بے روز گاری ایک بڑا مسئلہ

مضمون نگار : سید شہباز عالم

, بے روز گاری ایک بڑا مسئلہ

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں قسم کے ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ ہمیشہ رہتا ہے ۔ مگر الگ الگ ملکوں میں بےروزگاری کے پیمانے الگ الگ ہیں ۔ امریکہ میں بےروزگار اسے کہتے ہیں جسے اسکی تعلیم یا ہنر کے مطابق جاب نہ ملی ہو ۔ ہم اپنے ملک میں بےروزگار اسے کہتے ہیں جو بازار میں جو محنتانہ قائم ہے اس سے بھی کم محنتانے پہ کام کرنے کو رضامند ہو مگر پھر سے اسے کام نہ ملے ۔

مشہور ماہر معاشیات کینس بے روزگاری کو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتا تھا ۔ اسکا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک میں بے روزگاروں کو دینے کرنے کے لیے کوئی کام نہ ہو تو سرکار کو چاہئے کہ ان سے گڈھے کھدوا کر اس پہ دوبارہ مٹی بھریں ۔ اس سے بھلے ہی کوئ منافع بخش کام یا پیداوار نہ ہو مگر انہیں بے روزگاری سے نجات ملے گی ۔ اور وہ کسی فالتو قسم کے کام میں ملوث نہیں ہونگے ۔
بےروزگاری کی شرح جتنی تیزی سے کم ہوگی اتنی ہی ملک کی معاشیت کو ترقی ملے گی ۔ ملک میں اشیاء کی مانگ بڑھے گی جس سے ملک صنعتی ترقی کی طرف گامزن رہے گا ۔

ترقی پذیر ممالک میں کئی اقسام کی بے روزگاری دکھائی دیتی ہے ۔
موسمی بے روزگاری : یہ قسم کی بےروزگاری کھیتی کے شعبہ میں پائی جاتی ہے ۔ کھیتی سے منسلک لوگوں کو جتائی، بویائی، کٹائی جیسے کام تو ملتے ہیں مگر سیزن ختم ہوتے ہی سن کے پاس کرنے کے لئے دوسرا کام نہیں ہوتا ۔

غیر معمولی بےروزگاری ۔ یہ اس قسم کی بے روزگاری جو کہتے ہیں جس میں کچھ لوگوں کی پیداوار کم ہوتی ہے ۔اگر ان لوگوں کو ہٹا بھی دیا جائے تو پیداوار پہ کوئ فرق نہیں پڑے گا ۔ جیسے مان لیجیے اگر ایک بوٹیک میں روزانہ دیڑھ سو ڈریسز تیار ہوتے ہیں اور انہیں تیار کرنے والے مذدور پندرہ ہیں دو مذدور کچھ نہیں کرتے ۔ اور انکے نوکری سے نکالے جانے پہ کمپنی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نئی نسل کی بےروزگاری :ابھی نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ بےروزگار ہے۔ تعلیم مکمل کرکے ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی انہیں نوکری حاصل کرنا ایک چیلینج بھرا کام ہے۔

،ہندوستان میں بےروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ یہاں دو سال سے کوئی سرکاری ڈیٹا نہیں جاری ہوا ہے لیکن حال ہی میں لیک ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں بے روزگاری کی شرح پچھلے 45 سالوں میں سب سے زیادہ ہے، یعنی 6.1 فیصد ۔ بےروزگاروں کی اتنی بڑی تعداد فکرمندی کی بات ہے ۔
بیروزگاری کو کم کرنے کےلئے ہمیں اپنی پالیسیوں میں تھوڑی تبدیلی لانی ہوگی ۔ اور پورے ملک میں صنعتوں کا جال بچھانا ہوگا اس سے تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کو نوکری ملے گی ۔جب نوکری ملے گی تو جیب میں پیسے آئیں گے پھر نوجوان بازار کا رخ کرے گا سامان خریدے گا ۔ جب ضرورت بڑھ جائے گی تو صنعت خود بخود ترقی کرے گی ۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے نوجوانوں کو دوسرے ممالک جانے نہ دیا جائے ۔ ان کی صلاحیت اور ہنرمندی سے ملک کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں