سنڈے اسپیشل کالم ’’بےادبی‘‘

عورت سے باوضو ہو کر لکھنے کا مطالبہ نہ کیجئے

کالم نگار : مشرف عالم ذوقی

, سنڈے اسپیشل کالم ’’بےادبی‘‘

میں نے عارفہ شہزاد کے ناول میں تمثال ہوں کا مطالعہ کیا تو مجھے یقین تھا ، بہت سارے مرد اور عورتوں کو یہ ناول آسانی سے ہضم نہیں ہوگا . عورت تخلیق کار ہے ، تو اس سے یہ امید کیوں کی جاتی ہے کہ وہ باوضو ہو کر ہی لکھنے بیٹھے گی ؟ سیمیں کریں ، صدف اقبال ، مہر افروز ، انجم قدوائی ، افشاں ملک ، رابعہ الرباء ، فارحه ارشد ، منیزہ احتشام ، سینکڑوں نام ، کیا ایسا نہیں کہ ان کے فکری دروازوں کو بند کرنے کی سازش ہو رہی ہے .. میں نے عارفہ کی کتاب پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ، عشق کی پر پیچ پگڈنڈیوں کا مشاہدہ کرنا آسان نہیں ہوتا . سوواں عشق بھی عشق ہوتا ہے اور اس میں وہی لمس ہوتا ہے جو پہلے عشق کا حصّہ ہے . تمہارے یہاں زبردست روانی ہے اور داستان کو خوبی سے بیان کرنے کا ہنر ہے . یہ سات عشق دراصل زندگی کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے فلسفے ہیں ، جہاں انسان کے لئے اپنی عریانیت کو ڈھاپنا بھی ایک چیلنج ہے . بچپن اور جوانی کے جن قصوں کی تم نے مثال دی ہے ، اس سے کون نہیں گزرتا . مجھے اس ناول میں تم کہیں نظر نہیں آئی کیونکہ مصنف تو معاشرے کی حقیقت کو اپنی عینک سے دیکھ رہا ہوتا ہے . ہم میں سے اب بھی کچھ نقاد ، کچھ قاری ، اور کچھ مصنف بھی ، اگر کہانی عورت نے لکھی ہے ، تو چٹخارے لے کر اس عورت کو تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں .عصمت آپا ، عینی آپا ، یہ زیادتیاں سب کے ساتھ ہوئیں . ہم اب بھی ایک تنگ نظر معاشرے کا حصّہ ہیں جہاں عورت کو وہ سچ لکھنے کی آزادی نہیں جو مردوں کو حاصل ہے .تمہاری سب سے بڑی کامیابی ہے کہ تم نے آگ کے دریا کو آسانی سے پار کر لیا .


میں لولیتا اور اسکے کرداروں کو یاد کرتا ہوں۔ہمبرٹ ، جو اس ناول کا مرکزی کردار ہے ، اپنی تیرہ سالہ گرل فرینڈ انابیلی کو چھوٹی عمر میں ہی کھو دیتا ہے۔ انابیل بیماری کے سبب مر جاتی ہے۔۔ ہمبرٹ کواس کی موت سے صدمہ ہوتا ہے۔ وہ اسے فراموش کرنے سے قاصر ہے۔بہت برسوں بعد جب اس کی نگاہ لولیٹا پر پڑی تو اس کے زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں۔ اس نے لولیتا میں کھوئی ہوئی محبت کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس نے نے لولیتا کی ماں سے شادی کی۔ اس دوران ، اس کا لولیتا کے ساتھ جسمانی رشتہ بھی تھا۔ایک بوڑھے آدمی کی محبت اور ایک جوان لڑکی کے ساتھ جسمانی رشتہ۔ ہمبرٹ رشتے میں لولیتا کا سوتیلا والد تھا۔ لولیتا کوئی ادبی ناول نہیں ہے مگر اس ناول میں یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ جسم کی سطح پر دیکھنے والی آنکھیں تبدیل ہوئی ہیں۔ ڈی ایچ لارینس نے بھی عورت اور مرد کے رشتے کو موضوع بنایا تو سیکس کے مطالبے بھی حاوی تھے۔ لیڈی چٹرلی کا محبوب ایک مالی ہے۔اسکا خاوند اپاہج۔ جسم دریا کی طرح اپنے راستے بناتا ہے۔ ٹالسٹائی اپنے ناول ایننا کارنینا میں اس بات سے واقف ہے کہ ایلیٹ کلاس کے مرد ایننا سے کیا چاہتے ہیں اور ایننا کی اپنی خواہشیں اور مطالبات کیا ہیں۔


ایک دلچسپ واقعہ یاد آ رہا ہے۔ایک ادبی محفل جس میں راہی معصوم رضا ، ابن صفی ، ابن سعید اور عباس حسینی کے علاوہ کئی اور مصنف بھی بیٹھے تھے، اور دیوکی نندن کھتری کے ناول چندرکانتا پر بحث چل رہی تھی۔۔ اچانک راہی معصوم رضا نے ایسی بات کہی کہ کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔ راہی معصوم رضا نے کہا کہ کوئی بھی جاسوسی ناول جنسی حوالوں کے بغیر مقبول نہیں ہوسکتا۔ ۔


جب ادب کی بات ہوگی تو سات پردوں کے اسرار سے سیکس ، جسم ، مطالبات کی پریاں بھی نکل کر آ سکتی ہیں۔ فلاوبرٹ گستاؤ کا ناول ہے ، مادام بواری۔ایما بواری میڈم بواری کی زندگی سے گزرتے اس ناول میں محبت ، جنسی آسودگی ، لذت نفس کو ضرورت کے تحت پیش کیا گیا ، کیونکہ اس کے بغیر مدام بواری کو سمجھنا آسان نہیں تھا . سیکس کی لذت محض چٹخارہ نہیں ہے ، زندگی کی ضرورت بھی ہے . مگر اس حقیقت کو عورت لکھے تو مجرم . ضمیر الدین احمد کی ایک کہانی ہے .چاندنی اور اندھیرا ۔نفیس ایک شادی شدہ عورت ہے۔شوہر کا تبادلہ دوسرے شہر میں ہوتا ہے تو وہ اپنے محبوب کو گھر بلا لیتی ہے۔ اس کا بیٹا منا بیمار پڑتا ہے اور دم توڑ دیتا ہے۔لاش رکھی ہے اور نفیس اس ماحول میں بھی اپنے محبوب کی طرف دیکھتی ہے۔نعش ہے، اندھیرا ہے اور جسم ہے۔۔۔اور پلنگ کے نیچے ایک چھوٹا سا کپڑاہے ۔ اس نے زیر لب ”نہیں“ کہا اور ٹین کی اس ٹوکری میں ڈال دیا جو پچھواڑے کی کھڑکی کے نیچے رکھی ہوئی تھی اور جس میں بیلے کے دو مرجھائے ہوئے ہار پہلے سے پڑے تھے۔ پھر وہ کھڑکی بند کر کے گنگناتی ہوئی نیچے چلی گئی۔


منٹو پر فحش لکھنے کا الزام لگا تو عصمت پر بھی لگا . تہمینہ درانی نے انگریزی میں لکھا تو معاشرے کی حقیقت کھول کر رکھ دی . آپ ڈی ایچ لارینس سے لے کر مارگیٹ شرائنر تک کن کن کو طریقہ دستور کا سبق پڑھاتے رہیں گے۔ لارنیس کے یہاں مرد، عورت کے رشتوں پر، کئی کئی صفحات تک اتنی تفصیل ملتی ہے کہ آپ اُس پر عریانیت کی مہرلگا سکتے ہیں۔ لیکن کیوں؟ ممکن ہے، جوائس ہوں یا لارینس…. ایسے کہنے والے یہ کہہ کر آپ پلّا جھاڑیں کہ اُن کے اور ہمارے سماج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔


لیکن کیسا فرق؟ جسم اور بھوک کی سطح پر آپ اِس فرق کی کس طرح تعریف کریں گے؟ ”اُن کا کپڑا میرے کپڑے سے زیادہ سفیدکیوں“ کی طرح میرا سیکس اُن کے سیکس سے الگ کیوں؟ جیسی تمثیلیں جسم کو لے کر کبھی قبول نہیں ہوسکتیں۔ ادب کی اپنی سلطنت ہے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات یاد آرہی ہے۔ جب جیمس جوائس کی کتاب ’یولی سیز‘ کو لے کر عریانیت کا مقدمہ چلا، تو جیوری نے یہ کتاب کچھ ایسی موٹی عورتوں کو پڑھنے کے لئے دی جوفربہ اندام اور سیکس میٹنگ نظر آتی تھیں_ مقدمے والے دن جب اُن عورتوں سے پوچھا گیا کہ کیا اِس کتاب کو پڑھنے کے دوران آپ میں سیکس کے لئے کوئی اشتعال پیدا ہوا ؟ تو اُن عورتوں کا یکطرفہ جواب تھا_ ’نہیں‘۔


اچھا ادب جانگھوں سے گزر سکتا ہے لیکن اشتعال پیدا نہیں کرتا . عورت سے باوضو ہو کر لکھنے کا مطالبہ نہ کیجئے

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم
4 کمنٹ
  1. Avatar

    یہاں میں اس اقتباس کے مصنف سےاتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کے دوسروں کے کلچر میں فحاشی پر قید نہیں ۔ جبکہ ہمارہ معاشرے میں جو کہ اسلامی معاشرہ کہا جاتا ہےء ۔ فحاشی منع ہےء۔۔ مردوں کو جسم ڈھکنے پر اتنی پابندی نہیں جتنی عورتوں پر ہےء اسکی وجہ پر غور کریں۔ اسی لیے عورت اگر جنسی یا فحاشی پر قلم اٹھاےء تو متعدد تنقید کا شکار ہو جاتی ہےء ہمیں اس تنگ نظری سے باہر آنا ہوگا
    دوسرے راہی معصوم رضا کا کہنا کہ جاسوسی جنسی حوالوں کے بغیر مقبول نہیں ہو سکتا میں اس سے متفق نہیں ہوں ۔‌کیوں کہ ابن صفی کے جاسوسی ناول جنسی اشتعال اور فحاشی کے بنا مقبولیت کے عروج پر ہیں آج بھی
    ۔۔۔ قاضی نصرت علی خان۔۔۔۔

    Reply
  2. Avatar

    لفظ لفظ بدبودار
    ہم تو سمجھے تھے کہ کوئی بہت بڑے ادیب و دانشور ہیں یہاں تو صفر صفر سے بھی ان کا گراف پستی میں چلا گیا ہے

    مطلب ادب اور عریانیت فحاشی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے یا ادب بغیر بدی کے تخلیق نہیں ہوسکتا تو پھر بہتر ہے

    Reply
  3. Avatar

    کالم نگار سے پوری طرح متفق

    Reply
  4. Avatar

    بالفرض اگر اشتعال پیدا بھی ہو تو کیا اس سے وہ ادب بُرا قرار پاجائے گا
    میں نے لڑکپن میں جب منٹو کو پڑھا تھا تو میری ٹانگوں کے درمیان سرسراہٹ ہوتی تھی اور میں بس یونہی کسی فقرے پہ مشتعل ہوجاتا تھا میں نے جب ادبی مطالعے کی اچھی تہذیب کرلی تب میرے ساتھ یہ صورت حال نہیں رہی میں نے اُس کے بعد سینکڑوں مرتبہ منٹو کو پڑھا اور دیگر لوگوں کو پڑھا مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا
    اصل میں جنس بارے ہماری تہذیب کی بہت ضرورت ہے
    کل ہی اس ناول کو میں نے پڑھا ہے

    Reply

کمنٹ کریں