بلند ترین پہاڑوں کے شکاری

برفانی چیتے
برفانی چیتے

برفانی چیتے ، سنو لیپرڈ ، پہاڑوں کی آسیبی بلیاں ، بلند ترین پہاڑوں کے شکاری

تحقیق و تحریر : عبدہ

برفانی چیتے جنہیں “پہاڑوں کے آسیب یا آسیبی بلیاں” یعنی گھوسٹ آف ماونٹین بھی کہا جاتا ہے، انوکھی اور دلفریب “بڑی بلیاں” ہیں جو چوٹیوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ انہیں کرہ ارض کی بلند ترین جگہوں کے سفیر بھی کہتے ہیں اور مقامی افراد کے نزدیک مقدس روح سمجھے جاتے ہیں ۔ برفانی چیتا ایک ایپکس پریڈیٹر ہے یعنی غذائی زنجیر میں سب سے اوپری درجے کا شکاری ہونے کے سبب اس کی موجودگی ایک صحت مند ایکو سسٹم کو ظاہر کرتی ہے۔


برفانی چیتا اپنی بے مثل خوب صورتی کے لئے مشہور ہے۔ اس کی گہری رنگت کی کھال پر نیم سفید اور زردی مائل نقوش کے ساتھ سیاہ دھبے ہوتے ہیں اور ان دھبوں کو “rosettes” کہتے ہیں جس کا مطلب “اعزاز یا تمغے کے طور پر پہنا جانے والا گلاب کا پھول” ہے۔ یہ نشان ہر چیتے پر ویسے ہی منفرد ہوتے ہیں جتنے انسانی فنگر پرنٹ۔ بڑی بلیوں کی دیگر اقسام کی نسبت برفانی چیتے کا حجم درمیانہ ہوتا ہے۔ ان کی چوڑائی ۶۰ سینٹی میٹر ہوتی ہے اور یہ عموما ۱.۸ سے ۲.۳ میٹر تک لمبے ہوتے ہیں۔ ان کی دم ایک میٹر لمبی ہو سکتی ہے ۔ مادہ چیتے کا وزن تقریبا ۳۵ سے ۴۰ کلو گرام ہوتا ہے یعنی مادہ بہت سمارٹ اور دلکش ہوتی ہے، جبکہ نر چیتے کا جسمانی وزن ۴۵ سے ۵۵ کلو تک ہو سکتا ہے۔ ان کی ہلکی سرمئی اور سبز آنکھیں بھی انہیں دیگر بڑی بلیوں سے ممتاز کرتی ہیں۔


برفانی چیتا جینس پینتھرا سے تعلق رکھتا ہے اور اس جینس میں ٹائیگر، شیر، چیتے اور جیگوار بھی آتے ہیں۔ اگرچہ ان کا عمومی نام ظاہر کرتا ہے کہ برفانی چیتے عام چیتوں کے نزدیکی رشتہ دار ہو سکتے ہیں مگر جینیاتی طور پر یہ ٹائیگر سے زیادہ قریب ہیں۔ اس وقت محض۴۰۰۰ سے ۷۰۰۰ برفانی چیتے اپنے قدرتی مسکن میں آزاد پائے جاتے ہیں۔ ان کی چھلاوہ فطرت اور بلند پہاڑی مسکن میں رہنے کے سبب ان کی درست تعداد جاننا یا ان پر تحقیق کرنا بہت مشکل ہے۔ چین میں برفانی چیتوں کی سب سے بڑی آبادی ہے جو تقریباً ۲۵۰۰ چیتوں پر مشتمل ہے اور دوسرے نمبر پر منگولیا ہے جہاں تقریباً ۱۰۰۰ برفانی چیتے پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں کل بارہ ممالک ہیں جو برفانی چیتے کا علاقہ شمار ہوتے ہیں ۔ ان میں چین، بھارت، منگولیا، روس، بھوٹان، افغانستان، نیپال، کرغستان، قازقستان، تاجکستان ، پاکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ چین ۲۵۰۰، منگولیا ۱۰۰۰، انڈیا ۶۰۰، نیپال ۵۰۰، کرغیزستان ۵۰۰، پاکستان ۵۰۰، تاجکستان ۲۰۰، افغانستان ۲۰۰، بھوٹان ۲۰۰، ازبکستان ۵۰ ہیں یہ سب محتاط اندازہ ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سارے ملکوں کی سرحدیں بلند پہاڑوں پر ہیں اور جہاں ان کی گنتی کرنا مشکل ہے وہیں ان کی ایک سے دوسرے ملک نقل و حرکت کی وجہ سے تعداد بارے بتانا بھی مشکل ہوجاتا ہے لہذا برفانی چیتے کی تعداد پر جو بھی اعدادو شمار بتائے جاتے ہیں وہ محتاط اندازہ ہوتا ہے۔


یہ عموماً ۳۰۰۰ سے ۵۵۰۰ میٹر کی بلندی پر پائے جاتے ہیں جبکہ روس اور منگولیا میں برفانی چیتے ۶۰۰ میٹر کی اونچائی تک بھی پائے گئے ہیں۔ برفانی چیتے کے گھر کا علاقہ کتنا وسیع ہو سکتا ہے، اس کا انحصار شکار کی دستیابی پر ہے۔ ایک چیتے کے خاندان کا گھر یا ان کے شکار کا علاقہ ۶۰ مربع کلو میٹر سے ۱۰۰۰ مربع کلو میٹر تک کے علاقے پر مشتمل ہوتا ہے۔
ہمارے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ برفانی چیتا دنیا میں ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے لیکن حیران کن طور پر پاکستان میں اس کی تعداد بڑھ رہی ہے اور خبجراب نیشنل پارک، واخان کوریڈور، شمشال پاس اور بیافو ہسپر کے علاقے میں مقامی لوگوں کے بیانات کے مطابق برفانی چیتے بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ اس بات کی تصدیق WWF کی ایک رپورٹ سے بھی ہوتی ہے جن کے مطابق پاکستان میں حکومتی کوششوں، سخت حفاظتی اقدامات اور بلندی پر رہائش پزیر لوگوں اور چرواہوں کو تربیت دینے کی وجہ مارخور مارکوپالو شیپ اور آئی بیکس کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان جانوروں کی تعداد بڑھنے سے برفانی چیتے کی خوراک بڑھ گئی ہے اس لئے چین اور ازبکستان سے بہت زیادہ ہجرت کرکے ادھر آ رہے ہیں۔
برفانی چیتے کی کچھ اقسام کشمیر، کاغان اور گلیات میں بھی پائی جاتی ہیں جنہیں گلدار کہتے ہیں اور یہ اکثر آبادی کے قریب و مارگلہ میں نظر آتے رہتے ہیں۔ یہ قسم اصل میں کامن لیپرڈ میں سے ہے جو کم بلندی والے علاقوں میں رہتے ہیں۔


برفانی چیتے کی عادات بھی کچھ انوکھی ہوتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے علاقائی نشان یا حد بندیوں کے طریقے سے رابطہ کرتے ہیں۔ مثلا پنجوں سے کھرچ کر نشان بنانا، فضلہ چھوڑنا، چٹانوں پر پیشاب کی بوچھاڑ کرنا ، درختوں کی چھال کو پنجوں سے نوچنا اور اپنا چہرہ پتھروں اور چٹانوں کی سطح پر رگڑ کر اپنی بو چھوڑنا۔ دوسری بڑی بلیوں کے برعکس برفانی چیتے دھاڑ نہیں سکتے البتہ وہ غرا سکتے ہیں ، “ہسسس” کی مخصوص آواز نکالتے ہیں ، تھوکتے ہیں اور بدمزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی انجن کے سٹارٹ ہونے جیسی آواز پیدا کرتے ہیں۔
افزائش نسل کے موسم میں وہ بلند چیخ نما آواز نکال کر ساتھی ڈھونڈتے ہیں اور یہ خاصی دور تک گونجتی ہے۔ افزائش نسل کے موسم کے علاوہ برفانی چیتے تنہا رہتے ہیں۔ کبھی کبھار بہن بھائی اپنی ماں سے الگ ہونے کے بعد کچھ عرصہ تک ساتھ رہتے ہیں۔ برفانی چیتا غروب آفتاب اور صبح صادق کے وقت زیادہ متحرک ہوتا ہے اور چوں کہ یہ رات کو شکار کرتا ہے تو رات کا وقت اس کی سرگرمیوں کا ہوتا ہے جبکہ انسان دن کو کام کرتا ہے تو اس لئے انسانوں اور برفانی چیتوں کا آمنا سامنا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ جن علاقوں میں انسانی آبادی بہت کم ہے وہاں یہ دن میں بھی متحرک ہو سکتا ہے۔


برفانی چیتے افزائش نسل کے لئے سال میں صرف ایک بار متحرک ہوتے ہیں اور جنوری سے وسط مارچ تک جوڑے بناتے ہیں ۔ اس عرصے کے دوران ان کا نشان بنانے اور ساتھی کی تلاش میں غرا کر پیغام محبت پہنچانے کی سرگرمی خاصی بڑھ جاتی ہے۔ مادہ دو سے بارہ دن تک ملاپ کے لئے تیار رہتی ہے اور حمل کا عرصہ نوے سے ایک سو تین دنوں پر محیط ہوتا ہے۔ افزائش نسل کے مخصوص موسم کے نتیجے میں بچے بہار کے اواخر یا گرما کے شروعاتی دنوں میں پیدا ہوتے ہیں اور اپنی اماں جان کے ساتھ سردیوں تک مضبوط ہونے کے لئے ان کے پاس وافر وقت ہوتا ہے۔ ایک مادہ ایک وقت میں دو سے تین بچوں کو جنم دیتی ہے۔ پیدا ہونے کے بعد چار سے چھ ہفتے بچے کسی پوشیدہ اور محفوظ جگہ پر ہی چھپے رہتے ہیں اور باہر نہیں نکلتے۔ پھر اٹھارہ سے بیس مہینے کا وقت ماں کی دم سے بندھے رہنے کے بعد وہ اپنی آزاد اور جدا زندگی شروع کر دیتے ہیں اور دو سے تین سال کی عمر کا برفانی چیتا بالکل جوان ہو کر نسل بڑھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق جنگلی برفانی چیتے کی عمر دس سے بارہ سال ہوتی ہے۔


برفانی چیتے نے اپنے ماحول کی سختیوں اور موسم کے زیر اثر کئی تبدیلیوں کو اپنایا ہے۔ وہ اپنی لمبی اور گھنے بالوں والی خوب صورت دم کو ایک سے دوسری چٹان پر چھلانگ لگاتے ہوئے نہ صرف توازن قائم رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں بلکہ وہ اسے کسی مفلر کی مانند اپنے بدن پر لپیٹ کر خود کو سردی سے بھی بچاتے ہیں۔ ان کے پیٹ اور سینے کے بال بارہ سینٹی میٹر گھنے ہوتے ہیں اور برف میں چلتے ہوئے چیتے کو ٹھنڈک سے محفوظ رکھتے ہیں۔ برفانی چیتے کی اگلی ٹانگیں چھوٹی جبکہ پچھلی نسبتا لمبی ہوتی ہیں اور یہ ساخت اسے چٹانوں پر چڑھنے اور مشکل جگہوں پر آسانی سے حرکت کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ان ٹانگوں کی بدولت چیتا 15 میٹر لمبی اور چھ میٹر اونچی چھلانگ لگانے کے قابل ہوتا ہے۔ چوڑے پنجے برفانی جوتوں کا کام دیتے ہیں اور برفانی چیتا برف میں سرعت سے حرکت کرتا ہے اور ان کی مدد سے عمودی چٹانوں پر بھی مضبوط گرفت قائم رکھتا ہے۔ دیگر بڑی بلیوں کے مقابلے میں برفانی چیتے کے نتھنے زیادہ بڑے ہوتے ہیں اور ان کی مدد سے چیتے کے پھیپھڑوں تک پہنچنے والی یخ ہوا گرم ہو جاتی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ بلند جگہوں پر اچھی طرح سانس لینے کے لئے برفانی چیتے کے خون میں آکسیجن کی مقدار کسی بھی عام گھریلو بلی جتنی ہی ہوتی ہے۔ محققین تاحال اس بات کا کھوج نہیں لگا سکے کہ اتنے کم آکسیجن لیول کے ساتھ برفانی چیتا خود کو انتہائی بلندیوں پر کیسے زندہ رکھ پاتا ہے۔


برفانی چیتے کی بنیادی غذا مارخور، مارموٹ، آئی بیکس اور بلیو شیپ ہوتے ہیں۔ جن علاقوں میں زیادہ بڑے جانور نہیں پائے جاتے وہاں چھوٹے جانور مثلا مارموٹ وغیرہ ان کی بنیادی خوراک بن جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برفانی چیتا مکمل طور پر گوشت خور نہیں ہے بلکہ کبھی کبھار چند سبزیاں بھی چکھ لیتا ہے اور کبھی کبھار تو وہ مکمل طور پر سبزی خور بھی ہو جاتا ہے کیونکہ فضلے کے کئی ایسے نمونے ملے ہیں جو مکمل طور پر پودوں کی باقیات پر مشتمل تھے۔ بلیوں کی دیگر نسلیں بھی کبھی کبھار سبزی خوری کرتی ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی برفانی چیتے کی مقدار میں پودے نہیں کھاتے۔ جہاں جنگلی شکار بہت کم ہو، وہاں برفانی چیتے اکثر بھیڑ بکریوں پر حملہ بھی کرتے رہتے ہیں۔


اس خوب صورت جاندار کو بدلتے ہوئے ماحول اور غیر قانونی شکار کی بدولت معدوم ہو جانے کا خطرہ لاحق ہے اور یہ IUNC کی ریڈ لسٹ میں شامل ہے۔ برفانی چیتے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ پہاڑوں پر رہنے والی جنگلی حیات جو سرد ماحول کی عادی ہے وہ درجہ حرارت بڑھنے سے مزید بلند علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں تاہم بلندیوں پر ان جانوروں کے لئے بہت کم چارہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ برفانی چیتے کی خوراک میں کمی آئی ہے۔ پالتو مویشیوں کی بہت زیادہ مداخلت کے سبب جنگلی جانوروں کے لئے خوراک کم ہو گئی ہے لہذا برفانی چیتوں کا شکار کے حصول کی خاطر انسانی آبادیوں سے فاصلہ کم ہو گیا ہے۔ وہ کئی علاقوں میں مویشیوں پر حملہ کرتے ہیں کیونکہ آسان اور وافر مقدار میں شکار بھیڑ بکریوں کی صورت میں ہی دستیاب ہے۔ ان علاقوں کے لوگوں کا واحد ذریعہ آمدن یہی جانور ہوتے ہیں اور اپنے نقصان کا بدلہ لینے کے لئے وہ برفانی چیتوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔


دوسرا بڑا خطرہ غیر قانونی شکار ہے۔ لوگ انہیں ان کی قیمتی کھال اور ہڈیوں اور دیگر اعضا کے لئے قتل کرتے ہیں۔ ان اعضا کا استعمال قدیم ادویات بنانے میں ہوتا ہے جو کہ سراسر حماقت اور سفاکیت کی انتہا ہے۔ ایک شکار کئے گئے برفانی چیتے کی بدولت یہ دیہاتی اپنی سال بھر کی آمدن کا 75 فیصد کما لیتے ہیں۔


لوگوں میں اس حسین اور معصوم جانور کے متعلق بہت کم آگاہی بھی ایک سبب ہے اور لوگ یہ نہیں جانتے کہ انسانی مداخلت اور زمین کے ظالمانہ استعمال کے باعث برفانی چیتے کتنی بڑی مشکل کا شکار ہیں۔ کسی بھی نوع کو معدوم ہونے سے بچانے کے لئے سب سے ضروری مرحلہ لوگوں کو اس متعلق علم دینا ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں ان کا احترام کیا جاتا ہے اور مقدس سمجھا جاتا ہے اور کئی مقامی افراد ان کے بچاؤ کے لئے ان ریوڑوں کے مالکان کے ساتھ تنازعات کا سامنا بھی کرتے ہیں لیکن اپنے مویشیوں کو برفانی چیتے سے بچانے کے لئے وہ ان کے علاقوں میں جانور کو روکنے کے بجائے برفانی چیتے کو مارنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔ کئی ایسی تنظیمیں بھی موجود ہیں جو برفانی چیتے کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہیں اور ان کے پروگرام میں مقامی افراد کے لئے مال مویشی کے علاوہ دوسرے ذرائع آمدن کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے تا کہ وہ مکمل طور پر جانوروں پر منحصر نہ ہوں اور برفانی چیتے کو لاحق خطرہ کم کیا جا سکے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں