المناک احساس طاری کر دیتا ہے اور ہم اپنی چشمِ تخیل سے پوری بستی کو مٹی کے برتنوں سے کھیت سیراب کرنے کی بے سود کوشش میں جلتے دیکھتے ہیں اور ’’ان کا پسینہ زیادہ بہا اور کھیت کو پانی کم ملا‘‘ جیسے جملے ان کی آخری امید کا رائگاں جانا یوں بیان کرتے ہیں کہ ان کا سارا افسوس قاری کی آنکھوں میں سمٹ آتا ہے۔ اگر یہ واقعہ مستنصر براہِ راست بیان کرتے تو شاید منظر قاری کو کچھ جذباتی کر دیتا لیکن المیاتی احساس کی یہ شدت نہ پیدا ہوتی جو مامن ماسا کے غیر جانبدارانہ اندازِ بیان نے کر دی ہے۔ناول کے آخر پر خشک سالی سے جانوروں کے مرنے کابیان کرنا ہے تومستنصر دھروا اور اس کے بیلوں کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ مانا کے پوتر بیل ہیںاور نسل کشی کے کام آتے ہیں ۔ ان کو بستی والے کبھی بھوکا نہیں رکھ سکتے، خواہ اُن کے اپنے جنوربھوکے رہ جائیں لیکن زیبو بیلوں کے لیے انہوں نے کچھ نہ کچھ مہیا کرنا ہی ہے اور اگر یہ بھوک سے مرنے لگیں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ پوری بستی کے جانور بھوک کا شکار بن چکے ہیں۔یوں مستنصر جب لکھتے ہیں کہ ’’ایک ہی ماہ میں تیسرے بیل کی آنکھیں پتھر ہو گئیں ‘‘ تو اس کا صریحاً مطلب یہی ہے کہ تمام بستی کے جنور بھوک سے ختم ہو چکے ہیں اور پھر جب ڈورگا کی دیکھا دیکھی سبھی اس پوتر بیل کا ماس اتار لیتے ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھوک ان پر اس قدر حاوی ہو چکی ہے کہ اب وہ خود دیوتائوں کو بھی کھا جانے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ مستنصر کی مہارت ہے کہ محض بیلوں کے بیان سے ہی انہوں نے پوری بستی کے تمام جنوروں اور باسیوں کی ہڈیوں میںاُتری بھوک دکھا دی ہے۔
جب مستنصر حسین تارڑ کا حسنِ بیان ، ان چاروں عناصر کو خوبصورتی کے ساتھ سمو کر آگے بڑھتا ہے تو ہر صفحے پر، ہر باب میں ایک دلکش بیانیہ تخلیق ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک ایسا دلکش بیانیہ جو پڑھتے وقت بھی اور پڑھنے کے بہت دیر بعد بھی قاری کے حواس پر ایک میٹھے نشے کی طرح چھایا رہتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آدمی ہوا بھری ربڑ کی کشتی میں نیم دراز دریا کی لہروں پر سوار ہے اور دریا کے بہائو کے ساتھ کشتی دھیرے دھیرے آگے بڑھتی جا رہی ہے ۔ کہیں کوئی چونکا دینے والا اتار چڑھائو نہیں ، کہیں کوئی غیر ضروری رکاوٹ نہیں، بس لہروں کا جھلائو ہے اور اس کا سرور ہے۔
ناول کی اصل زندگی ہے۔ ناول زندگی سے جڑا ہوا ہو تو کامیاب اور بامعنی ناول بنتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ناول جس زندگی سے جڑنے کا دعویٰ کر رہا ہے ، جس زندگی کی عکاسی کر رہا ہے ، کیا ناول کے اندر وہ فضا، وہ ماحول بن سکے ہیں جو اس زندگی کے ساتھ منسوب ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ناول میں زندگی کوئی اورپیش کی جا رہی ہے اور ماحول کوئی اور بن رہا ہے؟اس فضا اور ایسے ماحول کی تشکیل میں زبان، مناظر ، مکالمے اور کردار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مناظر مکمل ہوں اور زبان بھرپور ہو تو فضا قائم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہائو‘‘ میں جو زندگی پیش کی گئی ہے، اس کی پیش کش میں وہی فضا اور ماحول پیدا کیا گیا ہے۔پاروشنی اور ورچن کی یہ تخیلاتی بستی اتنی ٹھوس نظر آتی ہے کہ خیال ہوتا ہے ، اک ذرا وقت کی جست لگائیں تو ہم اس بستی میں گھوم آئیں گے۔ فضا اس قدر مانوس دکھائی دیتی ہے جیسے کہیں ٹرین سے گزرے بس میں سفر کرتے یہ بستی دیکھ رکھی ہو۔ ناول پڑھتے ہوے بھی یہی احساس ہوتا ہے کہ ہم اس بستی کے متعلق پڑھ نہیں رہے بلکہ اس کے اندر زندہ رہ رہے ہیں۔
ناول میں ازمنۂ قدیم کی یہ فضا قائم کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر کردار زبان کا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اپنی تحقیق کے بعد اس ناول میں وہ اصل زبان بھی استعمال کر سکتے تھے یا اس زبان کے کئی الفاظ جو وہاں رہنے والے اس وقت بولتے ہوں گے لیکن یوں لسانی حوالے سے ناول میں تنافر کا احساس پیدا ہو جاتا۔ ان الفاظ کے معانی کوئی جان ہی نہ پاتا اور حاشیے میں ان کے معانی لکھنے پڑتے جو کہ اپنی جگہ ایک غیر تخلیقی عمل ہے۔ اس طرح وہ زبان فضا تخلیق کرنے کا مقصد پورا نہ کر سکتی۔ اس مسئلے کا انہوں نے تخلیقی حل یہ نکالا کہ اردو پنجابی کے اندر سے ہی وہ الفاظ چنے جو اپنے مزاج اور کیفیت کے حوالے سے مٹی کی خوشبو میں رچے ہوے ہیں اور انہی کی مدد سے اپنا بیانیہ تشکیل دیا۔ یہ گنتی کے چند الفاظ بنتے ہیں :
کنک، جنور، لیڑا، پیڈا، پنڈا، پینڈا،جُسّہ، مہاندرا، رُت، رَت،نگھی، لنگی،سمے، بھار، بھرا(بھائی)سانجھے،اگیتا،باسی، مال ڈنگر، کالاشاہ، سفید بگا،ماس، جانُوں (ماہر)، روڑے، گیٹے، کاج، بوٹا، پکھیرو، ڈھیم، پوٹا، اسوا، بودن، آناسا، مامن، وسنیک، گھانی، جھاٹا، رانگلا، بھوکڑ، واہک، واہیک،ہواڑ،لوکائی،ترکھا، سیک،ٹچکر،تراٹ،بُرکی،ہڑبیں، بھُسر(مٹی جس میں ریت نہ ہو) ،جھجر، صحنک، گھڑا، چاٹی، چھونی، کُنی، ڈولا، گڈوا، مَٹ، دَوری، جھانواں، کُجّا،گتی،گڑاونی،کلہوٹی،مونگلی، کہی، چنگیر، بُسّا(کورا سادہ برتن)، دھامن، کھبل، کترن،کھیپ، چھتری(یہ پانچوں بوٹیوں کے نام)، ٹھِلنا، ترہیانا،لوُسنا، لشکنا،اڈیکنا، اسارنا، پاسے پلٹنا، پلانگیں بھرنا، پائوں دھرنا،ہیک لگانا، پدھرا کرنا، پھَوٹ پڑنا،لشکارے مارنا،تربکنا،بیج ڈالنا،ڈوبو مٹی، بڑے پانی، یم کتے،جم پل،ٹوئے ٹبے، پباں بھار، چار چفیرے، انگ ساک، جیاجنت،بے وسائی، بھانڈے ٹنڈر، سیت پالا۔
محض یہ الفاظ ہیں جن کی مدد سے وہ پورے ناول میں قدیم رہتل کی فضا قائم کرتے ہیں۔البتہ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ بیانیے میں ایسے الفاظ کم درآنے پائیں جو فارسی مخرج سے ہوں۔ ذ، ز، ض، ظ،خ، ث،ژجیسے حروف کو بہت کم استعمال کیا گیا اور مقامی مخرج سے منسلک حروف زیادہ برتے گئے۔ ڈ، ٹ، ڑ اور بھ، پھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ، گھ وغیرہ۔ مقامیت کی خوشبو دیتے ان الفاظ اور مقامی لہجے سے امڈتی صوتی آوازیں سبھی مل کر ’’بہائو ‘‘ کو اسی دھرتی پر مبنی فضا قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اس ناول کے لیے زبان وہی اہمیت رکھتی ہے جو بستی کے لیے گھاگرا رکھتا ہے۔ زبان کی اہمیت کے حوالے سے ممتاز احمد خان لکھتے ہیں:
’’…یہ سب ایسی زبان بولتے ہیں جو سراسر مستنصر حسین تارڑ نے ایک طویل تحقیق اور ریاضت کے بعد تلاشی ہے ، مستنصر حسین چاہتے تو شاید یہ ہی پوری زبان وہ استعمال کر لیتے مگر اردو میں پرانی درواڑی ، برسوں پرانی پنجابی اور سندھی علاقوں کی زبان کے الفاظ کی آمیزش سے انہوں نے ایک لطیف قسم کا حسن تخلیق کر دیا ہے۔ ان کرداروں کے نام ہی سے محسوس ہوتا ہے کہ ایسے ہی ہوں گے اور پھر وہ الفاظ بھی اپنی ذات میں ان حقیقی الفاظ کا تاثر دیتے ہیں گویا کہ ماقبل تاریخ وہ ہی استعمال ہوتے ہوںگے ۔ اس طرح مستنصر حسین فکشن کی دنیا سے برآمد شدہ ماہرِ لسانیات بھی نظر آتے ہیں۔‘‘٭۵
اس ناول میں مستنصر نے جس کفایت لفظی سے کام لیا ، وہ خصوصی توجہ کی طالب ہے۔ ناول کی فارم بظاہر ایک وسیع فارم ہے جس میں جنگل کا سا گھنا پن اگ آتا ہے۔ زندگی پر محیط وسعت اور کائنات کی حدوں تک پھیلائو اس کی بنیادی صفات ہیں۔ یوں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہاں ناول نگار الفاظ کو اس اختصار کے ساتھ استعمال نہیں کرتا ہو گا جومثلاً افسانے کا امتیاز ہے۔ درحقیقت ایسا نہیں ہے اور ناول کی فارم بھی اپنی تمام تر وسعتِ بیان کے باوجود اسی احتیاط کی متقاضی ہے جو دیگر اصنافِ ادب ملحوظ رکھتی ہیں۔ ناول میں کوئی واقعہ یا منظر اضافی نہیں ہو سکتا اور اگر ہو تو یہ اس کی خامی یا عیب ہی تصور ہو گا۔ دوسرے کوئی واقعہ منظر یا مکالمہ طولِ بیان کا شکا ر ہو تو وہ بھی طبعِ سلیم پر گراں گزرتاہے۔ ناول میں اختصار نہیں ہوتا، الفاظ کا محتاط استعمال ہوتا ہے اور ناول میں یہ بہت مشکل ہے کہ سینکڑوں صفحات پر پھیلے ہوے ناول میں ہر لفظ اپنے ہونے کا جواز رکھتا ہو۔ شاعری میں ترنم ، آہنگ یا وزن الفاظ کی تعداد کا تعین کر دیتے ہیں، افسانے میں ایک ہی موضوع پر ارتکاز فنکار کو صراطِ مستقیم پر رکھتا ہے جب کہ ناول میں بھٹکنے اور الفاظ کے ضیاع کے ہزارہا اندیشے لاحق رہتے ہیں۔ یہاں ناول نگار کو ہر لفظ اور ہر سطر پھونک پھونک کر لکھنی پڑتی ہے، تب جا کر ناول اپنی حدود میں رہتا ہے ورنہ تو اس قدر پھیل جائے کہ الفاظ کا سیلابی پانی تمام ماحول کو آلودہ کر کے رکھ دے۔ مستنصر نے اپنے اس ناول میں انتہائی حد تک کفایتِ لفظی سے کام لیا ہے اور کسی بھی جگہ کوئی لفظ اضافی نہیں معلوم ہوتا۔ ناول کا بیشتر حصہ مختصر جملوں اور مکالموں سے تعمیر ہوا ہے ، بعض اوقات مختصر جملے اتنے تواتر کے ساتھ آتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے ناول نگار نے لفظوں کو کسی سُنار سے خرید کر استعمال کیا ہے۔ کئی جگہوں پر تین لفظوں کے جملے اور انہی جملوں سے منظر بنتا چلا جاتا ہے۔ مناظر کے بیان میں بھی مستنصر نے قدرتِ زبان کے مظاہرے کی بجائے زبان سے محض منظر کی صحیح کیفیت بیان کرنے کا ہی کام لیا ہے۔ ذیل میں ایک مثال ملاحظہ کیجیے جہاں ناول میں اختصار اپنے کمال دکھا رہا ہے:
’’ہاڑ کے بیچ میں وہ آندھی اٹھی اور سب نے اسے اپنے سانسوں میں بھر بھر کر خوشی سے اور بھیگتی آنکھوں سے اپنے اندر اتارا کہ اب جو آندھی آئی ہے تو اس کے ساتھ مینہ بھی ہو گا پر ایسا ہوا نہیں اور آندھی کے ساتھ ریت تھی جو اندھیرا کرتی تھی… اور ایسا پہلی بار ہوا کہ ہوا میں ریت ہو۔ اس آندھی نے چھپر اڑائے جو ریت کی ہوا میں اڑتے گھاگرا میں جا گرے اور لوگ اپنے سر گھٹنوں میں چھپائے آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے … اور یہ بہت دیر نہیں چلی۔ بس اٹھی ، چلی اور تھم گئی۔ لوگ گھروں سے نکلے اور گلی میں پڑی اپنی چیزیں اٹھا اٹھا کر واپس لانے لگے جو آندھی سے اُڑ کر ادھر ادھر ہو گئی تھیں۔ آسمان بھی صاف ہو گیا۔ پر ایک عجیب بات ہوئی کہ مینہ کی ایک بوند بھی نیچے نہ آئی اور ریت کی ایک موٹی تہہ ہر سُو بچھی ہوئی تھی۔ ویہڑوں میں، گلی میں ڈوبو مٹی پر، گھاگرا کے کنارے، سروٹوں کے پتوں پر ۔‘‘٭۶
ناول کی زبان اس کے موضوع کے ساتھ یکجان ہو کر آئی ہے۔اس ناول کا موضوع دراوڑوں اور آریائوںکی باہمی آویزش یا ایک تہذیب کی موت اور دوسری طاقت ور تہذیب کا عروج بتانا ناول کے ساتھ زیادتی ہے۔ ناول کا موضوع محض گھاگرا کے خشک ہونے پر وہاں کی بستیوں پر اس کے اثرات ہیں یا کسی حد تک اپنی جڑوں کی تلاش جس کے متعلق پہلے تفصیلی بات ہو چکی ہے۔ آریائوں کی آمد اور دراوڑوں پر ان کا غلبہ اس ناول کا ایک ذیلی مبحث ہے، اس کا مرکزی موضوع نہیں۔ بستی کا دریا خشک ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے بستی کی حیاتی جس طرح موت کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، یہ کون سا آریائوں کی سازش تھی، محض ایک قدرتی عمل تھا، اس کے مٹ جانے میں جب کسی انسانی ہاتھ کی کارفرمائی نہیں تو پھر یہ ان قوموں کی باہمی آویزش بھی نہیں ہے۔ یقینامستنصر یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ بستیاں جس بنیادی ضرورت کے گرد قائم ہوتی ہیں، وہی ختم ہو جائے تو اجڑ جاتی ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال میں یہی رمز پوشیدہ ہے کہ قومیں خود اپنی تعمیر میں مضمر خرابی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوتی ہیں نہ کہ کسی طاقتور حریف کے مدِ مقابل آنے سے۔ کسی قوم کی اندرونی کمزوریاں ہی اسے تاریخ میں ماضی کا قصہ بنا دیتی ہیں۔ تخلیقی سوتے خشک ہوجانے پر بستیاںمٹ جانا ایک سادہ سی حقیقت ہے۔
پرندے کی اُڑان اور موت ایک ایسی تمثیل ہے جو اس ناول کے مرکزی خیال کو واضح کرتی ہے۔ پرندہ وسیع تر معانی میں ایک انسانی تہذیب کی Personificationہے۔ پرندے کی اڑان کسی تہذیب کے ابتدائی مظاہر، تشکیل(ان کا بیان تمثیل میں نہیں ہے جیسے ناول کے آغاز میں بستی کی ابتداء کا کوئی بیان نہیں ہے۔ )عروج اور پھر زوال کی مانند ہے۔ اس تمثیل میں پرندے کی مرتی ہوئی اڑان کسی بھی تہذیب کی اجتماعی فکری زندگی کے مردہ ہوتے چلے جانے کی مثال ہے، جس کے لیے نئے نظریات و افکار کی پیدائش کا عمل رک چکا ہو۔پرندے کی اڑان اور جستجوئے آب تہذیب کے اسی فکری المیے کا علامتی بیان ہے۔ پانی وہ فرحت بخش افکار ہیں جو کسی تہذیب کو نمو اور عروج دیتے ہیں(پانی بذاتِ خود کائنات کا بنیادی تخلیقی عنصر ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقی عمل کا باعث اور علامت بھی ہے۔ ) رگوں میں خشک ہوجانے والے خون سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ تہذیب کو زندہ رکھنے والے یہ عوامل اب عمومی زندگی سے خارج ہو چکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ صرف دل تک خون رہ جانے کا مطلب کہ اس تہذیبی زندگی کا مرکز ابھی مردہ نہیں ہوا۔ ابھی کچھ لوگ زندہ ہیں جہاں میں۔ پروں کا کمزور ہو جانا، بازوئے شمشیر زن یا افرادی قوت کی کم یابی کی طرف اشارہ ہے۔ پروں کی رنگت بدلنا تہذیب کے زمانۂ عروج کے خارجی مظاہر اور تہذیبی نقوش کے دھندلا پڑ جانے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پگھلتی ہوا قدرتی حالات کے ناموافق ہوجانے کو بتاتی ہے جن کی وجہ سے کوئی تہذیب لحظہ بہ لحظہ زوال آمادہ ہوتی جاتی ہے۔ آگے چل کرپرندہ سوچتا ہے کہ ’’کہیں ایسا تو نہیں کہ اڑان ایک خواب ہے اور اسی لیے حرکت مدھم پڑتی جا رہی ہے۔‘‘ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب قوموں کو اپنی ساری ترقی اور سارا تہذیبی سرمایہ ایک فریب محسوس ہونے لگتا ہے اور اسی احساس کے تلے وہ کسی اور فریب کا شکار ہو کر اپنی تہذیبی بنیادوں کو مزید کھوکھلا کرد یتی ہیں۔ نمی کی جھلک دکھائی دینا کسی تہذیب کی موت کی آخری ہچکی سے پہلے نظر آنے والی امید کی کرنیں ہیں جب احساس ہوتا ہے کہ شاید اب یہ تہذیب سنبھل جائے ، پہلی صدی قبلِ مسیح میں یونان، چھٹی صدی عیسوی میں روم، بارہویں صدی عیسوی میں عرب، بیسویں صدی میں برطانیہ اور اواخرِ بیسویں صدی میں روس اس کی بہترین مثالیں ہیں۔’’اسی لمحے اس کی اڑان کا رخ اپنے آپ بدل گیا‘‘ تہذیبی زندگی کا ایک ایسا لمحہ جب اپنی تہذیب کو مرتا دیکھ کر ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ امید کی آخری کرن کا سہارا لیا جائے مگر اس وقت تک اس تہذیب کے اندرونی عوامل ، اس کے ترکیبی عناصر پر اس قدر منفی اثر ڈال چکے ہوتے ہیں کہ سب کی خواہش کے باوجود بھی اس تہذیب کا سفر اپنے منطقی انجام کی طرف جاری رہتا ہے۔
کسی بھی ناول کی دلچسپی کی قوت اس کی کہانی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ مستنصر صاحب کو کہانی کہنا آتاہے اور کہانی کا فن ان کے دوسرے ناولوں ’’راکھ‘‘ اور ’’دیس ہوے پردیس‘‘ اور ’’پیار کا پہلا شہر‘‘میں بھی نظر آتا ہے۔ ’’بہائو‘‘ کی کہانی بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ خوشحالی سے شروع ہو کرانتہائی بدحالی کی طرف دھیرے دھیرے بڑھتی ہوئی کہانی قاری کو بھی اپنے ساتھ لیے چلتی ہے۔کہانی کا آغاز ، جھیل کنارے پرندے کی موت سے ہوتا ہے جسے پاروشنی دیکھتی ہے۔پہلے باب میں اس بستی کی زندگی اور اس میں پانی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ عہدِ قدیم میں انسان کی بسائی ہوئی اولین بستیاں پانی کے کناروں پر ہی تھیں۔ اس وقت انسان کی زندگی کا دارومدار پانی پر ہی تھا ۔ ان بستیوں کی زندگی پانی سے مشروط ہوتی تھی۔ پانی ختم ہو جائے تو پھر یہ پوری بستی نقل مکانی کر کے کسی نئی جگہ پر ڈیرہ ڈال لیتی جہاں پانی میسر ہوتا۔ ناول میں بھی ایک ایسی ہی بستی کی کہانی ہے اور کہانی کا آغاز ایسے لمحے سے ہو رہا ہے جب بستی کا امرت دھارا خشک ہوتا جا رہا ہے۔ فکرمندی کی لہر اس وقت شروع ہوتی ہے جب خبر ملتی ہے کہ پانی ماتی کے کھیتوں تک نہیں پہنچا۔ تب یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے سال بھی وہاں بمشکل پانی پہنچا تھا، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پانی ہر سال بتدریج کم ہو رہا ہے۔ناول میں اس لمحے سے حزنیہ احساس کی وہ لہر پیدا ہوتی ہے جو دھیرے دھیرے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ قاری کو پانی کی اہمیت بتا دی گئی ہے، اب پانی نہ آنے کے نقصان بتائے نہیں جا رہے اور قاری خود ہی اپنی متخیلہ سے سمجھتا جا رہا ہے کہ جس جس کھیت تک پانی نہیں پہنچ رہے ، اس کے مالک کے ساتھ کیا المیہ پیش آیا ہے۔قاری ان سب کے لیے فکر مند ہوتا جا رہا ہے اور پانی آ جانے کی امید پر ان کے ساتھ چلتا ہے لیکن امید اس وقت ٹوٹتی ہے جب پاروشنی کہتی ہے کہ اب بڑے پانی کبھی نہیں آئیں گے۔ پاروشنی کی ناول میں مرکزی حیثیت کی وجہ سے اس کے لبوں سے ادا ہوے یہ لفظ کسی ہاتفِ غیبی کی آواز سنائی دیتے ہیں۔تب قاری جان لیتا ہے کہ اب بڑے پانی نہیں آنے والے۔ ناول کے کردار اس اشارے کو ابھی سمجھ نہیں رہے اور امید باندھے بیٹھے ہیں، اس لیے ا ن کی یہ بے خبری اور بے سود مشقت کا نظارہ حزنیہ احساس کی شدت کو بڑھانے لگتا ہے۔ قاری کو ان سب سے ہمدردی ہے لیکن لکھے ہوے کو وہ جان چکا ہے ، وہ ان کے لیے کچھ نہیں کرسکتا، بس ان کے المیے پر ملول ان کے شب وروز کی رائگانی کا نظارہ کرتاجاتا ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ ان سب نے دھیرے دھیرے ڈھے جانا ہے ، اسے یقین ہو گیا ہے کہ یہ بستی اب رفتہ رفتہ خاک ہو جائے گی، اور وہ خاموش تماشائی بنا ہوا ان کی زندگی کے آخری سانسوں کا تماشائی ہے۔ کہانی میں حزن ہے مگر اس کے بیان میں ایسی دلکشی ہے کہ قاری اسے چھوڑ دینے کی بجائے اس کے دھارے میں بہتا چلا جاتا ہے۔ بستی اجڑتی جا رہی ہے ، لوگ بچھڑتے جا رہے ہیںاور قاری اپنی تمام دل گرفتگی کے ساتھ کہانی کے انجام تک پہنچنا چاہتا ہے ، اسے فنکار سے امید ہے کہ کہیں تو امید کا کوئی دیا دکھائے دے گا، کہیں تو کوئی تازہ جذبہ ملے گا اورتب پاروشنی کا بنجر وجود نم ہوتا ہے اور بڑے پانیوں کی امید میں بیج جذب کرتا ہے۔بستی ختم ہو چکی ہے ، پاروشنی بھی ختم ہو جائے گی مگر اس کے توانا جذبے کی ’’ہوئو دھم،ہوئو دھم‘‘پر ختم ہونے والی کہانی بہر حال قاری کو ایک امید دلاتی ہے، امید نسل آگے بڑھنے کی، امید بستی کے دوبارہ آباد ہونے کی۔سہارا آدھی مٹھی کنک کا، آسرا ٹھہرے ہوے بیج کا۔
پاروشنی کے علاوہ جب ناول کے آخر میں پانی ناپید ہو جانے کی وجہ سے خارجی طور پر تخلیقی عناصر مردہ اور تخلیقی عمل ساکن ہو جاتے ہیں تو تمام کرداروں کے اندر داخلی طور پر تخلیق کا جذبہ شدت اختیار کر کے یہ ظاہر کرتا ہے کہ کائنات میں کبھی بھی تخلیقی عمل رک نہیں سکتا اور انسان کے لیے تخلیق کردہ اس ارضی و فانی جنت میں بھی تخلیقی عمل کو فنا نہیں۔ اگر ایک طرف زمین کے تخلیقی سوتے خشک ہو رہے ہیں تو دوسری طرف زمین کے باسیوں کا رجحان تخلیق کی طرف پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔
؎کٹے تنے سے اگی شاخ اور کھلا حیدرؔ
کہ سر کٹا کے بھی جوشِ نمو شجر میں ہے
حیدر گیلانی
پکلی کا برتن بنانا ، سمرو کا نگینے تیار کرنا ، پاروشنی کا سمبھوگ کو تیار ہونااور ورچن کا نئی دنیائوں کو نکل جانا(کہ یہی اس کے لیے تخلیقی عمل ہے)اسی امر کی نشانی ہیں ۔ ناول کے آخر پر پاروشنی کی اوکھلی میں کنک کوٹنے کی ’’ہوئو دھم، ہوئو دھم‘‘ کا ردھم ’’آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون‘‘ کاعملی اظہار ہے۔ تخلیق کا شجر سر کٹا کے بھی جوشِ نمو سے محروم نہیں ہوتا بلکہ کسی نہ کسی طرف سے نئی شاخیں نکال ہی لیتا ہے۔
طلسمی حقیقت نگاری کی تکنیک مابعد جدید فکشن میںا یک انتہائی قابلِ ذکر تکنیک گردانی جاتی ہے ۔ یہ تکنیک ابتدائی وحشی انسان کے متخیلہ کو جدید ترقی یافتہ ہیئت میں استعمال کرنے کا نام ہے۔ مستنصر کے اس ناول کا موضوع ہی انسان کی ابتدائی ثقافتی زندگی کا بیان تھا، اس لیے انہوں نے اس تکنیک سے بھی کافی کام لیا۔ سادہ حقیقت نگار بیانیہ مہذب شہروں کی جدید زندگی کو بخوبی پیش کرسکتا ہے لیکن ایک ماقبلِ تاریخ معاشر ے کی داستان کہنے کے لیے اسے لامحالہ طلسمات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ناول کے دو کردار مامن ماسا اور چیوا جو درختوں پر رہتے ہیں ، حقیقت نگاری میں فوق حقیقت کی جھلک دکھاتے ہیں۔ زیبو بیلوں کے متعلق یہ اسطورہ ہے کہ اگر ان بیلوں کی لاش کو گدھ اور کوے کھاجائیں تو یہ باوجود مرے ہونے کے اٹھتے ہیں اور اپنے نگہبان کو کھا جاتے ہیں۔ یہاں تک تو یہ اسطورہ ہی ہے لیکن جب ناول کے آخر پر یہ بیل اپنے نگہبان دھروا کو کھا جاتے ہیں تو پھر یہ اسطورہ حقیقت کے ساتھ آمیز ہو کر طلسمی حقیقت بن جاتی ہے۔ تیسری جگہ وہ ہے جہاں ڈورگا رکھوں کے اندر رہنے والے بھینسے کو مار ڈالتا ہے ، تب ایک طلسمی حقیقت نگار بیانیہ جنم لیتا ہے۔
’’بھینسے کا سیاہ اور زور والا جسم ٹھنڈا ہو گیا … اور وہ اس کے سامنے پڑا تھا۔
پھر پہلی چیونٹی آئی…
اور اس کے بعد خشک پتے اور سوکھی ٹہنیاں ان سے سیاہ ہونے لگیں جیسے پتے چلنے لگے ہوں۔ جیسے ٹہنیوں میں جان پڑ گئی ہو۔ پر وہ ساری چیونٹیاں تھیں اور ادھر آتی تھیں اور ڈورگا نے انہیں دیکھا تو ڈرا اور اس کے ڈر کو سونگھ کر ایک چیونٹی نے کہا:’’ہم تجھے نہیں، اسے لینے آئی ہیں۔‘‘اور وہ اس کے سیاہ جسے پر چڑھنے لگیں اور اس کے نیچے اور اوپر ہر طرف سیاہ ہونے لگیں ، یہاں تک کہ بھینسے کا مردہ جسم دھیرے دھیرے ویسے ہی چلنے لگا جیسے چیونٹیوں سے بھرا ہوا روٹی کا ایک ٹکڑا چلتا ہے اور وہ اسے اٹھا کر لے جا رہی تھیں۔‘‘٭۷
اس تکنیک کے استعمال سے ناول کے اندر اس قدیم بستی کے متحرک متخیلہ کی سچی تصویر نظر آتی ہے اور محض حقیقت نگاری پر مشتمل بیانیہ اس کے تاثر کو یوں تنوع نہ دے سکتا تھا۔ ناول کے بیانیے میں بستی کے لوگوں کے توہمات کا بیان بھی اسی تکنیک کا مرہونِ منت ہے ۔ مثلاً پاروشنی کا سورج کی طرف پیٹھ نہ کرنا کہ ایسا کرنے سے برا سامنے آتا ہے ، پھر جب وہ بڑے پانیوں کی آمد سے با خبرہو جاتی ہے تو کسی کو اس کے متعلق بتاتی نہیں کہ بتانے سے بڑے پانی لوٹ جاتے ہیں،ورچن کا بستی کی طرف واپسی پر مردوں کے ٹیلوں پر پانی پھینکنا تا کہ وہ پیچھے سے آواز نہ دیں، ڈورگا کے پہلی دفعہ بھینسے کے ساتھ میل کے وقت رُکھوں کا مکالمہ اور پھر آخر پر بستی والوں کا یہ عقیدہ کہ اگر دریا میں اپنی سب سے پیاری چیز پھینک دی جائے تو بڑے پانی آ جائیںگے۔ یہ سبھی مل کر اس بستی کے لوگوں کے عقائد اور ان کی سوچ کے زاویے ہم پر واضح کرتے ہیں اور ایک ایسے معاشرے کی تصویر بنانے میں بہت کارگر ثابت ہوتے ہیں جس کی بنیاد اساطیر اور دیومالا پر رکھی گئی ہے۔
پاروشنی ناول کا مرکزی کردار ہے اور ناول کا مرکز بھی۔ ناول کا بیشتر حصہ اسی کے گرد گھومتا ہے۔ پاروشنی اپنی نسل کا خاص قد بت لیے ہوے ہے ، ہلکا سیاہی مائل رنگ ، گھنگریالے اور بھورے بال جو ایک ستھرے گھونسلے کی طرح سر پر رکھے ہوے تھے، بھنویں اوپر کو اٹھی ہوئیں ، ناک چوڑی مگر اونچی ، جبڑا ذرا آگے کو نکلتا ہوا، قد بت ایسا کہ کنک کی فصل میں چلتے ہوے پہلی نظر پر دکھائی نہ دے، ہونٹ موٹے اور بھرے بھرے اور کولہے پھنیر سانپ کے پھیلے ہوے پھن کی طرح۔ ان نقوش اور اس رنگت کی حامل کوئی عورت ہمیں راستہ چلتے نظرآئے تو شاید ہم اسے ستائش کی نظر سے نہ دیکھیںلیکن مستنصر نے اس بھرے بھرے پچھائے والی عورت کو اس قدر توانائی اور حرارت بخشی ہے کہ پورے اردو ناول میں اس قدر بھرپورعورت نظر نہیں آتی۔ سانولے رنگ کی اس متحرک لڑکی پر مستنصر اس قدر فدا ہیں کہ بار بار رک کر بہ نظرِ تحسین اس کے بدن کے خطوط کا نظارہ کرنے لگتے ہیں۔ قاری بھی ان کے ساتھ کھڑا اس عورت کے بھرپور نسوانی وجود کے نظارے لیتا ہے ۔ ناول کے اندر اس کے بدن کے تمام خطوط ،ابھار، ڈھلوانیں ،پاٹ سبھی کچھ اپنی پوری شہوانی حسیت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ پاروشنی کے حدت دیتے بدن کی نمی سے اٹھنے والی مست مہک ناول کے شروع میں قاری کی شامہ سے ٹکراتی ہے اور ناول کے اخیر تک یہ مہک پاروشنی کے وجود کا ہالہ بن کے رہتی ہے۔ پاروشنی متخیلہ کے ذریعے صرف باصرہ کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ شامہ کو بھی متحرک کرتی ہے۔ پاروشنی کا وجود ایک مکمل اور بھرپور عورت کا وجود ہے جس کا تصور بھی قاری کو نشہ طاری کر دے۔ وہ جب چلتی ہے تو اس کے انگ انگ سے مورکی آواز پھوٹتی ہے۔ جب اس کے بدن پر پکلی بوٹے الیکنے بیٹھی تو رنگ ختم ہوگئے مگر بدن ختم نہیں ہوا۔ وہ اتنی ہری بھری ہے کہ اسے کبھی بانجھ عورتوں کے رُکھ پر رنگین دھاگہ باندھنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ وہ جب بھاگتی ہے تو اس کے بدن سے اٹھنے والی باس سے پیچھے آتے مرد ہی بائولے نہیں ہوتے، آگے دوڑتا بھینسا بھی مست ہو جاتا ہے۔ اس کے بدن کی توانائی ، انگوں کی تھرک، بیچ کی تھرتھراہٹ ، نم کی پھوٹنے والی مہک، کچھوں سے نکلنے والی باس اور جُسے کی لشکتی جلد مل کر اسے وہ بناتی ہیں جو کچھ کہ وہ ہے، اور جو کچھ پاروشنی ہے وہ اردو ناول میں اور کوئی نہیں ہے۔
پاروشنی بدکردار نہیں ہے اور نہ ہی گمرا ہ ہے۔اس کے جسم سے امڈتے شہوت انگیز پسینے کی بُو اور اس کے نسوانی بدن کے Pheromones کی مہک تک ہماری شامہ سے ٹکراتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ نہ کسی کو ترغیبِ گناہ دیتی ہے اور نہ ہی پڑھنے والے کے دل میں کوئی اسفل جذبہ ابھارتی ہے۔ اس کے پوشیدہ اعضا ء نظر آتے ہیں مگر محض اس لیے کہ وہ اس کے بدن کا حصہ ہیں اور وہاں کوئی بھی عورت اپنے بدن کو چھپانے کا اہتمام نہیں کرتی۔)وہ ایک عورت ہے اور اپنے پورے نسوانی وجود کے ساتھ ناول کے منظرنامے میں زندگی کرتی ہے۔ نہ تو کچھ چھپانے کی کوشش کرتی ہے اور نہ کچھ زیادہ دکھانے کی لٹک رکھتی ہے۔ اگر پاروشنی کو دیکھنا اور اس کی نسوانیت کو سراہنا ہوتو ذیل کے بیانات ملاحظہ کریں :
’’پانی کو پیاس سے دیکھتے اس نے آسے پاسے دیکھے بغیر اپنے سینے پر کَسا ہوا لیڑا ڈھیلا کر کے کھول دیا۔ لیڑے کی پکڑ سے چھوٹنے پر اس کی چھاتیاں پل دو پل کے لیے ایسے تھرتھرائیں جیسے چنکارے ہرن کی پیٹھ پر زہریلی مکھی بیٹھ جائے تو وہ ہلتی ہے۔ تھرتھرائیں اور پھر اپنے بوجھ کو سہار کر پنڈے کا ایک خاموش حصہ بن گئیں۔ دریا کی باس کو ان کی اٹھان نے ایک ناک کی طرح سونگھا اور اپنے اندر رچایا۔بستی کی ساری عورتیں اپنے اوپر والے حصے کو نہیں ڈھکتی تھیں ، صرف وہ جو بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے ڈھیلی پڑ چکی تھیں یا وہ جنہیں چلتے پھرتے ان کے بوجھ کی وجہ سے انہی پر تھکان ہو جاتی ، ایسا کرتی تھیں۔پاروشنی پر بوجھ بہت تھا۔ پھر اس نے لونگی کے لڑ کھولے ، ہاں وہ بہت کسی ہوئی تھی۔ اس نے کولہوں کے گردا گرد ہاتھ پھیرا تو ماس یوں دبا اور ابھرا ہوا تھا جیسے رات اس حصے پر کوئی زہریلا برساتی کیڑا چل گیا ہو۔ اس نے لونگی اتار کر جھجھر کے ساتھ ٹھیکریوں پر رکھ دی اور سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ‘‘ ٭۸
’’ننگی پیٹھ پر پانی کی ایک بوند گری اور اس کا ایک حصہ اس کے کولہوں پر سے دھیرے دھیرے ایک گیلا راستہ بناتا نیچے اترا اور اس کی کمر تک پہنچتے ہوے ختم ہو گیا اور دوسرا حصہ دوسری طرف سوچ سوچ کے اترا اور دونوں پاٹوں کے بیچ میں جذب ہونے لگا۔پاروشنی کو اچمنی سی ہوئی اور اس نے بدن کے اُس حصے کو ایسے ہلایا جلا یا جیسے کان میں پانی پڑ جائے تو سر کو ہلاتے ہیں۔ اوپر چھپر، پیچ گیا تھا اور اب اسے ٹپکتے رہنا تھا۔‘‘٭۹
پاروشنی اپنے بدن کی تمام کشش کے علاوہ ذہنی طور پر بستی والوں سے آگے ہے۔ اس کی ذہانت اور فکر کی گہرائی ظاہر سے نظر نہیں آتی۔ سمرو اسے دیکھتا ہے تو سوچتا ہے:’’اس کا چہرہ پاروشنی کا ، ڈوبو پانی ایسا تھا۔ اوپر سے ہموار اور نیچے سے گہرا اور ڈوبوُ۔‘‘(ص:۲۷) وہ مانا کے ماننے والوں کے درمیان ایک لبرل اور روشن خیال عورت ہے۔ شروع میں ہی جب وہ دھروا سے مانا کے ہونے نہ ہونے پر سوال کرتی ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دیوتائوں پر اس کا یقین نہیں ہے ۔آگے چل کربڑے پانیوں کو بلانے کے لیے وہ لِنگ پر پھول چڑھانے کی مخالفت کرتی ہے ۔ جب بستی کے سبھی لوگ اپنی سب سے پیاری شے دریامیں ڈالنے جاتے ہیں تو وہ اس عمل کو بے سود جان کر اپنی جگہ بیٹھی رہتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ سہارا ڈھونڈتے ہیں اور ایسا کرنے سے ان کا بوجھ ہلکا ہو گا۔ دوسری دفعہ یہ روشن خیالی اس وقت سامنے آتی ہے جب پاروشنی دھروا کے ساتھ زیبو بیل کے متعلق بات کرتی ہے کہ ’’انہیں مر جانے دے، یہ تو گھاس پھونس سے بھی بڑھ کر بیکار ہیں۔‘‘اور جب دھروا اسے زیبو بیلوں کا تقدس بتاتا ہے تو وہ اسے یوں جواب دیتی ہے :’’جنور نہیں، بندے پوتر ہوتے ہیں جو انہیں چارہ دیتے ہیں۔ انہیں مر جانے دے۔ ‘‘ یہاں وہ جدید زمانے کی انسان دوست فکر کی علمبردار نظر آتی ہے جس کے مطابق’’ مذہب آدمی کے لیے بنا ہے، آدمی مذہب کے لیے نہیں۔‘‘
اپنی روشن خیال سوچ کے ساتھ ساتھ پاروشنی گہری فکر کی مالک ہے ۔ سمرو اُسے کہتا ہے کہ تم ہم سے آگے ہو، ہم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتی ہو۔البتہ اس فکر کے باوجود وہ جذباتی بھی ہے۔ اس کی اپنی بستی کے ساتھ محبت جذباتی ہے۔ وہ یہی سوچتی ہے کہ جو کچھ یہاں ہے، ان کے سوا اس کا جُسہ کچھ نہیںمانگتا ۔ آخر تک پہنچتے پہنچتے جو کچھ یہاں تھا، ختم ہو چکا ہے اور وہ پھر بھی یہاں سے جانے کو تیار نہیں۔ وہ آخری دم تک اسی جگہ پر اپنی امید لگائے بیٹھی ہے ۔ جب دریا سوکھ گیا ہے ، پوری بستی خالی ہو گئی ہے ۔ پاروشنی کے پاس ایک مٹھی کنک ہے اور وہ اس میں سے آدھی کنک پانی آنے کی امید میں بیج کے لیے بچا رکھتی ہے اور اس کے الفاظ ’’سب کچھ کبھی بھی گم نہیں ہوتا… کھیت ہرے بھرے ہو جاتے ہیں اگر تمہارے پاس آدھی مٹھی کنک ہو تو۔‘‘اس کی نامختتم امید ظاہر کرتے ہیں اور اس کی شخصیت میں موجود یہ رجائیت ناول کے آخر تک رہتی ہے جب بستی میں صرف وہی بچی ہے اور فاقہ کشی کا عفریت اس کا بدن چاٹ چکا ہے اور اب محض کمزور سی ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے تو پھر بھی وہ اس آدھی مٹھی کنک میں سے آدھی بچا لیتی ہے ۔ بستی کے مٹنے کے الم ناک احساس کے سامنے پاروشنی کی یہ رجائیت ناول کے پورے عمل کو ایک مثبت پہلو کی طرف لے جاتی ہے۔
پاروشنی کے کردار کی سب سے بڑی گرہ یہ ہے کہ اسے سمرو اور ورچن میں سے کون زیادہ اچھا لگتا ہے۔ کون ہے جس کے خیال سے اس کے بدن میں حدت اور نمی پیدا ہوتی ہے۔ ناول کے بالکل آغاز میں وہ ان دونوں کے متعلق سوچتی ہے تو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے میں جب اس کا بدن خواہش سے بھر جاتا ہے تو وہ چکی میں کنک پیسنے کی بجائے اوکھلی میں ڈال کر مونگلی سے جی بھر کے کوٹ کر اپنے بدن کو تھکالیتی ہے۔یہاں مونگلی اور اوکھلی واضح طور پر جنسی اعضاء کا اشارہ ہیں اور مونگلی کوٹنا دراصل فرسٹریشن کے اخراج کا راستہ ہے:
’’کبھی کبھار جب وہ باریک آٹے کی روٹی بنانا چاہتی تو وہ چکی کو چھوڑ کر اسے اوکھلی میں جی بھر کے کوٹ لیتی۔ پر یہ صرف ان دنوں میں ہوتا جب وہ رکھوں کی طرف جاتی ، جھیل سے ہو کرآتی ، ان دنوں اس کے اندر کا چین کم ہوتا اور اس کے بازو ٹانگیں جیسے پتھرانے لگتے اور تب وہ اوکھلی میں کنک ڈال کر اسے مونگلی سے خوب کوٹتی اور ہلکی ہو جاتی۔‘‘٭۱۰
پاروشنی کے اس عمل کی علامتی توضیح محمد نعیم نے کچھ ان الفاظ میں کی ہے:
’’جب پاروشنی ورچن اور سمرو کا سوچتی ہے تو اس کے بیچ میں تھرتھراہٹ اور گرمی کا احساس پیدا ہوتا ہے،جب وہ گھر پہنچتی ہے تو اوکھلی میں کنک کے دانے ڈال کر مونگلی سے کوٹنا شروع کر دیتی ہے۔ جذبات کے انخلاء کے لیے ایک قوت کا رُخ موڑ کر دوسری قوت کی طرف کر دیاگیا ہے۔ پاروشنی کے سانسوں کی ’’ہوئو ‘‘ اور مونگلی کی ’’دھم‘‘سے ایک عجیب تان پیدا ہوتی ہے ۔ ’’ہوئو دھم‘‘۔ مونگلی اور اوکھلی واضح طور بر قضیب اور محبل کا نشان ہیں اور ہوئو دھم میں جنسی ملاپ کی آواز اور ردھم شامل ہے۔ ‘‘٭۱۱
پاروشنی جس بستی میں رہ رہی ہے، وہ مادر سری ہے۔ اس معاشرے کا نظام عورت کو زیادہ مرد رکھنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے باوجود پاروشنی کا مزاج دو کی طرف مائل نہیں ہوتا، وہ کسی ایک کا حتمی انتخاب کرنا چاہتی ہے لیکن کر نہیں پاتی۔ اس کے اندر دونوں کے لیے ایک جیسی طلب تھی۔ بظاہر اسے لگتا ہے کہ ورچن کی طرف جھکائو زیادہ ہے، لیکن عین رُکھ پر پکھیرو اترنے کے وقت اسے تریہہ لگتی ہے اوروہ سمرو کی جھجر پہ لب رکھ دیتی ہے، پھر پہلی رات اس رُکھ کی کوکھ میں دو پکھیرو اترتے ہیں۔ اس کے بعد بھی وہ کسی ایک کی نہیںہو پاتی۔ وہ جو رویا نہیں، اگر وہ روتا تو اسے دیکھ کر یہ ٹیوا لگایا جاتا کہ کس کا بیج پاروشنی کے اندر اترا تھا اور شاید اسی طرف پاروشنی جھک جاتی لیکن وہ تو رویا ہی نہیں تھا اور نہ رونے کی وجہ سے پاروشنی کے اندر ایک سیاہ کالی رات بھر گیا تھا، ایسی رات جس میں وہ کسی ایک کی طرف جانے کی رہنمائی نہیں حاصل کر پاتی۔ سمرو جب اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسے یہ کہہ کر روک دیتی ہے:
’’تم دونوں برابر کے باٹ ہو، نہ کم نہ زیادہ… ہاں کبھی ہوا کے چلنے سے جھکائو ایک طرف ہو جاتا ہے پر پل دو پل کے لیے جیسے سروٹ تھوڑی دیر کے لیے جھکتا ہے… اور پھر سیدھا ہو جاتا ہے… پھر برابری آ جاتی ہے۔ پر اب یہ سب کچھ بھی گم ہوا اور میں تم دونوں سے پرے ہو گئی ہوں۔ابھی تم نے میرے سینے پر ہاتھ دھرا تھا تو میرا دم گھٹا… اور آج میں تمہیں بتاتی ہوں کہ تم دونوں یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ جو رویا نہ تھا ، کس کا تھا تومجھے خود نہیں پتا کہ وہ تم دونوں میں سے کس کا تھا۔ تم دونوں برابر کے باٹ ہو۔‘‘٭۱۲
ان دونوں کے درمیان انتخاب مشکل ہے اور اس کے پاس کوئی حتمی معیار بھی نہیں ہے۔ صرف بدن کی حدت معیار ہے اور وہ دونوں کے لیے پگھلتا ہے ۔ سو انتخاب مشکل ہے۔ البتہ ناول کے آخر میں ایک معیار سامنے آتا ہے ۔ مٹی سے محبت۔ پاروشنی بستی سے محبت کرتی ہے اور اسی کے لیے جھکنا چاہتی ہے جو پوری طرح بستی کا ہو۔ ورچن جس کے پائوں میں چکر ہے اور کسی ایک جگہ اسے چین نہیں ملتا ، جب بستی چھوڑ کے چلا جاتا ہے تو پاروشنی کی ترازو پوری کی پوری سمرو کی طرف جھک جاتی ہے۔
پاروشنی حتمی تجزیے میں اپنی نسوانیت اور اس کے بھرپور اظہار کی بنا پر ، اپنی ذہانت اور روشن خیالی کی وجہ سے ،اپنی شخصیت کی اس الجھی گتھی کے باعث اور اپنے رجائی انداز کے بل پر اردو ناول کی سب سے بھرپور عورت کہلاتی ہے۔ایک ایسی عورت جو تمام فلسفوں سے عاری، انقلاب کی سوچ سے ناآشنا، اور جنسی بے راہ روی کے تصور سے بھی لا علم صرف عورت ہی ہے۔ مستنصر صاحب اس قدر توانا نسوانی کردار کی تخلیق پر بھی داد کے مستحق ہیں۔
سمرو اور ورچن ۔ دو مرد جو پاروشنی کے وجود میں حرارت کا باعث ہیں۔ سمرو ایک فنکار ہے جو گائوں والوں کے لیے کسیاں اور کدالیں بناتا ہے اور فارغ وقت میں اپنی فنکاری کے اظہار کے لیے منکے ،مہریں اور گہنے بناتا ہے۔ پتھر کی ایک چٹان سے سنگریزے توڑ کر ان پر اپنے نقش کندہ کرتا ہے۔ سمرو مرد کا وہ روپ ہے جو گھر کا سکھ چاہتا ہے جو دھرتی کے ساتھ جڑ کر رہتا ہے اور اس سکھ کو چھوڑ کر کہیں جانے کا خواہش مند نہیں ہے۔سمرو کے بدن میں ہر وقت اک آگ بھخی رہتی ہے جسے بجھانے کے لیے وہ باربار پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ آگ یقینا وہ تپش نہیں جو کسی دوسرے بدن کی طلب پر جنم لیتی ہے کہ پاروشنی کے ساتھ ملاپ کی رات بھی اس کی یہ پیاس قائم رہتی ہے۔ بدن کے اندر ہر گھڑی تپش دینے والی یہ آگ فنکار کے اندر لپکتے جستجو کے شعلوں کی ہے، یہ اپنے اندر پلتے نت نئے نقوش کو باہر پتھر پر منتقل کرنے کے جذبے کا سیک ہے جو سمرو کے اندر بھڑکتا رہتا ہے، اسی لیے وہ ہر وقت مہریں، منکے اور گہنے بنانے میں لگا رہتا ہے۔
سمرو کے لیے پاروشنی کے ا ندر کشش بظاہر کم ہے لیکن پھر بھی وہ اس کی طرف کھنچتی ضرور ہے۔ شروع میں جب سمرو اسے کہتا ہے کہ تُو ورچن کے لیے دن گزارتی اور رات سوتی ہے تو میں بھی تو ورچن ہی ہوں تب پاروشنی اسے کہتی ہے کہ ’’ہاںتم وہی تو ہو… پر وہ آ جائے تو۔‘‘(ص:۲۸) اسے یہ خیال ہے کہ شاید ورچن ہی اس کے لیے اہم ہے اور سمرو تو محض ورچن کا پرتو ہے مگر بیاہ کی رات جب وہ پکلی کے گھر سج سنور رہی ہے تو سوچتی ہے، سوچتی ہے اور پلڑا سمرو کی طرف جھکنے لگتا ہے:’’اور اس کے اندر پھر سمرو کا خیال آیا… نہیں ورچن سمرو سے آگے نہیں تھا…وہ تو پردیس ہوا تب یوں لگا کہ آگے ہے پر ہے نہیں۔‘‘(ص:۱۱۶) ملاپ کی رات ورچن اس کے اندر سے اس کا جوہر جگانے میں ناکام رہتا ہے ۔ تب ’’ہاں سمرو ورچن سے آگے تھا اور ورچن نے جان لیا تھا پر اب کیا ہو سکتا تھا؟‘‘(ص:۱۱۸)ہو نے کو تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا لیکن مادرسری رہتل میں یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا، وہ تو اٹھتی ہے اور بے خود چلتی اپنی پیاس بجھانے سمرو کے کنارے جا پہنچتی ہے۔سمرو اس کے وجود کو ورچن کے اثر کے ساتھ مل کر مکمل کرتا ہے۔ ورچن کے بغیر پاروشنی کا بدن جاگ نہیں سکتا اور سمرو کے بغیر تکمیل نہیں پا سکتا۔آخر پر جب پاروشنی کے اندر مرد کا میل مر چکا ہے اور وہ اسے دوبارہ جگانے کی خواہش مند ہے ،تب ورچن وہاں نہیں رکتا اور وہ سمرو کے وجود سے سیراب ہوتی ہے۔
ورچن ایک سیلانی روح ہے ۔ پاروشنی کے بدن میں مرد کا میل سمرو اور ورچن دو ہی مردوں کی بدولت جاگتا ہے۔ ورچن کے پائوں میں چکر ہے اور وہ کسی ایک جگہ راحت نہیں پا سکتا۔ ناول میں اس کا تعارف ہی ایک جہاں گردسیاح کے طور پر ہوتا ہے جو ہر جگہ گھوم پھر کر دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ کسی ایک جگہ بیٹھ نہیں سکتا، بستی کے عام لوگوں کی طر ح وہ گھر میں قید نہیں رہ پاتا۔ پانی کے دنوں میں جب پوری بستی سوتی ، کھاتی اور پھر سو جاتی ہے، اس کے تلووں میں کھجلی ہوتی ہے اور وہ اٹھ کر چل دیتاہے۔ ایک جگہ پاروشنی کو اپنی طبیعت کے متعلق یوں بتاتا ہے:
’’میں کوئی من مرضی سے تھوڑا جاتا ہوں… میری مرضی تو ادھر تیرے پاس ہے… پر میں اپنے آپ میں نہیں ہوتا اور نکل جاتا ہوں …میرے تلووں میں چیونٹیاں کروٹ لیتی ہیں کہ چل چل… اور میں چل دیتا ہوں اور جب پہلی رات آتی ہے اور میں کسی ان جانی مٹی پر لیٹتا ہوں اور اس کی باس میرے اندر جاتی ہے اور پھر اس آسمان کو دیکھتا ہوں جو دیکھا ہوا ہے پر وہاں سے کوئی اور لگتا ہے… تو پھر میرے اندر بُلبُلے چھوٹتے ہیںجیسے نیچے مچھلی ہو تو اوپر پانی پر چھوٹتے ہیں اور پھر … میں اس بڑے جُسّے کا ایک حصہ بن جاتا ہوں جو یہ سب کچھ ہے۔ ہمارے آس پاس، اوپر اور نیچے ، آسمان ، مٹی ،تارے اور دریا اور سب کچھ جو اِن میں سانس لیتا ہے اور رینگتا ہے تو میں اس بڑے جُسّے کا ایک حصہ بن جاتا ہوں اور تب تک بنا رہتا ہوں جب تک وہ مجھے اپنائے رکھتے ہیں … اور پھر ایک ایسا سانس آتا ہے جو مشکل آتا ہے اور اس میں کہیں اپلوں کا دھواں اور گھاگرا کی ٹھنڈک تیرتی ہے اور پھر میں ایسے میں من مرضی کے بغیر اس بڑے جُسّے سے اپنے آپ کو الگ کر لیتا ہوں اور اپنی بستی کی طرف لوٹتا ہوں۔‘‘٭۱۳
اس کی سیلانی طبیعت پاروشنی کو کھلتی ہے اور وہ ورچن سے کہتی ہے کہ ہم رُکھوں اور جنوروں کی طرح ہی زمین سے جڑے رہیں تو زندہ رہتے ہیں ، دور ہو جائیں تو سانس کم ہو جاتے ہیں لیکن ورچن کی تخلیقی حِس صرف نئی سے نئی زمین پر پائوں دھرنے سے ہی تسکین پاتی ہے ، اسے معلوم ہے کہ یوں ساری دنیا کی خاک چھان کر اس کی اپنی عمر کے سانس کم ہوتے جا رہے ہیں لیکن وہ رکتا نہیں ، اس کو ایک جگہ چین آ ہی نہیں سکتا۔ خود ایک جگہ ڈورگا سے کہتا ہے :
’’ایسا ہی ہونا تھا… جو ایک جگہ پر ٹِکے نہیں وہ جڑیں نہیں پکڑتا اور پھر گھومتا ہے اور اس کے بالوں میں مٹی اور ریت رہتی ہے۔ اور وہ سب کچھ دیکھتا ہے جو بستی سے پرے ہے اور دریا سے پرے ہے اوروہ نرا اپنی بستی کے لیے نہیں ہوتا ، دوسری بے انت بستیوں میں رہنے والے بے انت لوگوں کے لیے بھی ہوتا ہے اور ان کے لیے کڑھتا ہے اور سوچتا ہے اور دیکھتا ہے … اور یوں وہ کچھ جلدی سے بوڑھا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے برس ذرا شتابی سے گزار لیتا ہے۔ ‘‘٭۱۴
ورچن پاروشنی کی رجائیت میں اس کے ساتھ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ناول میں وہ بھی تحرک کی ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ اسے ایک جھوٹی امید کے سہارے مری ہوئی زمین پر نہیں رہنا کہ اس کے سامنے دھرتی کا ستر کھلا پڑا ہے اور وہ کہیں بھی تخلیق کے عمل کو جاری رکھ سکتا ہے ۔ اس کے سامنے افق کھلے ہیں اور وہ زندگی کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے نئے آفاق کی تلاش میں چل نکلتا ہے ۔ اسی لیے تو جب پاروشنی آخری دفعہ اس سے کہتی ہے کہ میرے پاس آدھی مٹھی کنک ہے تو وہ اسے مرا ہوا سوچتا ہے اور اسے چھوڑ کر چل دیتا ہے، کسی نئی جگہ زندگی کرنے کے لیے۔ زندگی کی حقیقت تو یہی ہے کہ جس طرف زیست کرنے کے امکانات زیادہ ہوں اسی طرف کو سفر کیا جائے ۔
ورچن کے کردار کو مستنصر نے دو طرح سے استعمال کیا ہے۔ یہی وہ کردار ہے جو ناول کی وسعت میں اضافہ کرتا ہے ۔ وہ اپنے لمبے سفر میں موہنجو جا پہنچتا ہے جہاں اس نے کافی وقت گزارا اور اس تہذیب کے متعلق کافی کچھ جان لیتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب آریائوں کی آمد کے سلسلے کو ہزار سال ہو رہے ہیں اور ان کے گھوڑوں کے سموں تلے تمام’ آناسا‘ لوگوں کی زمین روندی جا رہی ہے۔ ورچن انہیں دیکھ کر آگاہی حاصل کرتا ہے کہ ان کی وجہ سے مقامی تہذیب موہنجو اپنے نزع کے عالم میں ہے۔ ورچن کی اسی آگاہی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بحث کی مدد سے مستنصر گھاگرا کنارے کی نامعلوم بستی کی کہانی کو موہنجو داڑو کی داستان کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ ورچن کے بغیر یہ کہانی محض بستی کی تباہی کی کہانی تھی لیکن ورچن کی وجہ سے ہمیں اس کہانی کے پس منظر میں سندھو کنارے کی تہذیب بھی مٹتی نظر آرہی ہے اور ہم اس بستی کے اجڑنے کے بعد چشمِ تصور سے موہنجو کے اجڑنے کا منظر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ورچن کے پورن کے ساتھ مکالمے بعض جگہوں پر تخلیقی حسن کم رکھتے ہیں اور علمی شان کے حامل زیادہ ہیں۔ ’’جیسے تم ہر شے کو دیوی دیوتا بنا کر اپنے سے الگ کر دیتے ہو اور اس سے دور جا بیٹھتے ہو اور اسے چھوتے نہیں ، اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہو اور اسے دیکھتے نہیں ، آنکھیں بند کر لیتے ہو۔‘‘ یہ الفاظ ورچن جیسے کردار کی زبان سے ادا نہیں ہو سکتے، ان کے پیچھے ایک جدید، آزاداور لبرل ذہن کی سوچ کارفرما ہے۔ یہاں مستنصر اپنے ناول کو ایک وسیع تر افق کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور موہنجو تہذیب کا ارتقاء، آریائوں اور دراوڑوں کی آویزش اور موہنجو کی تباہی کے اسباب سب کچھ جلدی جلدی بتا دینا چاہتے ہیں اور اسی افراتفری میں بعض جگہوں پر ورچن اپنی عمر اور تجربے سے بڑھ کر بولتا نظر آتا ہے۔ ایک ہی مکالمے میں اتنا کچھ بتانے کا ہابڑا ہو تو کہیں تھوڑی بہت چوک ہو ہی جاتی ہے ورنہ بہ حیثیت مجموعی مستنصر نے پورے ناول میں کہیں بھی اپنی تحقیق کے بل پر اپنی علمیت جتانے کی کوشش نہیں کی۔
اوپر کرداروں کے ضمن میں بات ہوئی تھی کہ ناول کے تمام کردار ناول کے عمل کا ناگزیر حصہ ہیں اور ناول کے عمل کو آگے بھی بڑھاتے ہیں۔ ڈورگا، مامن ماسا، دھروا، گاگری، پکلی، ماتی، چیوا، گجرو، گیرو، چمرو، پنڈو، سکرا، چندرو، کواسی، ہنگا، گٹا، کولا، گوگا، بوٹی، جبّو، لکھی، چولی، ہرمی، کومی اور جانوروں میں مور، بھینسا، زیبو بیل اور پندرو ہرن سبھی ناول میں اہم ہے۔ ناول کے بڑے کرداروں کے علاوہ کچھ چھوٹے کردار ایسے ہیں جو ناول کے مجموعی منظر نامے کی جزئیات کو بیان کرنے اور کہانی کہنے کے عمل میں تنوع لانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے اہم کردارڈورگا ہے۔ ڈورگا موہنجو کے ایک بھٹے پر پیدا ہوا اور نسل در نسل غلامی کے طوق میں جکڑا ہوا اینٹوں کو سانچے میں ڈھالنے کا کام کرتا تھا۔ آخر جب اس کی کمر صدیوں کے اس بوجھ کو اٹھاتے اٹھاتے دہری ہو گئی تو آزاد فضا میں سانس لینے کی خواہش سے مغلوب وہ ان نادیدہ زنجیروں کو توڑ کر بھاگ نکلتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کئی لوگ فرار کی ناکام کوشش کے بعد پہلے سے بھی زیادہ مشقت کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ واپس نہ لوٹنے کے لیے بھاگ نکلتا ہے۔بستی میں آ کر بھی اس کے مہاندرے میں ابھی پچھلے ہزار سال کا بوجھ نظر آتا ہے۔ ’’جیسے ہرن ڈرا ڈرا ہوتا ہے اور چوکنا کھڑا ہوتا ہے، جیسے سانپ زمین کے ساتھ لگ کر تیزی سے آگے سرکتا ہے اور جیسے پکھیروکا بوٹ آلنے سے گرے تو جہاں گرتا ہے وہیں پڑا رہتا ہے۔‘‘ (ص:۱۰۷) ڈورگا تھا تو بستی کے لوگوں جیساہی مگر اس کی شکل ’’مورتیوں ایسی سخت پتھر تھی، جیسے زیادہ آگ دینے سے اینٹ کھنگر ہو جاتی ہے۔‘‘اس کے متعلق یہ پڑھ کر نصیر کوی ؔ صاحب کی معروف نظم ’’مصلی ‘‘ یاد آ جاتی ہے،جو کچھ یوں ہے۔
ویلے دے بھٹّے اُتے
میں کھنگر بنیا
ہر اوکڑ جھلّی
میرے پیودا نا ں دراوڑ
تے میرا ناں مصلّی
تو یہ ڈورگا بھی در اصل دراوڑ ہے اور بھٹے میں ہزاربرسوں سے اینٹیں بناتے بناتے خود بھی زیادہ تپش سے کھنگر بن گیا ہے۔ ڈورگا کا یہ کردار اس چھوٹی سی بستی کو موہنجو جیسی مہذب زندگی کے ساتھ معنوی طور پر مربوط کرنے کا کام دیتا ہے۔ وہ بستی کے اندر اینٹیں پکا کر ایک چاردیواری تعمیر کرتا ہے جسے اس کا ننھا موہنجو قرار دیا جا سکتا ہے۔یوں یہ ایک اکیلا کردار اس ناول کواتنی زیادہ وسعت دے دیتا ہے۔ یہاں بستی میں آکر اسے گھر کا سکھ ملتا ہے اور وہ پکلی کے لیے اپنے دل میں محبت اور خاطر کے جذبات محسوس کرتا ہے لیکن وقت نے اسے اوراس کی گزشتہ نامعلوم نسلوں کو جس جبر تلے دبائے رکھا تھا، اسے اس کا خیال ستاتا ہے۔ محمد افضال بٹ کہتے ہیں:
’’ڈورگا کے کردار میں مصنف نے درد ، ارمان اور حسرتوں کو پنہاں رکھتے ہوے طبقاتی تفریق سے جڑے ہوے استحصالی سماج میں امیرغریب، مظلوم اور ظالم کی داستان بیان کی ہے۔ اس کی روح زخم خوردہ ہے۔ ‘‘ ٭۱۵
وہ اپنی اس حالت کا انتقام لینا چاہتا ہے اور اس کے اجداد آ آ کر اسے انتقا م کے لیے پکارتے ہیں۔ اسے یہ انتقام لینے کے لیے کوئی طاقتور ہستی درکار ہے جسے مار کر وہ اپنے اس جذبے کی تسکین کر سکے۔ رکھوں کے اندر موجود بھینسا جسے بستی والے ہر چیتر میں مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ کبھی کسی سے نہیں مرتا، ڈورگا کو اپنی نسلوں پر ظلم کرنے والے طاقتور اور با اختیار لوگوں کی علامت نظر آیا، پہلی دفعہ ہی جب ڈورگا ورچن کے ساتھ جنگل میں پہنچتا ہے جہاں پاروشنی پڑی ہے اور وہ بھینسے کے متعلق یوں سوچتا ہے:’’میرے حصے کا اَن پانی اس نے لیا اور مجھے بھوک اور پیاس دی… اِس نے … تو میں اب آیا ہوں تو اس سے میل کرنے … اور وہ بھی جان گیا ہے۔ میں آ گیا ہوں۔‘‘(۱۰۴) اور وہ اس سے اپنے اجداد کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ ’’ڈوبو مٹی کے خاتمے پر جب اُس نے رکھوں کی سیاہی کے اندر پائوں رکھا تو وہ مسکرایا۔ تم یہاں ہو، میں جانتا ہوں۔ میں تم سے میل کرنے آیا ہوں ۔ تم وہاں ہو سندھو کے کنارے اُس بھٹے کی چاردیواری کے ا ندر پر یہاں بھی ہواِن رکھوں کے اندر… تم جہاں بھی ہو میں میل کرنے آیا ہوں۔‘‘(ص:124)اس کے لیے بھینسا وہی جبر ہے جو اس نے اینٹوں کے بھٹے میں ہزار برس تک بھوگا ہے، اب وہ اس جبر کا بدلہ لینے آیا ہے، لیکن بیانیے کی خوبصورتی اس بات میں ہے کہ بھینسا بھی یہ احساس رکھتا ہے کہ ان دونوں کا آپسی تعلق کیا ہے۔ ذیل کا بیان ملاحظہ کیجیے جہاں وہ دونوں مدمقابل کھڑے مخالف کے متعلق سوچ رہے ہیں:
’’(ڈورگا)میں ان سب کی طرف سے آیا ہوں جو کبھی تمہاری چاردیواری میں تھے، جھُکے ہوے لوگوں کی طرف سے جو تمہارے لیے اینٹیں ڈھوتے تھے، جن سے موہنجو کے کنک گودام، حویلیاں، تالاب اور کنویں بنتے تھے۔ کہاوت ہے کہ اس ساری زمین پر لوگ پتھر اور گارے کی بستیوں میں رہتے ہیں اور یہ صرف موہنجو میں ہے کہ یہاں پکی اینٹ لگتی ہے۔ کسی نے آج تک یہ نہ پوچھا کہ ان اینٹوں کو بناتا کون تھا اور انہیں پکاتا کون تھا۔ سب نے موہنجو کے گودام اور کنویں دیکھے اور اُن کو نہ دیکھا جو شہر سے پرے سندھو کے کنارے چاردیواری کے اندر بھٹوں پر جنور بنے کام کرتے تھے اور گارا بناتے تھے ، اسے سانچے میں ڈھالتے تھے۔ دھوپ میں سکھاتے تھے اور پھر بھٹے میں رکھ کر اس کے گرد آگ جلا کر پکاتے تھے اور آگ جلا ئے رکھتے تھے… اور وہ تم تھے جس نے پہلے پہل وہ چاردیواری بنائی۔
(بھینسا)ان رُکھوں میں میرا راج تھا، یہ کدھر سے آگیا… موہنجو تو یہاں سے بہت دور ہے! رُکھوں اور ریت کے پار کئی دن اور کئی رات کی مسافت پر اور یہ وہاں سے یہاں کیسے آ گیا… پر اچھا ہو جو آ گیا۔‘‘٭۱۶
ناول کے آخر میں جب بھینسا بھی خشک سالی سے کمزور ہوا پڑا ہے ، ڈورگا اسے مار ڈالتا ہے۔ اسے مارنے پر اسے اپنے کندھوں پر پڑے بوجھ سے نجات کا احساس ہوتا ہے لیکن یہاں مستنصر چیونٹیوں کے ساتھ ہونے والے اس کے مکالمے کے ذریعے دکھادیتے ہیں کہ ظالم مظلوم ، جابر مجبور کا یہ رشتہ اٹوٹ ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا:
’’ہم اسے لے جائیں گی پر یہ پھر آ جائے گا…‘‘ ایک چیونٹی نے کہا۔
’’پھر آ جائے گا؟…‘‘ ڈورگا پھر ڈرا۔
’’ہاں…‘‘ دوسری بولی:’’اور تم پھر اسے مارو گے…اور ایسا ہوتا رہے گا۔‘‘
’’ہاں ہمیشہ۔‘‘سب چیونٹیوں نے مل کر کہا:’’یہ پھر آئے گا…اس کے بغیر کوئی سمے پورا نہیں ہوتا۔‘‘
’’اور میرے بغیر؟‘‘
’’اور تمہارے بغیر بھی… ‘‘ سب چیونٹیاں بول رہی تھیں:’’اور تم پھر اسے مارو گے… اور ایسا ہوتا رہے گا۔‘‘ اور وہ اسے لے گئیں۔‘‘٭۱۷
ڈورگا ناول کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھی ضروری ہے اور آندھی میں جب بستی کا کوئی بھی آدمی باہر نہیں نکلتا، اس وقت اسی کی آنکھوں سے آندھی کا منظر دیکھا جاتا ہے، کیوں کہ وہ بستی کا نہیں اس لیے اس کا خوف بستی والوں کے خوف سے الگ ہے۔ اور خوف سے یہی علیحدگی اس وقت بھی کام آتی ہے جب وہ زیبو بیلوں کا گوشت کھانے میں پہل کرتا ہے۔ بستی والوں کے لیے تو وہ مانا کے بیل ہیں لیکن اس کے لیے محض گوشت کا ایک ڈھیر جسے اگر نہ کھایا گیا تو گل سڑ جائے گا۔
دوسرا اہم کردار مامن ماسا ہے۔ مامن ماسا وہ شخص ہے جس نے جانا کہ رکھوں کے پار کیا ہے اور جاننے کے بعد بتانے سے عاری ہے سو بستی جانے کی بجائے وہ رکھوں میں ہی پڑا رہا ۔ یہ کردار اتالو کلوینو کے Barren In The Treesکے مرکزی کردار سے متاثر ہے لیکن محض نقالی نہیں بلکہ ناول کے منظر نامے میں پورا فعال کردار رکھتا ہے ۔ رُکھوں کے اندر کی جو بھی زندگی ہے، بھینسے کا شکار ہو، پاروشنی کے اندر کا غبار ہو یا ڈورگا کے ساتھ بھینسے کا میل ، سبھی مامن ماسا کی آنکھوں سے ہی دیکھا جاتا ہے۔ دو جگہ پر مامن ماسا ناول کا عمل آگے بڑھاتا ہے۔ ایک ماتی کے کھیت تک پانی نہ پہنچنے کی اطلاع دے کر اور دوسرا جب بستی والے دریا سے اپنے برتنوں میں پانی لے کر کھیتوں میں ڈالتے ہیں تو یہ منظر مامن ماسا کی زبانی سنایا جاتا ہے۔ مامن ماسا بستی کی پیدائش ہے مگر بستی چھوڑ کر فطرت کی آغوش میں آ چکا ہے اور اسی کے ساتھ ہی معدوم بھی ہو جاتا ہے۔
ناول کا ایک اور کردار دھروا ہے جو بستی کی زندگی میں اہم حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ نسل کشی کے کام آنے والے ،مانا کے زیبو بیلوں کا رکھوالا ہے۔ ان کے لیے پانی اور چارے کا بندوبست کرتا ہے البتہ اس کردار کو ایک علامتی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ خود گھاس پھونس اور سروٹ ہے اور اس کی سوانی ناگری اس کے پہلو سے اٹھ کر ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے۔ وہ کسی کام کا نہیں رہا۔ اس کردار کو زیبو بیلوں کی رکھوالی پر رکھنا اس امر کی پیشین گوئی کرتا ہے کہ اب بستی میںسے زرخیزی ختم ہورہی ہے اور اگلی نسل کے آنے کا امکان نہیں ہے۔خود زیبو بیلوں کے متعلق بھی ایک جگہ پاروشنی ایک ایسا جملہ بولتی ہے جوکئی بار بہ تکرار دھروا کی نامردمی کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے، ’’تو انہیں مر جانے دے مامن… یہ تو گھاس پھونس سے بھی بڑھ کر بیکار ہیں‘‘(ص:۲۱۷)اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ناول نگار نے دھروا کو زیبو بیلوں کا راکھا اسی مقصد کے لیے مقرر کیا ہے۔
پکلی بستی کی زندگی میں سب سے منفرد حیثیت کی مالک ہے۔ وہ پکی مٹی کے برتن بناتی ہے۔گیلی مٹی سے برتن بنا کر پہلے ان پر پھول بوٹے الیکتی ہے اور پھر انہیں اپنے آوے میں پکاتی ہے۔ یہ پکلی استعارہ ہے ہنر مندی اور فنکاری کا۔ ہنرمندی برتن بنانے میں اور فنکاری ان پر پھول بوٹے الیکنے میں۔ یہ کردار ناول کے مرکزی خیال کو ابھارنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ بستی ختم ہونے کو ہے مگر اس نے برتن بنانے کو آوا چڑھا رکھا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ کچھ گھڑے بنا رہی ہے جو دریا کنارے رکھے جائیں تو ان کو خالی دیکھ کر بڑے پانی آ جائیں گے۔ ڈورگا اس کی محبت میں تمام گھڑے ڈھو کر دریا کنارے رکھے آتا ہے اور تب معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھڑے پانی کی پکار کے لیے نہیں بلکہ ایک فنکار کی ’’حیات بعد از مرگ‘‘ کی خواہش کا اظہار ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے مر جانے کے بعد بھی اس کے ہاتھوں سے بنے ہوے یہ شاہکار دیکھ کر لوگ اس کے بنانے والے کی تعریف کریں۔ کون فنکار ہے جو یہ خواہش ذہن میں رکھ کر اپنے فن پارے نہیں تراشتا؟ اور پکلی کی حد تک تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی یہ خواہش پوری ہوئی کہ مستنصر کے ایک اور ناول ’’راکھ‘‘ کے کردار جب ریگستان کی زمین پر ٹھیکریاں دیکھتے ہیں تو وہ پکلی کو یاد کرتے ہیں۔ حقیقت میں نہ سہی مگر مستنصر کے آرٹ میں تو پکلی کی یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
ناول کے آخر پر کرداروں کے مرنے کا بیان بہت خوبصورت ہے اور اس میں مستنصر نے سبھی کرداروں کی انفرادیت قائم رکھی ہے۔ موت سبھی کو آنی ہے، بستی نے خالی ہوناہی ہے لیکن مرنے کا یہ عمل اگر محض موت ہی بن کر رہ جائے تو اس میں فنکار کا کیا کمال ہے۔ فنکار تو تب اپنا آپ منواتا ہے جب اس کے کردارمر کر بھی زندہ ہونے کاشائبہ دیں، یہ احساس رہے کہ یہ لوگ جو مرے ہیں، یہ مرے نہیں ہیں ، بلکہ ناول کے عمل میں انہوں نے پردہ پوشی کی ہے اور اپنی اصل زندگی میں ابھی بھی جیتے ہوں گے۔ مستنصر نے اس ناول کے سبھی بڑے کرداروں کی موت کا بیان ایسے ہی لکھا ہے کہ ان کی موت پر یقین نہیں ہوتا۔ وہ مرے نہیں ہیں ، بس وقت کے ایک لمحے پر نظر آنا ختم ہو گئے ہیں ۔ ان کی سانسیں زندہ ہیں ، ان کے ہاتھ ابھی متحرک ہیں۔ ان کرداروں میں سب سے خوبصورت موت پکلی کی ہے جو مرنے سے قبل آنے والی نسلوں کو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے گئی ہے اور کون ہے جو کہہ سکے کہ پرانے زمانے کے برتن اوران پر الیکے پھول بوٹے دیکھ کر اس کے ذہن میں پکلی کے وہ سوکھے ہاتھ نہ آئے ہو جن کی چابکدستی موت کے اندھیروں سے بھی لڑ جانا چاہتی تھی۔ اس کے بعد دھروا کی موت ہے، جس کی بنیاد ناول میں بہت پہلے رکھ دی گئی تھی اور آخر پر پرانی اسطورہ کے مطابق زیبو بیل اسے کھا گئے اور اب صرف ان کی آنکھیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دھروا اب کہاں ہے۔ دھروا کے بعد سمرو رخصت ہوا اور اس کے جانے کا انداز بھی مستنصر کی فنکاری کا مظہر ہے۔ پورے ناول میں وہ سوتے سے اٹھ کر دریا پر آتا ہے اور پیاسا رہتا ہے اور آخر پر سوکھتے دریا کنارے پر پاروشنی کے ہرے بدن سے سمبھوگ کرکے سیراب ہو کر جاگتے کی دنیا میں واپس چلا جاتا ہے۔ جیسے وہ پاروشنی کے خواب کی دنیا میں آیا تھا اور واپس چلا گیا۔ آخری کردار جو مرتا ہے وہ مامن ماسا ہے ، اپنے کردار کے تقاضے کے مطابق اس نے درخت سے اترنا ہی نہیں اور درخت تو سوکھ رہے ہیں تو پھر وہ کہاں جائے گا؟ وہ بھی وہیں پڑا رہا اور جب درخت ریت ہوے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی ریت ہو گیا۔
ناول کے کردار تخلیق کرتے وقت مستنصر نے وہی کردار ناول میں شامل کیے جو کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے بہت ضروری تھے البتہ ایک کردار ایسا ہے جس کا انہوں نے ناول میں محض ایک جگہ ذکر کیا جو ناول میں مامن ماسا کی طرح ہی کام آ سکتا تھا۔ اس کے ذمے بھی ایسی ہی ذمہ داری تھی جو ایک افسانوی کردار کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔
’’بوٹی بستی میں کتوں کے ساتھ مل کر راکھی کرتا تھا۔ یہ تو نہیں کہ وہاں چرانے کو بہت کچھ تھا یا بستی میں کوئی ایسا تھا جو دوسروں کی چیزوں پر نظر رکھتا ہو پر کبھی ایسا ہوتا کہ بستی کے آس پاس رات دو رات ٹھہرنے والا کوئی تپڑی واس ادھر آ جاتا ہے اور جو کچھ ہاتھ لگتا ، لے جاتا… اور راکھی کی ضرورت یوں بھی تھی کہ کوئی ڈھور ڈنگر کھل کر کہیں چلا نہ جائے۔ ادھر ڈوبو مٹی کی طرف یا ریت میں… تو اس لیے اسے بوٹی راکھا بھی بولتے تھے۔‘‘ ٭۱۸
ناول میں کچھ کردار ایسے بھی ہیں جو انسان نہیں بلکہ جنور اور پکھیرو ہیں۔ ان میں سب سے توانا کردار جو پورے ناول میں اپنی آواز سے مختلف سمعی حسیات پیدا کرتا ہے، مور ہے۔ مور انسان کی جذباتی زندگی کی علامت ہے اور اس ناول میں اپنی اس علامتی سطح کے ساتھ یہ بذاتہٖ بستی کی علامت بن کر بھی ابھرتا ہے۔ بوڑھی جبّو جسے یہ معلوم نہیں کہ وہ کب سے ہے مگر اتنا جانتی ہے کہ جب اس نے چلنا پھرنا سیکھا تو رکھوں میں مور پہلی بار بولا تھا۔ مور کی عمر قدرتی طور پر اوسطاًپندرہ سے بیس سال ہوتی ہے، یوں یہ مور حقیقت میں تو ممکن ہی نہیں ۔ اس لیے ہم اسے علامتی سطح پر ہی لیتے ہیں۔یہ مور بستی کے ساتھ ہی جوان ہوتا ہے اور بستی کی رونق ختم ہونے پراس کے رنگ بھی پھیکے پڑتے جا رہے ہیں۔ ادھر بستی ساری اجڑ چکی ہے اور ادھر مور آخری بار بولتا ہے۔ یہ مور رکھوں کے اندر کے ہولناک سناٹے اور گُمّے کا احساس کم کرتا ہے اور اپنی’ می آئوں‘ سے اس ویرانے میں آواز سے زندگی بھرتا ہے۔ اور ایک مور پاروشنی کے اندر بھی ہے جو کسی خوبصورت جذبے کے ابھرنے پر بے تابی سے بولتا ہے۔ دوسرا کردار بھینسا ہے جو فطرت کی اندھی طاقت کا استعارہ بن کر ابھرتا ہے اور ڈورگا اسے اسی لیے مارتا ہے کیوں کہ یہ وہاں سب سے طاقتور ہے۔ تیسرا کردار پندرو ہرن ہے جو اس بھینسے کا ضد اور فطرت کی خوبصورتی کا استعارہ ہے۔
جانوروں کے یہ کردار اپنی جگہ اہم ہیں اور ناول نگار کے فطرت سے قریب ہونے کا اشارہ دیتے ہیں لیکن ایک بات تعجب کی ہے کہ اس ناول میں جن پوتر بیلوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی تعداد چودہ ہے ، اس کا مطلب ہے کہ وہاں اچھی خاصی تعداد میں گائیں موجود ہیں۔ اور اس کے باوجود پوری بستی میں کسی ایک بھی گائے کا ذکر موجود نہیں، یہ تب کا ذکر ہے جب یہ پوری دنیا گائے کے سینگوں پر کھڑی تھی اور ادھر پورے ناول میں گائے دکھائی نہیں دیتی، محض ایک آدھ دفعہ مکالمے میں اس کا ذکر ہوتا ہے۔ بھینس کا ذکر دو دفعہ ملتا ہے۔البتہ جہاں ذکر ملتا ہے وہاں مستنصر صاحب ایک تضاد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ورچن ایک جگہ ڈورگا سے جھڑک کر کہتا ہے:
’’اچھا میں تمہیں اپنی پیٹھ پر بٹھا کر پار لے جائوں ، میں کوئی بھینس ہوں؟‘‘٭۱۹
اس کہے سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے کہ ورچن بھینس کے اوپر بیٹھ کر دریا پار کرتا رہتا ہے لیکن اس سے اگلے صفحے پر ورچن ڈورگا کو یوں بھینس سے متعارف کرواتا ہے:
’’کالا ہوتا ہے، کالا شاہ۔ رکھوں کے اندر رہتا ہے اور مار ڈالتا ہے۔ پر کئی ایسے ہیں ہماری بستی میں جو جان جوکھوں میں ڈال کر اس کے تھن چنگھ آتے ہیں۔ اس کا ماس بڑا سواد والا ہوتا ہے۔ ‘‘٭۲۰
اور یہاں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی بھینس کو اپنا مطیع کیا ہی نہیں ہے۔ جانوروں کے بیان میں یہ ایک چھوٹا سا تضادہے۔
ناول کی کہانی بہت کسی ہوئی ہے اور اس میں کوئی بھی واقعہ اضافی نہیں ہے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کا جواز ناول میں نہیں بنتا اور نہ ہی یہ واقعہ ناول کے پورے بیانیے میں آگے پیچھے کہیں ربط یا تعلق رکھتا ہے ۔ بس آزاد حیثیت سے بلا جواز یہ واقعہ ناول میں در آتا ہے۔ کچھ کتے سیہہ کے پیچھے رکھ پارکر کے ریت کے علاقے میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سے لوٹتے ہیں تو ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا ہے اور وہ باولے ہو چکے ہیں۔ وہ کتے سیدھے بستی کی طرف جاتے ہیں۔ ان کتوں کے بائولا ہونے کا منظر کافی محنت سے لکھا گیا اور بیانیے میں اسے خصوصی جگہ دی گئی جتنی کہ بارش سے اکھڑنے والے پہاڑی پودے کو، تو آخر یہ کتے اس کے بعد کدھر گئے؟ ناول میں یہ دوبارہ نظر کیوں نہیںآئے؟ محض ایک بار ان کا ذکر ملتا ہے جب پاروشنی ورچن کو بتاتی ہے کہ دھروا کو ہلکائے کتوں نے کاٹ لیا تھا اور اس پر بھی ورچن کا تاثر کچھ خاص نہیںجیسے معمول کی بات ہو۔ اگر ان کتوں کو استعمال نہیں کیا جانا تھا تو پھر انہیں ہلکا کیوں کروایا گیا؟
دو جگہیں ایسی ہیں جہاں ناول نگار تھوڑا سا چُوک گئے ہیں یا پھر ایسا ہے کہ چوُکے نہیں بلکہ صحیح طرح واضح نہیں کر پائے۔ ڈورگا ورچن کے ساتھ پہلی دفعہ بات کرتے ہوے ایک مثال دیتا ہے: ’’میں تو تمہارا نام لے کر کیسے پکارتا، بس ہلکائے ہوے بھینسے کی طرح ڈکراتا تھا کہ شاید تم سُن لو۔‘‘(ص:۸۵)لیکن دو صفحے آگے جا کر جب ورچن اس سے پوچھتا ہے کہ کبھی بھینس کا دودھ پیا ہے تو وہ یوں جواب دیتا ہے: ’’یہ بھی جنور ہے؟ میں نے دیکھا نہیں۔ ‘‘(ص:۸۸)دوسری چوک بھی ڈورگا کے سلسلے میں ہی ہوئی ہے۔ورچن جب ڈورگا کو پکلی کے بارے میں بتاتا ہے تو کہتا ہے کہ ’’پکی اینٹوں کی ہمیں ضرورت نہیںاُدھر، چھوٹی بستی ہے ، موہنجو تو نہیں۔‘‘(ص:۹۰) پھر ڈورگا جب اینٹیں بناتا ہے تو بستی والوں کے لیے تو یہ چیز نئی ہوتی ہی ہے، ورچن کوبھی حیرت ہوتی ہے۔ بلکہ ورچن کے نقطۂ نظر سے وہاں باقاعدہ یہ خیال بیان کیا گیا ہے کہ ’’اس بستی میں یا گھاگرا کے آس پاس کہیں بھی پکی اینٹ کا رواج نہ تھا سوائے دریا کے آگے جو دیوار بنائی جاتی ہے اس کے لیے… اس لیے یہاں پکلی کے آوے کے قریب کھلے میدان میں پانچ سات ہاتھ لمبی چوڑی چاردیواری عجیب ان ہونی لگ رہی تھی … جیسے کسی نے موہنجو کا ایک ٹکڑا اٹھا کر ادھر رکھ دیا ہو۔ ‘‘(ص: ۱۹۱)یہاں تو یہ بات ثابت ہوئی کہ پوری بستی میں اینٹ پہلے کسی نے دیکھی ہی نہیں تھی۔ کیوں کہ صرف ایک عذر بچتا ہے کہ دریا کے آگے دیوار بنانے کے لیے اینٹیں استعمال ہوتی تھیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ پورے ناول میں بستی کے ساتھ جو گھاگرا نظر آتا ہے ، وہاں کوئی دیوارنہیں ہے۔ اس بیان کو ذہن میں رکھ کر شروع کا ایک منظر آنکھوں میں گھوم جاتا ہے جب دھروا پہلی دفعہ بڑے پانیوں کے آنے پر سمٹ کے بیٹھا ہے:’’اس نے اپنے بیٹھنے کا جو پکا چبوترا بنا رکھا تھا ، وہ دس اینٹ اونچا تھا۔ پانی آنے پر وہ اس پر چڑھ کر بیٹھ جاتا۔ اس نے ذرا آگے ہو کر نیچے دیکھا، اس بار پانی پچھلے برس سے ایک اینٹ نیچے تھا۔ شاید ابھی چڑھے گا۔ ‘‘ (۵۲)یہاں اینٹوں کی موجودگی آگے چل کر ڈورگا کی اینٹوں کی اہمیت تو ختم کر دیتی ہے۔ اس منظر میں تھوڑی رعایت دی جا سکتی تھی کہ مصنف نے اینٹ کے ساتھ پکی کا لفظ استعمال نہیں کیا مگراس سے پچھلے صفحے پر انہی اینٹوں کو پکی اینٹیں بتایا جا چکا ہے۔
ان دو چار کمزوریوں کے علاوہ ناول کا بیانیہ کہیں بھی ماٹھا نہیں پڑتا اورایک وسیع و عریض دریا کی طرح پر سکون انداز سے بہتا چلا جاتا ہے۔ اس کے بہائو میں انسان،حیوان، بستیاں،دریا، جنگل، دلدل، کھیت اور پھول اور پھل، بوٹے، پکھیرو، روحیں، آوازیں ، خوشبوئیں، ذائقے، دُکھ سُکھ، ہنسنا رونا، مایوسی اور امید ، ہمدردی اور لاتعلقی، فطرت کی بے رحم طاقت ،انسانی بے بسی، سبھی بہتے چلے جاتے ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ رُک جائے، ٹھہر جائے۔ خوشی ہے تب بھی جانی ہے، غم ہے تو بھی لمحاتی ہے۔اگر کوئی چھوٹا موٹا نقص ہے بھی تو وہ ایسے برابر ہو جاتا ہے جیسے بہتے پانی کی سطح پر نیچے تہہ کے ٹوئے ٹبے نظر نہیں آتے۔ یہی طاقتو ر بیانیہ اس ناول کو اردو کا ایک اہم ترین ناول ٹھہراتا ہے۔
٭٭٭

حوالہ جات
۱۔ ممتاز احمد خان ،ڈاکٹر،’’ اردو ناول کے چند اہم زاویے‘‘،کراچی، انجمن ترقی اردو پاکستان،2004ء، ص:۱۸۹
۲۔ محمد نعیم، ’’بہائو یا زندگی‘‘،مشمولہ،’’ ڈان‘‘، یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا، 2006،ص:82
۳۔ مستنصر حسین تارڑ،’’بہائو‘‘،لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز، 2004ء،ص: ۲۴۱
۴۔ ایضاً، ص:۷۱
۵۔ ممتاز احمد خان ،ڈاکٹر،’’ اردو ناول کے چند اہم زاویے‘‘،کراچی، انجمن ترقی اردو پاکستان،2004ء، ص:۱۹۵
۶۔ مستنصر حسین تارڑ،’’بہائو‘‘،لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز، 2004ء، ص:۲۳۵
۷۔ ایضاًص:۲۵۵
۸۔ ایضاً،ص: ۱۹-۲۰
۹۔ ایضاً، ص:۴۹
۱۰۔ ایضاً،ص:۳۵
۱۱۔ محمد نعیم، ’’بہائو یا زندگی‘‘،مشمولہ،’’ ڈان‘‘، یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا، 2006،ص:۸۵
۱۲۔ مستنصر حسین تارڑ،’’بہائو‘‘،لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز، 2004ء،ص: ۲۲۰
۱۳۔ ایضاً،ص:۱۷۰
۱۴۔ ایضا،ص:۱۶۱
۱۵۔ محمد افضال بٹ، ڈاکٹر، ’’اردو ناول میں سماجی شعور‘‘، اسلام آباد، پورب اکادمی، اول، اپریل، 2009ء، ص:۳۳۹
۱۶۔ ص:۱۲۶
۱۷۔ مستنصر حسین تارڑ،’’بہائو‘‘،لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز، 2004ء،ص: ۲۵۶
۱۸۔ ایضاً، ص:۱۹۷
۱۹۔ ایضاً، ص:۸۷
۲۰۔ ایضاً،ص:۸۸
٭٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں