بے ضمیروں کے نام

شاعر : گل بخشالوی

, بے ضمیروں کے نام

قیامِ امریکہ 2006 میں لکھی ایک نظم

یہودی بزدلوں نے گل ہے خریدا بے ضمیروں کو
ہدایت دے خدا ، تو ان سیاست کے فقیروں کو


لگائی ہے انہوں نے آگ اپنے پاک گلشن میں
وطن اور دین کی غیرت نہیں ہے ان کے دامن میں
انہی گھر کے چراغوں نے ہی تو ناشاد رکھا ہے
انہی خود غرض لوگوں نے وطن برباد رکھا ہے
یہ مغرب کے پجاری ہیں وطن کا نام لیتے ہیں
یہ اپنے دیس کے گل سے سروں کے دام لیتے ہیں
صدائے حق میںجواپنا وطن گلفام کرتے ہیں
انہیں سْولی پہ لٹکا کر بڑا بدنام کرتے ہیں
یہ ملّائی سیاستدان مغرب روپ جیتے ہیں
یہ مذہب کے لبادے میں وطن کا خون پیتے ہیں


یہودی بزدلوں نے گل ہے خریدا بے ضمیروں کو
اْڑادیتے ہیں یہ ظالم خود اپنے بے نظیروں کو


یہ ظالم کون ہیں چہرے نقابوں میں لیے آئے
یہ مومن تونہیں اسلام کا بہروپ اپنائے
یہ خودکش لوگ جو معصوم کو بم سے اْڑاتے ہیں
جو گلشن دیس میں انسانیت زندہ جلاتے ہیں
جلاتے ہیں گل وگلشن عظیم الشان دھرتی میں
لگی ہے آگ ان ہاتھوں سے پاکستان دھرتی میں
غریبوں کو جلاتے ہیں ،گھروں میں خون کرتے ہیں
گلی کوچے،سڑک پر آئے دن معصوم مرتے ہیں
سوات ودیر ووانا اور وزیرستان کے گلشن
سیاحت کے حسیں مرکز وہ پاکستان کے گلشن
مہکتے پھول سے بچے ،گلوں میں کھیلنے والے
وہ فطرت کے مناظر میں خدائی کے حسیں بالے
وہ غیرت مند دھرتی کے،خدا بستی کے رکھوالے
محمدمصطفیٰ کے دین کے ذی شان متوالے
نکل آئے گھروں سے بے سروساماں فقیروں سے
ہوا گلشن وہاں خالی ،وہاں کے گل ضمیروں سے


میں کیسے مان لوں مومن خدایا بے ضمیروں کو
جلا کر راکھ کر دیتے ہیں ظالم بے نظیروں کو


مجھے معلوم ہے ،میں جان کر انجان بیٹھا ہوں
مجھے اعزاز ہے بس یہ کہ میں سلطان بیٹھا ہوں
مرادشمن ہے جس نے روس کی طاقت ہواکردی
اسی نے قوم افغانی کو بھی دھرتی جلاکردی
فلسطینی کو اس نے زندگی بھرخوں رْلایا ہے
عرب کی سرزمیں پر اک یہودی کو بٹھایا ہے
حسینی سرزمیں پر خون کا اک کھیل جاری ہے
عراقی قوم پر اب زندگی کا بوجھ بھاری ہے
کہاں جینے دیا کشمیریوں کو پھول دھرتی پر
برستی ہے وہاں پر ظلم کی ہر دھول دھرتی پر
یہ آزادی دلانے کو کبھی لبنان جاتے ہیں
کیا ہے فیصلہ اب یہ چلوایران جاتے ہیں
عرب سے تیل لے کر یہ اْنہیں ہتھیار دیتے ہیں
بڑے خوش وہ کہ جیسے یہ اْنہیں گلزار دیتے ہیں
مرادشمن بڑا بے چین ہے اب چین جانے کو
وزیرستان تک آیا تو ہے ،سوغات لانے کو


خدا محفوظ رکھے اب وطن کے گل اسیروں کو
نہیں چھوڑیں گے یہ ظالم تو اب کے بے نظیروں کو


میں دہشت گرد ہوں دنیا میں یہ پہچان ہے میری
بڑا اعزاز ہے کیا قوم کی اب آن ہے میری
بڑا چرچا ہمارا ہے ،کہ ایٹم بم بنایا ہے
جسے افواجِ پاکستان نے گھر میں سجایا ہے
ہمیں دعویٰ بھی ہے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں
محمدمصطفیٰ کی بھی تو ہم پہچان رکھتے ہیں
مگر آتے ہیں سجدے کیلئے دربارِ مغرب میں
سکون ملتا ہے دیدوں کو ،ملیں سرکار مغرب میں
ملی ہے ہم کو آزادی مگر غیرت نہیں آتی
ہمارے ذہن سے اْن کی وہ نگرانی نہیں جاتی
وطن میں عظمت ِاسلام کا جونام لیتے ہیں
چلے آتے ہیں مغرب میں یہاں کے جام لیتے ہیں


یہاں وہ دام لیتے ہیں سدا اپنے ضمیروں کا
جوقتلِ عام کرتے ہیں وطن میں بے نظیروں کا

شیئر کریں
والدین کا دیا ہوا نام : سبحان الدین ۔ قلمی نام : گل بخشالوی ۔ تعلیم : میٹرک ( پرائیویٹ ) پیدائش 30مئی 1952 ۔ مقام ِ پیدائش : بخشالی ضلع مردان،خیبر پختونخواہ ۔مادری زبان : پشتو شاعر کالم نگار ادب دوست ، ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں۔ ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز1984ء حال مقیم کھاریاں شہر ضلع گجرات پنجاب (پاکستان)

کمنٹ کریں