بہن کے موضوع پر شاعری

elder sister and brother studying at home
Photo by Andrea Piacquadio on <a href="https://www.pexels.com/photo/elder-sister-and-brother-studying-at-home-3769981/" rel="nofollow">Pexels.com</a>

بہنیں بھائیوں کا مان ہوتی ہیں اور گھر کی شان ہوتی ہیں۔ مشرقی روایات میں بہنوں کی اہمیت پر بے تحاشا لکھا گیا۔ مختلف بہترین شعراء نے اس موضوع پر بڑے خوبصورت اشعار تخلیق کیے۔ آئیے کچھ شعر پڑھتے ہیں:

بہن کا پیار جدائی سے کم نہیں ہوتا
اگر وہ دور بھی جائے تو غم نہیں ہوتا
نامعلوم
۔
بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے
سید ضمیر جعفری
۔
زندگی بھر کی حفاظت کی قسم کھاتے ہوئے
بھائی کے ہاتھ پے اک بہن نے راکھی باندھی
نامعلوم
۔
ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاں
نمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاں
دیپک پروہت
۔
ثابت تو رہ جفا پہ میں قائم وفا پہ ہوں
میں اپنی بان چھوڑوں نہ تو اپنی آن چھوڑ
مصحفی غلام ہمدانی

بہن کے موضوع پر شاعری

مائیں سہتی ہیں کس قدر دکھڑے
بہنیں ہوتی ہیں کتنی دکھیاری
فرخ زہرا گیلانی
۔
شام پر شام ابد تھی بھائی
کتنی بہنوں کی ردائیں ہوئیں رد
بلال اسود
۔
میں شاکرؔ بے ردا بہنوں کے سر پہ
ردائیں اوڑھ دینا چاہتا ہوں
محمد عثمان شاکر
۔
تجھے گھر سے بھگا سکتا ہوں تیرے
مگر بہنوں کا چہرہ مارتا ہے
علی رضا رضی
۔
ہمدرد ہوں غیور ہوں اور پرخلوص ہوں
اے کارساز بہنوں کو اب ایسے بھائی دے
زیب النسا زیبیؔ

بہن کے موضوع پر شاعری

بھائی بہنوں کی محبت کا نشہ مت پوچھیے
بے تکلف ہو گئے تو گدگدی تک آ گئے
افتخار فلک کاظمی
۔
لوگ اب اس کو بھی اوتار سمجھ لیتے ہیں
چھین لیتا ہے جو بہنوں کی ردائیں بابا
گلشن بیابانی
۔
امبر سے کہہ دو بادلوں کو اب رہا کرے
جھولوں کی رت ہے بہنوں کا آنگن اداس ہے
سردار پنچھی
۔
موت سے رشتہ مرا ماں کی طرح ہے سعدیؔ
زندگی لگتی ہے مجھ کو سگی بہنوں کی طرح
سعدیہ صفدر سعدی
۔
بھائی سبھی پسند کی شادی کے حق میں تھے
بہنوں نے خواب دیکھے تو غیرت میں آ گئے
احمد سجاد بابر

بہن کے موضوع پر شاعری

ان گلی کوچوں میں بہنوں کا محافظ کون ہے
کسب زر کی دوڑ میں بستی سے ماں جائے گئے
طالب جوہری
۔
یہ بیٹوں کے سر بھائی کا خوں بہنوں کی چیخیں
عبرت ہو اگر ہم کو یہ سوغات بہت ہے
قاضی احتشام بچھرونی
۔
امن کے خواہاں ہیں جب افسرؔ جہاں والے تمام
کشمکش رہتی ہے پھر اتنی جہاں بانوں میں کیوں
افسر میرٹھی
۔
جس سے اس ننھے بچے کی ماں بہنوں کا قتل ہوا
موسم گل کا ہر اک منظر خونی منظر لگتا ہے
آشا پربھات
۔
ایمان کی چھاگل پھوٹ گئی اعمال کی لاٹھی ٹوٹ گئی
ہم ایسے گلہ بانوں کے سب ناقے خوف قتال میں ہیں
ارشد عبد الحمید

اب تک تھے وابستہ جو الفاظ کے تانوں بانوں سے
اپنی قیمت مانگ رہے ہیں بے قدرے انسانوں سے
شکیل حیدر
۔
بہنوں کی محبت کی ہے عظمت کی علامت
راکھی کا ہے تہوار محبت کی علامت
مصطفی اکبر
۔
سگی بہنوں کا جو رشتہ رشتہ ہے اردو اور ہندی میں
کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا
منور رانا
۔
کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا
اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا
منور رانا

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں