بلیک ہول کیا ہے؟

Black Hole بلیک ہول

بلیک ہول کا وجود کائنات کے عجیب ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔ بلیک ہول اس قدر کثیف ہوتا ہے کہ اس میں سے روشنی بھی خارج نہیں ہو سکتی۔ نظریہ اضافت ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر کسی ماس کی کثافت ایک حد سے زیادہ ہو جائے تو یہ بلیک ہول بن جاتا ہے۔ اگر زمین کے کُل ماس کو 9 ملی میٹر قطر کے کرے میں بند کر دیا جائے تو زمین بلیک ہول بن جائے گی۔

بلیک ہول دو مختلف طریقوں سے بن سکتے ہیں- ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کوئی ستارہ جس کا ماس سورج سے کم از کم تین چار گنا زیادہ ہو اور اس کا ایندھن ختم ہو جائے تو یہ ستارہ اپنی ہی کشش ثقل کی وجہ سے منہدم ہو کر بلیک ہول بن جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دو بڑے نیوٹران سٹار اگر ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں تو ان کا مجموعی ماس اس قدر زیادہ ہو جائے گا کہ یہ بلیک ہول بن جائے گا۔ ان دونوں طریقوں سے جو بلیک ہول بنتے ہیں انہیں stellar mass black hole کہا جاتا ہے جو اربوں سالوں میں تشکیل پاتے ہیں

لیکن سائنس دانوں کے مطابق بلیک ہولز کی ایک اور قسم بھی ہے جنہیں primordial بلیک ہول کہا جاتا ہے- سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ایسے بلیک ہولز بگ بینگ کے فوراً بعد تشکیل پائے جب ابھی کائنات میں ستارے اور کہکشائیں بھی نہیں بنی تھیں- یہ بلیک ہول براہِ راست گریویٹانز کے جتھوں یعنی clusters سے تشکیل پائے۔ گریویٹانز وہ مفروضاتی کوانٹم پارٹیکلز ہیں جو کشش ثقل کا باعث بنتے ہیں۔

کائنات میں دو قسم کے بنیادی ذرات پائے جاتے ہیں۔ فرمیونز جن کی سپن 1/2، 3/2، 5/2 وغیرہ ہوتی ہے اور بوزونز جن کی سپن 1، 2، 3 وغیرہ ہوتی ہے۔ ان پارٹیکلز کو آپس میں ملانے والے مفروضے کو سپرسمیٹری (supersymmetry) کہا جاتا ہے۔ اس مفروضے کے مطابق کوانٹم فزکس کے سٹینڈر ماڈل میں موجود ہر ذرے کا ایک جڑواں ذرہ بھی موجود ہے جسے superpartner کہا جاتا ہے اور جن میں 1/2 سپن کا فرق ہوتا ہے- مثال کے طور پر الیکٹران ایک فرمیون ہے جس کی سپن 1/2 ہے۔ اس کا سپرپارٹنر سیلیکٹران ہے جو ایک بوزون ہے۔ اسی طرح گریویٹان کا سپرپارٹنر گریویٹینو کہلاتا ہے-

گریویٹان ایک مفروضاتی ذرہ ہے جو گریویٹی کا کوانٹم ذرہ ہے۔ بگ بینگ کے بعد جب کائنات بہت کثیف تھی اس وقت گریویٹینو بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ ان کی کثافت کی وجہ سے ان کی آپسی کشش اس قدر زیادہ تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے بلیک ہولز کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ بلیک ہول ایک دوسرے میں ضم ہو کر اتنے بڑے ہو گئے کہ ان میں سے خارج ہونے والی ہاکنگ شعاعوں کی مقدار وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے لگی۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان بلیک ہولز کے گرد عام مادہ بھی اکٹھا ہونے لگا اور بلیک ہولز میں ضم ہونے لگا جس سے ان کا ماس مزید بڑھنے لگا اور یہ بہت بڑے بڑے بلیک ہولز بن گئے۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ بلیک ہول کائنات میں جگہ جگہ موجود ہو سکتے ہیں لیکن چونکہ ان کے گرد موجود مادہ اب بلیک ہول میں ضم ہو چکا ہے اس لیے انہیں دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ اگر ایسا بلیک ہول ہمارے اور کسی دور دراز کی کہکشاں کے درمیان آ جائے تو گریویٹیشنل لینزنگ سے اس بلیک ہول کی موجودگی کو ڈیٹیکٹ کیا جا سکتا ہے

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں