کورونا وائرس سی آئی اے نے ایجاد کیا

کورونا وائرس سی آئی اے نے ایجاد کیا : امریکی حکام کا اعتراف


ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی

, کورونا وائرس سی آئی اے نے ایجاد کیا

امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ کورونا وائرس امریکی لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا جس کا مقصد حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنا تھا- سی آئی اے کے ڈائریکٹر پورٹر گروس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تحقیق کم از کم سولہ سال سے جاری ہے اور اس کے پہلے پیٹنٹ 2006 میں ایک امریکی کمپنی کو جبکہ دوسرے پیٹنٹ 2014 میں ایک برطانوی کمپنی کو جاری کیے گئے- اس وائرس کی مینوفیکچرنگ اسرائیل میں کی جاتی ہے- پلان کے مطابق اس وائرس کو چین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانا تھا تاکہ چین کی معیشت کو تباہ کیا جا سکے- لیکن چین کی حکومت نے کمال ہوشیاری سے اس وائرس کو اپنے ملک میں پھیلنے سے روک دیا اور اسے پوری دنیا میں پھیلا دیا
جس کمپنی کو 2014 میں پیٹنٹ جاری کیے گئے یہ برطانوی کمپنی بل گیٹس نے فنڈ کی تھی اور اس کمپنی کو بنانے میں ان کے ذاتی عزائم بھی کارفرما تھے- بل گیٹس اس وائرس کو پھیلا کر لوگوں کو اس بات پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا کا ہر شخص ان کی ڈیزائن کی گئی ویکسین لگوائے- اس ویکسین کے ذریعے ایسی دوائیں جسم میں داخل کی جا رہی ہیں جو انسان ڈی این اے کو تبدیل کر دیتی ہے تاکہ انسان میں اخلاقیات ختم ہو جائیں، وہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہے، اور تمام عمر غلام بن کر ہی رہے اور کبھی آزادی کی خواہش نہ کرے- اس کے علاوہ اس ویکسین کے ذریعے ایک خفیہ کمپیوٹر چپ انسانی جسم میں داخل کی جا رہی ہے جو انسانی دماغ کو کنٹرول کرے گی تاکہ انسان کی فری ول یعنی آزادانہ سوچ کو ختم کیا جا سکے اور دنیا بھر کے انسان بل گیٹس کے اشاروں پر ناچیں- اس چپ سے دنیا بھر کے انسانوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جا سکے گا اور بل گیٹس فاؤنڈیشن کے حکام کو ہر وقت دنیا کے ہر شخص کی موجودہ لوکیشن کا علم ہو گا


اس چپ کی مدد سے ہر شخص کو ایک خفیہ ڈیجیٹل آئی ڈی دیا جائے گا جو پاسپورٹ کی جگہ لوگوں کی شناخت کے لیے استعمال کیا جائے گا- اس ڈیجیٹل آئی ڈی کو الیکٹرانک کرنسی کے ساتھ منسلک کیا جائے گا اور اس کے بعد تمام دنیا سے کیش کا کاروبار بند کر دیا جائے گا- وائرس سے پھیلنے والی وبا کا بہانہ بنا کر دنیا بھر سے کرنسی نوٹ اور سکے ختم کر دیے جائیں گے اور تمام خرید و فروخت کے لیے صرف ڈیجیٹیل کرنسی ہی استعمال ہو گی- یہ خرید و فروخت صرف 5 G ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے ہی کی جا سکے گی- موجودہ فونز اس سسٹم میں کام نہیں کریں گے-
اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے دنیا کی تمام سیل فون کمپنیوں کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ جلد اس جلد 5G نیٹ ورک چالو کریں تاکہ 5G کے ٹاورز کے ذریعے کورونا وائرس کو دنیا بھر میں پھیلایا جا سکے- اس وبا کے پھیلنے سے بل گیٹس کے مذموم عزائم کی جلد از جلد تکمیل ممکن ہو سکے گی- اس مصنوعی وبا کا بہانا بنا کر لوگوں کو زبردستی ماسک پہننے پر مجبور کیا جائے گا، تمام سکول اور آفس بند کر دیے جائیں گے اور لوگوں کے لیے صرف گھر سے کام کرنا ہی ممکن ہو گا- اس طرح ان کی تمام خریداری خودبخود آن لائن ہونے لگے گی- آن لائن خریداری کے لیے ان کی ڈیجیٹل آئی ڈی درکار ہو گی اور ڈیجیٹل کرنسی اکاؤنٹ کے بغیر خریداری ممکن نہیں ہو گی-


باہر نکلنے پر ہر شخص کو زبردستی ماسک پہننا پڑے گا- ایسا کرنے سے انہیں دیکھ کر پہچاننا ناممکن ہو جائے گا اور صرف ان کی ڈیجیٹل آئی ڈی سے ہی ان کی پہچان ہو پائے گی- ڈیجیٹل آئی ڈی والی چپ (جو کورونا کی ویکسین کے بہانے ہر شخص کے جسم میں داخل کی جا رہی ہے) ہر شخص کی صحت سے متعلق بھی ڈیٹا اکٹھا کرے گی اور گیٹس فاؤنڈیشن کو بھیجے گی- اس طرح حکام کو ہمیشہ یہ علم رہے گا کہ کون شخص بیمار ہے اور کون نہیں- اس سسٹم میں ہر اس شخص کو بیمار قرار دیا جائے گا جو بل گیٹس کے احکامات کی فوری تعمیل نہیں کرے گا- ایسے شخص کو یا تو گھر پر نظربند کر دیا جائے گا یا پھر گرفتار کر کے جیل پہنچا دیا جائے گا
بل گیٹس نے 2015 میں ایک کانفرنس میں واضح طور پر یہ بیان دیا تھا کہ اگلے دس سال میں ایک ایسی وبا آئے گی جو کروڑوں افراد کی ہلاکت کا باعث ہو گی- یہ وبا ایسی ہو گی کہ لوگوں کو وائرس لگا ہو گا لیکن وہ اپنے آپ کو نارمل محسوس کریں گے اور یوں دوسروں کو بھی بیمار کریں گے- انہیں نے یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کی آبادی بہت زیادہ ہے اور اسے کم کرنے کی اشد ضرورت ہے- چنانچہ بل گیٹس اور فری میسنز کے ایلومناٹی ٹولے نے مل کر یہ پروگرام بنایا کہ ایک ایسا وائرس ڈیزائن کیا جائے جو کمزور مدافعتی نظام کے افراد اور بوڑھوں کو ہلاک کر دے- اکثر ملکوں کی بیشتر آبادی بوڑھوں پر ہی مشتمل ہے جو سوسائٹی کے کسی کام تو نہیں آتے لیکن سوسائٹی ان کی دیکھ بھال پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے جو بل گیٹس کے بیان کے مطابق وسائل کو ضائع کرنا ہے- اس کے علاوہ کمزور مدافعتی نظام کے لوگ بھی اکثر بیمار رہتے ہیں اور سوسائٹی کو ان کی دیکھ بھال پر بھی اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں- اگر ان دونوں قسم کے لوگوں کو ختم کر دیا جائے تو دنیا کی آبادی میں نمایاں کمی آئے گی اور صرف کام کرنے والے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے- امریکی حکومت اس پلان میں اس لیے شامل ہوئی کہ امریکہ کو چین کی ترقی سے زبردست خطرہ ہے اور وہ چین کی معیشت کو تباہ کرنے کے نت نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں


اس کے علاوہ گیٹس فاؤنڈیشن کئی سال سے کوانٹم ڈاٹس کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے سور اور بندر کا ڈی این اے انسانی جسم میں داخل کیا جائے گا- اس ڈی این اے کے جسم میں داخل ہونے سے انسان نہ صرف بندروں کی سی حرکتیں کرنے لگے گا بلکہ اپنے پرائے کی تمیز بھی بھول جائے گا اور شدید جنسی ہیجان میں مبتلا ہو جائے گا- اس طرح تمام اخلاقیات کا بیڑہ غرق ہو جائے گا اور انسیسٹ عام ہو جائے گا- مزید براں، اس ڈی این اے کے جسم میں داخل ہونے کے بعد انسان بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہے گا- 2016 میں کوانٹم ڈاٹس کے پروگرام کو کورونا وائرس بنانے کے پروگرام سے منسلک کر دیا گیا- اسی لیے اب کورونا وائرس کی ویکسین میں نہ صرف ڈی این اے موجود ہے بلکہ کوانٹم ڈاٹس بھی موجود ہیں تاکہ ایک ہی ویکسین سے یہ تمام کام کرنا ممکن ہو سکے، یعنی دنیا کی آبادی بھی کم ہو جائے، لوگوں کے اخلاق کا بھی بیڑہ غرق ہو جائے، اور تمام دنیا بل گیٹس کی غلام بھی بن جائے
امریکی حکام کے مطابق بل گیٹس کو یہ وائرس بنانے کے لیے سی آئی اے نے اربوں ڈالر ادا کیے- گیٹس فاؤنڈیشن نے اسرائیل اور بھارت کی مدد سے یہ ویکسین ڈیزائن کی- یہ ویکسین 2019 میں تیار ہوچکی تھی- اگست اور ستمبر 2019 میں بل گیٹس نے ایک خفیہ جگہ پر اس وائرس کے پھیلنے کی مختلف ممکنہ صورتوں کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سپر کمپیوٹرز پر اس وبا کے بھیلنے کی سیمولیشن چلائی جسے Event 201 کا خفیہ نام دیا گیا- یہ سیمولیشن انتہائی کامیاب رہی جس کے بعد اس پراجیکٹ کو فوری طور پر لانچ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے
اب اس پراجیکٹ کی پہلی فیز مکمل ہو چکی ہے اور کورونا وائرس کی کئی قسمیں دنیا بھر میں پھیلا دی گئی ہیں- اس کی دوسری فیز پر کام دسمبر 2020 سے شروع ہوا اور اس کی تکمیل دسمبر 2021 تک متوقع ہے- اس فیز میں دنیا بھر کے لوگوں کو ویکسین لگانے کے بہانے بندر اور سور کا ڈی این اے لگایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ان کے جسم میں ڈیجیٹل آئی ڈی کی چپ بھی ڈالی جا رہی ہے- اب تک دس کروڑ افراد کو یہ انجکشن لگائے جا چکے ہیں اور دسمبر 2021 تک مغربی ممالک، چین اور بھارت میں چھ ارب لوگوں کو یہ انجکشن لگا دیے جائیں گے- تیسری دنیا کے ملکوں کے باقی ماندہ لوگوں کو 2022 میں یہ انجیکشن لگائے جائیں گے- سنہ 2023 میں وہ سپر کمپیوٹر آن کر دیے جائیں گے جو ڈیجیٹل آئی ڈی کی ٹریکنگ شروع کریں گے جس کے بعد دنیا بھر کے لوگ بل گیٹس کے ذاتی غلام بن جائیں گے


اگر آپ نے یہ آرٹیکل پورا پڑھ لیا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ یہ انفارمیشن درست نہیں ہے تو مبارک ہو، آپ کو سائنس کی عمدہ سمجھ ہے اور آپ پہچان گئے ہیں کہ یہ آرٹیکل صرف فرسٹ اپریل کا جوک ہے جو محض آپ کی تفنن طبع کے لیے لکھا گیا ہے- اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے- اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ یہ تمام انفارمیشن درست ہے اور واقعی بل گیٹس تمام دنیا کو اپنے غلام بنانے والے ہیں تو مبارک ہو، آپ اپریل فول کے جوک کا شکار ہو چکے ہیں- براہِ کرم یہ جان لیجیے کہ اس آرٹیکل کی تقریباً تمام معلومات غلط ہیں- کورونا وائرس سازش نہیں ہے بلکہ انتہائی مہلک وائرس ہے جو فطری طور پر ارتقاء پذیر ہوا ہے- کورونا کی وائرس میں نہ تو کسی جانور کا ڈی این اے موجود ہے اور نہ ہی کوئی کمپیوٹر چپ- یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف آپ کے جسم میں مزاحمت پیدا کرتی ہے- اور ہاں، آپ کو سائنس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے
********
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں