بے پناہ شادمانی کی مملکت

بے پناہ شادمانی کی مملکت: سیاست، صحافت اور شدت پسندی کے تکون کی تفہیم

مضمون نگار : اقبال حسین

, بے پناہ شادمانی کی مملکت

دودہائی قبل ’دی گاڈآف اسمال تھنگز‘ سے شہرت کے آسمان پر پہنچنے والی معروف مصنفہ ارندھتی رائے کا دوسرا ناول ’دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس‘ 2017 میں فکشن کے افق پر نمودار ہوکر قارئین و ناقدین کی توجہ کا مرکز بنا اور اب تک پچاس سے زائد زبانوں میں منتقل ہو چکا ہے۔


معروف ادیب رحمٰن عباس لکھتے ہیں ’جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں اگر اس عہد میں اردو کی کوکھ سے سیاسی ناول پیدا نہ ہوئے تو اردو بیمار زبان تصور کی جائے‘۔پروفیسرآرا کے ذریعہ ناول The Ministry Of Utmost Happinessکا اردو کے قالب میں ڈھلنا ، نہ صرف رحمٰن صاحب کے لئے تقویت کا سامان ہے بلکہ اردو کے عام قارئین کے لئے بھی خوش آئندبات ہے۔ارجمند صاحبہ دہلی یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی پروفیسر ہیںاور ترجمہ نگاری کے فن کی ماہر ہیں۔ رالف رسل کی سوانح سے لے کر انگریزی اور ہندی کی درجنوں کتابوں کو اردو میں منتقل کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس کا ترجمہ بامحاورہ ،سلیس اور رواںہونے کے ساتھ ہی ادبی و تخلیقی معیار کے لحاظ سے اصل سے قریب تر ہے۔ دوران مطالعہ بعض اوقات قاری پر اس کے طبع زادہونے کا خیال گزرنے لگتا ہے کیوںک خود مصنفہ کی تصدیق کے مطابق ناول کی کہانی پرانی دلی اور کشمیر پر مبنی ہونے کی وجہ کر اس کا کثیر حصہ بنیادی طور سے اردو میں ہی تخلیقی شعور میں نمو پاکر انگریزی میںصفحۂ قرطاس پرابھرا ہے۔


امریکہ کی سرمایہ دارانہ استعماریت ہو کہ اسرائیل کا درندہ صفت نو آبادیاتی پروگرام ، ریاستی ظلم و استبداد ہو کہ فرقہ وارانہ تعصبات ان جیسے نازک اور اہم موضوعات پر ارندھتی کا قلم ہمیشہ ہی کاٹ دار اور زرخیز رہا ہے۔ اقلیتوں اور کمزور طبقوں کے حقوق کی ایک نہایت ہی بلند، بے باک، نڈراور مضبوط آواز کا نام ارندھتی رائے ہے۔ گجرات کے مسلمانوں کا قتل عام میں ملوث سیاست کو تنقید کرنے کا معاملہ ہو یا ڈیموں کی وجہ کر بے گھر ہونے والی آبادی کے حقوق اور بازآبادکاری کا مسئلہ، ارندھتی کا قلم نا انصافی اور ظلم کے خلاف ہر جدو جہد میں بے باک اور نمایاںہے۔ گالیوں، قتل کی دھمکیوںاور بغاوت کے مقدمات نے ان کے استقلال اور استقامت میں ذرہ برابر بھی فرق نہیںڈالا ہے۔
بیس سالوں تک انہوں نے نان فکشن کے ذریعہ جدید ریاست کے بگاڑ کے مختلف پہلوؤں پر اپنا تخلیقی جوہر دکھایا۔ 2014 کے بعد کے ہندوستان کے تیزی سے تبدیل ہوتے سیاسی منظرنامے کے خط و خال کو محفوظ کرنے کے لئے بقول مصنفہ نان فکشن کا دامن محدود ہوتا محسوس ہو رہا تھا اس لئے ادبی فکشن کی وسعت کاسہارا لینا ناگزیر ہوگیاتھا۔ نتیجتاً ، گارشیا مارکیزکے ناول ’One Hundred Years of Solitude‘ کی طرح کا بلا شبہ ایک بڑا ناول وجود پاتا ہے۔ سیاسی مواد سے لیس اس ناول میں مصنفہ نے ا پنے کرب کے بیانیہ کے لئے میجک ریئلزم کے عناصر کو بڑی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ برتا ہے۔قصہ گوئی کے ہنر نے ناول میں سیاسی و مزاہمتی علامتوں کے امتزاج میںکمال صناعی اورانتہا درجے کی باریکی سے کام لیا ہے کہ دوران مطالعہ قاری، ناول کے کسی نا کسی کردار میں خود کو ڈھلتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے ۔


بقول فیض احمد فیض:
دامن درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اک دن دل پرُ خوں کا نظارہ دیکھو
یہ ناول ایک بالکل ہی مختلف فضا اور ماحول کی دین ہے اس لئے اپنے انفرادی اور سیاسی رنگ کے ساتھ اس کا پلاٹ کافی گھماؤدار اور قدرے پیچیدہ ہے ۔ مصنفہ کے خاص نثری اسلوب نے مختلف طرح کے شوخ رنگوںکے امتزاج سے ایک پرکشش مگر المناک قوس قزح تعمیر کیا ہے۔ اس ناول کا قاری دوران مطالعہ زبان و بیان کی لذت سے جسقدر محظوظ ہوتا ہے اسی قدر اس کے مواد اور منظر و پس منظر کے ادراک و تفہیم پر انگشت بدنداں بھی ہو جاتا ہے۔
’قبروں کے درمیان راستہ ٹھک ٹھکاتی ہوئی ان کی چشم بینا چھڑی راہ میں پڑی شراب کی خالی بوتلوں اور متروکہ سرنجوں
سے ٹکرا کر موسیقی پیدا کر رہی تھی۔ انجم نے انہیں روکا نہیں ۔ اسے معلوم تھا وہ لوٹیں گے۔ تنہائی کے چہرے کا نقاب
کتنا ہی دبیز کیوں نہ ہو، وہ جب بھی اسے دیکھتی، پہچان لیتی تھی ـ ………….. اور تجربے نے اسے سکھایا تھاکہ ’ضرورت‘ ایک ایسا گودام ہے جس میں بے رحمی کے لئے بھی خاصی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔‘


کہانی کا آغاز اور اختتام ،دونوں ہی قبرستان جیسے المناک مگر طنزآمیز استعارے پرہیں۔ ’مسلمان کا ایک ہی استھان! قبرستان یا پاکستان!‘ جیسے نعروں کی ہولناکی اور دہشت کو مصنفہ نے بڑی شدت سے محسوس کیا ہے ۔ مگر انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے پاکستان کسی بھیانک اور ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے اور ان دنوںپوری دنیا میں اقلیتوں کے لئے ’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ کی حیثیت سے قبرستان ہی ایک قطعی متبادل ہے۔ اس ناول کی خوبی یہ ہے کہ واقعات اور کرداروں کی بہتات کے باوجود انجم اور تلوتما کے کردار اور کہانی کی مرکزیت کی گونج نے پورے پلاٹ پر اپنی موجودگی کو قطعی اہم اور نمایاںبنا رکھا ہے۔


فصیل بند شہر جہان آباد کے چتلی قبر علاقے میںجہاں آرا بیگم اور ملاقات علی کے یہاں طویل انتظار کے بعد آفتاب کی پیدائش نویدشادمانی سے کم نہیں ہے تبھی نو مولود کے مبہم جنسی عضو کا ماں پر منکشف ہونا دہشت کی شکل اختیار کر لیتاہے۔ بجلی کے کوندے کی سی سرعت سے کئی گرم و سرد احساسات ان کے ذہن پر یکے بعد دیگرے گزرجاتے ہیں اسی حالت میں ان کے شعور کی سماعت میں ایک لفظ ’ہیجڑا‘کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ماں اپنے آفتاب کے اس نقص سے نجات کے لئے حضرت سرمد شہید کی مزار پرحاضرہوکر سرگوشی کرتی ہے: ’میں اسے یہاں آپ کے پاس لائی ہوں۔اس کا خیال رکھیے اور مجھے سکھائیے کہ کس طرح اس سے محبت کروں‘۔ ملاقات علی پر جب آفتاب کی اس حقیقت کا راز کھلتا ہے تو پریشان ہونے کے باوجود بڑی بردباری سے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے جدید طب میںاس مسئلے کے حل کے لئے اعتماد کرتے ہیں۔ دوسری طرف آفتاب میں مردانگی کی خصوصیات کو ابھارنے کی غرض سے اپنے مبینہ جد امجد چنگیزخاں کی بہادری و دلاوری کے قصے سنا نا شروع کر تے ہیںمگر چنگیز خاں کے بر عکس آفتاب کی فطرت اس کی بیوی بورتہ خاتون کے کردار کو قبول کر نے کی طرف مائل ہے۔ عین شباب کے دنوں میں آفتاب کی فطرت کو شاہ جہان آبادکے ترکمان گیٹ پر واقع ’خواب گاہ‘ اور اس کے مکینوں کے یہاں اپنی متلاشی دنیا کا پتہ ملتا ہے اور وہ انجم کے نام سے خواب گاہ کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیتی ہے۔


2002 میں انجم اجمیر شریف کی درگاہ کی زیارت کے بعد گجرات کے احمدآباد میں ولی دکنی کی مزار پر فاتحہ گزارنے پہنچتی ہے اور اس پر قیامت بیت جاتی ہے۔ یہاں ارندھتی رائے کے قلم نے مسلمانوں کے قتل عام کا نقشہ اس فنکارانہ اختصار سے کھینچا ہے کہ قتل عام کی جزئیات اپنی پوری تفصیلی سفاکی کے ساتھ عیاں ہے۔ گجرات کے ان آدم زاد درندوں کے ’سو بھاگیہ‘ بننے کا تصور کر کے انجم کا ذہن مفلوج ہونے لگتا ہے۔دہلی پہنچ کر وہ خواب گاہ کو خیر باد کہہ دیتی ہے اور ایک قبرستان(غالباٌ مہدیان)میں ’جنت گیسٹ ہاؤس‘ کے نام سے ’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ تعمیر کرتی ہے جہاں دنیا میں حیات تنگ کردیئے گئے لوگوں کے لئے امید اور زندگی سے بھرپور ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے۔


تلوتما یا تلو(ایسا قیاس ہے کہ مصنفہ خود ہی اس کردار میں ہیں)، جس کی تعلیم آرکیٹیکچرمیں ہے اور ایک انقلابی کارکن ہے ناول کا بہت ہی اہم کردار ہے۔تلوتما کے سہارے ہی ناول کا قصہ کشمیر کی حسین و دلفریب وادیوں میں انسانیت سوزی کی باریک تفصیلات کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ تلوتما کے تینوں عاشق ناگا ، بپلب اور موسیٰ کے تکون سے کشمیر کے موجودہ حالات کے لئے ذمے دار شدت پسندی، سیاست اور صحافت کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ تلو تما اپنے عاشق موسیٰ یسوی سے ملاقات کی خاطر کشمیر کا سفر کرتی ہے اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ موسیٰ کی بیوی عارفہ اور بیٹی جبین کو ملٹری کی گولی لگنے سے موت ہو جاتی ہے اور وہ شدت پسند گروہ میں شامل ہوجاتا ہے ۔حکومت کی طرف سے سفارت کاری کے عہدے پر تعینات بپلب ، ناگا کو تلوتما کی رہائی میں مدد کے لئے بھیجتا ہے۔ یہاں امریک سنگھ اور پنکی کے کردار کے ساتھ شیرازسنیما کے کردار حقوق انسانی کی پامالی سے پردہ اٹھانے میں بہت ہی اہم ہیں۔ جا بجا خون کے گرم چھینٹوں اور دھبوں ، مہیب چیخوں اور نعروں سے ناول کے منظرو پس منظر میں ابھرتے شوراور سناٹے کی بازگشت سے سیاست کی بساط پر پیادوں کی زندگی و موت کے عیارانہ کھیل سے نقاب کشائی ہوتی ہے۔


’اس طرح شورش شروع ہوگئی۔ موت ہر جانب تھی۔موت ہر شئے تھی۔ کرئیر،آرزو، خواب، شاعری، عشق،
خود جوانی بھی۔ موت جینے کا بس ایک اور قرینہ بن گئی۔ قبرستان اگ آئے ، پارکوں اور چراگاہوں میں،
چشموں اور ندیوں کے ساحلوں پر، کھیتوںاور جنگلوں کے سبزہ زاروں میں۔ قبروں کے کتبے زمین سے
یوں اگنے لگے جیسے چھوٹے بچوں کے دانت‘۔
صدام حسین ،ایک دلت کردار جو انجم کے ساتھ جنت گیسٹ ہاؤس میں رہتا ہے وہ سیاست کی پشت پناہی میں نچلی ذاتوں پر ہورہے مظالم اور گائے کے تحفظ کی آڑ میں ماب لنچنگ کی حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ چھتیس گڑھ کے آدی باسیوں پرحکومت کی شہہ سے پیرا ملٹری کی بربریت اور درندگی کو اْدَیہ جبین کے کردار کے ذریعہ اجاگر کیا گیا ہے۔ جہاں اْدَیہ کی پیدائش پیراملٹری کے ذریعہ ایک آدی باسی خاتون کی عصمت دری کے باعث ہوتی ہے۔ ماںبچی کو جنتر منتر پر ایک مزاہمتی مظاہرے میں چھوڑ دیتی ہے۔ تلوتما اس بچی کو لیکر کسی طرح جنت گیسٹ ہاؤس پہنچتی ہے وہیں اسے موسیٰ کی موت کی دلدوز خبر ملتی ہے ۔


یقیناًیہ ناول اپنے موضوع اور تکنیک کے لحاظ سے بہت اہم اور بڑا ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ مغلظات جہاں اس ناول کے مطالعے کے دوران کچھ سعید روحوںکی طبیعت پر گرانی کا باعث ہوئے ہونگے وہیںکرداروں کی بے بسی ،غم و غصے اور کرب کے اظہارکے لئے ناگزیر بھی ہیں ۔ادبی نزاکتوں اور رمزیت سے محدود طبقہ ہی لطف اندوز ہوا کرتا ہے جبکہ عام قاری فکری سادگی اور اس کے بیانیے سے متاثرہوا کرتا ہے جس میں ادبی اور صحافتی اسلوب کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اردو میں اس ناول کا منتقل ہونا اس زبان کے قارئین اورلکھاریوں کے لئے موضوعات کے نئے افق کی طرف رہنمائی میں معاون ہوگا۔ امید کرتا ہوں کہ ریاستی ظلم و جبر کے حامیوں اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے والوں، دونوں کے لئے جبر کی سیاست کو سمجھنے میں اس ناول کا مطالعہ معاون ثابت ہوگا۔جیسا کہ حبیب جالب ہوشیار کرتے ہیں:
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں