بلندی کے موضوع پر اشعار

Read Urdu Poetry on the topic of Bulandi Urdu Shayari (Heights Ki Yad Pe Shayari). You can read famous Urdu Poems about High Level Urdu Poetry and Bulandi Parwaz Urdu Poetry Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

بلندی اونچائی گرنا bulandi

بلندی کی تمنا ہر دل میں ہوتی ہے۔ انسان زندگی بھر اپنی پستی سے بلندی کی جانب سفر کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ کچھ مسافر اس راہ میں ہار جاتے ہیں، کچھ بلندیوں سے گِر کر دوبارہ زمین کی خاک میں خاک آلود ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کو بلندی مل جاتی ہے، مگر وہ زمین کی پستیاں بھول کر تکبر میں مبتلاء ہوجاتے ہیں۔ اردو شاعری میں اس موضوع پر نامور شعراء نے بہترین کلام تخلیق کیا ہے۔ آئیے چند عمدہ اشعار کا انتخاب پڑھتے ہیں:

آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے
بھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہے
وسیم بریلوی
۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
علامہ اقبال
۔
ذرا یہ بھی تو دیکھو ہنسنے والو
کہ میں کتنی بلندی سے گِرا ہوں
نور قریشی
۔
غور سے دیکھو ہمیں! دیکھ کے عبرت ہوگی
ایسے ہوتے ہین بلندی سے اترتے ہوئے لوگ
نامعلوم
۔
شہرت کی فضائوں میں اتنا نہ اُڑو ساغر
پرواز نہ کھو جائے ان اونچی اڑانوں میں
ساغر عظمی

بلندی شاعری bulandi shayari

یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
شکیب جلالی
۔
تمنا سربلندی کی ہمیں بھی تنگ کرتی ہے
مگر ہم دوسروں کو روند کر اونچا نہیں ہوتے
نامعلوم
۔
تم آسماں کی بلندی سے جلد لوٹ آنا
مجھے زمیں کے مسائل کی بات کرنی ہے
ذیشان ساجد
۔
دیکھتے کیوں ہو شکیب اتنی بلندی کی طرف
نہ اٹھایا کرو سر کو کہ یہ دستار گرے
شکیب جلالی

bulandi poetry urdu

آپ اگر تخت نشیں ہیں تو بڑی بات نہیں
دھول بھی اُڑ کے بلندی پہ پہنچ جاتی ہے
نامعلوم
۔
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
بشیر بدر
۔
ہمیں پھنسا کے یہاں فاصلو ں کے چکر میں
زمیں ضرور کہیں آسماں سے ملتی ہے
نامعلوم
۔
مجھ سے اونچا تِرا قد ہے، حد ہے
پھر بھی سینے میں حسد ہے، حد ہے
اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ تیرے ضبط کی حد ہے ، حد ہے
نامعلوم

بلندی کے موضوع پر اشعار

حوصلے تھے کبھی بلندی پر
اب فقط بے بسی بلندی پر
سراج فیصل خان
۔
اس بلندی پہ کہاں تھے پہلے
اب جو بادل ہیں دھواں تھے پہلے
اظہر عنایتی
۔
اگر بلندی کا میری وہ اعتراف کرے
تو پھر ضروری ہے آ کر یہاں طواف کرے
اختر شاہجہانپوری

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں
زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں
ظفر گورکھپوری
۔
صداقت سادگی اوڑھے بلندی تھام لیتی ہے
شہنشہ کی رسائی کو فقیری تھام لیتی ہے
توفیق ساگر
۔
قسم خدا کی بلندی سے گفتگو کرتے
اڑان بھرنے سے پہلے اگر وضو کرتے
نواز عصیمی
۔
بلندی سے کبھی وہ آشنائی کر نہیں سکتا
جو تیرے آستانے کی گدائی کر نہیں سکتا
افضل الہ آبادی

بلندی کے موضوع پر اشعار

خیالوں کی بلندی ذات کی کھائی سے بہتر ہے
سمندر تیرا ساحل تیری گہرائی سے بہتر ہے
نسیم نکہت
۔
پستی سے بلندی پر کھینچا ہے ستاروں نے
صدیوں کے تجسس نے قرنوں کے اشاروں نے
مہر زریں
۔
آسمانوں کی بلندی سے اتر آیا ہوں
اے زمیں مجھ کو سہارا دے میں گھر آیا ہوں
سید شیبان قادری
۔
اک مکاں اور بلندی پہ بنانے نہ دیا
ہم کو پرواز کا موقع ہی ہوا نے نہ دیا
منظر بھوپالی
۔
محبت کی بلندی سے کبھی اترا نہیں جاتا
ترا در چھوڑ کے مجھ سے کہیں جایا نہیں جاتا
ظفر انصاری ظفر

بلندی بھی نشیبوں کی طرح لگنے لگی ہے
بلندی سے اترنا اب ضروری ہو گیا ہے
خوشبیر سنگھ شادؔ
۔
جس گھر کی بلندی پہ مجھے ناز تھا کاظمؔ
میں آج اسی گھر کی بلندی سے گرا ہوں
کاظم جرولی
۔
نگاہیں نیچی رکھتے ہیں بلندی کے نشاں والے
اٹھا کر سر نہیں چلتے زمیں پر آسماں والے
طرفہ قریشی
۔
جس بلندی پہ رضاؔ میں نے سجائے تمغے
اس بلندی پہ ہی ٹوٹا ہوا کاسہ رکھا
ہاشم رضا جلالپوری
۔
پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں
زمیں والوں کو چھوٹا لگ رہا ہوں
سلیمان خمار

یہاں وہاں کی بلندی میں شان تھوڑی ہے
پہاڑ کچھ بھی سہی آسمان تھوڑی ہے
شجاع خاور
۔
سر بلندی ہے خاکساری میں
انکسار اختیار کر پہلے
اشوک ساہنی
۔
چمکے جو ستارۂ بلندی
طاؤس فلک مجھے ہما ہو
امداد علی بحر

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں