ہم کہ بلندیوں سے پستی کی جانب، مسلسل محو سفر ہیں

Ej Axism
Ej Axism

Ej Axism

اسرائیل اور جاپان کے بعد پاکستان ایشیا کا تیسرا ملک تھا جس نے خلا میں اپنا مشن بھیجا تھا۔ اسکے ساتھ ہی جنوبی ایشیا کی ہم پہلی اور دنیا میں ہم دسویں نمبر پہ موجود قوم تھے جنہوں نے خلاء میں کوئی Vessel بھیجی تھی۔
1960سے لیکر 1970 تک پاکستان نے خلاء میں دو سو راکٹ بھیجے۔ رہبر نامی راکٹ 1962 میں خلاء میں بھیجا جس نے اوپر بیان کردہ اعزاز ہمارے نام کئے تھے۔
ان راکٹوں کے تجربات نے آج پاکستان کے پاس موجود میزائل ٹیکنالوجی کو پروان چڑھانے میں بڑا کردار ادا کیا۔


سپارکو کی پیدائش


ساٹھ کی دہائی میں جب روس نے خلاء میں قدم جمانے شروع کئے تو امریکہ بہت پریشان تھا۔ ناسا خلاء بارے کم معلومات میں تیزی سے اضافہ کرنا چاہتا تھا۔ اسی دوران صدر ایوب اور جان ایف کینیڈی کی ملاقات کے دوران پتا چلا کہ ناسا “اپر اٹما سفئیر” پہ راکٹس کی مدد سے تحقیق کرنے اور ڈاٹا حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔ اس مقصد کے لئے ڈاکٹر عبدالسلام اور طارق مصطفی (جو کہ بعد میں اٹامک انرجی کمیشن میں بھی آئے) کو ناسا نے واشنگٹن میں بریفنگ دی اور اس کی معلومات کی بنیاد پہ انہوں نے بعد میں صدر ایوب سے منظور لیکر اپر اٹماسفئیر کی تحقیق کے لئے ایک ادارہ بنانے کی تجویز دی جس کا نام سپیس اینڈ اپر اٹماسفئیر ریسرچ کمیشن یا سپارکو رکھا گیا۔

, ہم کہ بلندیوں سے پستی کی جانب، مسلسل محو سفر ہیں


ابتدائی تابناک دس سال


1960 سے 1970 تک کا دورانیہ بہت تابناک رہا۔ (مشہور نوبل سائنسدانان اور ناسا کے بانی، ڈاکٹر عبدالسلام اس عرصے میں ناسا کے چئرمین رہے) اس دوران پاکستان ‘ اسرائیل اور جاپان کے بعد ایشیا کا تیسرا ملک بن گیا تھا جس نے خلا میں اپنا مشن بھیجا تھا۔ اسکے ساتھ ہی جنوبی ایشیا میں پاکستان پہلی اور دنیا میں دسویں نمبر پہ موجود قوم تھی جنہوں نے خلاء میں کوئی Vessel بھیجی تھی۔
ڈاکٹر عبدالسلام کی کی سربراہی میں سپارکو نے 1960سے لیکر 1970 تک خلاء میں دو سو راکٹ بھیجے۔ رہبر نامی راکٹ 1962 میں خلاء میں بھیجا جس نے اوپر بیان کردہ اعزاز ہمارے نام کئے تھے۔ اور رہبر دوئم اس سیریز کا آخری مشن ثابت ہوا۔
اسی مشن کے بعد ناسا نے ہمیں کہا تھا کہ ” یہ پروگرام خلائی تحقیق اور باہمی مفادات کے لئے ناگزیر ثابت ہوگا۔ اسی دوران اپالو 17 مشن کے خلاء باز کراچی آئے اور انہوں نے سپارکو کے دفتر کا وزٹ بھی کیا۔ اور تو اور روات راولپنڈی میں قائداعظم یونیورسٹی کے تعاون سے ناسا نے ایک آئنوسفیرک سٹیشن بھی بنایا گیا۔


بیوروکریسی کا عروج اور سپارکو کا زوال شروع ہو گیا

, ہم کہ بلندیوں سے پستی کی جانب، مسلسل محو سفر ہیں


1970 کے بعد جونہی حکومتیں بدلیں تو ملک پہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت آگئی۔ بھٹو صاحب نے سپارکو کو ملٹریلائز کردیا ۔ ( ڈاکٹر عبد السلام کو قادیانی پس منظر رکھنے کی بنا پر ہٹا دیا گیا۔ جسکے بعد اس نے خودساختہ جلاوطنی اختیار کی اور پاکستان چھوڑ دیا) اس کےبعد سپارکو کے اعلی عہدوں پہ ریٹائرڈ سپاہی تعینات کردئیے گئے اور اسی دوران فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سپیس مشن کو روک دیا گیا۔ اور سپارکو میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو زبردستی KRL اور PAEC میں بھیجنا شروع کردیا گیا اور ان سائنسدانوں کی جگہ پہ ملٹری آفیسرز تعینات ہوگئے۔
اسی دوران انڈیا کی طرف سے بھیجی گئی سیٹلائٹس کے جواب میں پاکستان نے Paksat کو لانچ کیا جس کی وجہ سے آج آپ پاکستان کا ہر ٹی وی چینل دیکھ سکتے ہیں۔ بقول کچھ سائنسدانوں کے ایک دن صدر ضیا الحق نے سپارکو کے دورے کے بعد اس کے سب فنڈ بند کر دینے کا اعلان کردیا ۔ کیوں؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔


مقابلہ بہت سخت تھا

, ہم کہ بلندیوں سے پستی کی جانب، مسلسل محو سفر ہیں


نوے کی دہائی میں سپیس بوسٹر بنانے کا مقابلہ سخت ہو چکا تھا اور سپارکو باربار ناکام ہو رہی تھی۔ اس سے پہلے سپارکو ایک سپیس بوسٹر “حتف اول” بنا چکی تھی لیکن KRL نے یہ ٹینکالوجی چھین کر دفاعی میزائل بنانے میں لگا دی۔ اسکے ساتھ ہی سپارکو کی پاکستان کے ہی دیگر سٹیٹ اونڈ اداروں سے جنگ جاری ہوگئی جس میں NDC, PEAC, KRL اور PAF MC شامل تھے۔ KRL جہاں حتف کے رائٹس لے چکا تھا تو وہیں NDC نے سپارکو سے سپیس بوسٹر بنانے کا کانٹریکٹ چھین لیا اور پہلا سپیس بوسٹر شاہین اول کی صورت میں بنانے میں کامیاب ہوگئے یہ وہ پروگرام تھا جس کی وجہ سے سپارکو اپنے کھوئے ہوئے مقام پہ واپس پہنچ سکتی تھی لیکن NDC سے مات مل گئی۔
اسی طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرویز مشرف سے خلاء میں ایک سیٹلائٹ بھیجنے کی گزارش اور ضد کی کہ غوری 1 سپیس بوسٹر کیساتھ اسے خلاء میں بھیجا جائے مگر وہ نا مانے ۔ اسکے بعد بدر بی کیساتھ ایک سیٹلائٹ خلاء میں یوکرائرئن سے بھیجی گئی جو کہ دو سال بعد مدار سے نکل کر خلاء میں کھو گئی۔
اسکے بعد چین کی مدد سے بیسیوں دہائی میں PakTAS سیٹلائٹس بھیجی گئی مگر اب تک سپارکو مردہ ادارہ بن چکا تھا۔ اس کی تجدید کے لئے مشن 2040 بھی شروع کیا گیا ہے۔ لیکن ابھی تک یہ مشن بہت پیچھے ہے۔ حالیہ بجٹس میں سپارکو کے فنڈز بڑھنے کی بجائے کم ہی ہوئے ہیں جو کہ غلط ہے۔
حال ہی میں عرب امارات کے بدوؤں نے مریخ پہ قدم جما لئے ہیں تو سوچا کیوں نا سپارکو پروگرام کی پوری تاریخ آپ سے شئیر کی جائے۔ پراجیکٹ امید پہ پھر کسی دن بات ہوگی۔ اوپر بیان کردہ اس سارے قصے کے بعد سمجھنے والی چیز بس یہ ہے کہ آپ کی ترجیحات اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ آپ کا مستقبل کیسا ہوگا۔ سو آج اپنی ترجیحات دیکھ کر اپنے مستقبل کی پیشن گوئی کر سکتے ہیں۔
سپارکو ابتداء میں جتنی بلندی پہ گیا اور اسکی جتنی تعریفیں ہوئیں وہ بیان کرنا ممکن نہیں لیکن اگر سپارکو اسی رفتار سے چلتا تو آج ہم بھی مریخ پہ تحقیق اور زمین پہ جدید سہولیات دے رہے ہوتے۔ امید ہے پاکستان بہت جلد سپارکو کو واپس پرانے مقام پہ لے آئے گا۔

تحریر : ضیغم قدیر

, ہم کہ بلندیوں سے پستی کی جانب، مسلسل محو سفر ہیں


(اختلافی نوٹ از عدنان صلاح الدین:


سپارکو بے شک ڈاکٹر عبدالسلام کا برین چائلڈ تھا لیکن ابتدائی لیڈرز میں کئی دیگر مایہ ناز سائنسدان بھی ساتھ تھے۔ جن میں ایک پولش-پاکستانی ایروناٹیکل انجینئر ائر کموڈور ولادیسلاوتوروکیز بھی تھے جن کا تعلق ائیرفورس سے تھا اور ڈاکٹر سلام کے ساتھ ناسا جانے والی ٹیم کا وہ بھی حصہ تھے۔ درحقیقت ڈاکٹر سلام کا ملک چھوڑ کے اٹلی جانے کے بعد وہی سپارکو کے چئیرمین بنے اور 1979 تک انہوں نے ہی سربراہی کی۔ جنرل ایوب کے بعد بھٹو اور ضیاء الحق نے انہی کو سربراہ برقرار رکھا۔ ان کے بعد 2001 تک سویلین ہی سپارکو کے سربراہ رہے سوائے ایک ائیر کموڈور احمد کے جو ائیرفورس سے تھے اور ایک سال 1979-1980 تک سربراہ رہے۔ ویلادیسلاوتوروکز کے دور میں ہی پاکستان کے ابتدائی حتف سیریز کے میزائل بھی انہی کے ڈیزائنز تھے۔
سپارکو کا پیچھے چلے جانا فوجی سربراہان کے باعث ہرگز نہیں تھا کیونکہ وہ تو سن دو ہزار کے بعد آئے اصل وجہ سپارکو کے بجٹ کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری اور میزائیل پروگرام کی طرف موڑنا تھی کیونکہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد یہ زیادہ ضروری تھا۔ پاکستان کو فضائیہ کے لئے ایف 16 طیارے اور ایٹم۔بم چاہئیے تھا۔ ہاں آپ کی اس بات میں وزن ہے کہ سپارکو کو ہی ملٹری تحقیق کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا لیکن پاکستان جیسے ممالک میں سویلین بیوروکریسی کی روایتی سستی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لئے درکار انتہائی رازداری کا سپارکو جیسے ادارے میں برقرار رہنا مشکل سمجھا گیا اسی لئے میزائل پروگرام سپارکو سے علیحدہ کر دیا گیا۔
ضیغم قدیر! میرا موقف یہ ہے کہ سویلین ہو یا فوجی ، کام دیکھنا چاہئیے۔ خصوصاً ویلادیسلاوتوروکز نے نہ تو کبھی ائیر فورس میں کسی یونٹ کو باقاعدہ کمانڈ کیا نہ ہی روایتی فوجی تھے۔ وہ تو تھے ہی سائنسدان ، اور شاید پولینڈ کے مروجہ دستور کے مطابق پولش ائیر فورس میں شامل ہو کر اپنے ملک کے خلائی پروگرام کی بنیاد رکھی پھر برطانیہ سے ہوتے ہوئے پاکستان آگئے تو اپنے تجربے اور کارکردگی کی بنا پر سپارکو تک پہنچے۔ اس میں ان کا ائیر فورس سے تعلق ہونا نہ ہونا بے معنی ہے۔ سب سے زیادہ کام انہی کے دور میں ہوا۔ ایک عظیم آدمی تھے کہ پولش ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ وفا کی۔ )

شیئر کریں

کمنٹ کریں