بیلی ڈانس : رقص شرقی / رقص شکم

بیلی ڈانس
بیلی ڈانس

روایت ہے کہ بیلی ڈانس کی ابتدا ہندوستانی راجاؤں کے دربار سے ہوئی لیکن اب یہاں اس کی موجودہ شکل کا نام و نشان تک نہیں حالاں کہ ہندوستان میں رقص مختلف قومیتوں کی ثقافت کا جزوِ لاینفک ہے۔ خود ہندو مت میں اس کو مذہبی حیثیت حاصل ہے اور رقص کو عبادت کا درجا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف تہواروں جیسے نوراتری میں مرد و زن ڈانڈیا رقص کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے ہاں بھی کسی نہ کسی حیثیت میں مثلاً صوفیاء کے ہاں رقص یعنی دھمال کی شرعی اجازت ہے۔

عمومی طور پر اسے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی عورتوں کے رقص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انگریزی میں بیلی ڈانس Belly Dance, عربی میں رقص شرقی/ رقص بلدی، فارسی میں رقص عربی/ رقص شکم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

اصطلاح “بیلی ڈانس” کا سہرا عام طور پر سول بلوم Sol Bloom کو دیا جاتا ہےجو 1893 میں ورلڈ کولمبیائی نمائش شکاگو میں ورلڈ فیئر کے تفریحی ڈائریکٹر تھے۔ یہاں مصری تھیٹر میں رقاصاؤں کو دیکھتے ہوئے بلوم نے “الجزائر کا رقص مراکش” پیش کیا۔

رقاصہ جس نے محفل لوٹ لی اور اسے بعد میں مقبول بنایا اور شہرتِ عام سے ہم کنار کیا، فاطمہ تھیں جسے ‘مصرِ صغیر’ بھی کہا جاتا تھا۔ فاطمہ کا اصل نام فریدہ مزار سپائروپلوس تھا۔ فاطمہ کے کیے گئے رقص کو ہوچی کوچی ” “Hootchy-Kucchy” یا “ہوچی کوچی hootcy Coochee بھی کہا جاتا ہے۔ آج کل hootchy-kucchy کے لفظ کا مطلب ایک شہوانی یا شہوت انگیز ناچ لیا جاتا ہے۔

بیلی ڈانس میں رقاصہ ساز کی تھاپ پر اپنے پیٹ، کولہوں، پستان اور دیگر اعضا کی تھرتھراہٹ کے ساتھ‍ خاص قسم کا آہنگ پیدا کرتی ہے جو تماشائیوں پر سحر طاری کر دیتی ہے۔

مغرب میں بیلی ڈانس کے لیے پہنا جانے والا لباس عثمانی عہد کے حرم کا خاص عربی طرز کا بدلہ (جوڑا) ہے جسے معمولی رد و بدل کے ساتھ‍ استعمال کیا جاتا ہے۔ بِدلہ خاص جھانجھروں، سکوں اور گھنگروؤں پر مشتمل کناریوں والے چھاتی پوش اور کمر پوش کا ایک جوڑا ہوتا ہے۔ پیٹ کے ارتعاش کو واضح دکھانے کے لیے چھاتی پوش مختصر ہوتا ہے اور پیٹ کو برہنہ رکھا جاتا ہے، جبکہ کمر پوش مخصوص گھاگرے کی شکل کا ہوتا ہے جس میں عموما کولہوں کو دونوں اطراف سے برہنہ رکھا جاتا ہے تاکہ سرینوں کی تھرتھراہٹ کو واضح محسوس کیا جا سکے۔ کلاسیکی عثمانی حرم کے طرز کا جامہ پیروں تک ہوتا ہے لیکن اس کو مختصر یا لمبا کیا جا سکتا ہے، جبکہ چھاتی پوش اس سے الگ رکھا جاتا ہے تاہم ان دونوں کو ایک جوڑے کے طور پر بھی وضع کیا جاتا ہے۔ کمر پوش اور چھاتی پوش کے لیے باہم ملتے جلتے اور بھڑکیلے رنگ منتخب کیے جاتے ہیں۔

مصر میں 1950ء سے مختصر لباس میں اس رقص پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے وہاں ایک لمبے لیکن چست چغے میں یہ رقص کیا جاتا ہے۔ مصر میں حسب روایت یہ رقص ننگے پاؤں ہی کیا جاتا ہے لیکن اب شوخ جوتوں یہاں تک کہ ایڑی والے جوتوں کے ساتھ‍ بھی کیا جانے لگا ہے۔ لبنان میں پیٹ کی نمائش پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے “بدلہ“ طرز کا ملبوس رائج ہے اور پیروں میں جدید طرز کے جوتے پہنے جاتے ہیں۔ لبنان میں بدلہ کے ساتھ ساتھ‍ عبایہ میں بھی اس رقص کا رواج ہے۔ جدید ترکی میں ٹانگوں کی حرکات کے کولہوں سے لے کر پنڈلیوں اور ایڑی تک واضح مظاہرے کی غرض سے لہریہ پٹی دار گھاگرا پہنا جاتا ہے۔ اس لباس میں شوخ چنچل پن اور بھونڈا پن دوسرے مروجہ لباسوں کی نسبت زیادہ ہے۔ امریکا میں اس رقص کے ملبوس عموماً ترکی اور مصر سے ہی منگوائے جاتے ہیں تاہم وہاں پر عثمانی طرز کے حرم جامے نہایت مقبول ہیں جن پر سنہری دھاتوں کے گول سکے، گھنگرو اور طلائی دھاگے کا کام رائج ہے۔

رقص میں تنوع لانے کے لیے اس میں مختلف اوزار بھی شامل کیے جاتے ہیں جیسے ہاتھ کی جھانجھ، چھڑی، نقاب، شمع دان، تلوار اور آگ کی چھڑی وغیرہاس رقص میں بدن کے تمام اعضا کی الگ الگ لیکن ہم آہنگ حرکت بیرونی جلد کی بجائے اعضاء کے اندرونی پٹھوں کی ماہرانہ حرکات سے عمل میں لائی جاتی ہے۔ مصری اور لبنانی رقاصائیں خاص طور پر سرینوں کے پٹھوں کی حرکت پر رقص کو مرکوز رکھتی ہیں۔

اس رقص کے کچھ سادہ عناصر یہ ہیں

کولہے تھرکانا: اس عمل میں کولہوں اور سرینوں کو خاص انداز میں ارتعاش دے کر اور پیروں کی نہایت تیز لیکن ہم آہنگ تتکار کے ذریعے رانوں اور سرینوں میں دلکش تھرتھراہٹ پیدا کی جاتی ہے۔ کولہوں اور رانوں کی تھرتھراہٹ نیچے اور اوپر ارتعاش کے علاوہ دونوں اطراف کی جانب بھی کی جاتی ہے۔ اس عمل کو شمی کہتے ہیں۔ شانوں کی شمی سے مراد کاندھوں اور پستانوں میں ارتعاش پیدا کرنا ہے۔

سرینیں لہرانا: اس عمل میں سرینی پٹھے کو مرتعش کر کے سرین کے دونوں پاٹوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے لہرایا جاتا ہے۔ اس میں رقاصہ کے تن کا بوجھ دونوں پیروں پر بھی ایستادہ کر کے لہر پیدا کی جاتی ہے اور ایک پیر پر بوجھ ڈال کر دوسری ٹانگ کی حرکت کے ذریعے بھی یہ عمل دہرایا جاتا ہے۔

دائروی لہریا:یہ عمل سرینوں اور پستانوں کو دائروی انداز میں میں رواں لہر دے کر کیا جاتا ہے۔ یہ دائروی لہر دائیں سے بائیں اور آگے سے پیچھے، ہر دو اطراف میں کی جا سکتی ہے۔ اس میں زیادہ تر پیٹ کے پٹھے کی قوت صرف کی جاتی ہے۔ اس عمل کو یوں سر انجام دیا جاتا ہے کہ اس سے اونٹ کی سواری کا تاثر پیدا ہو۔اگرچہ اب یہ رقص مغرب میں خاصا مقبول اور عام ہے لیکن مشرق وسطی بالخصوص مصر، لبنان یا ترکی کے رقاصاؤں کی ایک دنیا دیوانی ہے۔مصری بیلی رقاصاؤں میں سمیعہ جمال، زینت علوی، نجوی فواد، فیفی عبدہ وغیرہ، ترکی کی مشہور بیلی رقاصاؤں میں تولے قاراچہ، نسرین توپ قاپی، بیرگل بیرائی اور دیدم وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں