بے روزگاری پھر بڑھ گئی

Zeshan Sajid ذیشان ساجد

پاکستان کے نوجوان طبقے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وطن ِ عزیز میں بے روزگاری کا دور دورا ہے۔ حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ اب لوگ زندگی کی زبوں حالی اور کنبے کے بوجھ سے تنگ آ کر خودکشی جیسے سنگین اقدامات پر اتر آئے ہیں۔ حکومتِ وقت اور گزشتہ حکومتوں پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی بھی خاطرخواہ اقدامات نہ کیے گئے جو بے روزگاری کے افریت کا قلع قمع کرسکیں۔

اس کے برعکس روز بہ روز معاشی طور پر خستہ حالی کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی یہ تعداد خود ملکی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ جب لوگ کماتے نہ ہوں تو وہ ملکی معیشت کی پروان میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دیگر ممالک کی نسبت دن بہ دن زوال کا شکار ہو رہا ہے جبکہ عالمی دنیا سائنس، معیشت، صحافت، سیاست، ادب غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں نہایت تیزی سے بلندیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس اعتبارسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے مسائل غربت اور بے روزگاری ہیں ۔بلکہ اب اسے وائرس کہنا چاہئے کہ یہ کسی وبا کی طرح وطن ِ عزیز کی آب و ہوا میں سرائیت کر چکا ہے۔

بیروزگاری اچانک ہی نہیں امڈ آتی۔ اس کے پیچھے بہت سی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ یہ وجوہات ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں انفرادی طور پر دور کرنا مشکل ہوتا ہے بلکہ صرف حکومت ہی سرکاری سطح پر ایسے عناصر کی روک تھام کے لیے اقدامات کر سکتی ہے جو ملکی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو سیاسی عدم استحکام ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی نئی حکومت آئی، اس نے بجائے نئے ترقیاتی منصوبے متعارف کروانے کے الٹا پہلے سے جاری معاشی پراجیکٹس پر بھی عمل درآمد کو رکوایا۔ ہر گورننگ پولیٹکل پارٹی نے بجائے عوامی فلاح و بہبود کے لیے تعمیری اقدامات کرنے کے، اپنی تمام تر توانائیاں بیوروکریسی اور ٹیکنوکریسی میں اپنے مخالفین، اپنی حریف سیاسی جماعتوں کے خلاف استعمال کرنے میں ضائع کیں۔

سادہ لفظوں میں کہا جائے تو حکومت اور اپوزیشن اپنے اصل کام چھوڑ کر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں پانچ سالہ حکومتی دورانیہ صرف کر دیتی ہیں جن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام افلاس کے ہاتھوں مزید گھاٹیوں میں پھسل جاتی ہے۔ البتہ حکومت اپنے دورانیے کے اواخر میں اگر کچھ فلاحی کام کر بھی دیتی ہے تو وہ نہایت وقتی نوعیت کے کام ہوتے ہیں۔ اسے ہم عام زبان میں شو آف کہتے ہیں یعنی عوام کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت بہت کچھ کر رہی ہے لیکن حکومت جن پراجیکٹس پر کام کر رہی ہوتی ہے ان سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا، بے روزگاروں کو ملازمتیں نہیں ملتیں۔ جیسا کہ گزشتہ حکومتوں نے سڑکیں اور پل بنائے لیکن کیا ایسا کرنے سے غربت کا خاتمہ ہوسکا؟ اس کے علاوہ جب حکومتوں کا میڈیا پر کنٹرول ہوتا ہے تو وہ اپنے معمولی سے اقدام کو اتنا بڑا بنا کر پیش کرتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں شاید ملک اب امریکہ کے شانہ بشانہ ترقیاتی دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔ لیکن یہ سب غبارے میں ہوا کی طرح ہوتا ہے ، عوام حقیقی معنوں میں کوئی خوش حالی نہیں دیکھ پاتی۔

حکومت اکثر غربت کے خاتمے کے لیے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کرتی ہے۔ امدادی سرگرمیاں کسی طرح بھی غربت کا خاتمہ نہیں کر سکتیں۔ جب کچھ پرائیویٹ سطح کی تنظیمیں اور این جی اوز عوام کے لیے فلاحی کام سرانجام دیتی ہیں تو وہ دراصل حکومتی ناکامی کی وجہ سے منظرِ عام پر آئی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر محسن ِ انسانیت عبدالستار ایدھی صاحب کا ٹرسٹ ہو یا کوئی سرکاری سطح کی بے نظیر انکم سپورٹ، ان سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ حکومت اگر جھولیاں بھر بھر کے لوگوں کو پیسے بھی بانٹنے لگے یا موجودہ حکومت کی طرح جگہ جگہ لنگر خانے کھول دے، تب بھی غریب غریب ہی رہے گا کیونکہ غریب لوگوں کو روزگار فرام نہیں کیا جا رہا۔ جب انہیں کچھ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، وہ کچھ کریں گے جس سے ملکی تعمیر و ترقی میں فرق آئے گا، تب غربت کا خاتمہ ہوگا۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ غربت کے خاتمے کے لیے بجائے چندہ بانٹنے کے سنجیدگی کے ساتھ طویل دورانیے کے پراجیکٹس پر کام کرے ۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت میں موجود نمائندوں کی سیاسی بصیرت دور اندیشی کی حامل ہو اور ان کے پاس معاشی استحکام کا تجربہ ہو۔

غربت کی ایک اور اہم وجہ غیر مساوی نظام ِ تعلیم ہے۔ ہمارے یہاں لوگ سماجی و معاشی بنیادوں پر مختلف طبقات میں تقسیم ہیں۔ لوئر اور لوئر مڈل کلاس افراد اپنے بچوں کو سرے سے سکول ہی نہیں بھیجتے بلکہ بچپن ہی میں کسی نہ کسی کام پر لگا دیے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ شرح خواندگی کی کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ مڈل کلاس طبقہ اپنے بچوں کو اردو میڈیم سکولوں میں تعلیم دلواتا ہے خواہ وہ سرکاری سطح کے مفت سکول ہوں یا غریب لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کو تعلیم دیں۔ جب یہ بچے سکولوں کالجوں سے نکل کر روزگار کی جستجو کرتے ہیں تو انہیں اپر کلاس کے طلباء کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنہوں نے نہایت مہنگے اور اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ یہ لوگ انگریزی فر فر بولتے ہیں اور ان کا کانفیڈنس لیول کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا یہاں مڈل کلاس طبقہ مار کھا جاتا ہے اور غریب غربت ہی کے دلدل میں دھنسا رہ جاتا ہے اور بے روزگاری کی افزائش ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے پاس ایلیٹ کلاس طبقہ موجود ہے جن کی اولادیں بیرون ِ ملک تعلیم حاصل کرتی ہیں اور واپس پاکستان آنے کے بعد ملک کے اعلی عہدوں پر فائز ہوتی ہیں۔ انہیں پاکستان کے لوکل لوگوں اور غریب عوام سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ جب حکومت میں آتے ہیں تو ملک سے غربت کا خاتمہ نہیں کر پاتے کیونکہ نہ انہیں اس بارے میں پتہ ہوتا ہے نہ ان کی کبھی دلچسپی رہی ہوتی ہے۔ اگر ملک میں یکساں نظام ِ تعلیم ہو تو ایک سٹینڈرڈ کے تحت ہر امیر اور غریب کے بچے تعلیم حاصل کریں گے اور سب کو برابری کی سطح پر ملازمتوں کی تلاش اور حصول کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی۔ اس طرح کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی اور پورے کا پورا معاشرہ تعلیمی سطح پر بھی بہتری کی جانب سفر کر رہا ہوگا۔

ملازمتوں کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہمارے یہاں رشوت اور سفارش کا کلچر ہے۔ جن لوگوں کے تعلقات زیادہ ہوں گے وہ لوگ زیادہ کامیاب ہوں گے۔ جن لوگوں کے پاس پیسہ زیادہ ہو گا، وہ رشوت دے کر بہت آسانی کے ساتھ ملازمتیں حاصل کر لیں گے۔ یہ سراسر کرپشن ہے اور اس کی روک تھام نہایت ضروری ہے ورنہ معاشرہ اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہو کر اپنا وجود کھو دے گا۔ حال ہی میں سرکاری سطح پر سامنے آنے والے سکینڈل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نوکریوں کے لیے غیرقانونی طور پر لاکھوں روپے بٹورنے میں خود سرکاری عہدے داران اور وزراء ملوث پائے گئے ہیں۔ اب ایسی صورتحال میں حکومت پر انگلی نہ اٹھائی جائے تو کیا کِیا جائے؟

اس کے علاوہ سرکاری سطح کے جو ملازمتیں فراہم کرنے والے ادارے ہیں جن میں پبلک سروس کمیشن بھی شامل ہے، وہ بجائے بے روزگاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے الٹا ان سے پیسے بٹورنے میں لگے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی آسامی نشر کی جاتی ہے تو اس پر ایپلائی کرنے کے لیے بھاری رجسٹریشن فیس مختص کر دی جاتی ہے۔ غریب جو پہلے ہی پیسوں کی قلت کے سبب فاقہ کشی پر مجبور ہیں، اگر محض جاب کے لیے ایپلائی کرنے کے ایک ایک ہزار روپیہ حکومت ِ پاکستان کو دینا شروع کر دیں تو یہ ان کے ساتھ ظلم ہوگا۔ بہرحال غربت سے مجبور لاکھوں لوگ حکومت کو رجسٹریشن فیس کے نام پر پیسے دے کر ایپلائی کر لیتے ہیں اور یوں ان اداروں کے بورڈز میں موجود لوگ جو پہلے ہی سے امیر ہوتے ہیں، مزید لاکھوں کما لیتے ہیں۔ غریب پھر وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ ملازمتوں کی فراہمی کو میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنائے اور اس کی راہ میں حائل کرپسن اور بدعنوانیوں کا جلد از جلد خاتمہ کرے ۔

ملک کے تعلیم یافتہ اور قابل نوجوان ملک میں خاطرخواہ جاب نہ ملنے کی وجہ سے وطن چھوڑ کر امریکہ، یورپ یا دیگر ممالک کی جانب نکل جاتے ہیں اور وہاں اپنی تمام تر خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ ممالک تیسری دنیا سے ذہین نوجوانوں کی تلاش میں رہتے ہیں کیونکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں پائی جانے والی بدعنوانیاں اور کرپشن انہیں روزگار کے مواقع نہیں دے پائیں گی۔ یہ لوگ دوسرے ممالک میں جا کر خوب دل جمعی سے کام کرتے ہیں اور عمدہ سیلری پیکجز پاتے ہیں، اس کا سارا نقصان وطن ِ وزیز کے حصے میں آتا ہے۔ یعنی جس نوجوان جو اپنے ملک میں پیدا ہوا، اپنے ملک میں تعلیم حاصل کی، بجائے اپنے ملک کے کسی کام آنے کے غیرممالک میں اپنی خدمات سرانجام دے کر دیگر ممالک کی معیشت کو ترقی فراہم کر رہا ہے۔ یہ کسی المیے سے کم نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ہوش کے ناخن لے اور ایسے لوگوں کی بجائے دل آزاری کرنے کے ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر ملک کو فائدہ پہنچانے میں کردار ادا کرے۔ اگر ایسا ممکن ہو پایا تو وہ دن دور نہیں جب وطن ِ عزیز دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگے گا۔

گرتی ہوئی میعشت بھی بے روزگاری کی بڑھوتری میں اپنا بدنما کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسا ہمیشہ ناہل حکومتوں کی بچگانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آج ملک بھر میں کارخانے اور فیکٹریاں بند ہیں۔ ملک کے زرعی نظام کو سوچی سمجھی سازشوں کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے،معیشت سنبھالے ہوئے چند کرپٹ لوگ جان بوجھ کر اشیاء کی قلت پیدا کرتے ہیں، کموڈٹیز کے ریٹ بڑھاتے ہیں اور خود ساختہ قحط عوام پر مسلط کرتے ہیں جس کے سبب بے روزگاری میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور ملک بھر میں بھوک اور افلاس اپنے پنجے جماتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت گرنا شروع ہوتی ہے اور ملکی سرمایہ میں عالمی کرنسیوں کی نسبت کمی واقع ہوتی ہے۔ بالاخر اشیاء کے نرخ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں اور لوگوں کے چولہے بند ہوجاتے ہیں۔ اس سبب دیگر معاشرتی برائیاں جیسے چوری ڈکیٹی ، بدعنوانیاں، جسم فروشی ، فراڈ جیسے جرائم معاشرے میں چھوٹے سے چھوٹے لیول پر بھی پھیل جاتے ہیں کیونکہ ایک شخص کو ہر جائز یا پھر ناجائز طریقے سے اپنے خاندان کی کفالت بہرحال کرنی ہوتی ہے۔

آج کے جدید ترقیاتی دور میں اگر حکومت جلد از جلد بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا چاہے تو انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس اور ای مارکیٹنگ کے شعبے ایسے شعبے ہیں جنہیں بطورملکی درآمدات استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ نوجوانوں ، بالخصوص بے روزگاروں کو ان شعبہ ہائےتعلیم سے جڑے مفت تکنیکی کورسز کروا کر انہیں روزگار فراہم کرے تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے پاکستان کو جوقدرتی ریسورسز فراہم کر رکھی ہیں وہ کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ بے روزگاری کے اس عفریت کے خاتمے کے لیے زیادہ ذمہ داری حکومت کی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ان قدرتی وسائل کو استمعال میں لائے ، ان سے پیداوار بڑھائے اور ملکی برآمدات پیدا کرے۔ ایسا کرنے سے بے روزگاروں کو روزگار بھی ملےگا اور ملک بھی خوشحالی کی جانب سفر کرے گا۔

شیئر کریں
ذیشان ساجد راولپنڈی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے شاعر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس فکشن اور دیگر موضوعات پر کام/مضامین بھی لکھتے ہیں۔

کمنٹ کریں