بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

تحریر: محمد ضرغام وڑائچ
بشکریہ جستجو

, بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

میری جب بھی کسی دوست سے سائنس کے کسی موضوع پر بحث ہوئی تو وہ کائنات کی origin پر ختم ہوئی دوست کا سوال یہ ہوتا تھا۔ ” بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟” میرا جہاں تک ذاتی علم ہے اور جتنے لوگوں سے میرا واسطہ پڑا ہے تو میں نے یہ چیز بری شدت سے محسوس کی ہے کہ لوگوں کو حقیقت میں بگ بینگ کا ہی پتہ نہیں کہ یہ کیا ہے۔


مختلف لوگ اسے ایک دھماکے سے تشبیح دیتے ہیں۔ وجہ سادہ ہے Big کا مطلب بڑا اور بینگ کا مطلب دھماکا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے یہ کوئی بڑا یا عظیم دھماکہ نہیں بلکہ۔ کائنات کا پھیلاؤ ہے۔ دھماکہ کسی چیز کے پھٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ بگ بینگ پھٹنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مادہ کے پھیلاؤکی وجہ سے ہوا۔ بگ بینگ اصل میں سپیس اور مادہ(matter) کا پھیلاؤ تھا۔۔
بات یہ ہے کہ ایک Russian سائنسدان Alaxander Friedman نے 1922 میں اس کا نظریہ دیا جسے عملی جامہ 1927 میں امریکن سائنسدان Georgie نے پہنایا۔ ان کے برعکس ان کے مخالف سائنسدان(معذرت کہ ان کا نام نہیں معلوم) کا نظریہ تھا کہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور یہ کہیں سے شروع نہیں ہوئی۔ اس مخالفت کی بناء پر ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے اس تھیوری کو انھوں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا” کہ یہ کہتے ہیں کائنات ایک نقطے سے شروع ہوئی ۔ دھماکے سے۔ کیا ہی عظیم دھماکہ تھا” تب سے سائنس میں اسے بگ بینگ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔


یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا قرارداد پاکستان کو مخالفین نے نام دیا تھا جبکہ اس کا اصل نام قرارداد لاہور تھا۔ لیکن بعد میں یہ اسی نام سے مشہور ہوگیا۔۔۔۔۔
اور اس تھیوری کے باقاعدہ ثبوت بھی مل چکے ہیں۔

اب آتے ہیں بگ بینگ پر کہ بگ بینگ ہوا، ٹھیک ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے کیا تھا؟
ہماری کائنات کی ابتداء تو بگ بینگ سے ہوئی یہ آج سے تقریباً 13.8 ارب سال پہلے کی ہی بات ہے۔ اور ابھی تو ہماری کائنات جوانی کے عالم میں ہے مطلب ابھی اسے اور بڑا ہونا ہے اور پھر بوڑھا بھی ہونا ہے۔۔۔ آج سے چند سو سال پہلے ہمارے لیے ہمارا سورج اور دوسرے سیارے ہی کل کائنات تھے۔ ٹیلی سکوپ کی ایجاد کے بعد ہمیں اپنی کہکشاں کا پتہ چلا تو ہمارے لیے یہ کائنات بن گئی۔ جب مزید ترقی ہوئی تو پتہ چلا کہ نہیں ہماری طرع کی اربوں کہکشائیں بھی موجود ہیں۔
ہبل نے ہمیں بتایا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جارہی ہیں۔ یعنی کائنات پھیل رہی ہے۔ لیکن اگر ہم اس کے Reverse میں جائیں پھیلتی ہوئی کائنات سکڑ جائے گی اور آخر کار یہ ایک نقطے میں بند ہوجائے گی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے غبارہ پھیلتا ہے لیکن شروع ایک نقطے سے ہوتا ہے۔ بگ بینگ سے ہماری کائنات پھیلنا شروع ہوئی۔


بگ بینگ سے پہلے کیا تھا اس کے مختلف جوابات ہیں۔ جب ہم بگ بینگ سے پہلے کی بات کررہے ہیں تو ہم اصل میں وقت یعنی ٹائم کی بات کررہے ہوتے ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ کائنات کی چار ڈائمنشن ہیں اور وقت ان میں سے ایک ہے۔ اب ڈائمنشن کے لیے سپیس ہونا لازمی ہے لیکن بگ بینگ سے پہلے سپیس نہیں تھی۔ بگ بینگ کے وقت جو مادہ تھا اس کی ڈائمنشن زیرو تھیں۔ یعنی اس کی نہ ہی لمبائی تھی اور نہ ہی چوڑائی۔ اور اس کی density infinite تھی۔ اگر آپ سوال کرتے ہیں کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا تو اس سوال کی کوئی sense نہیں ہے کیونکہ جب وقت ہی بگ بینگ
کے بعد شروع ہوا تو بگ بینگ سے پہلے کیا تھا۔ وقت ہی نہیں تھا۔ اب بہت سے لوگ اس سے مطمعئین نہیں ہیں۔


بگ بینگ شروع ہوا نقطے سے اسے ہم singularity کہتے ہیں۔ اب چونکہ ماس تو تھا بگ بینگ سے پہلے تو اس چیز کو جوتھیوری explain کرے گی وہ ہے Einstine کی General Theory of Relativity لیکن اس کا سکیل اتنا چھوٹا ہے اور چھوٹے سکیل پر اسے جو theory.ہے وہ explain کرے گے Quantum Theory یہ دونوں ٹھیوریز ابھی تک competable نہیں ہیں۔ اب ہم singularity کی بات کررہے ہیں تو بجائے یہ کہیں کہ بگ بینگ سے پہلے کا سوال senseless ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں اسے کسی اور طریقے سے solve کریں۔
ٓئن اسٹیفائن نے اس کی analogy کچھ اس طرع کی دی تھی کہ اگر ہم ماضی میں دیکھیں جب بگ بینگ ہوا تھا تو ہم اسے اس کی beginning پر بالکل ایسے draw کرسکتے ہیں جیسے زمین کے گرد Longitude ہوتے ہیں۔ اسے وہ Geodesy کا نام بھی دیتے تھے(یہ بالکل گلوب والی ہی ہے)۔ اگر ہم Longitude دیکھیں تو وہ گلوب کے نارٹھ(North) پر ہوتے ہیں۔ تو اگر آپ سوال یہ پوچھے کہ۔ What is the North of North Pole(نارٹھ پول کا نارتھ کہاں ہے؟) تو اس سوال کا کوئی جواز نہیں کیونکہ North is the North pole. تو Einstine کے حساب سے جب ہم بات کرتے ہیں تو بگ بینگ کے بعد دراصل ٹائم شروع ہوا تھا۔ بگ بینگ سے پہلے ٹائم نہیں تھا۔
اب یہ سمجھنا قدرے مشکل ہے لیکن فلکیات کے ماہرین اس کا ایک اور جواب دیتے ہیں۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بگ بینگ کے وقت کچھ دوسری کائناتوں کا بھی آغاز ہوا تھا۔ جسے وہ Multiverse Theory کا نام دیتے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہر وقت ہماری کائنات سے باہر دوسری کائناتیں create ہورہی ہیں۔ ہماری کائنات تو ان infinite تعداد والی کائناتوں میں سےایک ہے ۔ اب یہاں ایک سوال اور ہے۔

ٹھیک ہے ہماری کائنات کی Origin تو Big Bang ہے تو پھر Multiverse کی Origin کیا ہے؟
یہ ایک اچھا سوال ہے؟ لیکن اس کا جواب ابھی تلاش کرنا ہے۔۔۔۔۔
آج سے دو سو یا ڈھائی سو سال پہلے تک ہمیں یہ نہیں پتہ تھا کہ ہمارا solar system کتنا بڑا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جاتا کہ زمین کی عمر کیا ہے تو اس کا جواب سائنسدان یوں دیتے(جنھیں نیچرل فلاسفر بھی کہا جاتا تھا) کہ یہ سائنس کا سوال نہیں ہے(کہ زمین کیسے وجود میں آئی)۔ لیکن آج جب کہ سائنس ترقی کرچکی ہے تو ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا سولر سسٹم اور زمین تقریریباً 4.6 ارب سال پرانی ہے۔
مگر آج ہم جانتے ہیں زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی۔ زمین کیسے بنی۔ سولر سسٹم کیسے بنا لیکسییز کیسے بنیں۔ اور کائنات کیسے وجود میں آئی۔
یہ ابتداء کے سوال بہت دلچسپ ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمیں ان کے جوابات معلوم نہیں ہوتے۔ اب جوں جوں سائنس کی ترقی ہوتی جائے گی اس کا جواب بھی دھونڈ لیا جائے گا ۔

اگر کسی سوال کا جواب ہمیں پتہ ہو تو اس کا مزا نہیں آتا۔ شرط یہ ہے کہ ہم کسی نہ سمجھ میں آنے والی بات پر ریسرچ کریں۔ جستجو ہی ہمیں نئی نئی دنیاکی سیر کراتی ہے ۔
اب بگ بینگ سے پہلے کیا تھا۔ شائد یہ سوال آج سے دس، پچاس یا سو سالوں میں حل ہوجائے۔ شائد اس کا جواب Multiverse ہو یا شائد اس کا جواب بالکل ہی مختلف ہو۔ لیکن آج ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہمیں اتنا پتہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا۔ کیا تھا؟۔ پتہ نہیں۔۔۔۔
لیکن کچھ ندازےہیں شائد وہ multiverse ہو شائد membrane theory ہو۔ لیکن آج ان سوالوں میں ایک جستجو ہے۔ہماری چھوٹی سی سوچ نے کتنے راز پا لیے ہیں۔
یہ جستجو ہی ہمیں انسان بناتی ہے۔ ہم رازوں کو تلاشیں۔ اس جستجو کی وجہ سے ہم نے جانا کے یہ کائنات کتنی وسیع ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں