بے نام حسرتیں

حسرتیں, بے نام حسرتیں

بقلم: زیبا گلزار (سمبڑیال, سیالکوٹ

 
“بے نام سی حسرتیں”
 
 کافی دن سے لکھنے کے لیے موضوع نہیں سوجھا کئی بار کوشش کی لیکن ناکام رہی سمجھ ہی نا آتی کہ مدعا کیا ہے لیکن آج ایک کا موضوع ایسا ہے جو خودچل کر پاس آیا۔ جو من وعن حقیقت پر مبنی ہے۔
ہماری تہذیب اور خاص کر دیہات میں رہنے والے تو اس چیز سے آگاہ ہوں گے کہ کوئی بھی شادی, بیاہ, یا خوشی کا تہوار,کسی کے ہاں بچے کی پیدائش ہو تو کچھ لوگ اس کا صدقہ مانگنے, مبارک باد دینے آتے ہیں جو عرف ِعام میں “خواجہ سراؤں کے گروہ یا پھر میراثی بھی کہے جاتے ہیں۔کچھ افراد پر مشتمل یہ گروہ گھر گھر گا بجا کر اپنا حصہ لیتا ہے۔ یہی ذریعہ معاش ہے اورموروثی پیشہ بھی۔۔۔۔
بہر حال گاؤں میں یہ گروہ آتے ہی رہتے ہیں لیکن کبھی خاص توجہ نہیں دی مگر آج ہمارے ہمسایہ میں وہ آئے۔عام گویوں ,میراثیوں کی طرح شادی کی مبارک بادی وصول کرنے ہی آئے اس سے پہلے بھی کئی بار آچکے تھے لیکن آج قابلِ توجہ ان کے ساتھ ایک کم عمر چمٹا بجانے والا “اسد” تھا۔جی ہاں اسد سلامت جس نے اپنی عمر 8 سال بتائی چمٹا بجانے میں ماہر, تھوڑا بہت گانے والوں کے ساتھ راگ بھی لگا لیتا۔ آواز سن کر عمر کا اندازہ تو ہوا لیکن حیرت اسے سامنے دیکھ کرہوئی وہ  عمر جو8سال بتا رہا تھا کہیں سے بھی نہیں لگ رہی تھی۔
 
خیر آج کا میرا تجربہ:وہ کمزور سی صحت ,گہری گندمی رنگت والا,آنکھوں میں شوخی اور ہوشیاری بھرے لیکن شکل سے معصوم بچہ اسد ملا۔جو پہلے تو ہمارے گھر آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا لیکن ساتھ  آئے بڑے کے کہنے پراندر آگیا۔۔۔۔ جب آیا تو قدرے شرمارہا تھا پیار سے بلانے پر اس میں مزید اعتماد آیا۔اس سے جو بات چیت ہوئی گووہ  سب پنجابی میں تھی لیکن اردو میں ملاحظہ ہو۔ 
 نام “اسد”,والد کانام  “سلامت” ہے۔ جب پوچھا کیا کرتے ہو؟ فخریہ انداز میں جواب “چمٹا بجاتا ہوں۔” مجھے حیرت بھی ہوئی اس کی دیدہ دلیری پر ۔۔۔
اسکول کا پوچھا کہ کیوں نہیں جاتے؟بہت معصوميت سے استفسار ہوا”کیا ٹھیک نہیں بجاتا؟” اس سوال پر مجھے پیاربھی آیااور ترس بھی ۔وہ بہت چھوٹا بچہ جس کے ہاتھ ابھی محض کھیلنے کودنے,ذہن نئی نئی چیزیں دیکھنے اور آنکھیں کئی خوشیاں تلاش کرنے کےلیےتھیں کئی فکروں کا بوجھ اُٹھائے ہوائےتھا۔
بہن بھائیوں کا پوچھنے سے پتا چلاکہ وہ 4بھائی اور 4 ہی بہنیں ہیں۔ بھائی کوئی 8 ,6,7 سال کے۔۔”دو بہنوں کی شادی کردی ہے دو کی ابھی کرنے والی ہے”جن کی عمر بالترتیب6, 4 سال ہے۔ ماں کوٹھیوں میں کام کرتی اور یہی کام بہنوں کے لیے بھی ہے۔ یہ اپنےطور پر بہت اعلیٰ کام تھا۔
اس ننھے بچےکاخواب بڑا ہو کر بہت بڑا ہوکر موٹر سائیکل کی دوکان پرکام کرنا تھاکہ اس میں پیسے زیادہ ملتے ہیں۔
ابھی وہ “یہی”کام کر رہا ہے باقی بھائی نہیں کرتے چوں کہ ان کو سرجیکل کے کام سےنسبتاً زیادہ پیسے مل  جاتے ہیں۔اور اسے سارے دن کی مزدوری 300 روپے ملتی ہے۔ جو اسے کافی ہے۔
 
معمول یہ ہے کہ صبح سویرے اٹھنا اپنے مخصوص فن کا ریاض کرنااور پھر سارا دن گاؤں گاؤں, گھرگھر جا کر ناچ گاناکرکے پیسے لینا ہے کبھی زیادہ مل جاتے اور کبھی کم۔۔میں نےاستفسار کیا اسکول نہیں جاؤ گے ؟کہنے لگا۔”جاؤں گا”لیکن یہ  فن بچے کے ہاں اولین ترجیح ہے۔میرے باربار اسکول کے اصرار پر کہنے لگا پہلے سارا دن اپنا چمٹا بجایا کروں گا اوردن کے دوسرے حصے اسکول جایا کروں گا۔
 
میں نے  پوچھا کیا تم ساری زندگی یہی کام کرتے رہو گے پڑھ لکھ کر بڑے آدمی,افسر نہیں بنو گے؟ “بنوں گا,ضرور بنوں گا” کچھ اطمينان روح کو ہوا اب مجھے اس بچے سے بات کرتے لطف آرہا تھا۔ گھر کا پوچھا تو حیرت انگیز حد تک اسے اتنی سی عمر میں تمام علاقے اور بڑی حد تک ان کے ناموں اور مضافات پر عبور تھا۔اپنے گھر اس کے اردگرد کے علاقے, اپنے “پکے گھر” کا علاقہ جو بہت دور تھا وہ بھی یاد تھا۔ جب ہم اس عمر میں تھے شاید اپنے گاؤں کہ گلیاں بھی یاد نہ ہوں جس طرح اسے  تمام علاقوں کے نام ازبر تھے۔میں نے بار بار کہہ کر اسکول  جانے کے لیے اسے کہا وہ بھی مجبوراً کہہ دیتا جی جاؤں گا ایک دفعہ کہتا پیسے کماؤں گا کام کروں گا تو دوسری دفعہ پھر پڑھوں گا ۔مجھے ہنسی بھی آئی اور رنج بھی ہوا۔
ایسا نہیں کہ وہ کبھی پڑھنے  نہیں گیا عام ماں باپ کی طرح روایت کے طور پر بھیج دیا سرکاری ادارے جہاں اس کے مطابق جانے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ 30 تک گنتی اسے یاد تھی۔
اور باقی گنتی؟ میں نے پوچھا اگر زیادہ پیسے مل جائیں تو وہ کیسے گنو گے؟کچھ دیر سوچ کے بعد گویا ہوا وہ تو گن ہی لوں گا۔پھر ہم نے کھیل کھیل میں نوٹوں کے رنگ دیکھے جو اسے کافی پتا بھی تھے۔ نوٹ پر ٹوپی والا ہوتاہے۔میں نے پوچھا وہ کون قائدِ اعظمؒ؟ کہا گیا ہاں۔کیا ِکیا اس نے؟ میرا اگلا سوال ۔۔۔بقول موصوف اگر وہ نا ہوتا تو دنیا نا بنتی اسے سمجھایا کہ نہیں۔انہوں نے پاکستان بنایا ہے جس میں ہم  سب رہتے ہیں۔عجب حیرت سے بولا اس اکیلے نے بنا دیا پاکستان ؟ اکیلے پر بہت زوردےکر پوچھا گیا,میں نے بھی کہہ دیا ہاں اکیلے نے بنایا۔
 
اگلی بات جو میرے لیے انتہائی افسوسناک تھی وہ یہ کہ مسجد گئے ہو قرآن پاک پڑھنے تو جاتے ہوگے,سیپارا وغیرہ کچھ بھی۔۔؟لیکن جواب نفی میں تھا گیا لیکن جمعہ پڑھا ہے میں نے۔ان الفاظ نے شدیدحیرت,دکھ ملال کا دھچکا دیا۔
اسکی آنکھوں میں بھی تھے شرارے تھے خوشی کے, آگے بڑھنے کے ,کچھ کرنے کے بہت ذہین تھا لیکن ذمہ داریاں گھر کے اخراجات,سفر نے اسد اور اسکے بہن بھائیوں سے ان کابچپن چھین چکے تھے۔
 
لیکن کوئی ہمارے لیے یہ اتنی انوکھی یا انہونی بات بھی نہیں تھی جانے کتنے بچے تھے جو محروم تھے بنیادی دینی و دنیاوی تعلیم سے۔لیکن وہ اپنی زندگی میں مطمئن ہیں خوش ہیں۔ ۔۔۔۔اتنی سی عمر میں وہ بچہ پیسا خرچ کرنے کی بجائے پیسہ لا کر دیتا ہے اور کیا چاہیے؟”پڑھ لکھ کرکیا کر لے گا کونسا افسر بن جاوے ہے” یہی ذہن اور زبان پر ہےنہ صرف اس طبقےکےافراد بلکہ بدقسمتی سے معاشرے میں بھی۔۔۔۔میراثی,بھانڈ  کی اولاد ہے گویا وہی بنے گی جو باپ دادا تھےاور کیا بن جانا حالاں کہ یہ ایک فن ہے یہ بھی آرٹ ہے اگر صحیح طریقتمے سے تعلیم حاصل کی جائے تو بہت بہتر ہے۔مگر یہ سب کی نظر میں بہت کم تر لوگ اور کام ہیں۔ ایسا کیوں ہے ہم ایسے کیوں ہے یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
  کیا انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بھی عام بچوں کی طرح رہیں اگر ان کے گھر کا ماحول ایسا ہے تو ان کے ذہن کا بدلا جائے بات چیت کی جائے ان کے مسائل دیکھے جائیں۔ تربیت وپڑھائی کی رغبت دلائی جائے۔کئی بچےجو child labourer کا شکار ہیں بچ جائیں یہ کس کا کام ہے؟قانون کس لیے بنتے ہیں۔حکومت کو یہ خواجہ سرا,میراثی یا مغنیوں کے مسائل نظر کیوں نہیں آتے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔اور ہمبحثیت پاکستانی,مسلمان,انسان,شہری  کہاں کھڑے ہیں۔۔کیا ہماری کوئی ذمہ داری نہیں؟؟؟
اسد کو آواز دی گئی آکر کھانا کھا لو اور وہ سامنے گھر لپکا کچھ پیسے اسے دیے جو مجھے ٹھیک لگا اور پیار سے رخصت کیا ۔وہ چلا گیا لیکن اسکی باتیں ,حالات,اعتماد,حسرتیں وہ کسی نامعلوم سی تلاش میں کھوجتی آنکھیں مجھے بھولے نہیں بھولتیں کل سے ابھی تک وہ چہرہ میرے سامنے ہے اوربار بار سوال اٹھا رہا ہے “آخر کیوں؟؟؟؟؟”
 

شیئر کریں
مدیر اعلیٰ
مصنف: Zaiba gulzar
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔
2 کمنٹ
  1. Avatar

    ایسے اور بہت ننھے اسد ذمہ داری کے بوجھ تلے دب کر بچپن کے رنگین دنوں کھو دیتے ہیں

    Reply
  2. Avatar

    بالکل ایسے کئی اسد ہیں

    Reply

کمنٹ کریں