بشریٰ

خاکہ نگار : غضنفر
lafznamaweb@gmail.com

, بشریٰ

گیا تھا پڑھانے مگر خود پڑھنے بیٹھ گیا۔ ایک بھولی بھالی سہج اور سادہ سی صورت نے ایسا سحر کیا کہ ادب پڑھانا بھول کر عشق کا سبق یاد کرنے لگا اور ایسا یاد کیا کہ چھٹی نہ ملی۔
میں نے اس معصوم، سہج، سادہ اور بے تکلف لڑکی کو درجنوں خطوط لکھے مگر اس نے میرے ایک خط کا بھی جواب نہیں دیا۔ مجھے اس کی خاموشی مہینوں بے چین کرتی رہی۔ مجھے طرح طرح کے اندیشوں میں ڈالتی رہی مگر ایک دن پتا چلا کہ میرا لکھا ہوا ایک ایک خط اس کے اوور کوٹ کی جیب میں سلتا رہا ہے تو میں ایک دم سے اندیشوں کے اذیت ناک گھیرے سے باہر نکل آیا۔ مجھے اُس کا یہ انوکھا Response اچّھا لگا۔ ممکن ہے میرے خطوں کے ہمراہ اس کا جواب بھی سلتا رہا ہو لیکن وہ کوٹ میرے ہاتھ نہیں لگا کہ تصدیق ہو۔ وہ کوٹ تو ہاتھ نہ لگ سکا البتہ کوٹ پہننے والا ضرور ایک دن میرے ہاتھ آگیا۔
اس سے میری شادی عجیب و غریب حالات میں ہوئی۔ مجھے ملازمت ملی تو تاریخ طے ہوئی اور جب تاریخ طے ہوگئی تو ملازمت جاتی رہی۔ میرے ہاتھوں کے طوطے تو اڑے ہی اس کے گھر والوں کی نیند بھی اُڑ گئی۔ چوںکہ رشتہ پکّا ہونے کی ایک بڑی وجہ میری ملازمت تھی اس لیے اس کے ختم ہوتے ہی پکّا رشتہ اچانک کچّا ہوگیا اور ایسا کچّا ہوا کہ اس کے ٹانکے ادھڑنے لگے۔


فکر نے ذہنوں کو آدبوچا۔ وسوسوں نے سر اٹھایا اور اندیشوں نے ایسا دبائو ڈالا کہ الٹی سوچ شروع ہوگئی۔ اس سے پوچھا گیا بلکہ اسے سمجھایا گیا کہ رشتہ توڑ دینا یا شادی کو ملتوی کردینا ہی مناسب ہوگا مگر اس نے کسی بھی بات کے لیے حامی نہیں بھری۔ اُس کے اِس رویّے میں اس کی شرافت کا دخل تھا یا محبت کا یا اس کی دور اندیشی اور ذہانت کا یہ کہنا مشکل ہے۔ ہاں، یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ اس کے فیصلے میں میرے اس سبق کا ہاتھ ضرور تھا جسے میں نے صدق دل سے پڑھا تھا۔ دل جمعی سے یاد کیا تھا اور بار بار لکھ کر دکھایا تھا۔


قِصّہ مختصر یہ کہ وہ ایک بھرے پُرے خوش حال گھر سے نکل کر ایک بے کار آدمی کے کرائے کے مکان میں آپہنچی جہاں اس کے استقبال کے لیے بے سروسامانی اور ویرانی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ مستزادیہ کہ اس کے خیرمقدم کے لیے گھر میں کوئی عورت بھی موجود نہیں تھی کہ اس مبارک موقع کی کوئی رسم ادا ہو۔ اوپر سے اس کے ہاتھوں کی مہندی کا رنگ ابھی مدھم بھی نہیں ہوا تھا کہ اسے ایک شاعر بیچلر کے کچن کے کالے برتنوں کو سنبھالنا پڑگیا۔


مگر میرے گھر کے کالے رنگ سے اس کا چہرہ زرد نہیں پڑا۔ اس کی روشن آنکھیں دھندلی نہیں ہوئیں۔ اس کے جذبات سنولائے نہیں۔ اُس نے اس سیاہ رنگ کو شبنمی انداز اور خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اپنے حنائی ہاتھوں کا ایسا کرشمہ دکھایا کہ اس سیاہی سے سپیدی پھوٹنے لگی۔ میری بے کاری کے کرب کو اس نے خود کو باکار بناکر نہ صرف یہ کہ کم کردیا بلکہ اپنے سلیقے سے تنگ دستی میں بھی فراخ دامانی کا احساس دلا دیا اور اپنے سلوک سے میرے اُس احساس کے بوجھ کو بھی سبک بنا دیا جو اسے کانٹوں میں گھسیٹ لانے کے سبب میرے دل و دماغ پر سوار ہوگیا تھا۔


پھر ہمارے دن پلٹے۔ بے سر و سامانی ٹھاٹ باٹ میں تبدیل ہوگئی لیکن وہ نہیں بدلی۔ اس کی سادہ مزاجی، نرم خوئی، سلیقہ مندی، کفایت شعاری اور میانہ روی قائم رہی۔ ایثار و قربانی کا جذبہ برقرار رہا۔ اپنے کسی بھی عمل اور رویّے سے اس نے کسی کو بھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ پستی سے نکل کر بلندی پر پہنچ گئی ہے۔
وہ خستہ حالی میں ماں بنی مگر اپنی بچّی کو اس طرح پالا اور اس حد تک Care کیا کہ بے بی شو میں ہماری بچّی ہزاروں بچّوں میں انعام کے لیے چن لی گئی۔ بچّہ خوشحالی میں جنما اور بیٹی کے بعد پیدا ہوا مگر خوشیوں کے اظہار میں اس نے ایسا کچھ نہیں ہونے دیا جس سے توازن بگڑتا ہے اور چھچھلے پن کا رنگ جھلکتا ہے۔


دونوں بچّوں کی تعلیم پر اس نے اتنا دھیان دیا، اتنا سرکھپایا، اتنا خون جلایا، ایسا منصوبہ بنایا اور اس قدر محنت کی کہ دونوں کا Selection یکے بعد دیگرے ایم-بی-بی-ایس میں ہوگیا۔
اور ان کی ایسی تربیت کی۔ انھیں ایسے سانچے میں ڈھالا کہ انھوں نے کہیں بھی، کسی بھی معاملے میں ماں باپ کے سر کو جھکنے نہیں دیا اور اطاعت گزاری اور خدمتِ خلق کا ایسا ثبوت دیا، اس حد تک دوسروں کے کام آئے کہ اڑوس پڑوس، عزیز و اقارب اور دوست و احباب سب کے لیے وہ ایک مثال بن گئے۔ اس کی بہترین تربیت سے صرف یہی نہیں ہوا کہ انھوں نے ایم-بی-بی-ایس جیسے مشکل ترین امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی اور نیک اور صالح بنے بلکہ تہذیبی، ادبی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھی اپنی لیاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور درجنوں انعامات حاصل کیے۔ بیٹے نے موسیقی میں کمال دکھایا اور بیٹی نے معاشرتی و تہذیبی پروگراموں میں اپنی صلاحیت کا سکّہ جمایا۔
وہ بچّوں سے محبت بھی بہت کرتی ہے۔ محبت تو سبھی مائیں اپنی اولاد سے کرتی ہیں مگر اس کا انداز کچھ الگ ہی ہے۔ اس کا بچّوں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ کبھی کبھی میں انھیں اپنا رقیب سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔ اپنے بچّے تو خیر اپنا خون ہوتے ہیں، مگر وہ تو داماد سے بھی اتنا ہی پیار کرتی ہے اور اکثر اس کے رویوں اور سلوک میں بیٹی تو بیٹی اپنے بیٹے کے مقابلے میں بھی داماد کو ترجیح دیتے اور اس کی طرف داری کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔


وہ دوسروں کا خیال بھی کوئی کم نہیں کرتی۔ اپنے بے گانے، پڑوسی متعلقین سبھی کا خیال رکھتی ہے۔ ہر ایک کا احترام کرتی ہے۔ ہر ایک کی ضرورت اور خواہش کی تکمیل کی کوشش کرتی ہے۔ اسی لیے اس سے عزیز و اقارب، دوست احباب، پڑوسی، اسکول کے پرنسپل، رفقا اور طالبِ علم سبھی خوش رہتے ہیں۔ ایک بار اس کی بہن ہمارے گھر پہ زچگی میں تھی۔ انھیں دنوں میں بھی بیمار پڑا ہوا تھا اور گھر میں تیماردار صرف وہ اکیلی تھی۔ کبھی اسے میری طرف آنا پڑتا تھا، کبھی بہن کی طرف بھاگنا پڑتا تھا۔ کبھی میری پیٹھ پر مالِش کرنی ہوتی تھی تو کبھی بہن کی اوچھوائی تیار کرنی ہوتی اور کبھی بچّے کے پوتڑے بدلنے ہوتے تھے اس ڈنڈا ڈولی میں وہ اپنے آپ کو بھول گئی۔ میری طرف کے اس کے وقت میں کمی ہوئی اس کے لیے اس نے میرے شکووں کا طنز بھی سہامگر بہن کو کبھی بھی شکایت کا ذرا سا بھی موقع نہیں دیا۔
ہر ایک کو خوش رکھنے اور ایک ایک کا دل جیتنے کے ہنر کا تجزیہ کرنے پر نگاہیں خاص طور پر پانچ اجزا پر مرکوز ہوتی ہیں:
درد مندی
نرم گفتاری
خوش اخلاقی
سلیقہ شعاری
اور متوازن مزاجی


میرے ایک دوست خورشید احمد اس کی سلیقہ مندی کے ایسے مداح ہیں کہ تعریف کرتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھکتی اور ایک واقعے کو تو وہ بار بار کوٹ کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہم کلکتہ گئے۔ میں تو وہاں سے اپنے لیے ڈھیر ساری چیزیں لایا مگر وہ صرف ’ٹی میٹ‘ لائی۔ اپنے لیے آرائشی اور زیبائشی سامان خریدنے کے بجائے گھر کے لیے اس کا ٹی میٹ خریدنا خور شید صاحب کو اتنا پسند آیا کہ وہ اس کے اُس وصف کے شیدائی ہوگئے۔ جہاں کہیں سگھڑاپے کا ذکر آ تا ہے تو بے ساختہ ان کے لبوں پر اس کا نام آجاتا ہے۔ اس کی سلیقہ شعاری کے نتیجے میں میرے بچوں کی شاندار کامیابی کو دیکھ کر خورشید صاحب میری فیملی کو کامیاب ترین اور آئیڈیل فیملی کا نام دیتے ہیں۔


اکثر کسی تقریب کے موقع پر دوسری عورتوں کی اپنے شوہروں پر خصوصی توجہ اور ان کی خاطر مدارات کو دیکھ کر مجھے گمان ہوا اور دکھ بھی کہ وہ ایسے موقع پر مجھے نظر انداز کرتی ہے یا اس کا سلوک میرے ساتھ ویسا نہیں ہوتا جیسا کہ دوسری عورتوں کا اپنے شوہروں کے ساتھ ہوتا ہے مگر بعد میں احساس ہوا کہ اس کا وہ رویّہ میری نظر اندازی کا نہیں بلکہ اس کی متین طینت اور متوازن مزاجی کا ثبوت تھا۔


مذکورہ بالا اجزا نے اس کے اندر ایسا پیشن پیدا کر رکھا ہے کہ گرد بادی صورتِ حال میں بھی اس کے قدم نہیں ڈگمگاتے۔ بے چین کردینے والے حالات بھی اس کا چین نہیں چھین پاتے۔ وہ سنگین سے سنگین مصائب کو بھی ہنس کر جھیل لیتی ہے۔ بڑے سے بڑے صدمے کو بھی صبر کے ساتھ سہہ جاتی ہے۔ کسی بھی صورتِ حال میں کبھی بھی اس کا توازن نہیں بگڑتا۔ وہ اپنا آپا نہیں کھوتی۔ اس پیشن نے اسے ایسا مضبوط، چست، درست، متوازن اور تروتازہ بنا رکھا ہے کہ وہ آج بھی من اور تن سے جوانوں جیسی دکھائی دیتی ہے۔ ایسی جوان کہ اس پر کم عمر لڑکیاں بھی رشک کرتی ہیں۔ اس کی بھانجیاں اور بھتیجیاں شاید اسی لیے اسے خالہ اور پھوپھو کے بجائے باجی کہنے پر مجبور ہیں۔
اس میں صرف یہی چارا جزا نہیں بلکہ کچھ اور بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو اسے پرکشش اور ہر دل عزیز بنانے میں نمایاں رول ادا کرتے ہیں۔


غیروں کے غم میں شریک ہونا، دوسروں کے دکھ کو خود سہنا، خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچانا، رات رات پھر جاگ کر بیماروں کی تیمارداری کرنا، اپنا سکون گنوانا، اس کے لیے کبھی کبھی میری پروا تک نہ کرنا اور میری ناراضگی مول لینا یہ ایسا وصف ہے کہ آدمی کو بیوی اور ماں کے زمرے سے نکال کر کسی اور زون میں پہنچا دیتا ہے۔
میرا خیال وہ شاید سب سے زیادہ کرتی ہے۔ اس بات کی تائید میں درجنوں ثبوت پیش کیے جاسکتے ہیں مگر یہاں اختصار سے کام لیتے ہوئے میں صرف چند مثالیں پیش کروںگا۔
ہماری شادی کے تقریباً 26سال ہوچکے ہیں مگر آج تک میں نے اپنا ایک رومال تک نہیں دھویا۔ کبھی اپنے کپڑوں پر پریس نہیں کی۔ میں نے کبھی اس کی فکر نہیں کی کہ مجھے کب کیا پہننا ہے؟ کہاں کس لباس میں جانا ہے؟ کس پینٹ کے ساتھ کون سی شرٹ پہننی ہے؟ کس سوٹ کے ساتھ کون سی ٹائی باندھنی ہے؟ یہ سارے کام وہ کرتی ہے۔ میں اکثر سفر میں رہتا ہوں مگر وہاں بھی میں اسی کے دھلے اور پریس کیے ہوئے کپڑے پہنتا ہوں۔ وہ میرے لیے ہروقت تین تین سوٹ کیس تیار رکھتی ہے۔ ایک وہاں کے لیے جہاں میں نوکری کر رہا ہوتا ہوں۔ دوسرا سفر کے لیے اور تیسرا گھر کے لیے۔ یہ معمول تقریباً 26 سال سے چلا آرہا ہے۔ کبھی اس میں کوئی کوتاہی یا کمی نہیں ہوئی۔


اس کا ایک معمول میرے سفر کے متعلق اور بھی ہے اور وہ ہے گھر سے نکلتے وقت دعا پڑھ کر مجھے پر دم کرنا۔ دعاپڑھنے اور دم کرنے کا سلسلہ اس وقت بھی نہیں رُکتا جن دنوں کسی کشید گی کے سبب ہمارے درمیان کا زبانی رابطہ ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔
مجھ سے دور رہ کر بھی وہ میرے پاس کی ایک ایک بات اور ایک ایک چیز کی خبر رکھتی ہے۔ میرے پاس کیا نہیں ہے؟ کون سی چیز کم ہے؟ کہاں کیا کمی ہے؟ کون سا کپڑا پرانا ہوگیا ہے؟ کس شرت کے بٹن ٹوٹ گئے ہیں؟ کس پینٹ کی فلیپ کا ٹانکا کھل گیا ہے؟ کس غلاف کا دھا گا ادھڑا ہوا ہے؟ کسے کیا دینا ہے؟ کس سے کیا لینا ہے؟ کس کو کب فون کرنا ہے؟ میرے پاس کون کون سے دفتری پروگرام ہیں؟ کون سا پروگرام کب اور کہاں ہونے والا ہے؟ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ وہ مجھ کو مجھ سے زیادہ جانتی ہے۔ وہ محض میری آواز کے زیروبم اور پیروں کی رفتار سے میرے دل کی کیفیت جان لیتی ہے۔ وہ یہ بھی پتا لگا لیتی ہے کہ میں کیا سوچتا ہوں؟ کیا محسوس کرتا ہوں؟ کیا چاہتا ہوں؟
کبھی کبھی مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس کی نگہ داشت مجھے لُل بناتی جارہی ہے۔ اس کا مرّبیانہ برتائو مجھ سے مجھ کو چھینتا جارہا ہے۔ یہ احساس مجھے کچوکے تو لگاتا ہے مگر مجھ کو اس سے متنفر نہیں کرتا کہ اس کے اِس سلوک و برتائو میں اس کا خلوص شامل ہوتا ہے۔


اس نے باقاعدہ اردو نہیں پڑھی مگر وہ مجھ سے اچھی اردو جانتی ہے۔ بولنے میں اس سے بھولے سے بھی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ شاید اس لیے کہ وہ اہلِ زبان ہے اور اُردو اسے وراثت میں ملی ہے۔ اپنی تحریروں کا مسودہ اسے دکھا کر مجھے اطمینان ہوجاتا ہے۔ جب بھی میں کسی لفظ کے املا پر اٹکتا ہوں تو اس کی رہنمائی میری مشکل آسان کردیتی ہے۔
اس کی اتنی ساری خوبیاں ہیں اور اس کے متعلق لکھنے کے لیے میرے پاس اتنا کچھ ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتا، اس لیے آج پھر میں اپنا وہ جملہ دوہراتا ہوں جو تقریباً تیس برس قبل اپنی کتاب مشرقی معیارِ نقد کے دیباچے میں لکھا تھا:
’’اور ب کے لیے کیا لکھوں‘‘
ب یعنی بادِ بہاری یعنی بہارِ جاں یعنی باعثِ انبساط یعنی بشریٰ۔
بشریٰ میں بس ایک ہی خرابی ہے کہ وہ مجھے فرشتہ دیکھنا چاہتی ہے۔ شاید وہ یہ بات بھول گئی ہے کہ آدمی آدمی ہوتا ہے، آدمی فرشتہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ اس کی سرشت میں آدم کا خمیر شامل ہے اور اس کا ایک ضمیر یعنی (Self) بھی ہے اور اس کے سیلف کے حواس کھلے ہوتے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ اس کی پشت پر ہر آن اولادِ ابلیس کھڑی رہتی ہے جس کے ہاتھوں میں ہمہ وقت گندم کے خوشنما خوشے جھلملاتے رہتے ہیں۔
اور ایک ذراسی کمی اس میں یہ بھی ہے کہ وہ بہت جلد ناراض ہوجاتی ہے مگر اس کی یہ ناراضگی کسی اور کے سا تھ نہیں ہوتی۔ یہ ناراضگی صرف اور صرف میرے ساتھ ہوتی ہے۔ شاید اس لیے کہ میں اس کی ناراضگی کے ناز اٹھانا جانتا ہوں۔ اور شاید وہ یہ جان گئی ہے کہ اس سے رشتے استوار ہوتے ہیں لیکن شاید اسے ابھی اس کا احساس نہیں کہ اس عمل سے دو سرے فریق پر کیا عالم گزر جاتا ہے

شیئر کریں

کمنٹ کریں